ڈاکٹر ذاکر نائیک کی سوچ ،فکر نظریات اور شخصیت کا تجزیہ :ثاقب ملک

پروفیسر احمد رفیق کی اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ ڈاکٹر صاحب ایک ریکارڈ کیپر ہیں .قرآن اور حدیث کے ریکارڈ کیپر !!!!ایک طرح سے آپ “گیس پیپر “بھی ہیں .کوئی سا بھی سوال ہو ڈاکٹر کے پاس معلوماتی جواب ہو گا .یاد داشت کمال کی ہے .لیکن لگتا ہے باقی سب صلاحیتیں یہ کمال کی یاد داشت ہی کھا گئی ہے .گو کہ نئے زمانے کے سکالر ہیں ،جس خوب صورتی سے انھوں نے میڈیا کا استمعال کیا اس میں خاص کر ہمارے علما کیلئے بہت سبق ہے.جس طرح سے وہ دنیا بھر کے ہر طبقے کے لوگوں کیلئے اپروچیبل ہیں یہ بات بھی قابل ستائش ہے.لیکن ساتھ ہی ساتھ بہت سے اہم سوالات بھی انکی فکر ،سوچ اور شخصیت پر اٹھتے ہیں .یہاں پر ہم انکی شخصی خامیاں نہیں انکے فکر اور اپروچ کے ناقص ہونے پر بات کریں گے .شخصیت بھی اس فکر کا حصہ ہے اس لئے کچھ اس پر بھی بات ہو گی .
یہ بات یاد رہے کہ انفارمیشن اور علم دو علیحدہ چیزیں ہیں . انفارمیشن کو فائدہ مند اور اسے آسان بنانا علم کی ایک مثال ہو سکتی ہے .اس علم کو خدا کی شناخت اور اسکی پہچان کے ہر حوالے کے لئے استمعال کرنا حکمت اور فہم کہا جا سکتا ہے .اس میں کائنات کا ہر علم ہر ٹیکنالوجی آ جائے گی . اگر اس سینس میں بات کی جائے تو ذاکر نائیک کے پاس قطعا کوئی علم نہیں .کوئی فہم نہیں ،کوئی حکمت نہیں .لیکن انکے پاس عمدہ انفارمیشن ہے .اچھی ذہانت ہے .عمدہ میموری ہے .جس کا وہ خوب استمال کرتے ہیں.ایک غیر معمولی انسان ضرور ہیں ،لیکن ایک معمولی ،سکالر ہیں .

ادیان کا تقابل یعنی کمپیریٹو ریلیجن کا کانسپٹ ہی انتہائی احمقانہ ہے .مذہب کا اینٹی مذہب خیالات سے مقابلہ ہو گا اور کمپیرزن بھی مذاہب سے نہیں .بنیادی طور پر یہ انیسویں اور بیسویں صدی کی مناظرہ ٹائپ مخلوق کا مرغوب مشغلہ ہے . اس دور میں ہمارے علمائے کرام ،دوسرے مذاہب کے پیشواؤں سے اسی طرح کے مناظروں میں مصروف رهتے تھے .غلامی کے دن تھے اپنی مردہ انا کی گردن کھڑی کرنے کو کچھ تو کرنا تھا ..تمام الہامی مذاہب الله ہی کے تھے. اب اس قضیے کو اٹھانا دوسرے مذاہب کے لوگوں کیلئے اپنی شخصیت اور خیالات کو قابل قبول بنانے کے لئے علاوہ کوئی مقصد نہیں رکھتا .سب مذاہب پرانے ہو چکے اب صرف اسلام باقی ہے .میرے چھوٹے بھائی کے بقول کہ اگر آج کوئی اسلام چھوڑ کر یہودی یا عیسائیت اختیار کرتا ہے تو اسے ونڈوز ٹین کے بجانے ونڈوز نائنٹی فائیو یوز کرنی چاہئے .پھر ان میں کیا مشترک ڈھونڈا جا سکتا ہے؟؟؟قرآن کی جن آیات کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ اس کنٹیکسٹ ہی میں نہیں آتیں.محمّد صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو کوئی اور مذہب نہ مانے تو ہم کیا مشترکہ ورثہ تلاش کرتے پھر رہے ہیں.؟
میں مکمل طور پر تمام غیر مسلموں کے ساتھ دوستی یاری اور اچھے زبردست کھلے ڈلے تعلقات کا حامی ہوں .ہم تو ویسی وسعت قلبی کا تو مظاہرہ کر ہی نہیں سکتے اسکے قریب قریب بھی نہیں پھٹک سکتے جس قسم کی کشادہ ظرفی کا نبی کریم صلی الله و علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے نمونہ رکھا .مگر یہ کمپیرٹو ریلیجن دنیا کو دکھانے کے لئے تو اچھی باتیں ہو سکتی ہیں عملی طور پر ایک دھوکہ ہے.الٹا اس سے عام نا خواندہ ٹائپ لوگوں کے دلوں میں اور رویوں دوسرے مذاھب کے لئے تنگ دلی پیدا ہوتی ہے .اس سے اسلام کی انفرادیت پر بھی حرف آتا ہے .اگر سارے مذہب ایک ہی بات کر رہے ہیں ان میں بہت سی باتیں مشترک ہیں تو اسلام کو ہی کیوں چنا جائے ؟ اور اگر کچھ اہم مگر بنیادی باتوں پر دوسرے مذاہب اور اسلام میں اختلاف ہے تو پھر کیسے چھوٹی چھوٹی مشترکہ باتیں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں ؟
موصوف واضح طور پر سواے ایک آدھ صوفی کے نام لینے کے علاوہ اصولی طورپر صوفیا کرام اور خاص کر بر صغیر کے عظیم الشان الله کے ولیوں کو ہی تسلیم نہیں کرتے .بندا پوچھے کہ آج جن کے طفیل آپ اور آپ کا خاندان اور بر صغیر کے اکثر شودر،کھتری،دلت اور کچھ برہمن مسلمان ہیں آپ انہی کے احسان سے انکاری ہیں؟؟یہ سیدھی سادی احسان فراموشی ہے .دلیل یہ دیتے ہیں کہ انکی تعلیمات،باتیں ،قصے ،کہانیاں کرپٹ ہو چکی ہیں اور ان سے غلط اور جھوٹ باتیں مسنوب ہیں .اگر یہی بات ہے توپھر جن مسالک کے ڈھول ہم لوگوں نے گلے میں لٹکا رکھے ہیں ان سے کون سی سچی بات مسنوب ہے؟غلط اور جھوٹی باتیں تو حضرت موسیٰ علیہ سلام سے بھی مسنوب ہیں انکو بھی نہ تسلیم کریں ؟ جھوٹے قصے کہانیاں تو حضرت عیسیٰ سے بھی مروی ہیں .جھوٹ تو نبی کریم کی ذات سے بھی مسنوب کیا جاتا ہے . کس کس کا انکار کیا جائے؟یہ بات تو ٹھیک ہے کہ عجیب و غریب دیو مالائی قصے کہانیاں صوفی حضرت سے منسوب ہیں جو ہمارے اس حد سے زیاد جاہل ترین اور مبالغہ آمیز ترین علقے بر صغیر کے لوگوں کا تفاخر ہے .بر صغیر کے لوگوں کے جینز صدیوں سے مبالغہ آرائی کرتے چلے آ رہے ہیں .لیکن اس بنیاد پر پورے صوفی کلچر ،روایات اور حقائق کو جھٹلانا ،صرف مسلکی بغض لگتا ہے .
القاعدہ،اسامہ،طالبان ،پر بھی ڈاکٹر ذاکر نائیک کا موقف ناقص ہے . آپ کا یہ کہنا کہ اگر اسامہ نے اسلام کی سر بلندی کیلئے کام کیا ہے تو میں اسکے ساتھ ہوں .حیران کن ہے .ذاکر نائیک صاحب بے گناہ لوگوں کو مارنا کب سے اسلام کی سر بلندی کا کام ہو گیا ؟ ممکن ہے اسامہ بن لادن کی نیت اسلام کی سر بلندی ہی ہو مگر وہ اسلامی انداز میں کام نہیں کر سکے .اسکی برملا مخالفت نہ کرنا ایک بہت بڑے مشہور سکالر کی ایک مسلک کی سپورٹ کی بد ترین مثال ہے .آپ صرف عام طبقے میں اپنی میموری کی واہ واہ کی وجہ سے ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھیں جاییں گے .نفس کا آپ کو کوئی علم نہیں .اسکی ساخت کیا ہے؟اسے کیسے کنٹرول کیا جائے؟الله سے تعلق کا کہیں کوئی ذکر نہیں .ذاکر نائیک کی باتوں میں کہیں محبت اور الفت دکھائی نہیں دیتی .بس انفرمیشن کا ایک سیلاب ہے . ذاکر نائیک کا سب سے بڑا امپیکٹ یہ ہے کہ اب تو لوگوں کے سامنے کوئی شریف بندا الله اور رسول کی بات کر دے تو لوگ بات کو چھوڑ کرسوره کا نام ،آیات نمبر ،حدیث نمبر پوچھنا شروع ہو جاتے ہیں .ذاکر نائیک نے بھی زندگی کو سو نمبر کا پیپر بنا دیا ہے جس میں ہمیں گن گن کا کم سے کم پاسنگ نمبر لینے ہیں ؟؟بھائی میرے الله تو اعمال کا وزن کرتا ہے آپ نے نمبرنگ کہاں سے شروع کر دی؟ موصوف اپنے خیالات کے اظہار میں چوکتے نہیں ہیں .اس بات کا کریڈٹ انہیں ملنا چاہئے کہ اپنے مسلکی پسندیدگی اور تعصب کا اظہار کھل کر کرتے ہیں جو کہ سعودیہ سے متاثر ہونے کا صاف ثبوت ہے .تقابل ادیان بھی صرف عیسائیت ،ہندو ازم اور بدھ مت تک محدود ہے یہودیوں کے موصوف بد ترین مخالف ہیں .یعنی غلط ہو یا درست سیاسی مقاصد ہی ہیں .لوگ اگر ہندوؤں یا مسیحیوں کو دھڑا دھڑ مسلمان ہوتے دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں تو اس بنیاد پر کسی کو اچھا سکالر مان لیا جانا چاہئے؟ مہارشی مہیش یوگی نے امریکا جا کر ہزاروں کو چند دنوں میں ہندو بنا دیا تو کیا ہم اس پر ایمان لے آئیں ؟اسی طرح دلائی لاما جہاں جاتے ہیں لوگ بدھ مت کی تعلیمات کو قبول کر لیتے ہیں .لوگ اپنی وجوہات کی وجہ سے اسلام یا کوئی اور مذہب کا انتخاب کرتے ہیں .ہمیں تعداد نہیں معیار کو دیکھنا ہو گا .کون سا عظیم سائنسدان ،کون سا اچھا مفکر ،کون سا سکالز ذاکر نائیک کی باتوں سے مسلمان ہوا ہے ؟ یہ معیار صرف ذاکر نائیک ہی نہیں سب مبلغین کیلئے ہے .
الله انکو اور ہمیں دین کی معیاری سمجھ بوجھ اور فہم عطا کرے .محنتی انسان ہیں .بغیر اشتہارات کے چینل چلانا بھی انکا ایک شاندار کارنامہ ہے .سوال و جوابات کے لئے بھی ہر دم حاضر رہیتے ہیں .شخصیت میں سادگی ہے یہ . چیزیں ہمارے دس دس قبروں پر لٹکانے والی چادروں کو تن پر لٹکاے مولویوں کی کھوپڑی میں بھی آنی چائیں کہ وہ بھی نوجوان نسل کے لئے زیادہ سے زیادہ اپروچیبل بنیں .انڈیا میں اگر دیو بندی مسلک انکی مخالفت کرتا ہے تو اسکی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ذاکر نائیک نے انکی دکانیں بند کرا دیں ہیں .بھلا کس کو توقع تھی کہ ایک عام سا ممبئی کا لڑکا برسوں اور نسلوں سے امام اور رہنما بنے مذہبی رہنماؤں کو پیچھے چھوڑ کر ،عوام میں اتنی مقبولیت حاصل کر لے گا .مگر مقبولیت علم اور فہم کی دلیل نہیں ہو سکتی ہے .
ہمیں ایسے سکالرز چاہیں جو ہمیں اگلے زمانوں کیلئے تیار کر سکیں جو ہمارے لئے اور دنیا کیلئے اسلام کی رو سے آسانی کی راہ تلاش کریں چاہئے یہ سود کے متبادل نظام دینا ہو یا جمہوریت کو درست یا غلط کہنا یا کوئی اور نظام دینا ہو یا دولت کی تقسیم کا کوئی فارمولا ہو .ایسے معاملات پر ہمارے ذاکر نائیک کی قابلیت ،صفر ہے.

 

Advertisements

5 thoughts on “ڈاکٹر ذاکر نائیک کی سوچ ،فکر نظریات اور شخصیت کا تجزیہ :ثاقب ملک

  1. It is an interesting article. His position on Bin Laden was not based on honesty. It was a masterpiece of polemic. Once he said that he would not criticize Bin Laden because he had not met him and did not know him personally. Do you have to know somebody personally to criticize or praise him.

    He further said that, “If bin Laden is fighting enemies of Islam, I am for him,” and that “if he is terrorizing America – the terrorist, biggest terrorist – I am with him. Every Muslim should be a terrorist.” So his opinion of Bin Laden was dependent on ifs. If he is unable to form an informed opinion of one of his well-known contemporaries, how can he speak authoritatively of those who died five hundred or a thousand years ago. Without a shred of evidence, he claimed on July 31, 2008, that 9/11 “attack on the Twin Towers was done by George Bush himself.” He cannot quote even a Saudi scholar to back up this claim.

    Khushwant Sing’s comment about him is worth quoting. According to him, Zakir’s pronouncements are “juvenile”, and that “they seldom rise above the level of undergraduate college debates, where contestants vie with each other to score brownie points.”

    Liked by 1 person

  2. اس بلاگ کے مصنف کی عقل پر ماتم کرنا چاہئیے۔
    یہ بلاگر جاوید غامدی کے علاوہ کسی کو عالم ہی نہیں سمجھتا۔
    میں سے اس سے بڑا احمق نہیں دیکھا۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s