طالبان ،اور دہشت گردی پر آدھا تیتر آدھا بٹیر بنی ہماری قوم کب سیکھے گی ؟ رخشان میر

آپکا کمزور ہونا اتنا خطرناک نہیں جتنا کے آپکا کنفیوز ہونا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے . . میں کچھ مہینوں سے پاک افغان تعلقات کا مطالعہ کر رہا ہوں پر کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہو پا رہا. ہر کتاب ، ہر کالم ، ہر نیوز سٹوری اک الگ ہی منظر کشی کر رہی ہے . اگر ہم افغانستان کے اندرونی حالات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں تب بھی اک کھچڑی ہی پکی ہوئی نظر آتی ہے . آپ ٹویٹر پر افغان عوام کا جائزہ لینا چاہیں تو تب بھی سب سمجھ سے باہر ہے . کچھ حضرت طالبان کو مسلمان اور حکومت کو کافر جبکہ دوسری جانب حکومت نیک اور طالبان بد ہیں .
خیر ہمارے اپنے بہت سے مسائل ہیں ہم پہلے انھیں حل کر لیں پھر ہی ہمسایوں کے معاملے میں دخل اندازی کریں گے.
میں تو یہ جاننا چاہتا تھا کہ ہمیں کس کے حق میں جانا ہے طالبان کے یا پھر افغان حکومت اور فوج کے ؟ اسکے لئے میں نے بہت سے ڈاکٹرز ، سرکاری افسران ، پروفیسرز ، علما اور دیگر مذہبی حضرات سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا . یقین کیجئے کے اس موضوع کا جائزہ لینے کے بعد ہی مجھے حقیقی طور پر ملا اور مسٹر کے تضاد کا اندازہ ہوا . کاش کے کسی ایک بات پر ہی دونوں کی راے یکساں ہو جاتی پر نہیں ایک کا کوا کالا ہے اور دسرے دوسرے کا چٹا سفید. میں اگر کسی ٹائی کوٹ والے سے افغان طالبان کے بارے میں دریافت کرتا ہوں تو جواب ملتا ہے ہاں مجاہدین تھے کسی زمانے میں لیکن اب بہت سے مسائل کی وجہ ہیں، پاکستان میں امن ہو جائے اگر افغانستان میں ایک مضبوط جمہوری نظام کا نفاذ ہو جائے . اور یہی سوال جب کسی مذہبی آدمی سے کرتا ہوں تو وہ کہتے ہیں ارے یہ تم کیا بات کررھے ہو ؟ مجاہدین ہی تو ہمارےبھائی ہیں بلکہ بھائیوں سے بھی زیادہ عزیزہیں .
اب بھلا کوئی کیا نتیجہ اخذ کرے ؟ مانے تو کس کی مانے ؟ آدھے پاکستانی لال مسجد آپریشن کی حمایت کرتے ہیں تو آدھے سے زیادہ مشرّف کو گالیوں سے نوازتے ہیں . مجھ سے ایک اردو کالم نگار نے پوچھا ٹیررسٹ اور ملیٹنٹ میں کوئی فرق ہے ؟ میں نے کہا ہاں بہت فرق ہے ، ٹیررسٹ کا مطلب دہشت گرد ہے اور ملیٹنٹ کا لفظی معنی جنگ جو ہے . تو اس نے سوال کیا کے بھلا جب کوئی دہشتگردی کا واقعہ ہوتا ہے تو ہم ٹیررسٹ کی بجاے ملیٹنٹ کیوں لکھتے ہیں ؟ اس سے تو مطلب پورا نہیں ہوتا . میں نے اسے جواب دیا کیوں کہ ہمیں آج تک قاتل اور مقتول ، اچھائی اوربرائی ، نیکی اور گناہ میں فرق ہی نہیں پتا چل سکا . ہم اپنے دوست اور دشمن کو نہیں پہچانتے اس لئے صاف صاف ٹیررسٹ نہیں لکھتے ، کیا پتا وہ ٹیررسٹ نا ہی ہو . یا کسی اور کی اس فعل سے دل آزاری نہ ہو جائے . ہم تو نہ چاہتے ہوئے دہشتگردی کی نظر ہونے والے کو شہید اور جہاد میں جان دینے والے کو مقتول مانتے ہیں .
اس میں کوئی شک نہیں کے پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور اسکا مقصد اگر احسن طریقے سے اسلام کی انٹرپریٹشن نہیں تھا تو ہمیں یونائیٹڈ انڈیا میں کیا تکلیف پیش آتی تھی ؟
اتنی جانیں کیوں دی ، اتنا خون کیوں بہایا ؟ مسلہ تو مذہب ہی کا تھا نا ! پر اس کامن سینس سے چلتے رہنے والے معاملے میں بھی دیسی لبرلز اور بابو لوگ وکھری ٹانگ اڑاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں . اور اسی طرح دوسرے معاملات بھی مسائل کی شکل اختیار کر رہے ہیں جنہیں آج ٹھیک نہ کیا تو کل بہت بھیانک ہو سکتے ہیں . ہمیں اپنی آنے والی نسل کو کلیئر کٹ راستہ دکھانا ہوگا ورنہ وہ بھی ہماری طرح آدھے تیتر آدھے بٹیر بن کے رہ جائیں گے.


Rukhshan meer ,the article writer is a keen observer of recent history and social matters.Rukhshan

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s