صحافت ،پھپھے کٹنی عورت میں تبدیل ہو رہی ہے .عائشہ نور

ہمارا تحفہ ۔۔۔۔ نئی نسل کو سنتے تھے کہ یہ دور نفسا نفسی کا ہے۔۔۔ کسی کو بھی کسی کی کوئی پرواہ نہیں۔۔۔ ایک دوڑ سی لگی ہوئی ہے۔ زندگی کی دوڑ۔۔۔ جسے ہر کوئی جیتنا چاہتا ہے۔۔۔ لیکن زندگی کی یہ دوڑ اگر انسانوں سے جیت بھی جائیں تو بھی ہار جاتا ہے۔۔ موت سے۔۔۔ کہ وہی منزل پر پہنچنے کی پہلی سیڑھی ہے۔۔۔ سفر وہیں تک کا ہے۔۔ میرے لکھنے کا مقصد کسی کو کوئی سبق پڑھنا نہیں ہے۔۔۔ آج کے دور میں ہر شخص سمجھدار ہے۔۔ میرا مقصد تو فقط توجہ دلانا ہے ایک ایسی بات کی جانب۔۔۔ جسے ہم جانے یا انجانے نظرانداز کر رہے ہیں۔ کچھ دن قبل مجھے ذاتی وجوہات کی بناء پر اپنے آبائی شہر جانے کا اتفاق ہوا۔۔ مجھے ہمیشہ سے ہی اپنے جرنلسٹ ہونے پر فخر رہا تھا اور ہونا بھی چاہئیے۔۔۔۔ ہمارے شعبے کو پیغمبری شعبہ کہا جاتا ہے۔۔۔ بلاشبہ صحافت ایک جانفشانی پیشہ ہے۔۔۔ جس میں ایک صحافی دن رات محنت کر کے عوام تک سچ پہنچانے کی دوڑ دھوپ میں مصروف رہتا ہے۔۔۔۔ لیکن آج کے دور میں جہاں پرنٹ کے بجائے الیکٹرانک میڈیا کو خبریں عوام تک پہنچانے کا تیز ترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔۔ یہاں پر ایک چینل دوسرے سے برتری حاصل کرنے کے چکر میں شائد اخلاقیات کو بھی کہیں پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔۔۔۔ بہرحال میں اپنے گھر پہنچی تو سب سے ملاقات ہوئی۔۔ ہنستے کھیلتے میرا ایک تیرہ سالہ بھتیجا میرے پاس آیا اور مجھ سے پوچھنے لگا کہ: پھوپھو آپ کیا ہیں۔۔۔ میں نے کہا بیٹا میں جرنلسٹ ہوں۔۔۔ تو اس نے دوسرا سوال پوچھا کہ جرنلسٹ کیا کرتے ہیں؟۔۔ میں نے بہت پرجوش ہو کر جواب دیا کہ جرنلسٹس عوام کو باشعور بنانے کے لئے دنیا جہان کی خبریں ان تک جلد از جلد پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ اپنے لوگوں تک سچ پہنچاتے ہیں۔۔۔۔۔ تو اس نے کہا کہ:پھوپھو جی! آپ کا جواب غلط ہے؟۔۔۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جرنلسٹ کیا کرتے ہیں۔۔ میں نے متوجہ ہوکر اس کی بات سننے لگی۔۔۔۔ اس نے کہا کہ دیکھیں جیسے میری ماما مجھے میری مرضی کی کوئی چیز نہیں دیتیں تو میں فورا بابا کو فون کرتا ہوں اور ماما کی برائیاں کرتا ہوں۔۔ وہ باتیں بھی بتاتا ہوں جو ماما نے کہی بھی نہیں ہوتیں۔۔ ویسے ہی صحافی بھی یہی کرتے ہیں۔۔۔ میں نے بہت حیران ہو کر بچے کی طرف دیکھا۔۔۔۔ تو اسے لگا کہ شائد مجھے اس کی بات کا یقین نہیں آیا۔۔۔۔ تو فورا بولا۔۔۔۔ آپ چاہیں تو کوئی بھی چینل لگا لیں۔۔ سب ایک دوسرے کی برائی کرتے ہیں۔۔۔ اس وقت میری حیرت کی انتہا ہی نہ رہی۔۔۔۔ جب میں نے اس چھوٹے سے بچے سے یہ بات سنی۔۔ بچے نے تو اپنی سمجھ کے مطابق بات کی۔۔۔ لیکن یہ بات اتنی بڑی ہے کہ آپ کہیں بھی دیکھ لیں۔۔۔ کوئی بھی چینل یا نیوز پیپر اٹھا لیں۔۔۔ صرف برائیاں بیان کی جاتی ہیں۔۔۔۔ کیوں؟۔۔۔ کیونکہ ہم معاشرے کے صرف منفی پہلو اجاگر کر رہے ہیں۔۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ہر چیز میں کیڑے نکالیں اور بریکنگ یا ایکسلوژو کے چکر میں ہم سچائی کی راہ بہت پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔۔۔ یا چھوڑ چکے ہیں۔۔۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے بچے بھی اب سوال اٹھانے لگے ہیں۔۔۔ اس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ عوام کے اجتماعی شعور کو زیادہ دیر تک بیوقوف نہیں بنایا جا سکے گا۔۔۔ لیکن ابھی بھی شائد ہم اگر خود اپنا احتساب کر لیں۔۔ تو زیادہ دیر نہیں ہوئی۔۔۔ اگر ہم آج بھی صرف یہ سوچ لیں کہ ہم اپنی نئی نسل کو کہیں جھوٹ بولنے کا تحفہ تو نہیں دے رہے تو شائد بہت سے معاملات ہاتھ سے نکلنے سے بچ سکتے ہیں۔۔۔ سوال تو بہت سارے ہیں لیکن اب وقت ہے ان کا جواب ڈھونڈا جائے۔۔۔۔۔۔ اور اب اس سوچ کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو تحفے میں کیا دے رہے ہیں۔۔۔؟؟

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s