فیس بک پر “آرچر آئی ” کی اردو پوسٹس رینکنگ .ٹاپ ٹین بیسٹ پوسٹس آف دا ویک یکم تا آٹھ جنوری کون سی ہیں ؟

پاکستان میں پہلی بار ،اردو رائٹرز کی رینکنگ کے بعد آرچر آئی اب ،ٹاپ ٹین بیسٹ پوسٹس آف  ویک متعارف کروا رہا ہے .پچھلے ہفتے کی ہزاروں اردو فیس بک پوسٹس کو پڑھنے کے بعد ان میں سے دو درجن سے زائد کو شارٹ لسٹ کیا گیا تھا .ان میں سے انتہائی سخت مقابلے کے بعد ،اپنے ججنگ فیکٹرز کے پوائنٹس کی بنیاد پر دس بہترین پوسٹس کو یہاں آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے ہر پوسٹ دوسری پوسٹ سے موضوع ،سوال اور جواب کے اعتبار سے مختلف ہے ..ہمارا مقصد یہ ہے کہ آپ کو ایک جگہ پر سہولت سے ہفتے بھر کی عمدہ تحاریر مل جائیں،رائٹرز کی حوصلہ افزائی ہو ،لوگ اچھا پڑھیں ،اچھا سوچیں ،کچھ سوال اٹھیں کچھ اٹھائیں .
١٠.عمار مسعودAmmar masood
پوسٹ :“شعیب ملک ، دانش کنیریا ، سعید اجمل ، محمد حفیظ اور یاسر شاہ تم کتنے سپنر مارو گے ہر گھر سے سپنر نکلے گا.”
تبصرہ :اس پوسٹ میں مصنف نے ایک لائن کے جملے میں پاکستان کرکٹ کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ،پی پی کے مشہور و معروف بھٹو کے نعرے کو خوب صورتی سے ٹوئسٹ کرتے ہے پاکستانی قوم کے جذبے اور مزاحمت کرنے کی اپروچ کی جانب اشارہ کیا ہے .
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/ammar.masood.31/posts/924793374241753
پوائنٹس بریک ڈاؤن
فیکٹر . فیکٹر پوائنٹس …حاصل کردہ پوائنٹس . پوسٹ کے مجموعی پوائنٹس
انداز تحریر-20-  —   17-   ——–17
استدلال–             20—-16———33
معنویت-20——–16——-49
پیکیج-20——–15——-64
موضوع-20—–13—–77
٩.صدف زبیریsadaf zuabiri
پوسٹ :”سعودیہ ،ایران کشیدگی ،ساس بہو کی لڑائی ہے ، پاکستان وہ بے چارہ شوہر ہے جسے سمجھ نہیں آتی کہ ماں کا ساتھ دے یا بیوی کا .”
تبصرہ : صدف زبیری نے پر مزاح مگر بہت زیرک انداز میں سعودی عرب اور ایران کی جاری کشیدگی کے ہنگام ،پاکستان کی انتہائی پیچیدہ خارجہ پالیسی کی صورت حال کی عکاسی کی ہے .
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/sadaf.zubairi/posts/981383728601772
پوائنٹس بریک ڈاؤن
فیکٹر . فیکٹر پوائنٹس ……حاصل کردہ پوائنٹس ….پوسٹ کے مجموعی پوائنٹس
انداز تحریر-20——-16———16
استدلال-20——–16——–32
معنویت-20——-17———49
پیکیج-20———-15——–64
موضوع-20———14——78
٨.طفیل ہاشمیTufail hashmi
پوسٹ :Positive Psychology مثبت نفسیات کا شہرہ بہت عام ہو رہاھے کچھ چرب زبان لیکچرز کے ذریعے ہمیں یقین دلادیتے ھیں کہ کامیابی صرف دولت کے انبار لگانے کا نام ہے اور ہم اتنی صلاحیتوں کے مالک ہیں کہ جو چاہیں حاصل کر سکتے ھیں بس قادر مطلق کے آس پاس کھڑے ہیں.
۔Personality Development پر کتابیں لیکچرز ورکشاپس غرضیکہ ایک سبلاب آیا ہوا ھے جو ہم میں خود اعتمادی ترقی اور بلند وبالا شاخ پر آشیانہ بنانے کی مقناطیسی قوت پیدا کر دیتا ھے یقینا ہماری ایسی مایوس اور کمزور ارادے والی قوم کے لئے یہ دوا مفید بھی ھے لیکن خیال رہے کہ اس کی مقدار کسی حد کے اندر رھے ۔
میں اس نفسیات کا بہت بڑا پرچارک ہوں لیکن دو باتیں ہنوز تشنہ حل ہیں ۔
1 اس فن کے باوا آدم ڈیل کارنیگی نے خود کشی کیوں کرلی تھی؟
2 اگر علم نجوم کی طرح یا عملیات کی مانند یہ نسخہ واقعی قسمتیں بدل دیتا ھے تو کچھ لوگ دوسروں پر یہ چورن بیچنے کے بجائے خود استعمال کر کے امر کیوں نہیں ہو جاتے ؟۔
تبصرہ : یہ پوسٹ طفیل ہاشمی صاحب کی نبض شناس نگاہوں کا اظہار ہے .موضوع تازہ اور بہت اہم ہے کہ قوم کی نفسیات پر اثر انداز ہونے والی ہر چیز پر نظر رکھنا ہی دانشوروں کا اصل کام ہے .یقیناً مثبت نفسیات،سیلف ہیلپ اور پرسنالٹی ڈیولپمنٹ والے طبقے اور ماہرین کو ان چبھتے سوالات کا جواب دینا ہو گا .
پوسٹ لنک  :https://www.facebook.com/permalink.php?story_fbid=1094724490571567&id=100001020803306
پوائنٹس بریک ڈاؤن
فیکٹر . فیکٹر پوائنٹس ……حاصل کردہ پوائنٹس ….پوسٹ کے مجموعی پوائنٹس
انداز تحریر-20-   ——–15—–15
استدلال-20———-17——–32
معنویت-20———17———49
پیکیج-20——–15——–64
موضوع-20———15——-79
٧.رعایت الله فاروقیriatullah farooqi
پوسٹ :علم کی دنیا
” علم کی دنیا دلیل اور باہمی احترام کی دنیا ہے۔ یہاں نفرت کی فصل اگانے والے اجتماعی نفرت کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ یہاں اسی کو قرار ہے جو علم کے ساتھ دیانت برتنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ جو کسی موقف کو اس لئے درست نہ کہتا ہو کہ یہ اس کے بڑوں کا موقف ہے بلکہ اس لئے کہتا ہو کہ یہ علمی طور پر درست موقف ہے۔ دینی علوم کی دنیا میں اختلاف فروعات میں پیدا ہوتا ہے یعنی وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں سے انسانی ذہن اپنی تجویز دینا شروع کرتا ہے اور اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ انسانی ذہن ایک ایسی چیز ہے جس سے ہر سطح پر اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں بنے مکاتب فکر کا المیہ یہ رہا کہ یہ ایک دوسرے سے میل جول کے قائل نہ تھے۔ میل جول دو دوستوں یا قریبی رشتوں میں بھی کم ہوجائے تو غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اور شکوے شکایات کے دفتر کھل جاتے ہیں۔ تدارک نہ ہو تو بات دشمنی تک چلی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ علمی طور پر مستحکم ہیں تو دوسرے فریق سے میل جول سے کیوں گھبراتے ہیں ؟ اور پھر سوال یہ بھی ہے کہ اخلاص کسے کہتے ہیں ؟ اخلاص دیانت کے سب سے اعلیٰ ترین معیار کا نام ہے۔ وہ معیار جہاں آپ کے تمام کے تمام ذاتی مفادات پس پشت ہوتے ہیں۔ یہ معیار آپ انسانوں کے لئے قائم کرلیں تو آپ سے بڑا کوئی انسان دوست نہیں ہوتا اور دین کے لئے قائم کرلیں تو آپ سے بڑا کوئی متقی نہیں ہوتا۔
اگر ایک شخص محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے جذبے سے مالامال رہ کر ایک علمی موقف اختیار کرتا ہے تو میں اور آپ اسے جتنا بھی گمراہ کہہ لیں اس کا رب اس سے راضی ہی ہے۔ اگر آپ بھی اسی اخلاص کی بنیاد پر اس کے برعکس موقف رکھتے ہیں تو یقینِ کامل رکھئے کہ اللہ آپ سے بھی اتنا ہی راضی ہے جتنا اس سے کیونکہ اللہ کو اپنے بندے سے اخلاص مطلوب ہے جو دونوں ہی کے پاس موجود ہے۔ اگر یہ دونوں واقعتا مخلص ہیں تو اس کے کچھ مظاہر بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ مثلا یہ کہ وہ منافرت کے جذبات سے پاک و صاف ہونگے کیونکہ یہ اللہ کو پسند نہیں۔ یہ اپنے مخالف موقف والے کے لئے دیدہ و دل فرشِ راہ ہونگے کیونکہ یہ اللہ کو بہت پسند ہے۔ میں جاوید احمد غامدی صاحب کے ایک بھی تفرد سے اتفاق نہیں رکھتا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں جاوید صاحب سے نفرت شروع کردوں کیونکہ ان کی رائے ہمارے بزرگوں کی رائے سے مطابقت نہیں رکھتی۔ مجھے اپنے بزرگ بے انتہاء عزیز ہیں، خود میرا وجود انہی کا فکری تسلسل ہے مگر میں ان کی رائے کو وحی الٰہی کا درجہ نہیں دیتا۔ مجھے ان کی رائے درست لگتی ہے سو میں ان کی رائے کے ساتھ چلتا ہوں۔ اگرکسی کو ان کی رائے درست نہیں لگتی تو وہ اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اس رائے کے ساتھ نہ چلے۔ اگر وہ اس رائے کو اللہ ہی کی رضاء کی خاطر قبول نہیں کر رہا تو یہ اللہ کا ولی ہے ہمیں اس سے محبت کرنی چاہئے نہ کہ نفرت۔ المیہ یہی تو ہے کہ راستے کے گرد و غبار نے ہمیں یہی بھلا دیا کہ اللہ کی رضاء ہمارے موقف پر عمل سے نہیں ملتی بلکہ صرف اور صرف اخلاص سے ملتی ہے اور اخلاص ایسی چیز ہے جو بیک وقت دو متضاد آراء کے پیرو کاروں میں ہوسکتا ہے۔ کل شب کی مجلس اسی لئے ممکن ہوئی کہ اس میں شریک افراد اس راز سے وقف ہیں۔ وہ نفرت سے ضرور نفرت کرتے ہیں مگر ایک دوسرے سے نہیں کرتے کیونکہ علم کی دنیا احترام کی دنیا ہے۔”
تبصرہ : فاروقی صاحب نے ایک انتہائی نازک موضوع کا حق ادا اکر دیا ہے .ہمیں اس پوسٹ کو ہر مسجد ،ہر مدرسے،ہر اسکول میں لٹکا دینا چاہئے .
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/Riayat.Farooqui/posts/1088830651140929
پوائنٹس بریک ڈاؤن
فیکٹر . فیکٹر پوائنٹس ……حاصل کردہ پوائنٹس ….پوسٹ کے مجموعی پوائنٹس
انداز تحریر-20—-17———17
استدلال-20——17——34
معنویت-20—-16——50
پیکیج-20—–15—-65
موضوع-20–15—80
٦.ڈاکٹر عاصم الله بخشAsim allah bakhsh
پوسٹ :جسٹ بائی دا وے ۔۔۔۔۔ !
“کسی حکم کی حکمت جانے بغیر اس پر شدو مد سے عمل کرنے کا جذبہ بھی بڑے بڑے رنگ دکھاتا ہے۔ بہت بار تو اس حکم ہی کی خلاف ورزی تک بات جا پہنچتی ہے بظاہر جس کی پاسداری کا قصد تھا۔
تورات میں حکم ہے کہ عورت کے سر کے بال پر غیر مرد کی نظر نہ پڑنے پائے۔ ظاہر ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ خواتین گھروں سے باہر جاتے ہوئے یا گھر میں بھی نامحرم حضرات کے سامنے خود کو ڈھانپے رہیں تاکہ غیر مردوں کی غلط نگاہ سے محفوظ رہیں۔
یہودی خواتین اس پر عمل یوں کیا کرتی ہیں کہ سر کے بال استرے سے بالکل صاف کروا لیتی ہیں۔ اس کے بعد اپنے اصلی بالوں سے بھی خوبصورت وِگ سر پر جما کر اس کو ڈھانپے بغیر ادھر ادھر گھوما کرتی ہیں۔ بال تو اپنے چھپانےکا حکم تھا ، وہ تو پہلے ہی “نذرِ استرا” ہو گئے ۔ یہ جو بال ہیں، وگ کی شکل میں، یہ تو اپنے ہیں ہی نہیں تو پھر ان کو چھپانے کا کیا مقصد ؟ یہ تو اس حکم میں آتے ہی نہیں۔ اللہ اللہ خیر سلا۔
اس سے کچھ ملتا جلتا رجحان ہمارے ہاں بھی انتہائی “دیدہ زیب” اور “دلکش” حجاب اور عبایہ وغیرہ کی صورت دستیاب ہونے لگا ہے۔
رہے نام اللہ کا۔”
تبصرہ : شاندار اور سہل انداز میں ڈاکٹر صاحب نے معاشرے میں موجود مذہب کے حوالے سے جاری منافقت اور ،جہالت کا پردہ چاک کیا ہے .یہ سوال کافی لوگوں کے
اذہان میں موجود تھا .
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/asim.allahbakhsh/posts/945189982184349
پوائنٹس بریک ڈاؤن
فیکٹر . فیکٹر پوائنٹس ……حاصل کردہ پوائنٹس ….پوسٹ کے مجموعی پوائنٹس
انداز تحریر-20—-17—–17
استدلال-20—–17—–34
معنویت-20—–17—-51
پیکیج-20——15—–66
موضوع-20—-15—–81
٥.فرنود عالمFarnood aalam
پوسٹ :منافقت کی قابل اعتبار قسم
” تکبر کا تعلق دل سے ہے۔ یہ گزرتے وقت کے ساتھ اپنا پیرہن بدلتا ہے۔ یہ پیرہن ماحول کے دھاگوں سے سلتا ہے۔ ہم نے مگر اس کی حقیقت کو ظاہری پہناوے کے ساتھ جوڑ لیا ہے۔ یعنی کمال کردیا ہے۔
بات یہ ہے کہ۔!!
عاجزی کے معاملے میں انسان خود اپنے ضمیر کو جوابدہ ہے۔ خارج سے نہیں، اس کا ثبوت داخل سے ملتا ہے۔ ہم نے عاجزی کے کچھ طے شدہ معیار قائم کر لیئے ہیں۔ اسی معیار کو اپنی جگہ قائم رکھتے ہوئے آپ عاجزی کی چال دیکھیئے۔ کچھ دیر کو غور کیجیئے۔ واقعی میں اگر غور کرلیا تو پھر لمحہ بھر میں آپ یہ حقیقت تسلیم کرنے پہ مجبور ہوجائیں گے کہ عاجزی خود ایک بہت بڑا تکبر ہے۔
یعنی کہ۔!!
اگر آپ میرا مطلب سمجھ گئے ہیں تو پھر یہ سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی کہ تکبر کی یہی عاجزانہ قسم ہے جو ہمارے رویوں میں قابل اعتبار منافقت کو جنم دیتی ہے۔
سچ پوچھیئے
رویوں کی تہذیب کو سب سے بڑا خطرہ تکبر کی اسی عاجزانہ قسم سے درپیش ہے۔ کیونکہ تکبر کی یہ واحد قسم ہے جسے تائید کے سرمائے پہ ڈاکہ نہیں ڈالتا پڑتا۔ تکبر کی یہ قسم لباسِ مفلسی میں اس شانِ بے نیازی سے چلی آتی ہے کہ تائید کے سب ڈونگرے اس کی بلائیں لینے کو لپک پڑتے ہیں۔
خود سوچیئے۔۔!!
ہمارے گرد وپیش میں کتنے ہی سیاسی لیڈر اور مذہبی ہستیاں ہیں جن کی سادگیوں کی تشہیری مہم پر لاکھوں روپے پھونکے جارہے ہیں۔
اب۔!!
ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہوگا کہ جس شخص کے گریبان کے ہر چاک کی تشہیر پہ لاکھوں لگائے جارہے ہیں، اس سے کہیں کم پیسوں میں اس چاک کی رفو گری کیوں نہیں کرلی جاتی۔؟ یہ سوال جس ذہن میں پیدا ہورہا ہے وہ ذہن ہی دراصل نہایت سادہ ہے۔ ذہنوں کی یہی سادگیاں ہیں جو منکسر المزاج متکبروں کا کام آسان کرتی ہیں۔ میاں ایسا نہیں ہو سکتا کہ تشہیر کے پیسوں سے اپنی حالت درست کر لی جائے۔ کیوں؟
کیونکہ۔!!
سادگی اس وقت ہمارے خطے کا مہنگا ترین فیشن ہے۔ فیشن کا رشتہ ہمیشہ شوق سے رہا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا۔ ذرا دیکھیئے کہ حضرتِ اقبال کا یہ مصرع کتنا برمحل ہے
’’درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری‘‘
تبصرہ : ڈرامے بازی اور عیاری کو سادگی کے بھیس میں لپیٹ کر ،لوگوں کو بیوقوف بنانے والوں کی نشاندہی اس پوسٹ میں فرنود نے اپنے مخصوص انداز میں کی ہے .
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/farnood.alam.750/posts/972787296125479
پوائنٹس بریک ڈاؤن
فیکٹر . فیکٹر پوائنٹس ……حاصل کردہ پوائنٹس ….پوسٹ کے مجموعی پوائنٹس
انداز تحریر-20——-17———17
استدلال-20——–17———34
معنویت-20——-17———51
پیکیج-20——-15———66
موضوع-20——16——82
٤.کرامت بھٹیkaramat bhati
پوسٹ :ایک احساس اللہ تعالیٰ کی اِس خاک بسر مخلوق کےنام!
“دبیز قالینوں، رنگ برنگے صوفوں اور بھانت بھانت کی کرسیوں پہ اکڑے اور جکڑے تو بڑے دیکھے، آج اللہ تعالیٰ کی اس خاک نشیں مخلوق کو بھی دیکھ لیاجائے جس کی اکثریت رزقِ حلال ہی سے اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہے، جو زمینوں پہ ناجائز قبضے نہیں کرتی، جو کسی بے گناہ کا گلا نہیں کاٹتی، جووطنِ عزیز کے پہلے سے تار تار پیراہن کو اپنی بد سلیقگی اور پھوہڑ پن سے مزید تار تار نہیں بناتی۔ اُلٹا اگر کچھ ممکن ہو تو ہمارے ہی پھیلائے اور پھینکے کاٹھ اور کباڑ کو ٹھکانے لگاتی ہے۔
ہماری ہر آن پٹر پٹر کرتی زبانوں اور رویوں کے سبب لگے چرکوں کےعلاوہ بھی ایک چھوڑ ایک ہزار صدمے ان کے بھی دلوں پہ گذرتے تو ہوں گے، کبھی ازحد لاچاری اور بے بسی کے سبب مجبوری کا کوئی اشک ان کی آنکھوں سے بھی ڈھلکتا تو ہو گا، انگشت نمائی مگر وہی کرے کہ جس نے ان کے ایسے کسی اشک کو دیکھا ہو۔ جس نے ان کے زخموں پہ کبھی محبت اور انصاف کا پھاہا رکھنے کی کوشش کی ہو۔
پاک سرزمین کے سبز ہلالی پرچم کا سفید حصہ ان خاک بسروں کے نام ہے، خود بانی پاکستان، پھرآئین پاکستان، ان کے حقوق کی گارنٹی دیتے ہیں، دین ان کی دل داری اور خیرخواہی کی ترغیب دیتا ہے، پھر بھی ان سے ہمارا جو معاشرتی رویہ ہے وہ ہرگز ایسا نہیں کہ اس پر فخر کیا جا سکے۔ اے اللہ تو ہی ہماری مدد فرما، تُوہماری سوچ اور ان کے حالات کو یکسر بدل دے۔ ہمیں ان کے بچے بھی اپنے بچوں جیسے لگیں اور ان کی عزت میں ہی ہمیں اپنی عزت دکھائی دے۔ آمین یا رب العالمین”
تبصرہ : جھنجھوڑ دینے والی تحریر ہے .ایک لمحے کو بلکہ کافی دیر تک ہمیں ان سوالات اور ان اپنے پر شکوہ مزاجات پر غور کرنا ہو گا .
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/karamat.bhatty/posts/1130328183667043
پوائنٹس بریک ڈاؤن
فیکٹر . فیکٹر پوائنٹس ……حاصل کردہ پوائنٹس ….پوسٹ کے مجموعی پوائنٹس
انداز تحریر-20——-17——–17
استدلال-20———16———-33
معنویت-20——-18———51
پیکیج-20——–17——–68
موضوع-20——-16——-84
٣.عامر مغلAmir mughal
پوسٹ :میرا رب
“ایک رقاص نے خدا کے بارے میں کچھ یوں کہا کہ “میں نہیں مانتا کہ خدا رقص نہیں کرتا کیونکہ خدا واحد ہستی ہے جو ایک مکمل رقاص ہے “۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کو یہ جملہ ناگوار گزرے لیکن اس اظہار میں ایک خاص خوبصورتی ہے جو اس رقاص کی خدا کی ذات کے بارے انسیت کو ظاہر کرتی ہے۔
آپ نے موسیٰ اور چرواہے کا قصہ شاید کبھی سنا ہو جس میں ایک چرواہا اپنے رب سے کچھ یوں باتیں کر رہا تھا “اے اللہ کاش تو میرے پاس ہوتا ،میں تیرے بالوں میں تیل لگاتا، تجھے کنگھی کرتا، تیرے پاوٴں دھوتا” ۔۔۔۔۔۔ سیدنا موسی نے اس چرواہے کو ڈانٹا اور اللہ نے سیدنا موسی کو ڈانٹ دیا ۔۔۔۔
ہم خدا کو کنکریٹ وے میں بیان کر ہی نہیں سکتے ۔۔۔۔ لیس کمثلہ شئی ۔۔۔۔ اس کے مثل کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمیں تمثیلوں سے اسکو بیان کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔ اور ناداں تمثیلوں کو خدا سمجھ بیٹھتے ہیں۔
بس وہ ماں کیطرح خوش ہوتا ہے، ناراض ہوتا ہے، اسکو منایا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔ اس سے لاڈ کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ کبھی وہ ساتھ بیٹھا انتہائی قریب محسوس ہوتا ہے ۔۔۔۔ کبھی وہ ایسا بے نیاز ہو جاتا ہے کہ چیخنے سے بھی سامنے نہیں آتا ۔۔۔۔ کبھی اتنا توکل دیتا ہے کہ کل زندگی گزارنے کی فکر ہی ختم ہو جاتی ہے اور کبھی اتنا بے توکل کر دیتا ہے کہ زندگی پچاس من کی کندھوں پر پڑی بوری بن جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ میرا رب “واحد” ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ “غیب” ہے ۔۔۔۔ وہ “دوست” ہے ۔۔۔۔۔۔ مجھے اس کے غضب سے ڈر نہیں لگتا کیونکہ مجھے یقین ہے میں اسے منا لوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ میرا بے انتہا یقین ہے اسکی رحمت اسکے غضب پر حاوی ہے ۔۔۔۔۔۔ مجھے بس اسکے “عادل” ہونے سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اسکا عدل بالکل “مکمل” ہو گا ۔۔۔۔۔۔ پورا پورا بدلہ
پھر بھی اس سب اچھے برے انجام کی پرواہ کیۓ بغیر ۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی کبھار مرنے کی خواہش اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ گویا میرے اور اسکے ملنے کے بیچ گر موت کا پردہ لٹک رہا ہے تو یہ پردہ ہی اٹھا دوں ۔۔۔۔۔۔ بس میں اس سے مل لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ زمان و مکاں سے ماوراء ایک لمحہ مل جاۓ ۔۔۔۔۔۔ ایک خاموش سجدہ کرنے کا ایسا لمحہ کہ میرا رب میرے سامنے ہو اور میں اسکے سامنے ۔۔۔۔
بس وہ میرے ہونے کا جواز ہے ۔۔۔۔ وہ میری کیوں کا جواب ہے”
تبصرہ : خدا اور انسان کے تعلق کو بیان کرتی عامر مغل کی یہ دلفریب تحریر دل کو موہ لیتی ہے .اس تحریر میں سوچنے والوں کے لئے بہت کچھ ہے .سوال کرنے والوں کیلئے بھی بہت کچھ ہے .
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/amir.mughal1/posts/1208658089161728
پوائنٹس بریک ڈاؤن
فیکٹر . فیکٹر پوائنٹس ……حاصل کردہ پوائنٹس ….پوسٹ کے مجموعی پوائنٹس
انداز تحریر-20———-17———17
استدلال-20————16———33
معنویت-20———18———51
پیکیج-20———-15———-66
موضوع-20——-19———-85
٢.ارشد محمودArshad mehmood
پوسٹ :آدم اور خدا
“ابراہیمی مذاہب انسانی پیدائش کی کہانی یوں بیان کرتے ہیں جب خدا آسمان، زمین اور آدم و حوا کو بنا چکا تو اس نے آدم کو کہا، ‘تو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے، لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا پھل کبھی نہ کھانا، جس روز تو نے کھایا، تو مرا۔۔۔’ سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ خدا یہ کیوں چاہتا تھا کہ انسان عقل و شعور سے بے بہرہ رہے اسے نیک و بد کی پہچان نہ ہونے پائے۔۔حالانکہ یہی وہ صلاحیت ہے، جس سے انسان انسان بنتا ہے۔ ورنہ وہ باغ عدن میں ایک ربورٹ ہوتا۔خدا انسان کو سمجھ شعور سے عاری اور خود سے نا آشنا کیوں بنا کر رکھنا چاہتا تھا۔ مقدس کتب اس کا جواب نہیں دیتیں پرومیتھیس کی کہانی میں خدائے اکبر زیوس نہیں چاہتا تھا انسان کو آگ (انرجی) پر دسترس ہو۔ انجیل کی کہانی ہمیں بتاتی ہے “جب حوا نے سانپ سے اس بات کا ذکر کیا تو اس نے عورت سے کہا، ‘مذکورہ پھل کھانے کے بعد تم ہرگز نہ مرو گے، تم نے جس دن اسے کھا لیا، تمھاری آنکھیں کھل جائیں گی۔ تم خدا کی مانند نیک و بد کو جاننے والے بن جاو گے۔ اور ایسے ہی ہوا۔ ان لفظوں پر غور کیجئے، “عورت نے جب دیکھا وہ پھل کھانے کے لئے اچھا اور آنکھوں کو خوشنما معلوم ہوتا ہے اور عقل بخشنے کے لئے خوب ہے تو خود بھی کھایا اور اپنے آدمی کو بھی دیا، تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان کو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو انجیر کے پتوں سے ڈھانپ لیا۔۔”
کتنی حیرانگی کی بات ہے۔ وہ پھل اچھا، خوش نما، عقل دینے والا اور آنکھیں کھولنے ولا تھا، اسے کھا کر سچ اور جھوٹ کی پہچان، اور خود آگاہی ہوئی مگر یہ سب کچھ خدا کو قبول نہ تھا اس لئے کہ اب انسان محکوم، مجبور اور مجہول حالت سے نکل کر خود مختار اور تخلیق کار بن گیا تھا۔ خدائی فرمان کے برعکس پھل کھانے سے وہ مرا نہیں، اسے ایک نئی زندگی ملی، پھر کیا ہوا، صاحب ارادہ اور صاحب شعور انسان کو باغ عدن میں برداشت کرنا مشکل تھا۔ چنانچہ خادم کو ‘خاکی’ کا طعنہ دے کر اسے زمین پر سزا کے طور پر اتار دیا گیا۔ یونانی متھ اور الہامی قصے میں کتنی حیران کن مماثلث پائی جاتی ہے۔ دونوں میں مشیت ایزدی نہیں چاہتی کہ انسان میں عقل اور شعور پیدا ہوا۔۔۔خدا کی شائد کوشش رہی، انسان کو عقل و شعور کے استعمال سے عاری رکھ سکے، اسی لئے گھڑے گھڑائے ‘ضابطے حیات’ اور ادیان اتارتا رہا۔۔”
تبصرہ : مذاہب کو چینلجئنگ سوال دیتی یہ پوسٹ ،خاص کر نوجوان ذہنوں میں بہت سے سوالوں کو جنم دیتی ہے .اپنے موضوع کے اعتبار سے یہ بہت اہم تحریر ہے .مصنف ارشد محمود نے چھبتے سوال اٹھائے ہیں .کوئی علم والا جواب دے گا ؟
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/sktarshad/posts/10153873806153817
پوائنٹس بریک ڈاؤن

فیکٹر . فیکٹر پوائنٹس ……حاصل کردہ پوائنٹس ….پوسٹ کے مجموعی پوائنٹس
انداز تحریر-20——17——17
استدلال-20——-17——-34
معنویت-20——-18——-52
پیکیج-20——16——68
موضوع-20——-18——-86
١.نسیم کوثرNaseem Kausar
پوسٹ :ہمیں کفر میں پناہ چاہیے
“یوں تو ہم خود کو امن.. سلامتی اور انسانیت کے داعی ثابت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے.. لیکن ہمارے افعال چیخ چیخ کر ہمارے دوغلے پن اور تضادات کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں.. موجودہ دور میں جب دنیا کی امامت ہم سے چھن کر غیروں کے ہاتھ میں چلی گئی تو ہم نے مظلومیت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے اور صیہونی و کفریہ طاقتوں کے مظالم کی دہائی دیتے ہوئے ان تمام جنگوں اور جرائم کو بھول جاتے ہیں جو ہم نے اپنی کاٹ دار تلواروں سے سرانجام دیے تھے.. فرق یہ ہے کہ ہمیں وہ سب اس لیے مقدس دکھائی دیتا ہے کیونکہ ہماری تلواروں پر کلمہ طیبہ کندہ تھا..
جب ہمیں آئینہ دکھایا جاتا ہے تو ہم کہتے ہیں اسلام تو امن کا دین ہے.. اسلام انصاف کا بول بالا کرتا ہے. ہمارے یہاں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے. جمہوریت کفر ہے.. البتہ بادشاہت قسم کی خلافت عین انسان دوست ہے. لہذا خلافت برپا ہوتے ہی دنیا میں امن و شانتی پھیل جائے گی وغیرہ وغیرہ. انہیں مثال کے طور پر اگر سعودیہ اور ایرانی خلافت و مذہبی نظام کا خونی چہرہ دکھایا جائے تو کہتے ہیں نہیں نہیں یہ حقیقی اسلام نہیں.. جبکہ حقیقت وہی ہے جس کا مظاہرہ ہو رہا ہے.. اور ہم اس حقیقت کے آئینے میں آپکا چہرہ دیکھنے پر مجبور ہیں ..
زمینی حقائق تو کہتے ہیں کہ جمہوریت ہی وہ نظام ہے جس میں ہم اپنے سپہ سالار سمیت وزیراعظم اور حزب اختلاف کو گالی دے سکتے ہیں اور اس دوران ہمیں اپنے سروں کے قلم ہو جانے کا خدشہ نہیں ہوتا. ہم اپنی سیاسی جماعت بنا سکتے ہیں .. پورے ریاستی نظام کی مخالفت کرتے ہوئے نا صرف نیا نظام متعارف کروا سکتے ہیں بلکہ اس کے حق میں جائز مہم جوئی بھی کر سکتے ہیں.. دوسری طرف خلافتی فاشزم  کسی طور ہمیں یہ حق دیتا نظر نہیں آتا.. بلکہ وہ تو فرد کی چوں چراں پر بے دریغ اسکا سر قلم کر سکتا ہے اور اس سلسلے میں اسکی بازپرس کرنے والا کوئی نہیں کیوں کہ اس کے پاس بہت ہی مضبوط جواز ہے جسکی بنیاد مذہب میں ہے.. پھر کیسے ممکن ہے کہ غیر متشدد اذہان جمہوریت کے خواہشمند نا ہوں..
شیعہ رہنما کی سعودیہ میں پھانسی پر پچھلے کئی روز سے سوشل میڈیا پر ہونے والے ٹرائل کا بغور جائزہ لیا. دونوں فریقین اپنے اپنے فرقہ کی عینک پہنے مرحوم کو گناہ گار یا بے گناہ ثابت کرتے نظر آ رہے ہیں. یہ وہ لوگ ہیں جن کا کھانا سعودیہ اور ایران سے برآمد ہوتا ہے.. اگر یہ انسان ہوتے تو سب سے پہلے یہ سوال کرتے کیا ریاست فرد سے زیادہ اہم ہے؟ کیا فرد کا اظہار رائے دہی کا نعرہ اتنا مہلک ہے کہ ریاست کو فرد کی جان لینی پڑتی ہے؟ کیا مذہبی فاشزم انسان سے بالاتر ہے؟ کیوں بالاتر ہے؟ اگر بالاتر ہے تو انسان دوستی کا دعواہ کیوں کرتے ہو صاحب؟ کیوں ہمیں نظریاتی فریب دیتے ہو کہ تم ہمارے خیر خواہ ہو..؟وہ ریاست جسے ایک فرد کے منہ سے نکلے چند تنقیدی الفاظ سے اس قدر خطرہ لاحق ہے کہ وہ اسکی جان لے لیتی ہے وہ ریاست ناقص ہے.. ظالم ہے.. کفر ہے.. مجھے نا ایران سے ہمدردی ہے اور نا ہی سعودیہ سے.. دونوں چھٹے ہوئے سانڈ ہیں جنکی باہمی لڑائی میں بے گناہ شہریوں کا دم گھٹ رہا ہے.. بے گناہ انسانوں کا خون بہانے کا جواز انہیں مذہبی فرقہ واریت فراہم کرتی ہے…
مجھے کئی دنوں سے مولا علی علیہ السلام کا قول یاد آ رہا ہے..
“معاشرہ کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں ”
ہمیں کفر میں پناہ چاہیے کیونکہ تم سب ظالم ہو..”
تبصرہ : انتہائی سخت انداز میں انتہائی سخت سوالات کے ساتھ صنف نازک کی ترجمان نسیم کوثر نے بڑے بڑے مردانہ دانشوروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ،یہ تحریر لکھی ہے .اس تحریر سے اختلاف مشکل ہے .
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/naseem.meemi/posts/1037790069606390
پوائنٹس بریک ڈاؤن
فیکٹر . فیکٹر پوائنٹس ……حاصل کردہ پوائنٹس ….پوسٹ کے مجموعی پوائنٹس
انداز تحریر-20——–18——-18
استدلال-20——-18——–36
معنویت-20———18——-54
پیکیج-20———16——–70
موضوع-20——-17——-87

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s