پروفیسر احمد رفیق اختر کی شخصیت ،اور خیالات و نظریات کا تجزیہ :ثاقب ملک

پروفیسر احمد رفیق اختر شاید پہلی نظر کا حسین دھوکہ ہیں .اگر میں ہارون الرشید کے انکے کالموں میں لکھے ہوئے جملوں درویش،عارف ،فقیر کو ذہن میں رکھوں تو میرا تصور تو یہی بنے گا کہ ایک بوڑھا سا آدمی ہے،لمبی سفید داڑھی ہے،تسبیح پر سر جھکاے بیٹھا رہتا ہے بس کبھی کبھار کسی سوال پر سر اٹھا کر ذہن کے دریچے کھولنے والا جواب دیتا ہے . مگر حقیقت میں ایسا ہرگز نہیں ہے .یہ تو ایک روشن شخصیت والا،جوان جوان سا پر کشش بوڑھا شخص ہے .
علم،فہم اور ادب دور سے ہی نمایاں ہے .شخصیت پر علمیت کا غلبہ ہے .خدا کو اولین ترجیح پر فوکس انکا ایک سادہ مگر بے انتہا طاقت ور فلسفہ ہے .یہ سیدھی سادی سی بات ،جو کہیں ،نوکریوں،ترقیوں،دولت،کامیابیوں ،محبتوں میں گم ہو چکی تھی اسکو جھاڑ پونچھ کر پروفیسر صاحب نے نکالا اور لوڈ شیڈنگ کے بعد بتی آنے پر اس تیز روشنی کی طرح جو آنکھوں پر آ کر چبھتی ہے ،اسی طرح یہ تیز دھار ترجیح دل و دماغ کو چھبتی ہے.سوال کرتی ہے.اپنا احساس کراتی ہے.
پیغمبر خدا سے محبت انکی شخصیت کا ایک اور خاصہ ہے .یہ دو چیزیں انہیں سکالرز کی صف سے بلند کر کے ایک عاشق خدا اور عاشق رسول کی جانب معراج کرواتی ہیں .سوچا سمجھا عشق شاید ہی کہیں ہوتا ہو .پروفیسر صاحب نے خدا سے سوچی سمجھی محبت کی داغ بیل ڈالی ہے .وہ الله کی یہ دلیل دیتے ہیں کہ آؤ کوئی شک ہے تو مجھے مسترد کرو ورنہ میرا یقین کرو .
نرگسیت ،نارسیزم کے سخت ناقد ہیں . لیکن ایک عجیب سی حقیقت یہ ہے کہ پروفیسر صاحب شاید سب سے زیادہ اپنی نرگسیت سے ہی خائف رہے ہیں اور کبھی کبھی تو اپنی نرگسیت کے ہی اسیر لگتے ہیں ..یہ تاثر ملتا ہے کہ آپ کے اندر “انا ” پائی جاتی ہے . یہ پوشیدہ سی انا ہے . یہ وہ جاہ و چشم والی انا نہیں ہے . پروفیسر صاحب جیسے خاندانی لوگ اسکے عادی ہوتے ہیں وہ اسے سنبھال لیتے ہیں .یہ ہے اپنی عزت اور رتبے کی انا ،اپنی علمی،فکری بڑھائی کا ایک دبا دبا سا لیکن پختہ احساس ،یہ انکی شخصیت کا ایک مستقل تاثر ہے .اپنی تعریف پائی جاتی ہے.اکثر اسکا اظہار بھی کرتے ہیں .کسی بھی ہم عصر سکالر کو قطعا کوئی اہمیت نہیں دیتے .اکثر دوسرے مذہبی فکر کے لوگوں یکسر مسترد کرنے کے بیانات دیتے رهتے ہیں .اشفاق احمد،قدرت الله شہاب،ممتاز مفتی،واصف علی واصف ،سرفراز شاہ ،غامدی ،ڈاکٹر اسرار کسی کو بھی مستند سکالر یا صوفی نہیں سمجھتے .اسکا اظہار انکی پیشنگوئیوں میں بھی ملتا ہے جب نہ نہ کرتے بھی تقریباً ہر دوسرے لیکچر کے آخر میں پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک سوال پوچھا جاتا ہے ،جس پر پروفیسر صاحب پہلے تو پیشنگوئیوں سے اجتناب کا دعوی فرماتے ہیں اور اگلے ہی لمحے پاکستان کی ترقی ،اور عروج کی نوید سنا دیتے ہیں ساتھ ہی ساتھ ،عالم اسلام میں پاکستان کے خصوصی مقام کا تذکرہ کرنا بھی نہیں بھولتے ،آخری آئٹم کے طور پر سیاسی پیشنگوئیوں پیش کی جاتی ہیں .جہاں کچھ عرصہ پہلے تک عمران خان کی حمایت کی جاتی تھی اور اسکی کامیابی خوشخبری سنائی جاتی تھی لیکن ،عمران خان کی جانب سے ٹکٹ نہ دینے کی مبینہ وعدہ خلافی کے بعد سے اب فوکس صرف اچھے لوگوں کے آنے پر چلا گیا ہے .سوال تو یہ بنتا ہے کہ ایک صوفی سکالر کو کیا ضرورت ہے کہ وہ سیاسی لوگوں کیلئے خود ٹکٹ مانگتا پھرے؟

.اپنے ذاتی علمی اور خدا کے رستے کی مشقت کے احوال کبھی کبھی بہت زیادہ ہو جاتے ہیں .یہ تاثر یوں بھی مضبوط ہوتا ہے کہ تمام تر اہل علم ،سکالرز اور بڑے بڑے جید مذہبی رہنمائوں کو مسترد کرتے ہیں .کسی صوفی کے آج کے پاکستان میں موجودگی کا بھی انکار کرتے ہیں .کیا یہ سب انکی اپنی نرگسیت ہے؟یا اپنے علم ،فہم اور فکر پر انکا اعتماد اور یقین اتنا پختہ ہے ؟کیا یہ اپنی فکری ،علمی غلطی نہ ماننے والی سوچ اور ضد کی اطرف اشارہ کرتا ہے؟کیا یہ صرف ایک غلط گمان ہے ؟قرائن یہ کہتے ہیں کہ پروفیسر صاحب کسی بھی تنقید کو برداشت کر لیتے ہیں ،کسی بھی قسم کے لوگوں کی باتیں سن لیتے ہیں مگر اپنے استدلال سے بہت کم پیچھے ہٹتے ہیں یا بہت کم ہی اپنے کسی سوچے سمجھے فلسفے میں ترمیم کرتے ہیں .انکے پچھلے بیس سال کے لیکچر اس بات کا ثبوت ہیں کہ پروفیسر صاحب کی فکر میں ذرا برابر نہ کوئی نئی چیز آئی ہے اور نہ ہی کچھ خاص تبدیلی ،وہ پچھلے بیس سال سے ایک ہی جگہ فکری طور پر منجمد ہیں .
ہر قسم کی فرقہ بازی کے سخت ترین مخالف نہیں بلکہ فکری دشمن ہیں . اس معاملے میں پروفیسر صاحب سے زیادہ کوئی سخت نہیں دیکھا .گمان ہے جو کہ پرفیسر صاحب ہی کہ استدلال سے پھوٹا ہے کہ جان بوجھ کر داڑھی بھی اسی وجہ سے نہیں رکھی کہ کہیں کسی فرقے سے تعلق نہ سمجھا جائے .اسکے لئے آپ اپنے استاد علی بن عثمان ہیجوری کی بات دہراتے ہیں کہ جب کوئی سنت ،فتنے کا سبب بن جائے تو اسکا ترک کرنا اسے اختیار کرنے سے بہتر ہے .
جادو ٹونے ،پیری فقیری مریدی اور بعیت سب کا انکار کرتے ہیں .کسی پیری فقیری کے قائل ہی نہیں.جادو ٹونے پر آپ کی وضاحت بہت پختہ ہے .رسول پاک پر کئے گئے جادو کی بھی بہت عمدہ وضاحت دیتے ہیں جو دل کو بھی لگتی ہے .
جانے کیوں پروفیسر صاحب سیاسی پیشن گوئیاں کرتے ہیں اور تسلسل کے ساتھ غلط پیشنگوئیاں کرتے ہیں ..اگر پیشن گوئیاں نہ بھی کہا جائے تو انکا اندازہ ہی کہا جائے دونوں صورتوں میں انکے اکثر اندازے جو انہوں نے اپنے لیکچرز میں کئے زیادہ تر غلط ثابت ہوے .انیس سو چھیانوے میں انہوں اپنے لیکچر میں کہا کہ اگلے سات سالوں میں پاکستان میں بڑی اہم تبدیلیاں آئیں گیں اور ممکن ہے تیسری عالمی جنگ بھی ہو جائے .یہ بات غلط ثابت ہوئی .یہی بات آپ نے شاید دو ہزار دو یا تین میں پھر کہی اور اگلے سات آٹھ سال کے عرصے کی بات کے یہ بات بھی غلط ثابت ہوئی.پھر کسی لیکچر میں پروفیسر صاحب نے دو ہزار بارہ کے بعد پاکستان میں مثبت تبدیلیوں اور ایک بڑی جنگ کی بات کی وہ بھی غلط ثابت ہوئی.ابھی ٢٠١٣ کے حالیہ الیکشن میں ہارون الرشید کے دعوے کے مطابق پروفیسر صاحب نے عمران خان کے دو کروڑ ووٹ لینے کی بات کی .عمران نےپچھتر لاکھ ووٹ لئے .ہارون الرشید نے اسکی تاویل یہ کی کہ دھاندلی ہوئی اس وجہ سے باقی سوا کروڑ ووٹ نہ مل سکے ورنہ ملے دو کروڑ ہی تھے .سوال یہ ہے کہ اگر یہ بات درست ہے تو پروفیسر صاحب کو دو کروڑ ووٹ نظر آ گئے دھاندلی کیوں نظر نہ آئی؟یاد رہے کہ پروفیسر صاحب نے میرے علم کے مطابق اس بات کی کبھی تردید نہیں کی .

میڈیا پر نہ آنے پر انکے دلائل بھی تضادات سے بھرپور ہیں .اگر وہ یا انکے شاگرد انٹرنیٹ،ویب سائٹس ،کتب اور ویڈیو لیکچرز سب طریقے استمعال کر رہے ہیں تو ٹی وی پر نہ آنے پر کیا امر مانع ہے ؟اسکے باوجود وہ ٹی وی ون پر ایک ٹی وی پروگرام اور اسرار احمد کسانہ کے پروگرام میں بطور مہمان شرکت کر چکے ہیں .اگر کسی لڑکی کا اشتہار آ رہا ہے تو یہ اس معاشرے کا برا چلن ہے تو کیا کوئی الله کا نام میڈیا پر نہ لے ؟؟کیا یہ انکی ذاتی پسند نہ پسند پرمبنی دلیل نہیں ہے ؟انہوں نے الله کا پیغام میڈیا پر آ کر دینا ہے ،چاہئے بیچ میں لڑکی کا ایڈ یا کسی اور کا ؟؟یوں بھی اس بات سے کسی کو کیا غرض؟کیا پروفیسر صاحب کسی ملنے والے سے ملاقات سے قبل یہ بھی پوچھتے ہیں کہ بھائی تم نمازی ہو ؟روزے رکھتے ہو ؟نیک ہو ؟تب ہی میں تمہیں ملوں گا ؟جب ایسا نہیں ہے تو میڈیا پر صرف ایک لڑکی یا کسی فضول اشتہار کی مثال ہی کیوں؟
تصوف کی حالیہ مثالوں اور طریقہ کار کو مکمل رد کرتے ہیں .مراقبوں،چلوں،اور اس قسم کی حرکات کو سخت نا پسند اور غیرضروری جانتے ہیں اور آپکا یہ درست استدلال ہے .قرآن کا فہم بہت ہی عمدہ ہے . کم ہی انکے ہم پلہ ہوں گے .سائنس کی بہت خوب صورت مثالیں دیتے ہیں .ایک عام جاہل ،ان پڑھ سے لے کر ایک بہت ہی زیادہ تعلیم یافتہ دونوں کو متاثر کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں .مولوی طبقے کے سخت ترین ناقد ہیں .مسلمانوں کے زوال کی درست تشریح کرتے ہیں کہ ہم تقلید میں مارے گئے .لیکن کبھی کبھی سائنس سے اسلام کو جوڑنا حد سے آگے نکل جاتا ہے .سگریٹ پینے کی اتنی چاہت ہے کہ کچھ دیر کے بعد ہی سگریٹ پینے پر مجبور ہو جاتے ہیں .سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک سکالر کے طور پر تو انکی اس بات پر کوئی خاص اعتراض نہیں اٹھتا مگر اگر انکے شاگردان اور پیروکار انکو صوفی سمجھتے ہیں اور پروفیسر صاحب بھی روا روی میں اپنا تذکرہ کرتے ہوئے ،ہم صوفی، کہہ جاتے ہوں اور نفس پر انکا اتنا کام ہو پھر ایک سگریٹ کی عادت کی اتنی مجبوری انسان پر اچھا تاثر نہیں چھوڑتی .دوسری جانب سالانہ سیشن پر لاکھوں کا کھانا اڑایا جاتا ہے صرف اس بات پر کہ الله نے لوگوں کو کھانا کھلانے کا کہا ہے .سیدھی سی بات ہے الله نے پہلے سے پیٹ بھروں کے منہ میں کھانا ٹھوسنے کو اچھا عمل نہیں کہا بلکہ غریب غربا اور مساکین اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دی ہے .پاکستان جیسے ملک میں جہاں ،کروڑوں غریب لوگ دو وقت کی روٹی نہ کھا سکتے ہیں وہاں ایک ،ایسے صوفی سکالر کا اتنی فضول خرچی اور اسراف کی حمایت کرنا ،ایک کمتر درجے کا عامیانہ عمل ہے .سٹیج پر ادھر ادھر کی مشہور شخصیات کو بٹھایا جاتا ہے ،پروفیسر صاحب کی سب سے اونچی ایک شاہانہ کرسی ہوتی ہے ،یہ انکی سادہ شخصیت سے میل نہیں کھاتی اور یہ طرز عمل سنت رسول پاک سے بھی متصادم ہے مگر ہر سالانہ سیشن میں ایسے ہی جاہ و جلال کا م مظاہرہ کیا جاتا ہے .جنرل شاہد عزیز کے پروفیسر صاحب پر پلاٹ لینے کے الزامات اور ایک حاضر سروس آئی ایس آئی کے سینئر آفیشل کے پروفیسر صاحب پر الزامات کہ آپ فوج کی درپردہ پشت پناہی اور حمایت پر فوج کو اتنا سپورٹ کرتے ہیں بلکہ اس آفیشل کا کہنا تھا آپ کو سرکاری طور پر صوفی بنایا گیا ہے .میری معلومات کے مطابق ابھی تک کوئی وضاحتی کوئی جواب نہیں آیا .بہر حال یہ احمقانہ اور حسد پر مبنی الزامات بھی ہو سکتے ہیں اور کسی حد تک درست بھی مگر انکا جواب نہ آنا معنی خیز ہے .
موجودہ دور کی تمام تر اسلامی تحریکوں کو ناکام گردانتے ہیں .ہر کسی کو فکر کو خدا کے حوالے سے جانچتے ہیں .آپکی بات بہت مضبوط دلائل پر مشتمل ہے .نفس کو بہت خوب صورتی سے اور شاید سب سے بڑھ کر ڈیفائن کرتے ہیں . نفس کو جبلیتیوں کا ایک پیکٹ کہتے ہیں .خدا کو تسلیم کرنے اور اسکے انکار پر پر آپکا علم اور اس پر دلائل بہت ہی شاندار ہیں اور شاندار بنیادوں پر کھڑے ہیں .خدا کی پوری تاریخ کا مکمل ادراک ہے .
خود تو ہر کسی کے لئے انکے دروازے کھلے ہیں مگر انکے ارد گرد ایک چاپلوس ٹائپ ،گھیرا تنگ کرنے والی چند افراد پر مشتمل ایک مخلوق کا اثر و نفوذ بہت بڑھ چکا ہے .یہ نہ تو اپنے من پسند افراد کے علاوہ کسی کو ملنے دیتے ہیں نہ پروفیسر صاحب کی جان چھوڑتے ہیں . بد قسمتی سے اسکی وجہ سے پروفیسر صاحب کو پہلی بار ملنے والوں پر پروفیسر صاحب کا برا تاثر پڑتا ہے .حیرت ہے کہ کچھ فراڈ کے سکینڈلز اور پروفیسر صاحب کے ارد گرد موجود نکمے لوگوں کی گھٹیا حرکات اور رویوں کے باوجود پروفیسر صاحب نے کبھی کوئی خاص ایکشن نہیں لیا .چاہے اس سے کسی کو کتنی ہی تکلیف پہنچ رہی ہو .
مہمان نوازی ،سخاوت،کھلا ڈلا پن،حس مزاح ،اور جانے کتنی شخصی خوبیاں انکے علم کے سکوپ کووسیع کر کے دل میں محبت اور پیار کی ترغیب ڈالتی ہیں .جمہوریت کے مخالف ہیں .کہتے ہیں آپ لوگ الله پر چھوڑ دو تو الله آپکو اچھا بندا لا دے گا .پروفیسر صاحب سے سوال ہے کہ کیا یہ دلیل وہ زندگی کے ہر موقع پر بھی استمعال کرتے ہیں ؟کیا وہ الله کی طرف سے ودیعت عقل اور چوائس کے اختیار کو استمعال نہیں کرتے ؟اصل بات یہ ہے کہ عوام خود اکثریت میں کرپٹ ہے تو بھلا کیسے اچھے لوگ چنے گی؟اور بھلا کیا طریقہ ہو جس پر ہم اپنے لیڈر منتخب کریں؟اس پر آپکے پاس کوئی ٹھوس جواب نہیں .ہاں امریکن طرز کے صدارتی انتخاب کے حامی ہیں اور میں بھی ان سے متفق ہوں .
غزوہ ہند،امام مہدی اور حضرت عیسیٰ پر کئی احادیث کے معیار پر پوری نہ اترنے والی مبینہ روایت و احادیث کو بھی روانی اور تواتر سے بیان کرتے ہیں اور اس غزوہ پر مکمل یقین رکھتے ہیں . نعیم حمادی جن کو کچھ مورخ اور محدثین جھوٹا کہتے ہیں انکی عجیب و غریب اور اور اکثرا احادیث کے لیول سے کمتر باتوں کو بطور حدیث سمجھ کر پیش کرنا ایک احمقانہ عمل لگتا ہے .سوال ہے کہ بھلا الله کو کیوں ضرورت پڑے گی کہ وہ اپنے رسول پاک صلی الله علیہ وہ و آلہ وسلم کو کہے کہ اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد پھر دوبارہ کسی بھی حیثیت میں آپ ایک جنگ میں شریک ہوں؟اور کیا یہ مخالفین کے ساتھ نا انصافی نہیں؟جب الله ایک کے ساتھ ہو تو وہ کس طرح شکست کھاے گا ؟کیا یہ بات درست ہے؟
طالبان اور انکی فکر کے سخت ناقد ہیں .تبلیغی جماعت کے طریقہ کار کے بھی قائل نہیں .اس بارے میں پروفیسر صاحب شاید ڈاکٹر اسرار کے ساتھ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے کھل کر اس تبلیغی سٹائل کی نفی کی .انسان کو الله سے تعلق جوڑنے پر انکا فوکس ہے .تسبیح کا شوق ہے .الله کے ذکر پانچ نمازوں تک محدود نہیں کرنا چاہتے .علم السما کا علم کچھ لوگوں کے دعووں کے مطابق پایا جاتا ہے لیکن میں اسکی کوئی ذاتی سند نہیں دے سکتا . بلکہ میری ملاقات پر اسکا کوئی ثبوت نہیں ملا .گمان ہے کہ اگر ایسا کچھ ہے بھی تو یہ ایک مشاہدے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے .نام سن کر دوسرے کی شخصیت کی پرتیں کھل جانے والی باتیں مبالغہ آمیز لگتی ہیں .
تھیوری آف ایولوشن کو اسلام اور انسان کے مادی وجود سے جوڑتے ہیں . انکے خیال میں آدم سے پہلے بھی انسان ،زمین پر موجود تھا تب ہی فرشتوں نے اسکے قتل و غارت کرنے کی بابت اشارہ کیا .آگے چل کر اس پر الله کی تجلی آئی تو اسکا ذہن دوسرے ہومو سپینز سے بڑھ گیا . یہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ الله قرآن میں کہتا ہے کہ اے انسان وہ وقت یاد کرو جب تم زمین پر کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے (مفہوم ) تیسری دلیل یہ دیتے ہیں کہ الله فرماتا ہے کہ انسان کو ہم نے مرحلہ وار زمین پر پیدا کیا (مفہوم).اس پر متضاد آرا ہیں .. یہ موضوع بہت تفصیل کا متقاضی ہے .اس پر بہت سے سوال اٹھتے ہیں کہ پھر دنیا میں بندروں کا وجود کیوں ہے ؟ کیا یہ حدیث کے مطابق بنی اسرائیل کی عذاب شدہ قوم ہے؟ الله کے انسان کو زمین پر مرحلہ وار پیدا کرنے کا کیا یہ مطلب ہے یا کچھ اور ؟ اس پر اہل علم یا اس موضوع پر گرفت رکھنے والے دوستوں سے آرا کی درخواست ہے .خدا کو جسکو مولوی گلی محلے تک محدود کرنا چاہتا ہے اسکو پروفیسر صاحب نے کائناتوں کا خدا بنا کر ہمارے سامنے کھڑا کیا ہے .انسان کا اپنے خالق سے رشتہ جوڑنے پر انکا فوکس سب سے زیادہ ہے .یہ بات بھی انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے .مجموعی طور پر پاکستان،بھارت ،بنگلہ دیش اور دیگر ہمسایہ مسلمان ممالک میں یا شاید قرآن فہمی،میں اسلام کی فکر میں ،خدا کے وجود پر دلالت میں پروفیسر صاحب میرے خیال میں سب سے زیادہ علمی پختگی پر ہیں . کچھمعاملات پر وہ ایک عجیب سی ضد پر کھڑے رهتے ہیں مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ اختلاف کو با آسانی برداشت کرتے ہیں اور اسکی حوصلہ افزائی کرتے ہیں .شان و شوکت،اور بڑے بڑے القابات کے مخالف ہیں .سادگی ،اور وقار آپکی شخصیت سے جھلکتا ہے .
پر کشش شخصیت ہے .نوجوانوں کو ایسے ہی کھلے ڈلے متوازن فکر والے سکالرز کی ضرورت ہے .مگر پروفیسر صاحب کا اپنا کردار بہت تضادات کا حامل ہے .لیکن پاکستان کو ایسے ہی پڑھے لکھے لوگوں کی ضرورت ہے جاہل ملاؤں اور جاہل لبرلوں کی نہیں.

 

Advertisements

6 thoughts on “پروفیسر احمد رفیق اختر کی شخصیت ،اور خیالات و نظریات کا تجزیہ :ثاقب ملک

  1. دلچسپ اور متوازن تجزیہ ہے۔غیر محسوس انداز میں ان کا اپنا فرقہ وجود میں آ چکا ہے چاہے وہ اس کے کتنے ہی خلاف کیوں نہ ہوں ، مگر یہ فرقے کی اس جدید شاخ سے ہے جو اپنی علحیدہ مساجد نہیں بناتے اور فرقے کی دیگر تمام تر خصوصیات ہونے کے باوجود فرقہ ہونے کا انکار کرتے ہیں۔

    Liked by 1 person

  2. Karma aur kameengi ka Haseen imtizaj.Looking for perfection is …………in vain.Kabhi Kabhi Khaloos ka mazahhra karna chahyeye.Yet I admire you for involuntary positive reflections that you can never retract.Generosity is virtue but extremely rare Sir.

    Like

  3. بات دل کو لگتی ھے۔بلکہ اس تبصرے نے تو پروفیسر صاحب کی 99پرسینٹ شخصیت کو واضح کر دیا ھے میں نے پروفیسر صاحب کے کچھ لیکچر نیٹ پہ سنے ھیں اور بالکل یہی گمان ھوتا ھے۔یقیناآپ پروفیسر صاحب کو زیادہ جانتے ھوں گے۔شکریہ

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s