اسلام میں موسیقی کی کوئی ممانعت نہیں ہے .ڈاکٹر حمید الله

سوال:
آپ نے ابھی اپنے لیکچر میں بتایا ہے کہ حضورﷺ حضرت بلالؓ کو اذان سکھائی اور یہ بتایا کہ کن لفظوں کو کھینچ کر ادا کرنا چاہیے اور کن لفظوں کو اختصار سے، اس طرح موسیقی کے سر بتائے۔ اس بیان کی روشنی میں وضاحت کریں کہ موسیقی کی اسلام میں کس حد تک گنجائش ہے؟Muhammed-Hamidullah_311_1417974641
جواب:
یہی نہیں اور بہت سی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیقی کی اسلام میں ممانعت بالکل نہیں ہے اگر ممانعت ہے تو اس بات کی کہ مثلاً نماز کے وقت موسیقی کا شغل جاری رکھا جائے یا اس کا منشا ایسی تفریح ہو جو اخلاقی نقطہ نظر سے بری سمجھی جاتی ہے۔ میں آپ کو کچھ مثالیں دیتا ہوں جن سے یہ ظاہر ہو گا کہ فی نفسٖہ موسیقی کی ممانعت نہیں ہے۔ ایک دن رسول اللہﷺ نے ایک نکاح کی دعوت سے واپس آ کر حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ اے عائشہ! آج میں تمہارے خاندان کے ایک فرد کی شادی میں گیا تھا، مگر وہاں کوئی موسیقی نہیں تھی، یہ کیسی بات ہے؟ یعنی رسول اللہﷺ فرماتے ہیں کہ نکاح کے سلسلے میں موسیقی کی ضرورت ہے۔ ایک اور مثال دیتا ہوں، یہ حجۃ الوداع کے زمانے کا واقعہ ہے۔ رسول اللہﷺ “منیٰ” میں مقیم تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ وہاں میرے خیمے کے اندر جہاں رسول اللہﷺ لیٹے ہوئے تھے اور چہرے پر چادر ڈال کر آرام فرما رہے تھے، میرے پاس چند لڑکیاں دف بجا رہی تھیں۔ اتنے میں حضرت ابو بکرؓ رسول اللہﷺ سے ملنے کے لیے آئے اور ان لڑکیوں کو ڈانٹا، یہ کیا شیطانی کام ہے، جاؤ نکلو یہاں سے، رسول اللہﷺ جو سوئے ہوئے نہیں تھے، سر اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں اے ابوبکر! یہ عید کا دن ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے بلکہ اس کے بر خلاف ہونا چاہیے۔ اسی طرح ایک اور عید کے سلسلے میں مدینہ منورہ کا واقعہ ہے۔ غالباً 2 یا 3ھ یعنی بہت ہی ابتدائی زمانے کا واقعہ ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں عید کے دن رسول اللہﷺ کے مکان کے سامنے کچھ شور سننے میں آیا ۔رسول اللہﷺ اٹھے، دیکھا کہ کیا ہے؟ میں بھی اٹھی تاکہ اس تماشے کو دیکھوں۔ مدینہ منورہ میں حبشیوں کی ایک آبادی تھی۔ عید کے دن یہ لوگ خصوصاً نوجوان حبشی مدینے کی گلیوں میں سے گزرتے اور اپنے نیزہ بازی کے کرتب ہر مکان کے سامنے دکھاتے اور مکان والا یقیناً انہیں ان کو کچھ نہ کچھ دیتا۔ آپﷺ نے ان حبشیوں کو روکا نہیں بلکہ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ مجھ کو دکھانے کے لیے بلا لیا۔ تھوڑی دیر کے بعد پوچھا عائشہ! بس دیکھ چکیں؟ میں نے کہا نہیں، ابھی اور دیکھوں گی، ٹھہر جائیے۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ بالآخر جب میں خود ہی تھک گئی تو میں اندر چلی گئی۔ ان حبشی بچوں کے بارے میں ایک اور بات یاد آ گئی، عرض کیے دیتا ہوں۔ جب رسول اللہﷺ ہجرت کر کے مدینہ پہنچے۔ لوگ “قبا” میں آپﷺ کا انتظار کرتے رہے۔ روایت ہے کہ مدینے کی ساری آبادی، کیا مسلمان، کیا غیر مسلم، اپنی مہمان نوازی کے اظہار کے لیے استقبال میں شریک تھی۔ یہ حبشی لڑکے بھی دوڑے ہوئے آئے اور اپنے نیزہ بازی کے کرتب رسول اللہﷺ کے سامنے دکھانے لگے۔ اس سے ان کی فراخ دلی اور وسیع القلبی کا مظاہرہ ہوتا ہے چنانچہ رسول اللہﷺ بھی ان لوگوں کا تالیف قلبی کیا کرتے تھے اور ان سے محبت سے پیش آتے تھے اور غالباً ان کی مالی مدد بھی کیا کرتے تھے۔ اسی طرح موسیقی کے سلسلے میں آپ ایک اور چیز بھی دیکھئے۔ قرآن مجید کی تلاوت بھی موسیقی ہی کی ایک شاخ ہے۔ رسول اللہﷺ کے احکام ہیں کہ قرآن حکیم کو معمولی نثری عبارت کی طرح نہ پڑھو کہ دھول اڑانا سمجھا جائے بلکہ خوش الحانی سے پڑھو اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ نے کسی غنا، کسی گانے کی اجازت اتنی نہیں دی ہے جتنی قرآن مجید کی اچھی آواز سے تلاوت کرنے کی اجازت دی ہے۔ ایک دوسری حدیث یہ ہے کہ خدا کسی گانے کی آواز پر اتنا کان نہیں دھرتا جتنا قرآن مجید کی اچھی تلاوت کرنے پر اپنے کان لگاتا ہے۔ غرض یہ کہ موسیقی کی کوئی اصولی ممانعت نہیں ہے، بشرطیکہ موسیقی کا مقصد اچھا ہو اور اس سے ہماری مذہبی عبادت میں کوئی حرج واقع نہ ہو۔ اگر مزید تفصیل درکار ہو تو امام غزالی کی کتاب “احیاء العلوم” کو دیکھئے۔ اس میں ایک پورا ضخیم باب اس موضوع پر ہے۔ وہ تفصیل سے بتاتے ہیں کہ اسلام میں موسیقی اور گانے کی کیا حیثیت ہے۔
یہ اقتباس ،عماد بزدار کا انتخاب ہے.

.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s