ید بیضا کے “آرچر آئی ” کی فیس بک اردو رائٹرز کی رینکنگ پر شدید اعتراضات ،پڑھیں

بڑوں نے سکھایا تھا کہ کسی کے بارے میں لکھتے ہوئے منصف کے منصب پر کبھی براجمان نہیں ہونا چاہیے۔ اگر تو کہیں سروے کروایا جاتا تو سماج کے ایک مکتبہ فکر کی سوچ قرار دے کر نتائج کو قبول کیا جا سکتا تھا لیکن یہ آپ کی ذاتی آراءہیں۔ اگر آپ ذاتی رائے بغیر کسی تبصرے کے دیتے تب بھی یہ قابل غور ہوتا مگر آپ جگہ جگہ ججمنٹل ہو رہے ہیں۔
تو صاحب! ججمنٹل کبهی نہیں ہوتے. آپ نے لکها(وصی بابا معتصب ہیں)۔یہ بات تحریک انصاف کے کارکن کی ہو سکتی ہے عمومی اطلاق کیسے کیا جا سکتا ہے؟ (ید بیضاءچند شخصیات کے اسیر لگتے ہیں)۔ اس کے لئے ان مضامین کا حوالہ ضروری ہو گا جو ید بیضاء نے ان شخصیات کے بارے میں لکھے ہیں۔(محمد اشفاق میں بے باکی کمی ہے اور ذیشان ہاشم میں حس مزاح کی کمی ہے ) وہ بے باکی وصی کے یہاں فقرے چست کرنا اور یدبیضاءکے یہاں لفاظی اور گیلری کے لئے لکھنا بن جاتا ہے۔(طفیل ہاشمی صاحب کی تحریر میں دلچسپی کا عنصر نہیں ہے)۔ جب تحریر میں دلچسپی کا کچھ نہیں ہے تو اس لسٹ میں کیسے آ گئے؟ (عامر خاکوانی معلومات کے اظہار میں کنجوس ہیں۔ جرات کی کمی لگتی ہے) تو پھر دیانت کیسے مسلمہ ہو گئی؟(عمار مسعود میں توازن کی کمی ہے اور طفیل ہاشمی صاحب میں توازن موجود ہے )تو توازن کی مد میں دونوں کے سات سات نمبر کیسے ہو گئے؟FB R,,
توازن کی یہی بات ہاشم خاکوانی، ید بیضاءاور احمد اقبال صاحب کے بارے میں ہے۔خاکوانی صاحب کے بارے میں لکھا ہے کہ سینٹر آف رائٹ اور رائٹ ونگ کو سپورٹ کرتے ہیں اور اس خاکسار کے بارے میں لکھا ہے کہ توازن نہیں ہے۔ اگر تو خاکوانی صاحب سینٹر آف دی رائٹ ہیں تو ان کو توازن کی مد سات کی بجائے پانچ نمبر دینے چاہیے تھے کیونکہ وہ ایک سائیڈ کی بات کرتے ہیں اور احمد اقبال کو بھی پانچ نمبر ملنے چاہیے تھے کیونکہ وہ دوسرے سائیڈ کی بات کرتے ہیں ( دونوں طرف کے صحیح اور غلط سے کی بحث سے پرے) اور ید بیضاءکو چار نمبر دینے چاہیے تھے کیونکہ توازن نہیں ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ وصی بابا کا ” ٹویٹاں والی سرکار“ کے بعد بھی جرات گفتار میں عاصم اللہ بخش کے برابر ہی نمبر لے سکے۔آپ ذیشان ہاشم کو مالی اور معاشی موضوعات کے ساتھ خاص بھی کرتے ہیں اور حس مزاح کی کمی کا شکوہ بھی کرتے ہیں۔انداز تحریر کی کیا بات کریں کہ تحریر کا بھڑکتا الاﺅ فرنود عالم اور تحریر میں مٹی کی خوشبو ملانے والا قاری حنیف ڈار تو اس میں جگہ نہ پا سکے مگر کبھی کبھی یکسانیت کے شکار عاصم اللہ بخش پہلے اور دلچسپی کے عنصر سے خالی طفیل ہاشمی صاحب پانچویں نمبر پر ہیں۔ ایک طرف توازن، سچائی، دیانت، دلیل، پراثرطرز تحریر، وسیع معلومات اور برداشت سے پر ،دوسری طرف مذہب، سیاست، سائنس ، معاشرت اور مزاح جیسے متنوع موضوعات پر لکھنے ولا عاصم اللہ بخش کی تحریر آخر میں کبھی کبھار یکسانیت کی بھی شکار ہوتی ہے۔ کیسے؟ یہ خاکسار کو جاننے میں دلچسپی ہے۔
یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کسی تحریر سے انسانی اوصاف اور خامیاں کیسے اخذ کی جاتیں ہیں کجا یہ کہ ان کو معیار بنایا جائے؟ صفت( ایڈجیکٹیو منفی یا مثبت) کا کوئی بھی صیغہ کسی تحریر کا معیار اس وقت تک بن نہیں سکتا جب تک واقعاتی شہادت موجود نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ صفت کے وہ صیغے جن کے مظاہر باطنی ہوں اس کے لئے واقعاتی شہادت کے ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں ہوتا تو اس کو معیار بنانا کیسے ممکن ہے۔ آپ کے قائم کردہ معیارات میں، سچائی، دیانت،توازن، تنوع، جرات اور برداشت صفت کے صیغے ہیں۔
ان میں سچائی اور دیانت کے مظاہر باطنی ہیں۔تحریر کی تو کیا بات کریں ایمان کے لئے بھی اس مظاہر باطنی ہیں اور کسی عدالت کے لئے بھی اس کے مظاہر باطنی ہیں۔اس لئے پہلا سوال تو اس پر وارد ہوتا ہے کہ وہ کونسا پیمانہ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ عاصم اللہ بخش دیانت اور سچائی میں وصی بابا سے تین تین نمبر آگے ہے؟ بدقسمتی سے آپ نے دیانت او رسچائی کے بیس بیس نمبر رکھے ہیں۔
استادوں سے یہی سیکھا تھا کہ لکھتے ہوئے تائیدی نغموں کے سروں سے مدہوش نہیں ہونا اور تنقیدی شورشوں کی آہنگ سے گھبرانا نہیں۔ساتھ میں یہ بھی سیکھا تھا کہ اپنی ذات کے حوالے سے کوئی وضاحتی منصب سنبھال کر وعظ دینا کمزوری کی علامت ہے۔ یہاں مگر صیغہ واحد متکلم استعمال کرنے کی مجبوری آپ کے قائم کردہ ’معیارات‘ تھے جس کو آپ رینکنگ کہتے ہیں۔ اچھے اور برے لکھاریوں کی کیٹ واک جہاں بھی لگی ہے یہ خاکسار اس میں کبھی شرکت نہیں کرتا۔ کسی نے تعریف کر دی تو زیادہ سے زیادہ شکریہ لکھ دیتا ہوں کہ محبت کا جواب محبت سے دینا لازم ہے۔ کسی نے بھپتی کسی یا تنقید کی تو کبھی جواب نہیں دیا۔ لوگوں کے پاس لکھنے کی سو وجوہات ہو سکتی ہیں میرے پاس صرف ایک وجہ ہے کہ میں اپنی کیتھا رسس کے لئے لکھتا ہوں۔ جس کو پسند آئے اس کا بھلا جس کو پسند نہ آئے اس کا سو بھلا۔ نہایت احترام سے عرض ہے کہ خاکسار خود کو اس مقام کے لائق نہیں سمجھتا جو آپ نے عطا کیا ہے مگر آپ کی درجہ بندی کے طریقہ کار سے بھی اتفاق نہیں رکھتا۔
مزید برآں یہ عرض ہے کہ اس فہرست میں موجود سارے احباب میرے لئے نہایت قابل احترام ہیں۔میں نے کسی ایک کے بارے میں بھی ذاتی رائے نہیں دی اور نہ میں دینا چاہوں گا۔ جو کچھ ان کے بارے میں لکھا ہے آپ ہی کی آراء ہیں تاکہ آپ کے قائم کردہ معیارات کا سقم واضح ہو۔ میں کسی کی سچائی، دیانت، توازن، جرات، اور برداشت تحریر سے سمجھ نہیں سکتا۔ اگر کہیں سے یہ گیدڑ سنگھی دستیاب بھی ہو جائے تو میں کسی کی ذات کے بارے میں رائے دینے والا کون ہوں۔دل آزاری کے لئے معذرت خواہ ہوں.

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s