جاوید چوہدری کے پیروڈی کالم لکھنے والے ثاقب ملک پر جاوید چوہدری کا فرضی پیروڈی کالم .ثاقب ملک

ثاقب ملک ایک دلچسپ نوجوان ہیں .یہ جب پیدا ہوئے تو یہ دنیا کے واحد بچے تھے جس کے سر پردو سو اکتالیس مکمل بال ،تراسی ،ٹوٹے ہوئے بال ،پندرہ سوکھے ہوئے بال تھے .یاد رہے کہ دنیا کے ہر پیدا ہونے والے بچے کے سر پر ،نو سو تیس بال مکمل اور چار سو بال ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں .ثاقب ملک پیدا ہوئے ،انہوں نے قہقہہ لگایا اور بولے “ابا جان میں پیدا ہو گیا ہوں ” .ابا جان نے انکے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا ،میں ابھی جاوید چوہدری کو اطلاع دیتا ہوں .یوں مجھ تک انکی پیدائش کی خبر پہنچی .اس سے میرے اندر رواداری بھی بڑھی اور برداشت بھی پیدا ہوئی .لیکن ثاقب ملک بچپن سے چند مسائل کا شکار تھے .انکا پیمپر جلد گیلا ہو جاتا تھا ،انکی ناک سے ہر وقت زکام بہت بہتا رہتا تھا اور انکا رنگ کالا تھا .یہ اس مسائل کی وجہ سے بہت پریشان تھے .یہ اپنی ناک واپڈا کے کھمبے سے رگڑ کر صاف کرتے تھے .اس وقت میری اور انکی پہلی ملاقات ہوئی .
ایک دن یہ کھمبے سے اپنا ،ناک رگڑ رہے تھے کہ میں سامنے سے گزرا.میں نے کہا،ثاقب تم کب تک ،اسی طرح ،کھمبے سے ناک رگڑو گے ؟ تم کب تک زکام کے ہاتھوں پانی پت کی جنگ ہارتے رہو گے ؟تم کب تک اپنی چیچی انگلی استمعال کرتے رہو گے .تم کب تک ،ٹشو پیپر سے سیلاب کو روکتے رہو گے تمہیں اپنا زکام صاف کرنا ہو گا ورنہ تم اور تمہارا ناک تاریخ کے اندھے کنویں ،میں جا گرو گے .ثاقب نے قہقہہ لگایا اور مجھ سے پوچھا ” تو میں کیا کروں ؟ میں نے جواب دیا ،”تم اپنے پیمپر کا ایک حصہ کاٹ کر رومال بنا لو اس سے ناک صاف کرو یوں تمہیں کھمبے سے ناک نہیں رگڑنا پڑے گی .پیمپر پر بھی ہوا لگے گی یوں وہ بھی کم گیلا ہو گا .تمھارے ناک اور زکام میں رواداری بھی بڑھے گی اور برداشت بھی پیدا ہو گی اور تمہارا مسلہ بھی حل ہو جائے گا”..میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ ہر بچے کے منہ کے سامنے ایک کھمبا لگوا دے اور ہفتے میں ایک بار اس سے ناک رگڑوائے .اس بچوں میں محنت کرنے کی عادت پیدا ہو گی اور وہ اپنے مسائل خود حل کر سکیں گے .ثاقب نے قہقہہ لگایا اور بولا ،آپ کمال کرتے ہیں ،آپ نے مجھے اور میرے پیمپر کو تاریخ کے اندھے کنویں میں گم ہونے سے بچا لیا لیکن میرا رنگ کالا ہے ،میں کیا کروں ؟ میں نے قہقہہ لگایا اور کہا ،تم خواجہ صاحب کے پاس جاؤ .javed..3
ثاقب نے چار ماہ کی عمر میں قہقہہ لگایا اور خواجہ صاحب کے پاس پہنچ گیا اور انہیں اپنا مسلہ بتایا .خواجہ صاحب اس وقت اپنے سگریٹ کے دھویں کے مرغولوں سے کھیل رہے تھے .انھوں نے ثاقب کا سوال سنا ،قہقہہ لگایا ،پھر خاموش ہوئے ،پھر قہقہہ لگایا اور بولے “ثاقب تم کاکروچ کو ،شکر سمجھ کر کھا رہے ہو ،تم گدھے کی دم کو مونچھیں سمجھ رہے ہو ،تم لوگوں کی تھوکیں چاٹ رہے ہو .تم ایسے گورے نہیں ہو گے .ثاقب نے قہقہہ لگایا اور بولا تو میں کیسے گورا ہوں گا ؟ خواجہ صاحب نے کہا ،تم روز صبح چھ بجے اٹھو ،اٹھ کر کچھ نہ کرو پھر سو جاؤ ،پھر چھ گھنٹے بعد اٹھو ،نہاؤ دھوو ،ورزش کرو ،اپنے گھر کے سامنے کی کچی گلی میں کھڑے ہو کر اپنے منہ پر گرد وو غبار لگواؤ اس طرح تم گورے ہو جاؤ گے .ثاقب نے اس تجویز پر عمل کیا یا نہیں میں نے خواجہ صاحب کی یہ بات اپنی گرہ سے باندھ لی .وہ دن اور آج کا دن میں صبح چھ بجے اٹھتا ہوں ،پھر کچھ نہیں کرتا قہقہہ لگاتا ہوں ،اور دوبارہ سو جاتا ہوں ،پھر اٹھ کر نہاتا ،دھوتا اور ورزش کرتا ہوں اس طرح میں فرش بھی رہتا ہوں اور رنگت بھی صاف ہوتی ہے .میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ ہر پاکستانی بچے کو ہر چھ گھنٹے بعد دھپے مار کر جگا دے .اس طرح لوگوں میں رواداری اور برداشت بڑھے گی .
لیکن یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی .میں پاکستان سے سوال کرتا ہوں کہ میرے پیروڈی کالم کیوں لکھے جا رہے ہیں ؟ کیا میرا خاندان صدیوں سے جاہل ہے تو میرا اس میں کیا قصور ہے ؟ میں ایک سلف میڈ انسان ہوں اس لئے مجھ پر طنز کیا جاتا ہے ؟ ہمارے ملک میں لوگ ملک ریاض جیسے کامیاب ترین انسان کو نہیں چھوڑتے تو میں کس کھیت کی مولی ہوں ؟ آخر ہم کب تک اپنے ہیروز کا مذاق اڑاتے رہیں گے ؟ ہم کب تک سیلف میڈ لوگوں کی مونچھوں میں مچھر چھوڑتے رہیں گے ؟ آخر ہم کب تک شلوار میں ،بیلٹ ڈالتے رہیں گے ؟ ہمیں لوگوں کو عزت دینا ہو گی ورنہ ،تاریخ ہمیں چونگ گم کی طرح چبا کر پھینک دے گی

.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s