خلافت ایک نظام یامذہبی استحصال کا ذریعہ ؟ ایک تجزیہ :ثاقب ملک

ایک تو وہ لوگ ہیں جو صدق دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت الله کا ایک نظام ہے اور اسکا نفاذ ہر مسلمان پر فرض ہے .دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو خلافت کے کانسپٹ سے متاثر ہیں یعنی کہ مسلمانوں کا ایک ہی خلیفہ یا مرکزی حکمران ہو اور مسلمان ایک ہی وحدت ہوں .تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو الله اور اسکے رسول کے نام پر اپنا سادہ لوحی ،لا علمی کی وجہ سے پہلی دونوں اقسام کے لوگوں کے ساتھی بنے رہتے ہیں . کچھ اقسام ان تین اقسام کی ملاپ سے بھی بنتی ہیں لیکن انکی تفصیل کی کوئی ضرورت نہیں ہے .
اب جو لوگ چاہے وہ پر امن جد وجہد کر رہے ہیں یا کسی مسلح گروہ کا حصہ ہیں.اور خلافت کو بطور نظام کہ نفاد چاہتے ہیں وہ کسی ایک بھی حوالے سے اسکو سسٹم یا نظام ثابت نہیں کر سکتے .نہ تو قرآن میں اور نہ ہی سنت میں کہیں بھی ہلکا سا شائبہ بھی نہیں ہے کہ مکمل یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام میں خلافت بطور نظام کے موجود ہی نہیں ہے .نبی کریم صلعم نے اپنی زندگی آخری خطبہ کہیں بھی کسی نظام کا ذکر نہیں کیا .اب پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں اور آے روز دیکھتے ہیں کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ خلافت کو جمہوریت سے کمپئر کر رہے ہوتے ہیں .ان انتہائی نچلے درجے کے سادہ ترین لوگوں سے بندہ پوچھے کہ بھائی جب خلافت کوئی نظام ہی نہیں تو اسکا جمہوریت سے بھلا کیا مقابلہ جو کہ ایک اصول تو ہے ہی مگر صدارتی طرز،پارلیمانی انداز اور متناسب نمائندگی پر مشتمل مختلف طریقہ ہائے انتخابات پر مشتمل ایک نظام ہے .
قرآن سے انسان کی خلافت کا تو پتہ چلتا ہے کہ الله نے چاہا کہ وہ زمین پر انسان کو خلیفہ بنا کر بھیجے جس پر فرشتوں نے ٹھیک وارننگ دی کہ یہ تو دنیا میں فساد کرے گا .لیکن اس سے سے کسی خلافت کے سیاسی نظام کا کوئی ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ملتا . ایک سوره نور کی آیت کا کچھ سکالرز حوالہ دیتے ہیں کہ الله کا وعدہ ہے کہ اگر تم ایمان لاؤ اور اچھے کام کرو تو الله تمہیں زمین پر خلافت دے گا .پہلی بات اس بھی کسی نظام کا کوئی واسطہ نہیں .نظام تو لفظ ہی جدید زمانے کا ہے .اگر خلافت پرانے زمانے کی لانی ہے تو لفظ کیوں جدید استمعال کرتے ہو ؟خیر اس آیت میں تو الله صاف کہ رہا ہے کہ ایمان لاؤ عمل کرو ،صابرین میں شامل ہو اور خلافت دینا میرا کام ہے .تو بھائی میرے لے آؤ ایمان جس طرح خدا کا حق ہے اچھے عمل کرو اور خلافت تو تمہیں الله دے ہی دے گا تو اگر آج خلافت نہیں ہے تو یہ کس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ مسلمان بحیثیت مجموعی مکمل طور پر ناکام ہیں .جب فلاپ ہیں تو پھر کس سے گلہ ؟ کامیاب ہو جاؤ تو الله دنیا کی حکمرانی بھی عطا کر دے گا .ویسے کتنی آسانی سے الله یہاں پر کہ سکتا تھا کہ میرا ایک سسٹم ہے خلافت وہ میں تمہیں دوں گا جب تم اس قابل ہو جاؤ گے لیکن نہیں الله تو اصول دیتا ہے بھلا اسے کیا ضرورت کہ کوئی  نظام دے ؟
اب اگر تو صاف ظاہر ہے کہ خلافت کوئی نظام نہیں پھر اسکو مسلمانوں کے عروج سے کیوں جوڑا جاتا ہے ؟اسکی وجہ یہی ہے کہ خلافت راشدہ کے بعد خلافت کے نام پر جب مسلمانوں میں ملوکیت اور موروثیت پر مبنی حکمران قابض تھے تو اس دور میں ہر کچھ عرصے بعد میں مسلمانوں میں نابغہ روزگار شخصیات پیدا ہوتی رہیں جنہوں نے مسلمانوں کو عروج پر رکھا .تفصیل کا یہ موقع نہیں .بہر حال اس عروج کامیابی اور ترقی کو لفظ خلافت سے کچھ ایسا جوڑا گیا ہے کہ جو اصول یعنی دیانت داری ،علم،حکمت،محنت،مستقل مزاجی،صبر،ادراک،شک،سوالات مسلمانوں کے اس شاندار عروج کا سبب بنے انکو تو لپیٹ کر کہیں پھینک دیا اور لگے لفظ خلافت کے نعرے لگانے .صرف یہی بات مسلمانوں کے حد درجہ شدید ترین فکری افلاس کے ثبوت کے لئے کافی ہے .اس پر باقاعدہ ماتم کی ضرورت ہے .اب لوگ بس خلافت کا نام سن کر اس سنہری دور کی واپسی کے سپنے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں الله کے کامیابی اور کامرانی کے قرآنک اصولوں کو بھول کر .
اب دیکھیں جس خلفائے راشدین کے دور کے بہترین نمونے کی بات کی جاتی ہے اس میں ان عظیم شخصیات کو کیوں نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو خود ذاتی طور پر کائنات کے معتدل ترین انسان کے شاگرد رہے ؟کیا ہم میں سے کوئی ہے اس قابل ہے یا ہو سکے گا ؟ممکن ہے ہو الله ہی جانے بہر حال اس بات کا امکان انتہائی کم ہے .تو پھر اس سراب میں ہم کیوں گم ہیں ؟اس بات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ نا قابل یقین دیانت اور اہلیت کا دور کسی نظام نہیں شخصیات اور پھر انکی عظیم اخلاقی حیثیت پر کھڑا تھا .آج ہمیں وہ اخلاقی بلندی درکار ہے .
ایک اور دلچسپ حقیقت کا مشاہدہ کریں کہ اکثر مذہبی رہنما چاہے انکا تعلق کسی مسلح تنظیم سے ہو یا کسی مذہبی سیاسی جماعت سے ،خلافت کی بات کرتے ہوے کہتے ہیں کہ مسلمانوںمیں سے چند بہترین نیک متقی لوگوں کو اقتدار ملنا چاہئے .اس بات کا فیصلہ کون کرے گا ؟تو جواب ملتا ہے کہ چند بہترین ،قابل اور صالح ترین علماء اس بات کا فیصلہ کریں گے اور جب یہ پوچھا جائے کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ کون سے علماء علم و فضل اور اخلاق میں بڑھ کر ہیں ؟تو جواب ملتا ہے جن کے اخلاق اور کردار اور علم کی عام لوگ گواہی دیں . تو حضور جمہوریت تو کھڑی ہی اسی اصول پر ہے تو اسکی مخالفت کیوں؟کیا آپ کو ہنسی نہیں آتی کہ جمہوریت کو دن رات گالی دینے والے اسی جمہوری اصول کو ہی اپنا کر وہی فیصلہ کرنا چاہ رہے ہیں اور لوگوں کو بیوقوف بنائے جا رہے ہیں ؟کیونکہ مسلمان دنیا بھر میں مظلوم ہیں اس لئے ؟انکے جذبات کا استحصال آسان ہے اس لئے ؟اور اکثریت مسلمانوں کی جاہل اور فکری طور پر نا بالغ ہیں.
بھائی صاحبان ،خلافت کوئی نظام نہیں تھا .اسلام کا خلافت وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے .وہ چار شخصیات تھیں جنکے استاد کریم دنیا و کائنات کے عظیم ترین انسان تھے ،ہیں اور ہمیشہ رہیں گے .اس بات کو نظام سے نہ جوڑیں . قرآن اور سننت میں کہیں بھی کسی سیاسی حکومتی نظام کا ذکر نہیں ملتا اور نہ ملے گا .کھینچ کھانچ کر لوگ اپنی مرضی کے مطلب نکال لیں مگر خدا خوب جانتا ہے انسانوں کو ، اورعلم رکھتا ہے کہ نظام وقتی چیز ہے کسی مستقل نظام کی کوئی تک نہیں بنتی .اگر کوئی نظام ہوتا تو ہر خلیفہ کسی ایک ہی ضابطے کے تحت منتخب ہوتا ،جو کہ نہیں ہوا .نظام والی دیگر بھی کوئی بات خلافت میں موجود نہیں .یہ ایک بھیانک فکری مغالطہ ہے .کوئی نظام کسی قوم کو کھڑا نہیں کر سکتا اصل میں ہمارا حال ان مسافروں کی طرح ہے جو صرف بس کا نام بدلنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بس کی ابتر حالت بھی خود بخود ہی سدھر جائے گی ..خلفائے راشدین کے بعد بھی ،سواے ایک آدھ ایکسپشن کے اکثر بد معاش ہی خلیفہ بنے تو کیا کر لیا اس نام نہاد پاک نظام نے ؟کوئی نظام کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا جب تک اسکو چلانے والے اہل اور ایماندار،نہیں ہوں گے .خلفائے راشدین کی اپنی شخصیات اخلاقی لیول پر اس سطح پر تھیں جنکا آج کوئی بڑے سے بڑا واقعی اور اصلی مومن بھی مقابلہ نہیں کر سکتا .اس لئے خلافت ایک سراب ہے .،ملوکیت،موروثیت ،مستقل ڈکیٹر شپ،اور جعلی جمہوریت کو چھوڑ کر کوئی سا بھی اچھا نظام ہو اور حکمران اخلاقی لیول پر بلند تر ہوں تب ہی کامیابی ممکن ہے.اسلام کا مقصد اچھااور بہترین انسان ہے ،جو عمدہ اور اخلاقی لحاظ سے مثبت معاشرے کی تخلیق کا سبب بنے گا .
یہ بات سمجھیں کہ جب مسلمانوں کی ریاست ہو گی تو انکے معاملات قرآن کی آیت کے مطابق انکے آپس میں مشورے کے مطابق حل ہوں گے . یہ مشورہ آج پاکستان میں عام انتخابات کی شکل میں بھی ظہور پذیر ہوسکتا ہے گو کہ ہماری نام نہاد جمہوریت بھی جعلی اور فراڈیے ہے ..اب اگر اس مشورے کو آپ قبائلی سطح تک محدود سمجھتے ہیں تو وہ اس دور کے عربی قبائلی معاشرے کی تمدنی ضرورت تھی . آج پاکستان کے قبائلی علاقوں کی بھی شاید ضرورت ہو .بلوچستان میں سارے سردار ، سندھ اور جنوبی پنجاب میں وڈیرے ہی کیوں بار بار آ جاتے ہیں ؟؟اسی وجہ سے کہ معاشرہ ہی اسی طرز پر تشکیل رکھتا ہے .اسی لئے خلافت راشدہ میں چاروں خلفاء کا کبھی چند بڑے سرداروں نے مل کر فیصلہ کیا تو کبھی چند قریبی ساتھیوں نے تو کبھی تھوڑا سا عام انتخاب والی ہلکی سی صورت حال بھی نظر آتی ہے .یعنی کوئی ایک مستقل نظام نہیں تھا .اب اگر نبی کریم صلعم نے فرمایا کہ میرے بعد قریش ہی حکمران ہوں گے تو وہ کسی موریثیت کی طرف اشارہ نہیں تھا بلکہ سیدھی سی بات ہے کہ اس زمانے کا معاشرہ بنو قریش کو بطور حکمران پسند کرتا تھا .
اصل میں ہم لوگ اپنی نا اہلیوں اور کوتاہیوں پر نگاہ کرنے کو تیار نہیں ہیں اور پورا فوکس کسی غیر مرئی غیر حقیقی چیز کے نفاد پر لگا رہے ہیں .سیدھی سے بات ہے کہ اگر مسلمانوں کا معاشرہ ہے تو الله کو تو مانتا ہی ہے ،حکمرانی تو خدا ہی کی ہے تو پھر الله کے قوانین کا بھی نفاد قدرتی طور پر ہو جانا چاہئے اگر نہیں ہوتا تو یہ معاشرے کی اجتماعی ناکامی ہے اسکا کسی سسٹم سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے .یوں بھی شریعت کو لے بھی آئیں جب تک لوگوں کی تربیت اور اخلاقی تربیت عمدہ معیار پر نہیں ہو گی کوئی شریعت کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی .ہماری نیت ہے ہی نہیں ہم اصل دین اسلام کے اپنے اوپر نفاذ خوفزدہ ہیں .
اب کچھ دیگر لوگوں کا مسلہ یہ ہے کہ وہ اسلام کو سیاست میں غیر ضروری طور پر گھسیٹ رہے ہیں .مسلمانوں کی ہر نا کامی کو ان میں خلافت نہ ہونے اور امت مسلمہ کی تقسیم کو وجہ گردانتے ہیں .ہر زمانے کا اپنے انداز اپنا طرز اپنی نمود ہوتی ہے .اگر آج نیشن سٹیٹ کا دور ہے تو برداشت کر لیں کوئی قیامت نہیں آ جائے گی .کیا ترکی نیشن سٹیٹ نہیں پھر کوئی اسکو ترقی اور کامیابی سے روک سکا ہے ؟کیا سعودی عرب میں امن اور خوش حالی ہے تو کیا نیشن سٹیٹ اور خلافت کی عدم موجودگی نے انکو تباہ کر دیا یا پہلے سے بہتر کر دیا ؟اس طرح اور بھی مثالیں ہیں .بات وہی ہے کہ جب خلافت نظام ہی نہیں تو آپ کیوں اپنی توانیاں اس پر لگائے جا رہے ہیں ؟آپ اپنی ترقی اپنی فلاح پر توجہ دیں اور پھر اپنی مرضی کا نظام دنیا میں لاگو کر دیں .
جو بھی جنونی خلافت کے نام پر اور جہاد کے نام پر بے گناہ لوگوں کی جان لے رہا ہے اور بے مسلمانوں کی قیمتی جانوں کو فضول میں ویسٹ کروا رہا ہے وہ فسادی ہے .فتنہ ہے .ظالم ہے .دہشت گرد ہے جہاد ان جیسے لوگوں کے خلاف ہونا چاہئے .تحریک طالبان،القاعدہ، ،د ا ع ش ،اور اس طرز کی دیگر تنظیمیں فتنہ ہے مسلمانوں کے لئے تباہی اور ذلت کا سبب ہیں.

 

Advertisements

One thought on “خلافت ایک نظام یامذہبی استحصال کا ذریعہ ؟ ایک تجزیہ :ثاقب ملک

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s