سید بلال قطب کی شخصیت ،سوچ ،انداز اور فکر کا تجزیہ :ثاقب ملک

بلال قطب ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم اور پروفیسر احمد رفیق اختر کی کمبائنڈ علمی ‘ڈسٹارشن ‘ ہیں .کچھ خوبیاں انہوں نے اپنے ان دونوں استادوں سے حاصل کیں اور کچھ اپنی خامیوں کو مزید جلا بخشی ہے .
بلال قطب سکالری مزاج کے ہیں . یا یہ کہنا چاہئے کہ ٹی وی پر آنے والے مذہبی علمی لوگوں کے معیار کے حساب سے سکالری مزاج کے ہیں .سکالر سے زیادہ یہ میڈیا پرسنلٹی ہیں . .پڑھے لکھے ہیں .قابل ہیں .تیز مزاج اور تیز دماغ ہیں .اسی لئےرنج بھی ہوتا ہے کہ ان تمام تر قابلیتوں کے باوجود وہ اپنے سٹار پلس ٹائپ رونے دھونے والے مزاج کے ہاتھوں اسیر ہیں .
آبدیدہ ہو گئے ،جذباتی ہو گئے ،آنسو آ گئے .گڑگڑا کر رو دئیے .یہ الفاظ ہمارے اس خطے کے خاندانی مسلمانوں نے خلوص کے مترادف اور متبادل کے طور پر اپنا رکھے ہیں . ایک بہت بڑی اکثریت کے لئے یہ صرف اپنی ریا کاری اور منافقانہ ڈھونگ کے بچاؤ کے لئے چند کھوکھلے سہارے ہیں . یقیناً کچھ لوگ حقیقت میں اپنے خلوص اور محبت کے ہاتھوں پر روتے ہوں گے .لیکن ہمارے معاشرے میں الله اور اسکے رسول پاک سے محبت اور عشق کیلئے صرف آنسو ہی کافی ہیں ،عمل چاہے ،صفر ہو بلکہ الله اور اسکے رسول کی تعلیمات سے بالکل بر عکس ہو مگر جذباتی استحصال ہمارے مذہبی لوگوں کا پسندیدہ ،آزمودہ اور کامیاب ترین ہتھیار ہیں .اور اس پر ستم ظریفی یہ کہ ہمارے لوگ اسکو محبت اور عشق کی سند مانتے ہیں .جو ہر وقت روئے دھوئے وہ محبت نہیں ڈرامہ کر رہا ہے .الله کے نبی کریم صلی الله علیہ وہ الہ وسلم سے زیادہ حب خدا کس میں ہو گا ؟لیکن انکی پبلک لائف میں اس طرح کا رونا دھونا انتہائی کم ہے .اسی طرح صحابہ کرام بھی اسی روش پر چلے خدا نے جس پیغمبر پر درود بھیجا ،جس کو انسانوں کا امام کہا وہ الله سے چبھتے ہوئے سوال کرنے والے حضرت ابراہیم تھے .الله نے رونے دھونے کی وجہ سے نہیں بلکہ انکی عقل،فہم اور الله کی پہچان کی صلاحیت پر باقی تمام انسانوں پر یہ برتری اور اعزاز انکو بخشا .،.آپ تنہائی میں روئیں گڑگڑائیں مگر جب کیمروں کے سامنے بیٹھیں اور آپکو معلوم ہو کہ ہمارے گلی گلی محلے محلے اسی رونے دھونے کا ڈرامہ چلتا ہے تو پھر ایسی نمائش سے پرہیز لازمی ہو جانا چاہئے .
بلال قطب بھی جا بجا ٹی وی پر رو پڑتے ہیں .بار بار اپنے لیکچرز میں خدا کی قسمیں کھاتے ہیں .خلیل جبران سے منسوب اس قول کی طرح کہ اس نے مجھ سے پہلی بار کہا میں مان گیا اس نے دوسری بار کہا مجھے شک ہوا اس نے تیسری بار قسم کھا کر کہا مجھے یقین ہو گیا کہ جھوٹا ہے .میرے سامنے بھی جب کوئی علم والا آتا ہے تو میں دیکھتا ہوں اسے اپنے جذبات پر کتنا قابو ہے ؟وہ لوگوں کے جذبات سے کھیل کر انہیں متاثر کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہا ؟قسمیں تو نہیں کھاتا ؟مبالغہ تو نہیں کرتا ؟
موصوف میں یہ تمام بری خصلتیں موجود ہیں .اکثر انکی باتیں چند مخصوص قرآنی آیات اور احادیث تک محدود ہوتی ہیں . یعنی سارا اسلام اپنی بات کو درست ثابت کرنے کیلئے استمعال ہوتا ہے .بار بار اسی کارپوریٹو میڈیا کو برا بھلا بھی کہتے ہیں اور اسی سے رزق کماتے ہیں،خیر کمانے کے انکے پاس چند ایک اور طریقے بھی ہیں مگر شاید پرائمری یہی ٹی وی ہو گا . اسی پر بیٹھ کر شہرت حاصل کرتے ہیں .سوال بنتا ہے کہ جس میڈیا کو آپ مغرب کی سازش کا اہم مہرہ سمجھتے ہیں اسی سے لاکھوں روپے کیوں لیتے ہیں ؟ مثال قائم کریں اور مفت پروگرام کریں وگر نہ اپنے لکچرز میں اپنی سازشی تھیوریاں پھیلانے سے گریز کریں .لیکن آج کل اسی تضاد پر مشتمل دھندہ مقبول ہے .یعنی یہ سلسلہ اسی طرح چلتے رہنے کا امکان ہے .سطحی حرکتیں خوب شوق سے کرتے ہیں . اپنے کالرز پر چڑھ دوڑتے ہیں .بے دریغ ،انجان ،گھریلو عورتوں اور لڑکیوں کو نام سے پکارتے ہیں .اکثر جب یہ دوسرے شاہ رخ خان، ساحر لودھی کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون زیادہ بہتر ایکٹنگ کر رہا ہے ؟
بنیادی طور پر افسوس زیادہ ہوتا ہے کہ ایک قابل آدمی ،اپنی قابلیت کو قابو میں نہیں رکھ پایا .فرقہ باز نہیں ہیں .پیرینٹنگ یعنی والدین کی تربیت پر انکی راے بہت عمدہ ہے اور اس موضوع پر کھل کر بولنے والے چند ہی افراد میں انکا شمار ہوتا ہے . اس حوالے سے وہ چند گنے چنے افراد میں سے ہیں جو ایک عمدہ فکر رکھتے ہیں اور اس بات کو بے انتہا اہمیت دیتے ہیں .دہشت گردی پر بھی کھل کر ہی نام نہاد طالبان کی مخالفت میں بولے ہیں .
نکاح کے بارے میں بھی چند انتہائی احمقانہ الفاظ کہہ چکے ہیں . بلکہ انتہائی جاہلانہ کلمات تھے .بنیادی طور پر ریٹنگ لینے کیلئے ،تالیاں بجوانے کی خواہش ،واہ واہ ہائے ہائے سبحان الله کی صدائیں سننے کیلئے موصوف کسی بھی سطح پر گر سکتے ہیں گو کہ اس معاملے میں شاید عامر لیاقت جیسے لیول اور قابلیت کا مقابلہ نہ کر سکیں .اکثر کانسپٹس کیونکہ انہوں نے ڈاکٹر اسرار اور پروفسیر احمد رفیق اختر صاحب سے لئے ہیں اس لئے انہی کی مدھانی بنا بنا کر لوگوں کو سناتے رهتے ہیں .کوئی خاص فکری ‘آروزل ‘ انکی گفتگو سن کر نہیں آتا .آپ زیادہ سے زیادہ ایک معاشرتی ڈانٹ ڈپٹ والے ، اپر اینڈ لوئر مڈل کلاس کے ٹیچر ہی ہو سکتے ہیں .پروفسیر صاحب کے علم السما کے طالب علم ہونے کی حیثت سے اپنا ٹوٹا پھوٹا علم اور حقیقت میں تکا بازی اپنے ناظرین پراستمعال کرتے ہیں . ویسے تو بطور علم اسکی کوئی سند نہیں ہے صرف چند روایات ہیں .تاریخی طور پر یہ علم شیخ محی الدین عربی سے منسوب کیا جاتا ہے .اگر علم مان بھی لیا جائے تب بھی یہ عمل انکا سب سے زیادہ خطرناک عمل ہے . کیونکہ جب انہیں اپنے استاد کی اس معاملے میں سند اور تائید حاصل نہیں تو یہ کام ایک ملاوٹی کام کہلایا جائے گا اور پتہ نہیں کتنے لوگوں کو انکی باتوں سے نقصان اور گمراہی ہو چکی ہوگی .بلکہ اسکو علم کہنا بھی فی الحال ایک خوش گمانی ہی ہے .حضرت منہ اٹھا کر ہر فون کرنے والے یا والی کو اسکا نام سن کر بائی پولر اور اینگزایٹی کا شکار بتا دیتے ہیں .دنیا میں ایسا کوئی علم ایجاد نہیں ہوا جو ایسی سرعت کا حامل ہو مگر ہمارے بلال قطب اپنی اس نیو ٹیکنالجی سے دنیا کو حیران کر چکے ہیں اور جو انکی بات پر عمل کرتے ہیں انکی اکثریت پریشان بھی ہو چکی ہو گی .سوال یہ ہے کہ آپ کو مرض کا الہام ہوتا ہے ؟ یہ صرف دوسرے پر اثر اور رعب ڈالنے کی ایک بھونڈی کوشش ہی لگتی ہے .کیونکہ آج کل کی دنیا میں ،کوئی مڈل کلاس کا بندا شاید ہی کسی رنج و الم یا پیریشانی کے بغیر ہو سو اس بات کا موصوف فائدہ اٹھاتے ہیں .خود انکی ذہنی ساخت جانے کن ہواؤں میں اڑ رہی ہوتی حیا کہ میزبان کوئی سوال پوچھتا ہے بلال قطب عجیب و غریب کہانیاں شروع کر دیتے ہیں .ہر گفتگو میں یہ “پیراڈائم شفٹ” اور ” اینکر” کا ضرور استمعال کرتے ہیں .شخصیت میں عجیب سا تناؤ اوروحشت لگتی ہے .
میں ایک طرح سے بلال قطب سے مکمل مایوس نہیں کیونکہ یہ دو با علم شخصیات کے شاگرد رہے ہیں .دوسری جانب سخت حیرت اور مایوسی بھی ہے کہ ان دو شخصیات نے ایسے ایسے نہ پختہ اور اناڑی لوگوں کو بھی اپنا شاگرد بناے رکھا ؟ اس سے ان دونوں استاد حضرات کی عقل اور فہم پر بھی شک ہونے لگتا ہے .ویسے پروفیسر احمد رفیق اختر تو بلال قطب سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کر چکے ہیں اور اگر ڈاکٹر اسرار زندہ ہوتے تو شاید وہ بھی کچھ ایسا ہی فیصلہ کرتے.

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s