ڈاکٹر مالک کو بلوچ یونین کیلئے آواز اٹھانی چاہئے تھی،انہوں نے پنجاب کے بلوچوں کو مایوس کیا .عبد القیوم بلوچ

یہ دکھ تنہا ہی سہہ رہا ہوں
ﮐﻪ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﺎﻟﮏ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮﮈﯾﺮﻩ ﻏﺎﺯﯼ ﺧﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺟﻦ ﭘﻮﺭ ﻧﻬﯿﮟ آئے . ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﻮﻡ ﭘﺮﺳﺘﯽﮐﻮﺻﺪ ﺳﻼﻡ , ﮐﻪ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻠﯽ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻫﻤﺎﺭﮮ ﮬﺎﮞ ﺁﻧﺎﭼﮭﻮﮌﺩﯾﺎ , ﮬﻤﯿﮟ ﻫﻤﺎﺭﮮ ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ ﺁﻗﺎ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮﺩﯾﺎﺍﻭﺭﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻬﯽ ﺣﺎﻻﻧﮑﻪ ﮈﺍﮐﭩﺮﺻﺎﺣﺐ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺗﻘﺎﺿﮯﺑﺪﻝ ﮔﺌﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻫﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﻧﻬﯿﮟ .ﺍﺏ ﺑﻬﯽﮬﻢ ﭘﻪ ﻭﻫﯽ ﻭﻗﺖ ﻃﺎﺭﯼ ہے ،ﺟﺐ ﺁﭖ ﻫﻤﺎﺭﮮ ساتھ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﻗﻮﻣﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﺭﻫﮯ ﺗﻬﮯ. ہمارے ساتھ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﻪ ﻧﻌﺮﮮ ﻟﮕﺎﺭﻫﮯ ﺗﻬﮯﺭﺍﺟﻦ , ﺟﯿﮑﯿﺐ , ﮈﯼ ﺟﯽ ﺧﺎﻥﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ , ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥیکایک !آپ میں تبدیلی کی لہریں موجزن ہوئیں ،آپ ہمیں قریب کرکے ہم سے کہیں دور اسلام آباد اور لاھور جاکے جی لگا بیٹهے ،یه تو تمہیں بتانا اپڑے گا که آخرتمہیں کیاهوا؟کس نے یهاں آنے سے روکا؟دهرتی ماں کے زخم ابهی بهرے نهیں که آپکی بقا نے همیں اور دهرتی ماں کو زخموں سے چور چور کردیا،واضح رهے آپ نے اپنی بقا یا انا کے لیے ھماری خواهشات اور ضروریات کو اپنے پاؤں تلے روند گئے ،ہمیں قبائلی کے طعنے دینے والو!سنو! غور سے سنو !ھم قبائلی بهی قومی شعور وفکر رکهتے هیں اور اپنی تحت الشعور یا لاشعور میں وهی کام کرتے هیں جسکی پوری قوم هم سے توقع کرتی هےیهاں قوم پرستانه سوچ رکهنے والی قیادت بهی اپنی سیاسی بقا و انا کے لیے بار بار وھی غلطی دھراتے هیں جو ١٩٧١میں ھماری سیاسی قیادت نے کی که مارشل لاء حکومت کی جانب سےمجوزه سیاسی و سامراجی ڈاکٹرائن ، رکهنے والے صوبے کو من وعن تسلیم کرکے انگریز دور کے سرداروں کی یاد تازه کردی حالانکه اس وقت پاکستانی قیادت خاصی مشکلات کا شکارتھی . وه ھماری هر بات تسلیم کرنے کو تیار تهے اسی طرح ٢٠١٣ میں تاریخ ایک بار پهر ١٩٧١ کی نهج پر محو سفر هوئی پهر وهی غلطی دهرائی گئی ، اپنی بقا کے لیے ھماری اجتماعی قربانی کی گئی حالانکه بلوچ شورش سے گبھرائی هوئی پاکستانی زعما ھمارے مطالبات کو من وعن تسلیم کرتے یا نه بهی کرتے لیکن ان کو یه پیغام ضرور جاتا که پاکستان اور بلوچستان کی فلاح وبهبود کے لیے بلوچ علاقوں پر مشتمل یونین یا صوبے کی تشکیل هی بلوچ شورش اورپاکستان میں دیرپا امن اور ترقی کے لیے ضروریهے ورنه حالات اسی نهج په چلیں گے جس پر آج چل ہے ڈاکٹرصاحب! کاش آپ ھمارے لیے کچھ کر گزرتے ،یادگاربناتے یاسندھ اور پنجاب میں بلوچی بولنے والوں کے لیے بلوچی سنٹر کی منظوری مرکزی حکومت یا صوبائی حکومتوں کی طرف سے کرواتے ،ٹرائبل ایریا کے لیے فیس میں نرمی اور ملک بهر میں خاص کر بلوچستان میں کوٹه مختص کرواتے اور کالجز میں سرائیکی اور سندهی کے ساته بلوچی کی منظوری کرواتے حالانکه اب بهی آپکی شیر سے پکی یاری هے اب بهی کهیے وه مان جائیں گےافسوس!هم سے واقف هونے کے باوجود ناواقف هی کهلائے اور شایدآپ جیسے دنیا ئےناواقفیت کے سرخیل کے لیے یه کہنا مناسب ھوگا چٹان ریزه ریزه ہو گئی جوپہلے سخت تهی.

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s