جنوری 17سے 24 تک ،ہفتے کی ٹاپ ٹین آرچر آئی اردو پوسٹس کی تازہ رینکنگ جاری،ہفتے کی بہترین پوسٹ اور نمبر ایک مصنف کون ہیں ؟

پچھلے دو ہفتوں کی طرح اس بار بھی ہم ہفتے کی دس بہترین اردو پوسٹس کے ساتھ حاضر ہیں .اس بار بھی بلا مبالغہ ہزاروں اردو پوسٹس کو پڑھا گیا ہے .یہ بات یاد رکھی جائے کہ عین ممکن ہے کہ ان دس پوسٹس سے بھی اچھی پوسٹس موجود  ہوںمگر ہماری نظروں سے اوجھل ہوں.اس لئے یہ بات اہم ہے کہ نئے نئے اور اچھے لکھاریوں تک اس رینکنگ کا پہنچانا بہت اہمیت کاحامل ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پوسٹس کو دیکھا اور پڑھا جا سکے .حسب دستور ان پوسٹس کو پانچ بنیادی فیکٹرز ،انداز تحریر،موضوع ،استدلال،پیکج،اور معنویت پر پرکھا گیا ہے .ہر فیکٹر کے بیس پوائنٹس ہیں .غلطی کا امکان بہر حال موجود ہے اس لئے آپکی تجاویز جو اس رینکنگ کی جانچی میں بہتری لا سکیں انکو خوش آمدید کہا جائے گا .ہفتے بھر کی اچھی تحریروں کا ایک جگہ اکٹھا ہو جانا ایک سہولت ہے جس سے فیس بک پر متحرک پڑھنے والوں کو ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے .اس ہفتے پانچ نئے لکھاری اس رینکنگ میں پہلی بار شامل ہو رہے ہیں .اس ہفتے کی دس بہترین پوسٹس اور انکے رائٹرز کے نتائج کچھ یوں ہیں
10.مظہر چودھریmazhar ch
پوسٹ :“تعلیمی اداروں میں دہشت گرد حملوں کے حوالے سے پاکستان دنیا میں پہلے نمبر پر
پولیو کیسز کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں پہلے نمبر پر
مردہ بچوں کی پیدائش کے حوالے سے پاکستان دنیا میں پہلے نمبر پر
غذائی قلت کے حوالے سے پاکستان دنیا کے پہلے دس بدترین ممالک میں
ناخواندگی کے حوالے سے پاکستان دنیا کے 9 بدترین ممالک میں شامل
صنفی تفریق کے حوالے سے ہمارا شمار آخری نمبروں میں ہوتا ہے
دہشت گردی تو چلو تین دہائیوں قبل کی ریاستی پالیسز کا نتیجہ ہے باقی معاملات میں دنیا بھر میں ہم پیچھے کیوں ہیں؟
میرے خیال میں اس کی وجہ ہمارے سیاسی و فوجی حکمرانوں کی نااہلی، کرپشن, اقربا پروری اور مک مکا ہے. آپ کیا کہتے ہیں.”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/mazhar.ch007/posts/943291882391621
تبصرہ :کالم نگار اور منجھے ہوئے تجزیہ نگار مظہر چودھری نے اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرتے ہوئے ،خوش گمانیوں میں مبتلا پاکستانیوں کو انکا بھیانک چہرہ دکھایا ہے .ہمیں اپنی اداؤں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے .مظہر کی اس رینکنگ میں یہ پہلی انٹری ہے .انہوں نے انداز تحریر میں سولہ پوائنٹس،موضوع اور پیکج میں پندرہ پندرہ جبکہ معنویت اور استدلال میں اٹھارہ اٹھارہ پوائنٹس لئے ہیں .انہوں نے دسواں نمبر لیا ہے .
ٹوٹل پوائنٹس:100/81


9.صفتین خانSiftain khan
پوسٹ :انسانیت کا المیہ
“کسی کے پاس دل ھے تو عقل نہیں ۔ کہیں عقل ھے تو احساس نہیں ۔ علم ھے تو توازن نہیں ۔ تقوی ھے تو ظاہری حسن نہیں ۔ محبت ھے تو اعتدال نہیں ۔ عقیدت ھے تو توحید نہیں ۔ فلسفہ ھے تو الہام نہیں ۔ قرآن ھے تو نظم نہیں ۔ فقہ ھے تو حدیث نہیں ۔حدیث ھے تو فہم نہیں ۔ علم کلام ھے تو روحانیت نہیں ۔ تصوف ھے تو احسان نہیں ۔ سائنس ھے تو حکمت نہیں ۔ دین ھے تو دنیا نہیں ۔ دنیا ھے تو اخلاص نہیں ۔ دوستی ھے تو چارہ گری نہیں ۔ دشمنی ھے تو رحم نہیں ۔ نفرت ھے تو حد نہیں ۔ مال ھے تو سخاوت نہیں ۔ زہد ھے تو تفریح نہیں ۔ مذھب ھے تو برداشت نہیں ۔ لبرل ھے تو وسعت نہیں ۔ سیاست ھے تو خدمت نہیں ۔ بناوٹ ھے تو مروت نہیں ۔ سادگی ھے تو سچائی نہیں ۔ محنت ھے تو دیانت نہیں ۔ جدت ھے تو روایت نہیں ۔ روایت ھے تو جدیدیت نہیں ۔
معنی نہیں منیر کسی کام میں یہاں
طاعت کریں تو کیا ھے بغاوت کریں تو کیا”
پوسٹ لنک :

 https://www.facebook.com/siftain.khan.3/posts/976147552460557
تبصرہ :نوجوان اور خوش رو قلمکار صفتین خان نے کمال خوب صورتی سے انسانیت کا المیہ بیان کیا ہے .تبصرے سے زیادہ یہ الفاظ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں .صفتین نے انداز تحریر اور استدلال میں سولہ سولہ ،معنویت میں اٹھارہ ،ٹاپک میں سترہ جبکہ پیکج میں پندرہ پوائنٹس لئے ہیں .انکی بھی اس رینکنگ میں پہلی بار آمد ہوئی ہے .یہ نویں نمبر پر ہیں .

ٹوٹل پوائنٹس:100/82


 

8.محمد اشفاقM.Ishfaq
پوسٹ :”اپنے پڑھنے والوں کو خود سے زیادہ ذہین, باخبر اور باشعور سمجھئے, تبھی آپ کی تحریر میں ان کیلئے کشش ہوگی- تبھی ان کے سوالات آپ کو بچگانہ یا احمقانہ نہیں لگیں گے- تبھی آپ کو ان سے کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا اور تبھی آپ کے اپنے خیالات و نظریات میں وسعت پیدا ہوگی- اپنی ذہنی سطح ماورا کرتے کرتے لوگ اکثر نفسیاتی معالجوں کے پاس پہنچ جاتے ہیں- مطالعہ بہت ضروری ہے مگر ایسے مطالعہ سے, جس سے آپ خود کو دوسروں سے بہتر یا برتر سمجھنے لگیں بہتر ہے کہ آپ سونو ککڑ کی آواز میں تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے سنئے اور سر دھنئے-”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/muhammad.ishfaq.33/posts/10208495941904904
تبصرہ :سادہ مگر پر اثر انداز میں لکھنے والے اشفاق نے علم اور طلب علم کو خوب ایکسپلین کیا ہے .علمی سوچ ایسی ہی ہونی چاہئے .انکی بھی اس رینکنگ میں پہلی بار آمد ہوئی ہے .اشفاق نے انداز تحریر، موضوع اور پیکج میں سولہ سولہ جبکہ معنویت میں سترہ اور استدلال میں اٹھارہ پوائنٹس لئے ہیں .یہ آٹھویں نمبر پر ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس:100/83


 

7.نسیم کوثرNaseem Kausar
پوسٹ :”مذہبی تشدد تب جنم لیتا ہے جب آدمی خدا سے محبت رکھنے کے لیے انسان سے عداوت رکھے. جو بھی فلسفہ انسان سے نفرت سیکھائے وہ قابل سوال ہے.. یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ مذاہب دنیا سے بے زاری سیکھاتے ہیں لیکن اسی دنیا پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کو اپنا نصب العین بھی قرار دیتے ہیں. تضادات پر مبنی اس نظریاتی گورکھ دھندے سے مکروہ نفسیات جنم لیتی ہے.. جسکا مظاہرہ اس وقت زوروں پر ہے..
میں پوچھتی ہوں کہ اگر خدا( اگر کوئی ہے )کو دنیا پر اپنا نظام حاوی کرنا مقصود ہے تو اسے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اتنے با علم، سلجھے ہوئے، علم و دانش کے پیامبر، تہذیب یافتہ، تلوار کے منکر اور قلم کے معترف لوگوں کو چھوڑ کر انسانیت دشمن، علم دشمن اور بربریت سے لبریز ان وحشیوں کو آلہ کار بنائے؟ یقیناً خدا کا معیار اتنا کم نہیں ہو گا .. پس یہ گروہ خدا کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنی وحشیانہ خواہشات کو دنیا پہ مسلط کرنا چاہتے ہیں.. ہر عقل مند زی روح کو یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے..”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/naseem.meemi/posts/1045025182216212
تبصرہ :ممکن ہے آپ ان سوالوں پر اعتراض کریں یا اس استدلال کو مسترد کر دیں مگر ایسے چبھتے ہوئے سوال اٹھانا ہی ایک لکھاری کا کام ہونا چاہئے .اس حوالے سے نسیم کوثر ،بے انتہا جرات کا مظاہرہ کرتی ہیں .مذہب ،خدا اور انسانیت کے پیروکاروں کو اس پر سوچنا بھی چاہئے اور سمجھنا بھی .نسیم کوثر ،پچھلی دونوں بار بھی ٹاپ ٹین رینکنگ میں شامل تھیں اس لئے یہ انکی تیسری مسلسل انٹری ہے .انہوں موضوع اور پیکج میں سولہ ،معنویت میں اٹھارہ ،جبکہ انداز تحریر اور استدلال میں سترہ سترہ پوائنٹس لئے ہیں .یہ ساتویں نمبر پر ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس:100/84


 

6.صدف زبیریsadaf zuabiri
پوسٹ :“جھوٹے لوگ سچے جذبے جگا دیں تو لوگوں کو جانے دیں جذبوں کو روک لیں ”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/sadaf.zubairi/posts/989704167769728
تبصرہ :اختصار میں طویل کہانی بیان کرنا ایک انتہائی مشکل کام ہے لیکن صدف زبیری اس میں کافی رواں ہیں .انکی پوسٹ ذہن کے دریچے کھولتی ہے .یہ انکی مسلسل تیسری انٹری ہے .انہوں نے انداز تحریر،معنویت اور استدلال میں اٹھارہ اٹھارہ جبکہ موضوع میں پندرہ اور پیکج میں سولہ پوائنٹس لئے ہیں .یہ چھٹے نمبر پر ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس:100/85


 

5.حنیف سماناhanif samana
پوسٹ :“شعوری زندگی” یقین اور گمان کے درمیان سفر کا نام ہے….. یقین غالب آجائے تو رہبر…… اور گمان کا غلبہ ہوجائے تو گمراہ ”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/hanifsamanaa/posts/914929181917846
تبصرہ :حنیف سمانا فیس بک پر کافی مقبولیت رکھتے ہیں .یہ مختصر سا جملہ اپنے اندر بہت کچھ سموے ہوئے ہے .سمانا کی ٹاپ ٹین رینکنگ میں یہ پہلی انٹری ہے .انہوں نے معنویت اور استدلال میں انیس انیس ،انداز تحریر میں سترہ ،پیکج میں پندرہ جبکہ موضوع میں سولہ پوائنٹس لئے ہیں .یہ پانچویں نمپر پر ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس:100/86


 

4.سعید ابراہیمsaeed ibrahim
پوسٹ :”ہم اکیلے ہونے کے خوف سے سچ نہیں بولتے جبکہ یہ سچ ہی ھے جو ہمیں حقیقی دوستوں سے ملواتا ھے”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/das3383/posts/10208588871625113
تبصرہ :سعید ابراہیم ایک آرٹسٹ ہیں .لیکن یہ صرف چہروں اور مناظر کے نہیں بلکہ خوب صورت الفاظ کے بھی آرٹسٹ ہیں .اس پوسٹ میں انہوں سچ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے جو ہمارے خوابیدہ معاشرے کیلئے بہت ضروری ہے .سعید ابراہیم کی یہ مسلسل دوسری بار اس رینکنگ میں آمد ہے .انہوں نے استدلال اور موضوع میں اٹھارہ اٹھارہ ،انداز تحریر میں سترہ ،معنویت میں انیس جبکہ پیکج میں پندرہ پوائنٹس لئے ہیں .یہ چوتھے نمبر پر ہیں .

ٹوٹل پوائنٹس:100/87


 

3.ڈاکٹر عاصم الله بخش اور حوریہ ذیشان
حوریہ کی پوسٹ :تحفہ چاہے سو روپے کا ہو یا ہزار کا، دینے والے کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اسے کسی اچھے سے گفٹ پیپر سے پیک کرکے ، رِبن یاپھول وغیرہ لگا کر خوش نما بنا کردے تاکہ لینے والے کو اچھا لگے۔hooria zeeshan
بالکل اسی طرح اللہ نے انسان کو سب سے بہترین پیدا کیا اور اللہ پاک انسان سے بھی اچھے اعمال کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن افسوس کہ ہم اپنے اعمال کو اللہ کے حضور پیش کرتے وقت انہیں خوش نما اور بہترین بنانے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم عبادت اس طرح کرتے ہیں جیسے کسی کی سر پر کوئی بوجھ ہو اور وہ اسے جلدی جلدی اتار پھینکے، ہمارا انداز خانہ پری اور جان چھڑانے والا ہوتا ہے۔ آج ہر بندہ اپنی دنیاوی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتا ہے، سو روپے کمانے والا چاہتا ہے کہ وہ اگلے دن دوسو کمائے، ایک دکان والا چاہتا ہے کہ جلد از جلد اس کی دو دکانیں ہوجائیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم نماز اسی طرح ہی پڑھتے ہیں جس طرح برسوں سے پڑھتے آرہے ہیں کبھی نہیں سوچا کہ ہماری نماز کل کی نسبت آج کچھ بہتر ہو، ہماری عباد ت اور نیکی میں مزید ترقی ہو۔ہمارا اللہ سے تعلق اور زیادہ مضبوط ہو۔کبھی نہیں سوچا کہ جس رب نے ہمیں بے شمار نعمتیں عطا کی اس کے لیے کیا ہوا کوئی عمل ہم اسی طرح سجا سنوار کر پیش کریں جس طرح ہم اپنی کسی عزیز ہستی یا دوست کو کوئی تحفہ دیتے ہیں۔یاد رکھیئے اللہ کے ہاں اعمال کی گنتی نہیں وزن ہوگا، اور وہ عمل وزنی ہوگا جسے احسن طریقے سے کیا گیا۔ اللہ ہمیں اپنی سچی محبت نصیب فرما دے تاکہ ہم اسکے لیے کرنے والے عمل کو بہتر سے بہتر بنا کر پیش کرنے کی کوشش کریں ۔ کبھی سوچیئے گا کہ ہم اللہ سے ہر چیز بہترین مانگتے ہیں لیکن اللہ کو جو دے رہے ہیں اس کی حالت کیا ہے.”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/horiyaz/posts/890712764376303
تبصرہ :حوریہ ذیشان نے ،ہمارے انداز عبادات اور انکی بے وقعتی کا بہت عمدہ اور صائب نقشہ کھنچا ہے .حوریہ کی یہ مسلسل دوسری بار ٹاپ ٹین رینکنگ میں آمد ہے .انہوں نے معنویت میں انیس ،موضوع اور استدلال میں اٹھارہ اٹھارہ ،انداز تحریر میں سترہ جبکہ پیکج میں سولہ پوائنٹس لئے ہیں .یہ مشترکہ طور پر ڈاکٹر عاصم الله بخش کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس:100/88


 

ڈاکٹر عاصم کی پوسٹ :”1۔ ہمارے ہاں دہشت گردی میں بھارت، اسرائیل و دیگر ملوث ہیں۔ سو فیصد درست بات ہے۔ لیکن بار بار اس بات کو دہرانا ایک معذرت خواہانہ رویہ اور درحقیقت ان کو “کریڈٹ” دینے کے سوا بھی کچھ ہے ؟؟؟Asim allah bakhsh
2۔ حملہ آور افغانستان سے ہی آتے ہیں اور وہیں سے ان کو ہدایات بھی دی جاتی ہیں ۔۔۔۔ یہ بات بھی بالکل درست ہے ۔
لیکن ہر حملے کے بعد اس بیان کو جاری کرنے سے کیا مقاصد حاصل ہوتے ہیں ؟ کیا نقصان کی تکلیف اور شدت پر کوئی اثر پڑتا ہے ؟ یا پھر ہماری ناکامی کا کچھ مداوا ہوسکتا ہے اس طرح ؟
3۔ سیکورٹی فورسز نے بروقت پہنچ کر کاروائی کی ورنہ بہت زیادہ نقصان ہوتا۔ یہ بات اس بچے کو سمجھانے کی کوشش کر دیکھیں جس کا باپ کل مر گیا۔ اس بچے کا ایک ہی باپ تھا ۔۔۔۔ وہ 20 یا 21 کی تعداد کا ایک ہندسہ نہیں تھا، وہ اس بچے کی کل کائنات تھا۔ اس بچے کی تمام عمر اب اس کے سایہ شفقت کے بغیر گزرے گی۔ وہ اس کی پرورش میں معاون نہیں ہو سکے گا۔ وہ اس کی خوشی میں اس سے بھی زیادہ خوش ہونے کے لئے اس کے پاس نہیں ہوگا، اور نہ اس کی مشکل میں اس کے سامنے ایک مضبوط آڑ بن جانے کے لئے ہر گھڑی تیار ملے گا۔ اب اسے زندگی کی کڑی دھوپ ننگے سر برداشت کرنا ہوگی۔
اب ان والدین کو بھی اس سے تسلی دینے کی کوشش کر دیکھیں جو اپنے سب خواب، تمام ارمان، اپنی بقایا زندگی کی تمام مسکراہٹیں اور سب خوشیاں کل اپنے جگر گوشہ کے کفن کی کسی سلوٹ میں چھپا کر منوں مٹی تلے دبا آئے ہیں۔
بات صرف اتنی ہے کہ کوشش بڑھانا ہو گی ۔۔۔۔
یاد رہے، وقت صرف تب تک ہے جب تک دہشت گرد کی بندوق سے پہلی گولی نہیں چلتی۔ گولی چل گئی تو وہ کامیاب اور ہم ناکام۔ اس کے بعد ہندسہ کیا رہتا ہے اس کی کچھ بھی اہمیت نہیں۔ آج ایک لاش گرے گی تو کل 20 بھی گریں گی۔ پرسوں 10 ہوں گی تو اس سے اگلے روز 50۔ پھر تو ہندسوں کا کھیل ہے، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
اس لئے پورا فوکس صرف اور صرف ایک بات پر رہنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔ واقعات کو روکنا کیسے ہے۔ بس !
ا۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا اہم ہے کہ ہماری جنگ لاقانونیت سے ہے، چاہے اس کا جو بھی رنگ ہو، قسم ہو۔ دہشت گردی کے لفظ نے اسے محدود بھی کر دیا ہے اور کہیں نہ کہیں وہ اس مہم کی کامیابی کا باعث بھی بن رہا ہے۔
ب۔ لاقانونیت کو روکنا ایک مسلسل عمل ہے جو محض کسی ایک آپریشن سے ممکن نہیں۔ یہ ایک جاری معاملہ ہے اور اس کے لئے سول اداروں کی مضبوطی، مستعدی اور ان کی استعدادِ کار میں حقیقی اور ٹھوس اضافہ ایک لازمی تقاضا ہے۔
عین غین ناموں والی نئی “فورسز” کی تشکیل اگر خود کشی نہیں تو کم از کم بھی ایک خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ پولیس ہی وہ واحد فورس ہے جسے اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ یہ فرض انجام دے سکے۔ پولیس کا نیٹ ورک بہت وسیع ہوتا ہے اور اس کی جڑیں معاشرے کی مختلف پرتوں تک کافی گہرائی میں ہوتی ہیں اور معاشرے میں قانون کی عملداری اس کا فرض اول۔
ہمارے ہاں یہ خام خیالی پائی جاتی ہے کہ ہماری پولیس اہل نہیں۔ یہ بات کافی حد تک غلط ہے۔ آپ ان کی تعیناتی اور کارکردگی کو پررفارمنس سے مشروط کر دیجیے اور مواصلات، آمد و رفت، ہتھیار وغیرہ میں بہتر کر دیں یہ بہترین نتائج دیں گے۔ ان نمائیشی فورسز سے تو بہت ہی زیادہ جن کا شوق ان دنوں بعض حکومتی حلقوں میں عیاں ہیں۔ جتنی اچھی جغرافیائی اور افرادی “میپنگ” پولیس کر سکتی ہے کوئی اور نہیں کر سکتا۔
ج۔ عوام کو یہ ترغیب دیں اور انہیں آمادہ کریں کہ اپنے ارد گرد ہونے والی کسی بھی غیر معمولی بات کو بلا جھجھک رپورٹ کر سکیں۔ یہ اس جنگ کا اہم ترین حصہ ہے اور ہمارے ہاں بدقسمتی سے سب سے کم توجہ ہی اس پر ہے۔
کہا ں ہے نیکٹا اور اس کی وہ ہیلپ لائین جس کا آج سے چھ ماہ پہلا چرچا سنا تھا ؟ اور اس کا نمبر کسی کو یاد بھی ہے کہ نہیں ؟ یہ نمبر تو عوام کو اس طرح ازبر کرا دینا چاہیے کہ اپنی تاریخ پیدائش بھول جائیں لیکن یہ نمبر نہ بھولیں۔ اسی طرح، کسی اطلاع پر کام کرنے کے لئے بھی پولیس، سول آرمڈ فورسز اور فوج کا مربوط “طریقہ کار” بھی وضع کیا جائے۔
ٹارگٹ یہ ہے کہ دہشت گرد نہ ملک میں داخل ہو سکے، نہ سفر کر سکے، نہ رات کو کہیں قیام و طعام کی سہولت اسے میسر آئے، نہ اسے کوئی خود کش جیکٹ فراہم کرنے والا ملے اور نہ ہی ہدف تک چھوڑ کر آنے والا۔ یہ تمام وہ مقامات ہیں جہاں اسے پکڑ لیا تو سمجھیں کامیاب ہو گئے۔ جب اس نے گولی چلا لی یا اپنی جیکٹ پھاڑ لی تو یہ معرکہ اس کے نام ہو گیا۔
جنگی مشقوں کے دوران ایک کپتان سے افسر نے پوچھا کہ سامنے دشمن اگر بندوق تانے کھڑا ہو اور تمھارے ہاتھ میں بھی بندوق ہے تو تم کیا کرو گے ۔۔۔۔۔ کپتان ایک لمحہ کو رکا اور پھر بولا میں اس پر فائر کھول دوں گا ۔۔ تمھیں دیر ہوگئی ، اس کے افسر نے زمین پر دائرہ لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ تمہارا دشمن تم پر فائر کر کے واپس جا چکا اور تم اب بس یہ ہو ۔۔۔۔۔ افسر نے زمین پر کھینچے ہوئے دائرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
ہمیں بھی بہانوں اور بیانوں پر مشتمل دائروں کا سفر ترک کرنا ہو گا ورنہ اس قوم کا ممکنہ شاندار مستقبل زمین پر کھینچے ہوئے دائرے میں بدلتا رہے گا۔”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/asim.allahbakhsh/posts/953031168066897
تبصرہ : ایک سلگتے ہوئے موضوع پر تنبیہ اور عمدہ تجاویزسے مزین یہ عمدہ تحریر پڑھنے لائق ہے .ڈاکٹر عاصم الله بخش کی اس رینکنگ میں مسلسل تیسری آمد ہے .یہ پچھلی بار نمبر ایک پر رہے تھے .انہوں نے انداز تحریر اور معنویت میں اٹھارہ اٹھارہ ،استدلال میں انیس،پیکج میں سترہ اور موضوع میں سولہ پوائنٹس لئے ہیں .یہ بھی مشترکہ طور پر تیسرے نمبر پر ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس:100/88


 

2.انعام رانا
پوسٹ :کبھی کبھی اللہ پاک پر بھی چھوڑ دیں۔inam rana
میں کبھی بھی ایک اچھا مسلمان نہیں رہا۔ ہاں مگر اپنے اللہ پر میرا اعتماد اتنا ہی ہے جتنا بچے کو اپنی ماں پر ہوتا ہے۔ لندن میں تعلیم حاصل کرتے ہوے میں نے سیلز کی ایک جاب شروع کی جس میں بہت پیسے کماتا تھا۔ جب وکالت کا ارادہ کیا تو بہت سے لوگوں نے روکا کہ بھائی لگی لگائی روزی کو لات نہ مار۔ وکالت ہوائی کمائی ہے اور ہم اس ملک میں اجنبی۔ ایکدم جاب چھوڑ کر فل ٹائم وکالت کا رسک نہ لے۔ نہ چلی تو کیا کرے گا۔ میں خود بھی متذبذب تھا۔
اتفاقاً دو کیس مل گئے جن سے ایک ماہ کا خرچہ مل گیا۔ سڑک پر جاتے مسجد دیکھ کر یاد آیا کہ آج تو جمعہ ہے۔ چلو مسکا ماریں۔ اللہ میاں کو پوری نماز میں ایموشنل ڈائلاگ مارے اور پھر ہاتھ اٹھا کر کہا میں تو چھلانگ مارنے لگا ہوں، آگے آپکی مرضی۔ استعفی دیا اور فل ٹائم وکالت شروع کر دی۔ الحمدللّٰہ اللہ پاک نے میری لاج رکھی۔
کبھی کبھی اس پر بھی چھوڑ دینی چاہیے۔”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/RAJPUT9/posts/10153907140486667
تبصرہ : اپنی زندگی کے سچے واقعے پر مشتمل اس پر اثر تحریر میں بہت سے سبق پوشیدہ ہیں .یہ انکی اس رینکنگ میں پہلی انٹری ہے .انہوں نے موضوع اور انداز تحریر میں اٹھارہ اٹھارہ ،معنویت میں انیس ،جبکہ استدلال اور پیکج میں سترہ سترہ پوائنٹس لئے ہیں .یہ دوسرے نمبر پر براجمان ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس:100/89


 

1.عمار مسعودAmmar masood
پوسٹ :”اس ملک میں علم اور ظلم کے درمیان مدت سے جنگ جاری ہے”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/ammar.masood.31/posts/932215750166182
تبصرہ :چارسدہ واقعے کے پس مناظر میں مختصر ترین الفاظ میں ،ہماری جاری دہشت گردی سے جنگ کی وضاحت کرتی یہ پوسٹ ،بے پناہ معنویت رکھتی ہے .عمار مسعود کی بھی یہ لگاتار تیسری انٹری ہے .انہوں نے استدلال اور معنویت میں انیس انیس ،انداز تحریر میں اٹھارہ ،جبکہ ٹاپک اور پیکج میں سترہ سترہ پوائنٹس لئے ہیں .یہ اس بار کی آرچر آئی ٹاپ ٹین اردو پوسٹس آف دا ویک کی رینکنگ میں نمبر ایک پر ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس:100/90

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s