میرا جواب !!! رینکنگ پر اعتراضات ،سوالات ،تجاویز اور تنقید پر میرے جوابات پڑھیں .ثاقب ملک

میں تنقید کرنے والوں ،سوال اٹھانے والوں اور تعریف کرنے والوں سب کا مشکور ہوں .خاص کر عامر خاکوانی بھائی نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ،حوصلہ افزائی کی .عامر بھائی کی شکایت جائز بھی ہے کہ کالم نگاروں اور شوقیہ فیس بک لکھاریوں کا کوئی مقابلہ نہیں ہے .مگر مجبوری تھی کہ انکی لاتعداد فیس بک پوسٹس پڑھی ہوئیں تھیں انکو اگنور بھی نہیں کر سکتا تھا .فرنود عالم نے بھی وسعت دکھائی اور میری تنقید کو اپنی کمزوریوں کی نشاندہی قرار دی .وصی بابا نے سچائی اور دیانت کے الفاظ کو حقائق اور استدلال سے تبدیل کرنے کی تجویز دی جس پر اگلے مہینے کی رینکنگ میں غور ہو گا .ایک مناسب تجویز ہے .ساتھ ہی ساتھ انہوں نے بھی کاوش کی تحسین کی . دیگر لوگوں کی تحسین بھی ان ڈائریکٹ مجھ تک پہنچی .اور کچھ تنقید بھی پہنچی .ویسے اس رینکنگ کے جرم میں عماد بزدار میرے ساتھ برابر کا شریک ہے .یعنی کہ اسکا بہت بڑا کنٹریبوشن ہے .اب آتے ہیں اعتراضات ،سوالات اور تنقید کی طرف .پہلے تو یہ بات سمجھ لیں کہ ٹاپ ٹین میں آنے والے میرے کوئی رشتے دار جگری دوست نہیں ہیں .رینکنگ بناتے وقت عامر خاکوانی ،عاصم الله بخش اور احمد اقبال صاحب ہی وہ تین مصنفین تھے جو میری فرینڈ لسٹ میں تھے .باقی تو میری فرینڈ لسٹ میں بھی نہیں ہیں .نہ میں نے رینکنگ دوستی یاری یا کسی ایک مکتب فکر کے رائٹرز کی بنائی ہے .اس میں رائٹ ،لیفٹ سینٹر ونگ سب کی نمائندگی ہے .جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس میں مشہور افسانہ نگار یا کہانی کار شامل نہیں ہیں تو انکے لئے عرض ہے کہ یہ بنیادی طور پر تجزیہ نگاروں کی فہرست ہے .کچھ لوگوں نے شکوہ کیا کہ یہ بندہ لسٹ میں نہیں ہے یا وہ لسٹ میں نہیں ہے تو یہ تو اپنی اپنی پسند کی بات ہے .میں نے ایک میعار بنایا چاہئے اس میں میری رائے ہی کیوں نہ شامل ہو مگر اس معیار کے مطابق لوگوں کو منتخب کیا .اس میں غلطی بھی امکان ہے اور کافی اچھے رائٹرز کو میں وقت کی قلت کی سبب پڑھ بھی نہیں سکا .جیسے عامر مغل ،جیسے سعید ابراہیم ظفر عمران ،وغیرہ .لیکن ہر اچھا رائٹر اس لسٹ میں شامل ہونے کا کوئی دعوی نہیں کیا گیا تھا .یہ پہلی کوشش تھی اگلی بار پہلے سے زیادہ رائٹرز کو پڑھا اور پرکھا جائے گا .اب آتے ہیں ید بیضا کے اعتراضات کی جانب .

پہلے ججمنٹل ہونے پر ،ہم روز ہی ججمنٹل ہوتے ہیں .کسی دکان میں کپڑا یا کوئی اورکھانے پینے کی چیز لیتے وقت ،کسی کتاب یا فلم کے بارے میں اسے اچھے یا برا سمجھتے وقت .ہم روز فیصلے اکرتے ہیں .یہ انسان کا کام ہے .اس لئے میری سمجھ سے تو باہر ہے کہ آپ کیسے ججمنٹل ہونے کو برا سمجھ سکتے ہیں ؟ یہ ایک عجیب فکری مغالطہ ہے جو مجھے کبھی سمجھ نہیں آیا .یہ تقلیدی جملہ ہے .میں تو ججمنٹل ہوتا ہوں اور الله نے مجھے اسی کام کیلئے ذہن دیا ہے .اصل حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے فیصلے کو ہمیشہ کے لئے سو فیصد درست نہیں مان لیتا .مجھے علم ہے کہ میں انسان ہوں میرے اندازے میں غلطی کا سو فیصد امکان ہے .تو ججمنٹل ہونے کی تو بس اتنی کہانی ہے .
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ یہ تحریر کی سچائی اور دیانت کی بات ہو رہی ہے لکھنے والے کی پوری شخصیت کی سچائی یا دیانت کی بات نہیں ہو رہی ہے .وصی بابا کے بارے میں جملے میں آپ ڈنڈی مار گئے ہیں .میں نے لکھا “کچھ متعصب ہیں ” آپ نے لکھا وصی بابا “متعصب” ہیں .یہ بہت سا فرق پیدا ہو گیا ہے .کچھ متعصب سے مراد یہ تھی کہ اکا دکا معاملات میں متعصب ہیں ہر معاملے میں نہیں اور یہ انکی تحریروں کی بات ہو رہی ہے .انکی شخصیت کی نہیں اور نہ ہی میں نے عمران خان کا کوئی ذکر کیا جس طرف آپ نے اشارہ کیا ہے ،اور نہ ہی میرے ذہین میں صرف عمران خان کی اینگل تھا ایک مجموعی تاثر کو رقم کیا .
آپ نے خود ہی اپنی گیلری کیلئے لکھنے کو بے باکی سے تعبیر کیا ہے میں نے ایسا کوئی جملہ نہیں لکھا نہ کسی بات سے ایسا کوئی مطلب نکلتا تھا .ذیشان ہاشم کے موضوعات ہی ایسے ہیں کہ کبھی کبھار حس مزاح کی کمی محسوس تو ہو گی اب اس کمی کا ذکر کر دیا تو کیا قیامت آ گئی ؟ جہاں تک عمار مسعود اور طفیل ہاشمی صاحب کے توازن کے نمبر برابر ہونے کی بات ہے اور ایک کو میں نے توازن والا اوردوسرے کو مکمل توازن کی کمی والا لکھا تو اس بات کو سمجھ لیں کہ دونوں کے ٹاپکس میں بہت فرق ہے .طفیل ہاشمی سحاب سنجیدہ موضوعات پر لکھتے ہیں اور عمار مسعود صاحب پر مزاح تحریریں یا جملے لکھتے ہیں .سنجیدہ لکھنے والے کے توازن کی حدود کچھ اور ہوں گی اور مزاحیہ لکھنے والے کی توازن کی حدود کچھ اور ہوں گی .اسی وجہ سے نمبرز ایک جتنے ہیں مگر تبصرے میں ایک کو بہتر اور دوسرے کو کم کہا گیا ہے .مزاح لکھنے والا تھوڑی لبرٹی لازمی لے گی یہ اس صنف کی مجبوری ہے مگر اسکا ذکر بھی ضروری تھا .
ا گر میں کسی کی تحریر کی سچائی یا دیانت یا جرات کا فیصلہ نہیں کر سکتا تو میں کسی کی کوئی تحریر کیوں لائیک کروں ؟ میں کیوں کسی کو پسند کروں؟ کیا معیار ہو گا؟ آپ کو کہیں تو لائن لگانی ہو گی .یہ تو ممکن نہیں کہ بغیر فیصلہ کئے بیٹھا جائے کہ میں تو فیصلہ نہیں کر سکتا کیونکہ یہ تو الله کا کام ہے .الله کا کام آخرت کے دن کے متعلق ہیں .اس دنیا میں الله نے یہ کام ہمیں سونپے ہیں جو ہم دن رات کرتے ہیں چاہنے کاروبار ہو کرکٹ ہو سیاست ہو یا مذہب یا کوئی تحریر .
آپ اگر چند شخصیات کے اسیر ہیں تو میں اب اس پر طویل مضمون تو فی الحال نہیں لکھ سکتا صرف اتنا کہوں گا کہ جہاں تجزیہ ہو گا وہاں آپ ایک یا دو ہی شخصیات کے بنائے گئے اصولوں یا اسی کی پیروی پر اپنے دلائل رکھیں گے تو مکمل تصویر محدود ہو جائے گی .یہ اسی سقم کی جانب اشارہ کیا گیا ہے .
عاصم الله بخش کے انداز تحریر میں کبھی کبھار کی یکسانیت کا ذکر کیا گیا ہے جس کو آپ نے مکمل یکسانیت ظاہر کیا ہے جو کہ ایک بار پھر درست کوٹنگ نہیں ہے .بھائی میرے انداز تحریر اور موضوعات کے تنوع کو مکس نہ کریں .جو انسان اتنے سارے موضوعات پر لکھ رہا ہے لازمی سی بات ہے وہ ہر موضوع پر ایک جیسی مہارت سے تو نہیں لکھ سکے گا تو کبھی کبھار کی یکسانیت سے کون ماورا ہے ؟
سچائی ،دیانت ،توازن ،وغیرہ ہی کا تو ہم روز پرچار کرتے ہیں .سچائی حقائق کی بنیاد پر جانچی جائے گی ،یہاں پر انکی شخصی سچائی کو تحریر کی سچائی سے غلط ملط نہ کریں ممکن ہے دونوں ایک ہی جیسی ہوں مگر میں صرف تحریر کا علم رکھتا ہوں تو میں اسی تک محدود رہا .دیانت کا اندازہ لگانا کون سا مشکل کام ہے ؟ دنیا میں بد دیانت کی پہچان سب سے آسان ترین کام ہے چاہئے وہ کوئی مصنف ہو یا کوئی سیاستدان .الله نے یہ حسات اور انکو سمجھنے کی صلاحیت ہمیں دے رکھی ہے .آپ کے اس پر اعتراضات صرف ریشنل اگر مگر اور لفاظی ہی ہیں.
آپ نے سوال کئے میں نے جواب دئے کوئی اس رینکنگ کو نہ مانے تو مجھے اس سے کیا ؟ یہ کوئی آفشل سٹیٹمنٹ تو نہیں ہے .ہر کوئی آزاد ہے .ظاہر ہے میری بھی اس رینکنگ میں رائے شامل ہے لیکن وہ مکمل سو فیصد نہیں جو فیکٹس میرے سامنے تھے میں نے ان پر فیصلہ کیا .میرا تو نہ کوئی رشتہ دار تھا نہ کوئی دوست نہ میں آپ سے کبھی ملا اور نہ کبھی عاصم للہ بخش سے . آپ لوگ جہاں رہیں خوش راہیں .اور اگر یہ معیارات آپ کو نہیں بھاتے تو آپ کسی رائٹر کے بہترین ، بہتر یا کمتر ہونے کا کوئی اور معیار لے آئیں .
اچھا اب جہاں تک اس کی بات ہے کہ سچائی اور دیانت کو اتنے نمبر کیوں دئے گئے کیا ریڈر نے مصنف سے کوئی رشتہ مانگنا ہے ؟ تو یہ بات عجیب ہے کہ سچائی اور دیانت کو صرف مالی معاملات تک کیوں محدود کیا جائے ؟ کیا آپکی فکر اور سوچ پر اثر انداز ہونے والے کی سچائی اور دیانت کو جاننے کا آپ کو کوئی حق نہیں ؟ یاد رہے کہ یہ تحریر کی سچائی اور دیانت کی بات ہو رہی ہے اسکا شخصی سچائی اور دیانت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے.

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s