کیاڈاکٹر مالک روایت توڑنے میں کامیاب رہے؟ انکے 17مثبت اقدامات کو جانیں . بلوچ رہنما،حفیظ بزدار کا کالم

ہمارے لہجے میں یہ توازن بڑی صعوبت کے بعد آیا
کئی مزاجوں کے دشت دیکھے، کئی رویّوں کی خاک چھانی
بلوچستان میں ڈاکٹڑ مالک اور نیشنل پارٹی کی اڑھائی سالہ کارکردگی کا جائزہ لینے سے پہلے ایک لمحے کے لیئے 1987 کی طرف لوٹنا ہو گا جب بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن سے فارغ ہونے والے نوجوان قائدین نے بلوچستان نیشنل یوتھ موومنٹ کے پلیٹ فارم سے وقت کے فرعونوں ،جاگیرداروں نوابوں اور وڈیروں کے خلاف عوامی طاقت سے پر امن جمہوری جدو جہد کے ذریعے مزاحمت کا اعلان کیا۔ بلوچستان، بلوچ قوم کے اجتماعی مفادات جیسے عنوان بلوچستان نیشنل یوتھ موومنٹ کی ترجیحات تھیں۔
بلوچستان نیشنل یوتھ موومنٹ سے بی این ایم اور نیشنل پارٹی تک کے سفر میں بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کا فلسفہ ( ماڈرن نیشنلزم) اور شہید فدا کامریڈ کے افکار حآوی رہے ہیں۔ بدلتے ہوئے عالمی اور خطے کے سیاسی و معاشی صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے شہید مولا بخش دشتی نے کہا تھا کہ ” بلوچ وقوم کو اس وقت شدید خطرات لاحق ہے بلوچ قوم اپنی بقا کیلیئے جدو جہد کرے بجائے اس کے کوئی ایسا راستہ اختیار کرے جس سے بڑا قومی نقصان ہو”۔ تفصیل میں جائے بغیر اتنا ہی کہ دینا کافی ہے کہ نیشنل پارٹٰی اپنے سیاسی مفکرین کے افکار پر چلتے ہوئے نتائج کا پروا کیئے بغیر اجتماعی قومی اہداف کے حصول میں منزل کی طرف رواں دواں رہا۔
نیشنل پارٹی نے ایک ذمہ دار قومی پارٹی کردار ادا کرتے ہوئے شہید مولا بخش دشتی، شہید عبدالخالق لانگو ،شہید یعقوب بلوچ شہید ایوب بلیدی سمیت کئی سیاسی قائدین بلوچ قومی جدو جہد میں کھوئے ہیں۔ مشرف کا فوجی آپریشن پر امن بلوچستان میں ایک ایسی آگ لگا کر رخصت ہو گئی جس کی حدت لاہور اور اسلام آباد میں بھی بڑی آسانی سے محسوس کی جا سکتی ہے۔
فوجی آمریت نے جہاں بلوچ سماج کے سیاسی و ثقافتی پرتوں کو ہلا کر رکھ دیا وہاں نیشنل پارٹی اپنی بساط کے مطابق فوجی آمریت کے خلاف مزاحمت کرتا رہا۔ نیشنل پارٹی کو بیک وقت سول و ملٹری بیوروکریسی اور بلوچ مزاحمت کاروں کی طرف سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 2013 کے الیکشن میں شمولیت نیشنل پارٹی کے لیئے آگ کا دریا عبور کرنے کے مترادف تھاقائدین اور ورکر اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر انتخابی عمل میں حصہ لیتے رہے۔ انتخابات کے بعد ایک طویل بحث و مباحثہ کے بعد وزارتِ اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ کو دی گئی۔
نامزدگی سے لیکر اڑھائی سالہ مدت کے خاتمے تک ڈاکٹڑ مالک کو اپنے اتحادی جماعتوں کی طرف سے شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈاکٹر مالک کی وزارتِ اعلیٰ کیلیئے نامزدگی مجبور عوام ترقی پسند حلقوں اور متوسط طبقے کیلیئے امید کی ایک ایسی کرن تھی جس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کی گیئں جو یقیننا ایک اقلیتی پارٹی کے وزیر اعلیٰ کے لیئے ایک آزمائش تھا۔ نیشنل پارٹی کے لیئے مسائل ہمالیہ کی پہاڑی سے بھی زیادہ اور بلند تھے۔ اگر چہ یہ تمام مسائل حل نہیں لیکن کم از کم ایک روڈ میپ دیا گیا ایک مثبت پیشرفت شروع ہو گئی اگر نئے وزیر اعلیٰ اس وژن کو لیکر آگے بڑھے تو یقیننا صورتِ حال میں ؤاضح بہتری دیکھنے کو ملے گی ۔ سب سے پہلے اور بنیادی نقطہ وہ رویت تھی جس کے مطابق وزارت اعلیٰ کو چلانا صرف سرداروں اور نوابوں کا پیدائشی حق ہے دوسرا کوئی عام آدمی اس منصب کو چلانے کا اہل نہیں۔ ڈاکٹڑ صاحب نے اکثریت نہ ہونے کے باوجود یہ ثابت کر دیا کہ ایک عام سیاسی کارکن صوبائی حکومت کو سنڈ یمن کی باقیات سے بہتر انداز میں نہ صرف چلا سکتی ہے بلکہ اس عہدے کو عوامی ڈھنگ اور جمہور کے امنگوں کے مطابق ڈھالنا ایک منجھے ہوئے سیاسی کارکن کا کام ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی اڑھائی سالہ مدت کے اہم اہداف کا اگر جائزہ لیا جائے تو نتیجہ اخذ کرنے میں آسانی ہو گی۔
1۔ مفاہمت اور جمہوری رویوں کی پاسداری
2۔ امن و امان کی ؎صورتِ حال میں واضح بہتری
3۔ کرپشن کو کنٹرول کرنے کے اقدامات
4۔ قومی شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی
5۔ تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ
6 نئے میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز کا قیام
7 مادری زبان میں بنیادی تعلیم
8 اعلیٰ تعلیم کے لئے سکالرشپس کا اجرا
9 بلوچی، پشتو اور براہوی اکیڈمیز کے فنڈز میں اضافہ
10 بلوچستان کے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز
11 ملک کے مایہ ناز اقتصادی ماہر قیصر بنگالی کے زیر نگرانی ایک واضح اقتصادی ڈھانچے کی تشکیل
12۔ وزیر اعلیٰ کی اسمبلی اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت
13۔ کالجز میں سپورٹس فیسٹیولز کا انعقاد
14 مسخ شدہ لاشوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں واضح کمی۔
15 ناراض بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کا آغاز
16 وزیر اعلیٰ سیکٹریٹ کا عام آدمی کے دسترس میں ہونا
17 نیشنل پارٹی کے سینٹڑل اگزیکٹو کمیٹی کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت اور جواب دہی
اگر ناکامیوں کا جائزہ لیا جائے تو مسنگ پرسنز کے حوالے سے پیشرفت نہ ہونا نیشنل پارٹی کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ نینل پارٹی کے صدر میر حاصل خان بزنجو نے برملا اس ناکامی کا اعتراف کیا۔
نئے وزیر اعلیٰ چیف آف جھالاوان اگر ڈاکٹڑ کی پالیسیوں کو اسی وژن کے مطابق بڑھاتے رہے تو یقیننا اڑھائی سال کے بعد بلوچستان کی صورتِ حال آج سے مختلف ہو سکتی ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s