جاوید چوہدری کاحکومت کے ساتھ دورہ سعودیہ اور ایران پر فرضی پیروڈی کالم :ثاقب ملک

ہم ٹھیک ،آٹھ بج کر نو منٹ ،چوبیس سیکنڈ ،انیس ملی سیکنڈ ،سولہ مائکرو سیکنڈز،اور انسٹھ نینو سیکنڈ پر طیارے میں سوار ہوئے .ہم کل سات لوگ تھے .میں یعنی جاوید چوہدری ،وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف،انکے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد،آرمی چیف راحیل شریف ،انکے ساتھ انکے سیکریٹری،دفتر خارجہ کے طارق فاطمی اور سرتاج عزیز ،یہ سب جہاز پر سوار تھے .اچانک سرتاج عزیز نے ہلنا شروع کر دیا ،ہم سب خوفزدہ ہو گئے جہاز شاید کسی خرابی کا شکار ہو گیا ہے .میاں صاحب فورا جہاز کی کھڑکی کھول کر باہر چھلانگ لگانا چاہتے تھے مگر فواد حسن نے انکا ہاتھ پکڑ لیا اور انہیں بتایا کہ جہاز میں کوئی خرابی نہیں ہوئی ،سرتاج عزیز کو ہر کچھ دیر بعد ہلنے جلنے کا دورہ پڑتا ہے ،آپ اطیمنان سے بیٹھیں .حکومت نے خیر سگالی اور مساوات کے فروغ کیلئے جہاز میں ،آدھا فیول ایران کا ڈلوایا اور آدھا سعودی عرب کا ڈلوایا .مجھے امید ہے میاں صاحب کے اس اقدام سے دونوں ملکوں میں رواداری بھی بڑھے گی اور برداشت بھی پیدا ہو گی .یہ بات ٹھیک ہے کہ میاں صاحب پر خاندانی انداز حکمرانی،کرپشن،جھوٹ ،فریب،کاہلی اور نا اہلی کے الزمات ہیں ،یہ بات بھی درست ہے کہ حکومت نے توانائی اور لوڈشیڈنگ پر پہلے بھی جھوٹ بولا اور اب بھی جھوٹ بول رہی ہے ،ملک میں بے روزگاری بھی بڑھ گئی ہے اور امن و امان کی صورت حال بھی مخدوش ہے ،سی پیک پر بھی حکومت نا اہلی کا مظاہرہ کر رہی ہے مگر آپ میاں صاحب سے نصف نصف تیل ،ایران اور سعودی عرب کا ڈلوانے کا کریڈٹ نہیں چھین سکتے .میاں صاحب اس ایک اقدام سے تاریخ میں امر ہو سکتے ہیں .میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ پاکستان کے تمام جہازوں اور گاڑیوں میں آدھا تیل سعودی عرب کا ڈلوائے اور آدھا ایران کا اس میں ملک میں فرقے بازی میں کمی واقع ہو گی اور روداری اور برداشت بھی بڑھے گی .
ہم پہلے ریاض پہنچے .یہ سعودی عرب کا دار الحکومت ہے .وہاں ہماری سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے ملاقات طے تھی .شاہ سلمان ایک انتہائی دلچسپ انسان ہیں ،یہ اپنے والد صاحب کی ایک سو چونتیسویں بیوی سے پیدا ہوئے .یہ رات کو ٹھیک بارہ بجے پیدا ہوئے .اس لئے ،انکی تاریخ پیدائش گیارہ اور بارہ اپریل دونوں تاریخیں ، لکھی جاتی ہے .شاہ سلمان کی عمر اسی برس ہے مگر وہ ابھی بھی جوان اور صحت مند ہیں .انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ ابھی کشتی کر کے آ رہے ہیں .یہ بات سن کر ہم حیران رہ گئے .میاں صاحب کیونکہ پہلوانی کے شوقین ہیں اس لئے وہ کشتی کا اکھاڑا دیکھنے پر بضد ہو گئے .انہوں نے تجویز دی کہ ایران اور سعودی عرب کی مصالحت ،وہیں اسی اکھاڑے میں کرا دیتے ہیں .اس پر شاہ سلمان نے وعدہ کیا کہ جب اگلی بار آپکی حکومت ٹوٹی گی اور مارشل لا حکومت آئے گی تو آپ کو جدہ میں کشتی کا اکھاڑا بھی بنا کر دیا جائے گا .اس پر میاں صاحب نے فرمائش کی کہ وہ نہاری اور سری پائے بھی لاہور سے منگوائیں گے .شاہ سلمان نے کمال مہربانی سے اسکی بھی اجازت دے دی .یہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی کی عظیم معراج ہے .میں پاکستانی حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ پاکستان کے ہر گھر کے سامنے کشتی کا اکھاڑا بنا دے اس سے لوگ صحت مند بھی ہوں گے ،فرش بھی رہیں گے اور ان میں رواداری بھی پیدا ہو گی .

پاکستان اس عظیم مقصد یعنی ایران اور سعودی عرب کی صلح کیلئے مکمل تیار ہو کر گیا تھا .طارق فاطمی نے ،پلاؤ،کباب،بریانی قورمہ اور کوفتے شاہ سلمان کو ایران کی جانب سے بطور خیر سگالی ،لنچ باکس میں دیا .اس سے خیر سگالی بھی بڑھے گی اور دونوں ملکوں میں برداشت بھی پیدا ہو گی .شاہ سلمان نے سعودی عرب کی طرف سے اٹھارہ کنٹینرز میں بکرے اور اونٹ کا بھنا ہوا گوشت بھجوانے کا اعلان کیا جس میں سے آدھا پاکستان اور آدھا ایران جائے گا .اس پر میں نے تجویز دی کہ اتنا بکرے اور اونٹ کا گوشت کھا کر کہیں ایرانیوں کو بدہضمی نہ ہو جائے اس لئے سارے کنٹینر رائے ونڈ ہی اتار لیے جائیں ہم خود ،لفافوں میں گوشت ڈال کر ایران بھیجوا دیں گے .شاہ سلمان نے اس بات پر رضامندی کا اظہار کیا اور قہقہہ لگا کر بولے جاوید آخر ہم کب ،اونٹ کی دم سے ایک دوسری کی مونچھوں اور داڑھی سے سفید بال نکلتے رہیں گے ،آخر ہم کب ،پٹرول کو جانسن بے بی آئل سمجھ کر اپنے جسم پر لگاتے رہیں گے ،آخر ہم کب تک یمن کے لوگوں سے مالش کرواتے رہیں گے ؟ ہمیں ایران سے دوستی کرنا ہو گی ورنہ ہم تاریخ کے اندھے کنویں میں جا گریں گے .میں نے قہقہہ لگایا اور شاہ سلمان کی اس بات سے اتفاق کیا .میں نے شاہ سلمان سے دو چیزوں کی فرمائش کی ،ایک کہ میں آپکے شاہی باتھ روم جانا چاہتا ہوں دوسرا کہ میں آپکے ساتھ سلفی لینا چاہتا ہوں ،شاہ سلمان نے فورا ہی مجھے باتھ روم جانے کی اجازت دے کر ،ساتھ ہی میرے پر ایک کفیل بھی مقرر کر دیا .سلفی کا نام سن کر شاہ سلمان بہت خوش ہوئے وہ اسے سلفی مکتب فکر کی کوئی جدید انداز کی ایجاد سمجھ رہے تھے اس لئے فورا اسکی بھی اجازت دے گی .میری زندگی کی دو بہت بڑی خواہشیں ایک منٹ میں پوری ہو گئیں .میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ پاکستان کے ہر باتھ روم جانے والے بندے پر ایک عدد کفیل کا بندوبست کرے اس سے لوگوں میں ڈسپلن پیدا ہو گا .selfi ch
ہماری اگلی منزل ایران کا دار الحکومت تہران تھا .ایران کے صدر حسن روحانی بھی ایک انتہائی دلچسپ انسان ہیں .یہ جب پیدا ہوئے تو انکے گھر میں نہ پانی تھا نہ بجلی ، نہ کھانا تھا نہ ہوا تھی نہ آکسیجن تھی نہ مچھر تھے نہ مکھیاں تھیں ،یہ اپنی بنیان سے پسینے صاف صاف کر کر کے اپنی تعلیم مکمل کرتے رہے .انہوں نے پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے .میں حکومت سے درخواست کروں گا کہ پاکستان میں ہر نوجوان کے گھر سے پانی ،بجلی،ہوا،آکسیجن ،وغیرہ ہٹوا دے تاکہ ہمارے نوجوانوں کو محنت کی عادت پڑے .اس سے رواداری اور برداشت بھی بڑھے گی .حسن روحانی کو کالے لفافوں میں ،ڈالے بکرے اور اونٹ کا گوشت دیا گیا جس پر وہ بہت خوش ہوئے .انہوں نے میاں صاحب کی خوش خوراکی کی تعریف کی اور ان سے نہاری کی فرمائش کی .میاں صاحب نے فورا عرفان صدیقی اور عطا الحق قاسمی کو فون کر کے انکی ڈیوٹی لگائی کہ وہ اگلے چار گھنٹوں میں نہاری کو تہران بھجوانے کا بندوبست کریں .حسن روحانی نے میری طرف دیکھا قہقہہ لگایا اور بولے میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہوا ہے .میں نے سوچا مگر مجھے کچھ یاد نہ آیا .اس پر حسن روحانی بولے ،آپ میرے سامنے اپنے منہ میں ہاتھ ڈال کر غرارے کریں شائد مجھے یاد آ جائے کہ میں نے آپکو کہاں دیکھا ہے ؟ میں نے ہاتھ ڈال کر غرارے کئے تو پھر بھی انہیں کچھ یاد نہ آیا .میں میاں صاحب کو تجویز دوں گا کہ ملک بھر میں غرارے کلب بنائے جس میں لوگ ایک دوسرے کے منہ میں ہاتھ ڈال کر غرارے کریں اس سے ملک میں رواداری بڑھے گی .اس دورے میں بہت سی باتیں آف دی ریکارڈ ہوئیں جو میں آپکو نہیں بتا سکتا .لیکن اگر ان دونوں ممالک کی صلح نہ ہوئی تو یہ دونوں ملک تاریخ کے اندھے کنویں میں گرے نہ گرے ہم ضرور گر جائیں گے.

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s