عامر خاکوانی کے “آرچر آئی ” فیس بک اردو رائٹرز کی رینکنگ پر سوالات ،تعریف،تنقید اور رد عمل پڑھیں .

دلچسپ ہے۔ لیکن میرے خیال میں کالم نگاروں کو اس میں شامل نہیں کرنا چاہیے، وہ اس لئے کہ فیس بک پر پوسٹ کرتے ہوئے ان کے ذہن میں ان کا اپنا کالم بھی ہوتا ہے، جو کہ ظاہر ہے پہلی ترجیح ہے۔ بہت سی باتیں وہ اس لئے بھی فیس بک پوسٹس میں شئیر نہیں کرتے کہ وہ اپنے کالموں‌میں استعمال کریں گے، واقعات اور معلومات ان میں سرفہرست ہیں۔

ایک اچھا واقعہ کسی کالم کو ہٹ بنا دیتا ہے، اس لئے واقعات کو کالم نگار کم سے کم اپنی فیس بک پوسٹوں میں استعمال کریں گے، صرف وہی واقعات یہاں‌آئیں گے، جو اخبار کی پالیسی کے مطابق شائع نہیں ہوسکتے۔ جبکہ بیشتر فیس بک رائٹرز کی سب سے بڑی قوت وہ واقعات ہی ہیں۔ اس لئے کالمز اور فیس بک پوسٹوں کو یکجا کر کے کوئی رائے دی جائے تو پھر وہ ٹھیک ہے۔ یہ امر بھی زہن میں‌رہے کہ اگر چہ اس تجزیے میں پیمانہ باقاعدہ بنایا گیا، کئی پہلو گنوائے گئے، مگر بہرحال پھر بھی اس حوالے سے انتخاب اپنے ذوق کے مطابق ہی ہوگا کہ کوئی کسی فیس بک پوسٹ کو جرات مندانہ کہہ سکتا ہے تو دوسرا اسے انتہائی یا شدت پر مبنی بھی قرار دے سکتا ہے۔ بہرحال اچھی کوشش ہے
میں اس رینکنگ کے حوالے سے بات نہیں کر رہا، کیونکہ یہ رینکنگ مختلف لوگوں کی مختلف ہوسکتی ہے، اپنے آپ کو ہٹا کر کہہ رہا ہوں کیونکہ ممکن ہے میرے پسندیدہ فیس بک لکھاری کچھ مختلف ہوں۔ عمار مسعود صاحب اس طرح فیس بک پر تفصیلی پوسٹ نہیں کرتے، جبکہ رعایت اللہ فاروقی کی بہت سی پوسٹیں شاندار ہیں، اسی طرح قاری حنیف ڈار کی اپنی خوبصورتی ہے، بعض اور لکھنے والے بھی اچھا لکھتےہیں جیسے فیض اللہ خان ، فرنود عالم وغیرہ ۔
بہرحال میں بائی دا وے بتا رہا ہوں کہ فیس بک پر شروع ہی سے خود کو ایک حوالے سے محدود کیا ہوا ہے۔ فیس بک پوسٹ لکھتے ہوئے ہمیشہ ذہن میں اپنا کالم ہوتا ہے۔ میں فیس بک پوسٹ کو اپنے کالم کی ایکسٹینشن یا اس کی وضاحت یا بعض سوالات کے جوابات کے لئے استعمال کرتا رہا ہوں، پچھلے کئی برسوں سے ، مگر کسی نئے موضوع پر خاص طور سے پوسٹ لکھنا کم ہی رہا، وہ چیز اپنے کالم کےلئے کی، ماسوا اسکے جھے پتہ ہو کہ وہ کالم نہیں چھپ سکتا۔جس طرح موبی لنک پر اس کا نام لے کر تنقید یا بائیکاٹ کا کہنا اخبار میں ممکن نہیں‌یا پھر عامر لیاقت پر پوسٹ اخبار میں ممکن نہیں، وغیرہ وغیرہ۔ میں‌کیا، کوئی بھی کالم نگار فیس بک پر کبھی کھل کر زیادہ استعمال نہیں کر سکتا، ہاں کسی کا کالم کسی وجہ سے نہیں شائع ہو رہا ہو تو وہ پھر ممکن ہے اپنی تمام تر صلاحتییں فیس بک کے لئے صرف کر دے۔ پھر ایک اور معاملہ واضح ہے کہ فیس بک پوسٹ پر کبھی زبان، ہجوں کا خیال نہیں کیا، دوبارہ کبھی پڑھا تک نہیں ، خواہ کتنی لمبی پوسٹ ہو۔ کالم کے لئے ایسا نہیں ہوتا، چاہے جتنی جلدی میں لکھا جائے، بہرحال اسے ایک خاص حد تک سنوارا جاتا ہے، الفاظ ، جملوں پر کچھ نہ کچھ محنت کی جاتی ہے۔ اگرچہ میں کالم کی زبان پر زیادہ توجہ نہیں دیتا، خیال اور استدلال پر زیادہ توجہ رہتی ہے، لیکن کالم پر دی گئی توجہ اور فیس بک پوسٹ کا کوئی موازنہ ہی نہیں۔ البتہ یہ ضرور ہوجاتا ہے کہ کالم لکھنے والے کی مشق ہوجاتی ہے تو نہایت عجلت میں لکھی کوئی تحریر بھی عام قاری کو محسوس نہیں ہوپاتی اور بھرم رہ جاتا ہے
ویسے سچائی،دیانت وغیرہ کے پوائنٹس پر پہلے ایسے ہی دھچکا لگتا ہے ، آدمی اسے مکمل تناظر میں دیکھتا ہے، حالانکہ رینکنگ کرنے والے کا یہ منشا نہیں۔ دوسرا ثاقب ملک کے کچھ کمنٹس واقعی ججمینٹل تھے، جس کی طرف یدبیضا بھائی نے اشارہ بھی کیا۔ میرا بھی یہی خیال ہے کہ ہر کوئی اپنی پسند وناپسند، فطری اپج اور ذوق کی بنا پر رینکنگ یا لسٹ بناتا ہے۔ چاہے جو مرضی پیمانے بنائے جائیں، ان پیمانوں‌کے مطابق تولنے والے شخص کا اپنا ذہن، معیار، پسند ناپسند تو لازمی بیچ میں شامل ہوگی۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ کوئی آفیشل ریکنکنگ نہیں، کوئی حتمی رائے نہیں، ایک آدمی کی انفرادی کوشش ہے، جس نے بہرحال کچھ پیمانے بنانے کی کوشش کی، مجھے اس سے اختلاف ہوسکتا ہے اور ہے، میں نے اوپر کمنٹس میں لکھا بھی ہے کہ میرے خیال میں اس فہرست میں اور لوگوں‌کو ہونا چاہیے تھا، رینکنگ پر بھی میرے اعتراضات ہیں، لیکن میں نوجوان ثاقب ملک کی محنت اور کوشش کی ضرور داد دینا چاہوں‌گا۔ ثاقب ملک اپنے بلاگ پر مختلف نوعیت کے تجربات کر رہے ہیں، کچھ ان میں‌کامیاب ہوں‌گے ، بعض نہیں، مگر اس نوجوان میں بہرحال سیکھنے، کچھ کرنے، محنت کرنے کا جذبہ اور شوق تو ہے۔ میں نے اس رینکنگ کو اس زاویے سے دیکھنے کی کوشش بھی کی ہے کہ کیا واقعی یہ نکات اور ان کے مطابق دئیے گئے پوائنٹس درست ہیں؟ اگر ایسا ہے تو مجھے کہاں‌کہاں‌مزید محنت اور بہتری کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ میرا اپنے حوالے سے یہ خیال ہے کہ کسی کالم نگار کی صرف فیس بک پوسٹوں پر رائے نہیں دینی چاہیے، اس کے کالموں کو بھی ساتھ شامل کر کے کوئی حکم سنانا چاہیے کہ کالم نگار کی پہلی ترجیح اس کا کالم ہی ہوتا ہے، فیس بک کالم کی ایکسٹنشن ہو سکتی ہے یا ایسے موضوعات پر لکھی تحریریں‌جو پالیسیوں‌کی وجہ سے اخبار میں نہ چھپ سکیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s