پیاری امی جان !! رخشان میر کا آرٹیکل

کراہ عرض پر شاید ہی کوئی بشر یا جانور ایسا ہو جسے اپنی ماں سے محبت نہیں ، ایک ہی تو وجود خدا نے ایسا تخلیق کیا ہے جس میں انسان اسکا (الله ) کا عکس دیکھ سکتا ہے .میری ماں ویسے تو عمر میں مجھ سے کچھ ہی سال بڑی ہیں مگر وہ میری واحد دوست ہیں جس سے اپنی زندگی کی ہر خوشی اور غم بغیر کسی جھجھک یا شرم کے بانٹ سکتا ہوں، ہر بار سچ بول سکتا ہوں اور واحد دوست ہونے کی وجہ سے اپنی زندگی کے سارے گلے سڑے شکوے بھی اسی سے کرتا ہوں.mother and son مگر فورا ہی معافی کا طلبگار بھی ہو جاتا ہوں. الله اور ماں سے نافرمانی اور توبہ کا سلسلہ بھی اتنا ہی پرانا ہے جتنا میرا وجود، اور یہ سلسلہ آج تک اسی لئے صحیح سلامت قایم ودائم ہے کیونکہ دونوں ہی فورا معاف کردیتے ہیں اور معاف کرتے ہی خوش ہو جاتے ہیں. معافی مل جانے کے بعد جو قلبی سکوں ملتا ہے اسکی کوئی قیمت نہیں .
میرے نبی رحمت ( صلی الله علیہ و الہ وسلم ) نے بہت حسرت سے فرمایا : کاش میری ماں زندہ ہوتی ، کاش میری ماں زندہ ہوتی میں عشاء کی نماز کے لئے مصلے پر کھڑا ہوتا ، نماز شروع کرتا اور ماں کی آواز آتی بیٹا محمّد ! میں نماز توڑ کر ماں کی طرف رجوع کرتا جی امی جی ؟
بھلا ماں کی آواز سے قیمتی کونسی آواز ہوگی ، وہ آواز جو خوشی کے علاوہ کچھ نا دے ، شدید پیاس میں پانی کے ٹھنڈے گھونٹ کا کام کرے ، وہ آواز جو زخم پر مرہم کا کام کرے اس سے قیمتی بھلا کونسی آواز ہوگی ؟
دنیا میں سب رشتے مطلب کے ہی تو ہیں ، چاہے وہ دوستی کا رشتہ ہو یا میاں بیوی کا ، استاد شاگرد کا رشتہ ہویا گاہک اوردوکاندار کا . ہر رشتے کے پیچھے مفادات کا ایک بھیانک جال چھپا ہے. جس شخص کو یہ لگتا ہے کہ اسکے دوست بہت مخلص ہیں، گھر والوں سے بھی زیادہ مخلص ہیں تو انکے لئے میری دعا ہے خدا انھیں اپنے مخلص دوسوتوں کے ہمرا ہ کسی مشکل میں ضرورپھنسائے تاکہ انھیں لگ سمجھ جائے کہ کون کتنا مخلص ہے .
بچپن تو نئے نئے فیشن کرنے اور سجنے سنورنے میں گزرا پر مجھے یاد ہے کے ایسا کوئی دن مشکل ہی میسر ہوا ہوگا جب میں شیشے کے سامنے بال بنا رہا ہوں اور میری ماں نے پیچھے سے آواز نہ دی ہو “لڑکوں کی خوبصورتی شکل صورت نہیں بلکہ انکی قابلیت ہوتی ہے ” اب تو یہ آواز میرے ذھن کے کسی کونے میں خیمہ لگاکے بیٹھ گئی ہے اور میں چلتے پھرتے دوسروں کو بھی یہی مشورہ مفت میں پیش کرتا ہوں .

سب کو ہی اپنی اپنی مائیں اچھی لگتی ہیں مگر جب باپ ضرورت سے زیادہ سخت اور بغیر وجہ کے تذلیل کرنے کے عادی ہوں تو بچوں کو ماں ہی میں پوری کائنات کی طاقتیں اور رحمتیں چھپی ہوئی نظر آتی ہیں . جب کبھی ابّا جی ڈانٹ دیتے ہیں اور آنسو بےقابو ہو جاتے ہیں تو امی جان بھی میرے ساتھ رو دیتی ہیں. اور پھر مجھے دکھانے کے لئے جلدی سے اپنے آنسو پونچھ کر کہتی ہیں ” چل تو تو دل چھوٹا نہ کر، کچھ نہیں ہوتا”. ماں مسکراتی ہے تو دل کے جہاں میں پھول کھل اٹھتے ہیں . گھر جنت کا باغ بن جاتا ہے ، زندگی کو جینے کی اک نیی امید مل جاتی ہے.
جب آپ تکلیف میں ہوں تو ماں کو تکلیف بتا کر ساری تکلیف دور ہو جاتی ہے، کیونکہ آپ اسکو اپنے سے زیادہ تکلیف میں پاتے ہیں. کوئی تو ہے جو آپکا درد آپ سے زیادہ محسوس کرتا ہے. الله نے یہ نظام خود تخلیق کیا ہے تاکہ بندے کو اپنا مشکور بنا سکے کہ اس نے ہمیں ماں جیسی نعمت عطا کی ہے .
مجھے وہ دن یاد ہے جب آج سے 21سال قبل ماں میرے سکول آتی اور مجھے نان ٹکی اور دوسری مزے مزے کی چیزیں دلواتی تھی . ایک بار میں نے گھر آ کر کہا کہ ٹیچر نے مجھ سے پرچہ نہیں لیا تو بغیر کچھ سوچے سمجھے اور بغیر جوتا پہنے میرے ساتھ چلنے لگی . آج ١٢ سال بعد بھی ماں کا رویہ ویسا ہی ہے . میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں میں نے اس طویل عرصے میں ماں کو کچھ نہیں دیا اور لیا بہت کچھ ہے.
غلطیاں اور گناہ میرے اوربگھتنے والی میری ماں !
میں تو دوسروں کو بھی کہتا ہوں جو انسان ماں کی قدر نہیں کر رہا اسکے پاس جاندار ہونے کا لائسنس تو ہے مگر انسان ہونے کا نہیں. اس ماں کی حرمت میں تو الله نے حضرت موسیٰ سے فرمایا ” موسیٰ اب دھیان سے رہا کر پیچھے دعائیں کرنے والی ماں اب زندہ نہیں رہی”.
وہ ماں جسکی پکار عرش کو چیر دے اور خدا کہ تخت سے جا ملے بھلا اسکی قدرنا کرنا کتنی کم ظرفی ہوگی .
میں ہمیشہ سے ہی اپنی اوقات سےبڑھ کر کام کرنے کا عادی ہو چکا ہوں ، اپنی پہنچ سے زیادہ توقع کرنا میرا معمول بن چکا ہے پر ماں نے کبھی مجھے اوقات یاد نہیں دلائی اور ہمیشہ دعا ہی دی ہے .
ماں گھر کے سارے دکھ ، پریشانیاں اور قباحتیں ناجانے کیسے اپنے اندر جذب کر لیتی ہے اور بدلے میں آسانیاں ، خوشیاں ، رحمتیں اور برکتیں ہمارے گھر کو تحفہ کر دیتی ہے. ماں ایسی غیر معمولی خوبیوں کی مالک ہے کہ آج تک چہرے پر بل نہیں انے دیا. میں ماں کی تعریف میں کیا لکھوں آپکےبلاگ میں جگہ تو ختم ہو جائے گی مگر ماں کی عظمت نہیں . اک شعر پر اختتام کروں گا .
پوچھتا ہے جب کوئی کہ دنیا میں محبت ہے کہاں ؟                  مسکرا دیتا ہوں میں اور یاد آجاتی ہے ماں


Rukhshan

Rukhshan Meer

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s