فیس بک پر دس بہترین اردو پوسٹس کی ہفتہ 9سے 16جنوری تک کی تازہ آرچر آئی رینکنگ جاری .بہترین پوسٹ کس کی اور کون سی ہے ؟

پچھلے ہفتے کی طرح اس بار بھی ہم آپ کے سامنے فیس بک پر اردو کی دس بہترین پوسٹس لے کر حاضر ہیں .یہ ٹاپ ٹین پوسٹس ،نو جنوری سے سولہ جنوری کے دوران کی گئی پوسٹس سے منختب شدہ ہیں .اس رینکنگ کا مقصد ،اردو لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا ،اچھا لکھنے والوں کو مزید متحرک کرنا ،اچھا سوچنے اور لکھنے پر اکسانا ،منفرد ،متفرق اور متنوع موضوعات پر مشتمل تحاریر کو اکٹھا کر کے پڑھنے والوں کے سامنے پیش کرنا ،لوگوں کو ایک علیحدہ پلیٹ فارم کی جانب راغب کرنا اور سب سے بڑھ کر سوال کرنے اور سوچنے پر مائل کرنا ہے .میری آپ سے درخواست ہے کہ جس طرح اس بلاگ کو پذیرائی مل رہی ہے اسی طرح اس منفرد سلسلے کی بھی حوصلہ افزائی کریں .اگر آپ کی پوسٹ رینکنگ میں ہے یا نہیں آپ کو اگر ان دس پوسٹس میں سے اچھی باتیں پڑھنے کو مل رہی ہیں تو اسکو آگے پھیلائیں .میں اس بلاگ پر نئے نئے تجربات کر رہا ہوں تاکہ لوگ فیس بک کا بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں اور سوچنے ،غور و فکر پر بھی مجبور ہوں.سلیکشن کے پانچ فیکٹرز انداز تحریر،معنویت ،موضوع ،پیکج اور استدلال کی مدد سے ہفتے کی دس بہترین تحاریر یہ ہیں .
10.زاں سارترsartre
پوسٹ “ملا اور سائنسدان کا فرق
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ملائیت ہر دن کے ساتھ زوال پذیر اور سائنس عروج کی جانب کیوں گامزن ہے؟
بہت سادہ اور سامنے کی وجہ ہے ۔۔۔۔۔
ملا یہ سوچتے ہیں کہ ان سے پہلے ملائوں نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ حرف آخر ہے
جبکہ سائنسدان یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آنے والے سائنسدان ان سے بہتر ہوں گے”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/permalink.php?story_fbid=1669138216689603&id=100007803226210
تبصرہ : نمبر دس پر سارتر کے قلمی نام سے لکھنے والے کی یہ پوسٹ اپنے موضوع کے اعتبار سے بہت اہم ہے .بہت مختصر انداز میں لکھاری نے مسلمانوں کے اور مغربی انداز فکر میں اہم ترین فرق کی وضاحت کر دی ہے .سارتر ایک عمدہ تجزیہ نگار کے طور پر ابھر رہے ہیں .
پوائنٹس : سارتر نے ٹوٹل 100 میں سے 79 نمبر لئے ہیں .انداز تحریر میں پندرہ،معنویت میں سترہ ،استدلال میں بھی سترہ،پیکج میں پندرہ اور موضوع میں بھی بیس بیس نمبروں میں سے پندرہ پوائنٹس لے کر انکے ٹوٹل پوائنٹس 79 بنے ہیں اور یہ دسویں نمبر پر ہیں .ٹاپ ٹین بیسٹ اردو پوسٹس میں یہ سارتر کی پہلی انٹری ہے .پچھلی بار یہ رینکنگ میں نہیں تھے .
9.نسیم کوثرNaseem Kausar
پوسٹ :“پیاری خواتین! جو مرد آپ کو بہن یا بیٹی کہہ کر راہ و رسم بڑھانے کی کوشش کرے اسے فوراً ردی کی ٹوکری کے سپرد کردیں. کیونکہ یہ مخلوق منافقین کی بد ترین کیٹگری سے تعلق رکھتی ہے. جو مرد لہک لہک کر بہن یا بیٹی کا رشتہ استوار کرنے کے چکر میں ہوتے ہیں انکے ناڑے سب سے زیادہ ڈھیلے ہوتے ہیں..یہی فارمولا عورتوں کے لیے ہے.. لہذا “بہن بھائی” کھیلنے والے جوڑے سب سے زیادہ شک کے لائق ہیں..
ویسے بھی میرا نظریہ ہے کہ اگر مرد و زن بطور دو انسان communicate کرنے کے قابل نہیں تو وہ اس قسم کے عظیم رشتے استوار کرنے کے کیسے قابل ہو سکتے ہیں .خصوصاً مرد اگر عورت کو بطور انسان اور ایک کامل ہستی کے عزت نہیں دے سکتا وہ ایسے رشتوں کی اہمیت سے بھی نابلد ہوتا ہے.”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/naseem.meemi/posts/1039631912755539
تبصرہ : جاندار انداز تحریر کی مالک نسیم کوثر صاحبہ نے مردوں کے سوشل میڈیا پر خاص کر انداز واردات کی نشاندہی کی ہے کہ وہ کیسے لڑکیوں کو پھانستے یا ورغلاتے ہیں اور اسے محتاط رہنے کی تنبیہہ کی ہے .
پوائنٹس : ٹوٹل سو نمبرز میں سے نسیم کوثر نے 80 نمبر لے کر نویں پوزیشن لی ہے .انداز تحریر ،معنویت اور پیکج میں سولہ ،استدلال میں سترہ اور موضوع میں بیس میں سے پندرہ پوائنٹس لئے ہیں .نسیم کوثر کی یہ ٹاپ ٹین اردو پوسٹس کی دوسری رینکنگ میں مسلسل دوسری انٹری ہے .پچھلی بار انکی پوسٹ نمبر ایک پر تھی .
8.فرحانہ صادقfarhana sadiq
پوسٹ :“اب وہ وقت آگیا ہے اسکول کالجز میں اخلاقیات (ethics ) مسلم طلبہ کو بھی بطور لازمی مضمون پڑھائی جائے.”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/farhana.sadiq.9/posts/948237931920948
تبصرہ : مختصر مگر بہت عمدہ اور جامع پوسٹ ہے .فرحانہ صادق کی بہت زیادہ تحاریر پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا مگر یہ پوسٹ ،مسلمانوں کے اندر اخلاقی اقدار کی کمی کو بہت خوب صورتی سے نمایاں کر رہی ہے .یہ پوسٹ سوچنےپر مجبور کرتی ہے .
پوائنٹس :سو میں سے فرحانہ صادق صاحبہ کے 81 نمبر ہیں اور یہ آٹھویں نمبر پر ہیں .انداز تحریر اور پیکج میں پندرہ پندرہ ،جبکہ استدلال،معنویت اور موضوع میں سترہ سترہ پوائنٹس لئے ہیں .یہ فرحانہ صادق کی ٹاپ ٹین رینکنگ میں پہلی انٹری ہے .
7.محمد شہزاد قریشیshehzad qureshi
پوسٹ :”پیٹ کا جہنم
یہ بتاو تمہارا مذہب کیا ہے؟
بھوک
نماز پڑھتے ہو؟
لوگوں کو مسجد جاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ لیکن خود معلوم نہیں
زندگی میں کبھی روزہ رکھا ہے؟
یہ کیسے رکھتے ہیں؟
اس میں دن کے وقت کچھ کھاتے پیتے نہیں
اچھا اگر اسکو روزہ کہتے ہیں تو میں پیدا ہوتے ہی رکھتا آیا ہوں۔ لیکن اس میں دن رات یا کسی مہینے کی کوئ تخصیص نہٰن
پھر تو تم جہنم رسید ہوسکتے ہو۔ جانتے ہو کہ جہنم کیا ہے اور جنت کیا ہے؟
یہ کیا ہے؟ ایک دفعہ ایک مولوی صاحب کو اسکا تذکرہ کرتے سنا تھا، جہنم تکلیف سزا اور دکھ کی جگہ ہے، اور جنت سکون، اطمینان اور خوشی کی جگہ ہے،،
جب مجھے کچرے کے ڈھیر سے پیٹ بھر کے کھانا مل جاتا ہے تو مجھے بھی جنت کا احساس ہونے لگتا ہے اور
جب مجھے اس ڈھیر سے کچھ نہیں ملتا تو یہ پیٹ میں اور اپنے اردگرد جہنم کی آگ دیکنے لگتی ہے
بھوک کا کوئ مذہب نہیں صاحب!!!! خالی پیٹ دماغ سائیں سائیں کر رہا ہوتا ہے۔ میرے لیئے میری جنت کچرے کے ڈھیر میں ملا ہوا گندہ اور باسی کھانا ہے صاحب۔ کیا تمہارے پاس پیٹ کے اس جہنم کو بھجانے کا کوئ مستقل اور پاکیزہ حل موجود ہے؟
میرے اس دوزخ کا مسئلہ حل کردو صاحب۔۔۔ میں تمہارے اس دوزخ کا مسئلہ بھی حل کردوں گا”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/muhammadshahzad.qureshi1/posts/937969066290177
تبصرہ : بہت تکلیف دہ پوسٹ ہے پڑھ کر دکھ ہوتا ہے .شہزاد قریشی نے بہت دردمندانہ انداز میں ایک غریب اور بھوکے بچے کی مجبوری کو بیان کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ملائیت پر طنز بھی ہے .
پوائنٹس : شہزاد قریشی کی یہ رینکنگ میں پہلی انٹری ہے .انہوں نے ٹوٹل سو میں سے 83 نمبر لے کر ساتویں پوزیشن پر ہیں .انداز تحریر،معنویت اور استدلال میں سترہ نمبر جبکہ پیکج اور موضوع میں انکے بیس بیس میں سے سولہ سولہ پوائنٹس ہیں .
6.ارشد محمودArshad mehmood
پوسٹ :”مالک نکما، ناکارہ ہوتا ہے۔ محنت تو مزدور کرتا ہے
یہ ایک اور معاشی جہالت ہے۔ جو مارکسی عام آدمی کے زہنوں میں بٹھا دیتےہیں۔ صنعت کا آغاز کسی ‘مزدور’ نے نہیں کیا تھا۔ بلکہ کسی زہین ٹیکنیکل زہن رکھنے والے آدمی یا آدمیوں Entrepreneur نے کیا تھا۔ مزدور یا ورکر کسی صنعت کا ایک پرزہ ہوتا ہے۔ لیکن انڈسٹری، کاروبار، کارپوریٹ کا وجود ‘مالک یا مالکوں کا گروپ’ ہی لاتا ہے۔ جوخدمات یا پراڈکٹس کا پہلے کانسیپٹ لاتے ہیں۔ سرمائے،زمین، کارخانے، مشینری، خام مال کا بندوبست کرتے ہیں۔ پھر تیار مال نے کہاں اور کن کے پاس بکنا ہے۔ وہاں تک اپنے مال کو پہنچاتے ہیں۔ اور فروخت شدہ مال سے پیسے لینے کا انتظام کرتےہیں۔ ورکرز کو وہ متنوع ہنر سکھاتے ہیں۔ جو پراڈکٹ بننے کے پراسس میں کام آتے ہے۔ مارکسیوں کے نزدیک یہ سب “خالہ جی کا کام ہے”۔ ہرچیز کو پیدا اور ساری محنت مزدورکرتا ہے۔ یہ میں عام انڈسٹری کی بات کررہا ہوں۔ ورنہ آج کے دور میں ہائی ٹیک میگا انڈسٹری کی تنظیم، سرمایہ ،ہنر،ٹیکنالوجی، انجنئرز، سائنس دان، چارٹرڈ اکاونٹیٹ، بزنس مینیجمٹ کے اعلی تعلیم یافتہ لوگ ۔۔ایک لمبا چوڑا پچیدہ سلسلہ نظام سٹاف، اربوں کا سرمایہ درکار ہوتا ہے ۔۔۔ اور ایک مارکسی جس نے کبھی ریڑھی بھی نہیں لگائی۔۔اٹھ کر کہتا ہے۔ کہ ساری محنت تو مزدورکرتا ہے۔۔ہڈحرام سارا نفع مالک لے جاتا ہے۔ جو’مالک ‘ ہوتے ہیں۔ وہ برین دماغ ہوتےہیں۔ مزدور ہاتھ پاوں لگا لیں۔۔ برین نہ ہوگا۔۔تو ہاتھ پاوں لاغراور ناکارہ ہوتے ہیں۔ مالک گاڑی کا انجن ہوتے ہوتےہیں۔ مزدور ڈھانچہ، ٹائر۔۔۔ سرمایہ گاڑی کے پٹرول کی مانند ہوتا ہے۔ انجن کو بھی نکال لیں، پٹرول بھی ختم کردیں۔۔ بتائے گاڑی نام کی کوئی چیز رہ جائے گی۔ مارکسیوں کا علم معاشیات نہائت پس ماندہ زہنیت پر مبنی ہے۔ ان کے دماغ میں پتھر کے زمانے کی معیشت ہے۔ جب کوئی بچارہ غلام مزدور پتھر کوٹتا ہوگا۔۔۔اور مالک منجھی پر بیٹھا حقہ پی رہا ہوگا۔۔ مارکسی مزدور کو ورغلا کر ناکارہ بنا دیتے ہیں۔کہ تمہیں مالک ہو، تمھیں سب کچھ ہو۔۔نہ مزدور نے کبھی مالک بننا ہے، نہ سب کچھ اس کا ہونا ہے۔ البتہ مزدور محنت سے ہی نفرت کرنے لگ جاتا ہے۔
چلتے چلتے ایک اور بات کہہ جاوں۔ کہ ہمارے ہاں جو مزدور کا کم معاوضہ ہے۔ یا اس کے حالات کار بہتر نہیں ہیں۔ اس کا قصورمعاشی نظام نہیں ہے۔ ہمارے ملک کی معاشی پس ماندگی ہے۔ پاکستان ایک غریب آبادی کا ملک ہے۔ عوام غریب دو باتوں کی وجہ سے ہیں۔ بے کار آبادی کے اضافے کی وجہ سے، دوسرے ترقی کے نہ ہونے کی وجہ سے۔ جو قومیں ترقی کرتی ہیں۔ ان کے مزدوروں کی معاوضے بھی بڑھ جاتے ہیں۔اور ان کے حالات کار بھی بہتر ہوجاتے ہیں۔ ہمارا مزدور کیوں سستا ہے۔میں اس کی وجوہات پر بھی مضمون لکھ دوں گا۔”
پوسٹ لنک : https://www.facebook.com/sktarshad/posts/10153889283868817
تبصرہ : ارشد محمود صاحب ایک سنجیدہ اور زیرک انسان ہیں .اس پوسٹ میں انہوں نے مارکسی فلسفے پر سوالات اٹھائے ہیں .مارکسی حضرات کو ان سوالوں کے جوابات دینے ہوں گے .
پوائنٹس :چھٹے نمبر پر موجود ارشد محمود صاحب نے انداز تحریر اور معنویت میں سترہ سترہ پوائنٹس ،استدلال میں اٹھارہ جبکہ پیکج اور موضوع میں سولہ سولہ پوائنٹس لئے ہیں اور انکے ٹوٹل سو میں سے 84 پوائنٹس ہیں .یہ انکی ٹاپ تین اردو پوسٹس رینکنگ میں دوسری انٹری ہے .پچھلی بار انکی پوسٹ دوسرے نمبر پر تھی .
5.عمران شاہد بھنڈرimran shahid bhinder
پوسٹ :“جن لوگوں کے پاس علم ہو اور انہوں نے اسے ہضم کرلیا ہو ان کے باطن میں جو پہلی خوبی پیدا ہوتی ہے وہ تحمل اور بردباری ہے۔ دو چار کتابیں پڑھنے کے بعد صرف انسان کے اندر بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ اور اس بے چینی کو وہ مکالمے کے دوران بہت جلد ظاہر کردیتا ہے۔ بے چینی کا پیدا ہونا سیکھنے کے عمل کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ اسے آخری مرحلہ سمجھ لینا دانائی نہیں ہے۔ اس بے چین ابتدائی مرحلے پر کمزور اذہان یا تو خود کشی کرلیتے ہیں یا ہمہ وقت دوسروں پر خود کش حملے کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں وہ خود کشی کرتے ہیں۔
جو شخص علم کا دعوی کرے اور ہر دوسرے انسان سے دست وگریبان ہو تو ایسے لوگوں سے گفتگو کرنے سے بچنا چاہیے۔ علم میں وسعت مرحلہ وار تبدیلیوں کا محرک اور نتیجہ ہوتی ہے۔ جو لوگ اپنے منفی، معاندانہ رویوں کی وجہ سے سماج سے کٹ جاتے ہیں، ان کے رویے ان کی تنگ نظری، تعصب اور انسانوں کو مخصوص چشموں سے دیکھنے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بطون سے شائستگی، اخلاقیات رخصت ہوچکی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ ہر اس شخص کو اپنا مخالف اور دشمن سمجھتے ہیں جو ان سے مختلف سوچ رکھتا ہو۔ اڈورنو نے اس قسم کے رویوں کو سماج سے “بیگانگی” کہا ہے.”
پوسٹ لنک : https://www.facebook.com/imran.bhinder/posts/10153310718901129
تبصرہ :عمران شاہد بھنڈر فلسفیانہ موضوعات پر لکھتے ہیں یہاں علم پر انکے خوب صورت جملے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں .یہ پوسٹ پڑھنے کے لائق اور سنبھال کر رکھنے کے بھی .
پوائنٹس : پانچویں نمبر پر موجود عمران شاہد بھنڈر کی رینکنگ میں یہ پہلی انٹری ہے .انہوں نے پیکج،معنویت اور موضوع میں سترہ سترہ پوائنٹس لئے ہیں.استدلال میں اٹھارہ اور انداز تحریر چونکہ کچھ مشکل ہے اس میں سولہ پوائنٹس لئے ہیں .انکے ٹوٹل 85 پوائنٹس ہیں .
4.حوریہ ذیشان اور عمار مسعودhooria zeeshanAmmar masood
حوریہ ذیشان اور عمار مسعود کے پوائنٹس برابر ہونے کی وجہ سے دونوں ہی نمبر چار پر یکساں حیثیت میں موجود ہیں .
حوریہ ذیشان کی پوسٹ : “اچھی تربیت والدین کی ذمہ داری اور اولاد کا حق ہے جس میں کوتاہی کرنے والوں کی ضرور پوچھ ہوگی۔ آج کل والدین اولاد کی آسائش اور تعلیم کی تو فکر کرتے ہیں لیکن ان کی تربیت کی پرواہ نہیں کرتے۔ انہیں اخلاقی اقدار نہیں سکھاتے، انہیں ایک اچھا انسان بنانے کی کوشش نہیں کرتے۔ بچپن سے ایک ہی چیز سکھائی جاتی ہے کہ پیسے کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ نتیجتاََ بچے پھر پیسہ کمانے کے لیے ہر جائز ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔ اپنی زندگی اچھی بنانے کے لیے بہت سے لوگوں کی زندگیاں برباد کرتے ہیں اور آخر کار اپنی آخرت بھی تباہ کرلیتے ہیں۔ اس لیے صرف تعلیم اور ضروریات زندگی کا بندوبست کردینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ اولاد کی اچھی تربیت کرکے اسے معاشرے کا ایک اچھا اور کارآمد انسان بنائے۔ بدقسمتی سے ہمارا نظام تعلیم اب صرف تعلیم دے رہا ہے تربیت نہیں کررہا۔ اس لیئے اب والدین کی ذمہ داری اور بڑھ گئی ہے۔ آپ اپنے بچے کو بھلے ڈاکٹر، انجینئر بنائیں لیکن اس سے پہلے ایک اچھا انسان اور اچھا مسلمان ضرور بنا دیں۔ کیونکہ معاشرے کو اس وقت اچھے ڈاکٹروں سے زیادہ اچھے انسانوں کی ضرورت ہے۔”
پوسٹ لنک : https://www.facebook.com/horiyaz/posts/888970607883852
تبصرہ : حوریہ ذیشان نے بچوں کی تربیت پرلکھا ہے جو کہ بہت اہم موضوع ہے جس کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے .والدین کیلئے اور مستقبل کے والدین کیلئے خاص طور پر یہ جملے پڑھنے لازمی ہیں .
پوائنٹس :چوتھے نمبر پر موجود حوریہ ذیشان صاحبہ کے انداز تحریر اور پیکج میں سترہ پوائنٹس ہیں .استدلال اور معنویت میں اٹھارہ اٹھارہ پوائنٹس ہیں جبکہ موضوع میں سولہ پوائنٹس ہیں .ٹوٹل 86 پوائنٹس ہیں .یہ انکی پہلی انٹری ہے .
عمار مسعود کی پوسٹ :“جمہوریت سیاستدانوں کے لئے بہترین انتظام ہے”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/ammar.masood.31/posts/930149420372815
تبصرہ : ہمیشہ کی طرح عمار مسعود مختصر الفاظ میں جامع اور پر مزاح بات کرتے ہیں .جمہوریت اور سیاستدانوں کے کرتوتوں پر خوب صورت پھبتی کسی ہے .
پوائنٹس : عمار بھی چوتھے ہی نمبر پر موجود ہیں انکے پوائنٹس بھی 86 ہی ہیں . انکی رینکنگ میں یہ دوسری انٹری ہے پچھلی بار انکی پوسٹ کا نمبر دسواں تھا .انکے استدلال معنویت اور پیکج میں اٹھارہ اٹھارہ پوائنٹس ہیں جبکہ موضو کے پندرہ اور انداز تحریر کے سترہ پوائنٹس ہیں .
3.حافظ صفوانhafiz safwan
پوسٹ :”کیا مال و دولتِ دنیا حقیر و ذلیل چیز ہے؟
قرآنِ پاک اور احادیث میں دنیا کی بے رغبتی اور دنیا کے حقیر و ذلیل ہونے کے جو مضامین بکثرت آئے ہیں اور دنیا میں بدلہ ملنے کے بجائے آخرت میں اعلیٰ درجات و انعامات کے جو وعدے کیے گئے ہیں ان کی اصل سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ کے کیے وعدے اور جنابِ نبیِ پاک علیہ السلام کی سنائی خبریں بالکل برحق ہیں۔ آپ علیہ السلام نے جہاں غریبوں کو دنیا کی تنگی ترشی اور بے زری کے بدلے آخرت میں نعمتوں کی فراوانی کی خبریں دیں وہیں مالداروں کو ناداروں پر خرچ کرنے اور ان کے لیے سہولتیں فراہم کرنے پر عظیم اخروی بشارات دیں۔
قرآنِ پاک جس دور میں اور جن حالات میں نازل ہوا اس کے زمینی حقائق یہ ہیں کہ وہ لوگ جو مکہ میں ایمان لے آئے تھے ان میں زیادہ تر غریب تھے، اور جب یہ سب کے سب ہجرت کرکے مدینہ جا بسے تو غریب ہونے کے ساتھ غریب الوطن بھی ہوگئے اور مکہ میں کمائی کا جو تھوڑا بہت ذریعہ بنا ہوا تھا وہ بھی جاتا رہا۔ چنانچہ مدینہ پہنچ کر سب سے پہلے ان غریب الوطن فقرا کے حیلہائے معاش کا بندوبست کیا گیا جسے دنیا “مواخاتِ مدینہ” کے نام سے جانتی ہے۔ اس وقت میں جو مہاجر مسلمان مالدار تھے انھوں نے انصارِ مدینہ سے مالی اعانت لینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ وہ اس ضرورت سے مشتثنیٰ تھے۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مال و دولتِ دنیا اپنی اصل میں حقیر اور ذلیل چیز نہیں ہے ورنہ کوئی بھی صحابی مالدار نہ ہوتا۔ مال کا ہونا اور مال کی محبت کا ہونا دو الگ الگ مضمون ہیں۔ چنانچہ قرآنِ مجید اور حدیثِ پاک میں جہاں مال کی مذمت اور دنیا کی حقارت وارد ہوئی ہے وہ دراصل مال کی محبت میں مبتلا ہونے اور ضرورت مندوں پر خرچ کرنے سے رک رہنے کے ضمن میں ہے۔ اللہ سمجھ دے۔”
پوسٹ لنک : https://www.facebook.com/hafiz.safwan/posts/10153912126178023
تبصرہ : بہت اہم ٹاپک پر ایک انتہائی عمدہ تحریر ہے .جو لوگ لوگوں کو تصوف یا سادگی کے نام پر غربت کو گلورفائی کرتے ہیں انہیں یہ پوسٹ ضرور پڑھنی چاہئے .حافظ صفوان نے بہت اچھا لکھا .
پوائنٹس : ٹوٹل 87 پوائنٹس لے کر حافظ صفوان تیسرے نمبر پر ہیں .یہ انکی رینکنگ میں پہلی انٹری ہے .استدلال ،ٹاپک اور معنویت میں اٹھارہ پوائنٹس ہیں .جبکہ پیکج میں سولہ اور انداز تحریر میں سترہ پوائنٹس ہیں .
2.سعید ابراہیمsaeed ibrahim
پوسٹ : “انسان نظرئیے سے نہیں اپنے روئیے سے اپنی پہچان بناتا ھے۔”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/das3383/posts/10208536821843901
تبصرہ :بہت مختصر مگر بہت سوچنے والی بات ہے .اس میں مذہب اور سیکولر ازم دونوں پر چوٹ کی گئی ہے .
پوائنٹس : دوسرے نمبر پر موجود سعید ابراہیم کی یہ رینکنگ میں پہلی انٹری ہے .انکے ٹوٹل پوائنٹس 88 ہیں .انداز تحریر،ٹاپک ،اور پیکج میں سترہ جبکہ استدلال میں انیس اور معنویت میں اٹھارہ پوائنٹس ہیں .
1.ڈاکٹر عاصم الله بخش
پوسٹ : “آج صبح صبح ایک بندے سے منہ ماری ہو گئی ۔Asim allah bakhsh
منہ ماری بھی کیا ٹھیک ٹھاک ہاتھا پائی ہی سمجھیں۔ تاہم یہ سب کچھ کسی ذاتی عناد کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کی بنیاد نہی عن المنکر تھی، الحمد للہ۔
میں اندرون شہر واقع ایک تنگ سی سڑک پر رواں تھا، ٹریفک زیادہ تھی اور سڑک کی گنجائش بہت کم، ہوتے ہوتے ایک ٹریفک جام میں جا پھنسا۔ آپ تو جانتے ہیں صبح کے وقت ہر بندہ جلدی میں ہوتا ہے۔ ہم اپنی منزل کے لیے نکلتے تاخیر سے ہیں اور پہنچنا پہلے چاہتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ٹریفک جام نے وہاں پھنسے ہوئے لوگوں کا پارہ بڑھانا شروع کر دیا۔ موٹرسائیکل اور گاڑیوں کے ہارن “باقاعدہ” اور تسلسل سے بجنے لگے۔ سائیکل والوں کے پاس چونکہ ہارن کے سہولت میسر نہیں ہوتی اس لیے وہ اپنے منہ سے ہی منجنیق کا کام لیتے ہوئے اپنے دائیں اور بائیں غیر پارلیمانی الفاظ کی گولہ باری میں مصروف ہو گئے۔
کچھ وقت اور گزرا تو سائیکل اور موٹرسائیکل والے ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے واپس ہونے لگے۔ اب اس سڑک پر بھی ٹریفک پھنسنے لگی۔ میں بھی سخت کوفت کے عالم میں یہ سب دیکھ رہا تھا۔
اسی دوران میری نظر ہرے رنگ کی گاڑی میں بیٹھے ایک باؤ پر پڑی جو سیاہ چشمہ چڑھائے اسٹئیرنگ وہیل کے پیچھے بیٹھا سرعت سے جائزہ لے رہا تھا کہ اسے کس طرح اس اژدہام سے نکلنا ہے۔ وہ خاصی جلدی میں دکھائی دے رہا تھا اور جیسا کہ گاڑی والوں کی نفسیات ہوتی ہے، ان کے خیال میں سب سے اہم کام ان کو ہی کرنا ہوتےہیں اور باقی سب تو جیسے میلہ دیکھنے نکلے ہوتے ہیں سڑک پر، اس باؤ نے بھی گاڑی کو جنبش دی اور میں نے جھٹ بھانپ لیا کہ جناب ون وے کے الٹ جانے کی ٹھان چکے ہیں۔
اب موٹر سائیکل اور سائیکل تو کسی طور گھومتے لہراتے ون وے کو بالکل بند کیے بغیر نکل سکتے تھے لیکن یہ چار پہیوں والی سواری، اول تو اس قدر تنگ جگہ میں گھومے گی کیسے ، اور جب گھوم گئی پھر تو راستہ مکمل بند ہو جائے گا اور جو تھوڑی بہت ٹریفک جاری ہے وہ بھی جامد ہو جائے گی۔
بس جناب، میرے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ میں نے ایک فیصلہ کیا اور عین اس کے سامنے جاکھڑا ہؤا۔ اس نے خشمگیں نگاہوں سے میری طرف دیکھا، میں نے اسے کہا کہ اچھے شریف آدمی ہو یار ایک اپنے آرام کے لیے سب کو مصیبت میں ڈالنے پر تلے ہو۔ اس نے مجھے کہا تم ٹریفک وارڈن ہو یہاں کے ؟ میں نے جواب دیا “بَچُو، ٹریفک وارڈن تو نہیں ہوں پر تمہیں یہ حرکت کرنے نہیں دوں گا”۔ اس وقت میں نے تہیہ کر لیا کہ اگر اس کو روکنے کے لیے مجھے زور بازو بھی بروئے کار لانا پڑا تو حدیث مجھے اس کی اجازت دیتی ہے کہ غلط کام کو ہاتھ سے روک دوں ۔ میں مطمئن ہو گیا۔
باؤ نے گاڑی کو موڑ کاٹنے کے لئے آگے بڑھانے کی کوشش کی اور اپنا ہاتھ دروازے سے باہر نکال کر مجھے پرے ہٹانا چاہا، لیکن میں نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور با آواز بلند کہا میں تمھیں یہ حرکت نہیں کرنے دوں گا۔ اسی دوران میں نے دیکھا کہ ارد گرد کھڑے افراد نے اس بات کا نوٹس لیا ہے کہ گاڑی والا کوشش کے باوجود آگے نہیں بڑھ پا رہا۔ غالباً گاڑی والے نے بھی یہ محسوس کر لیا کہ اب اس کی دال نہیں گلنے کی۔ میں نے دیکھا میرے ہاتھ پر اس کا دباؤ کچھ ڈھیلا پڑ گیا، محسوس ہؤا گویا اس نے اپنا ارادہ ترک کر دیا ہے۔ اور ایسا ہی ہؤا۔ اس نے شیشہ چڑھا لیا اور سامنے دیکھنے لگا۔ سب لوگوں نے تشکر آمیز نظروں سے مجھے دیکھا کہ ان کو ایک نئی مصیبت سے بچا لیا۔
میرا دل خوشی اور انبساط کے جذبات سے بھر گیا اور مجھے احساس ہؤا کہ میں نے بالکل درست کام کیا ہے۔ آگے بڑھ کر میں نے اس گاڑی کا شیشہ کھڑکایا اور اس ڈرائیور کو خبردار کیا کہ اگر آئیندہ میں نے اسے کوئی غلطی کرتے دیکھا تو میری طرف سے ایسے ہی سلوک کا سامنا ہو گا۔ اس نےمیری طرف اپنا تعارفی کارڈ بڑھانا چاہا۔ میں نے ایک اچٹتی سی نظر اس کارڈ پر ڈالی لیکن اس کو پکڑا نہیں۔ وہ جو کوئی بھی ہو گا میرا اس سے کیا لینا دینا۔ میں تو فی سبیل اللہ یہ سب کر رہا تھا۔
بس کیا عرض کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح سے اک سرشاری کی کیفیت طاری ہے سوچا آپ سے بھی شئیر کر لوں۔
دیکھیے، اتنی بات ہو گئی اور مجھ اپنا تعارف کرانا بھی یاد نہیں رہا، اس بد تہذیبی کی معافی چاہتا ہوں۔ مجھے ضمیر کہتے ہیں اور ۔۔۔۔۔ وہ اس ہری گاڑی والے باؤ کے کارڈ پر عاصم اللہ بخش لکھا تھا۔”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/asim.allahbakhsh/posts/946950435341637
تبصرہ : انتہائی شگفتہ اور ،واقعاتی پیرائے میں ڈاکٹر عاصم الله بخش نے یہ تحریر ہمارے سماجی رویوں کی نشاندہی کے لئے لکھی ہے .ہمیں صرف پڑھ کر واہ واہ کرنے کے بجائے اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے .
پوائنٹس :پہلے نمبر پر موجود ڈاکٹر صاحب کی پوسٹ کے ٹوٹل 89 پوائنٹس ہیں .انداز تحریر،معنویت ،استدلال ،اور پیکج میں اٹھارہ اٹھارہ جبکہ ٹاپک کے انکو سترہ پوائنٹس ملے ہیں .

Advertisements

9 thoughts on “فیس بک پر دس بہترین اردو پوسٹس کی ہفتہ 9سے 16جنوری تک کی تازہ آرچر آئی رینکنگ جاری .بہترین پوسٹ کس کی اور کون سی ہے ؟

  1. Pingback: جنوری 17سے 24 تک ،ہفتے کی ٹاپ ٹین آرچر آئی اردو پوسٹس کی تازہ رینکنگ جاری،ہفتے کی بہترین پوسٹ اور نمبر ایک مصنف کون ہیں ؟ |

  2. Pingback: جنوری 17سے 24 تک ،ہفتے کی ٹاپ ٹین آرچر آئی اردو پوسٹس کی تازہ رینکنگ جاری،ہفتے کی بہترین پوسٹ اور نمبر ایک مصنف کون ہیں ؟ |

  3. ویلٹائین ڈے کے حوالے سے لکھا

    محبت پر پابندی لگانے کی بجائے نفرتوں پر پابندی لگائی جائے ۔

    Like

  4. میں پیتا نہیں ہوں پلائی گئی ہے ۔

    کسی بھی معاشرے میں جب کوئی نوجوان ہیروئین کچی شراب یا منشیات کا استعمال کرتا ہے تو والدین دوست اور معاشرہ متاثرہ شخص کو مورد الزام ٹہراتے ہیں۔ مگر کوئی بھی اس حقیقت کو نہیں سمجھتا کہ اس کی تباہی کا اصل ذمہ دار کون ہے۔؟ ہر نشہ کرنے والے کا ایک اپنا نفسیاتی مسئلہ اور اس کا پس منظر ہوتا ہے
    اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مسائل کا حل تلاش کیا جائے ۔
    مریم ثمر

    Like

  5. Pingback: جنوری 17سے 24 تک ،ہفتے کی ٹاپ ٹین آرچر آئی اردو پوسٹس کی تازہ رینکنگ جاری،ہفتے کی بہترین پوسٹ اور نمبر ایک مصنف کون ہیں ؟ – ArcherEye

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s