عمران خان کی شخصیت کا تجزیہ :ثاقب ملک

پہلے بھی یہی کہا تھا اور اب بھی یہی کہوں گا کہ اس قسم کی تحاریر کا مقصد یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے انسان کا عقیدت مند نہ بنے ،کوئی بت نہ بناے .انسان کے اچھے اور برے دونوں پہلو اپنے سامنے رکھے اور ان سمیت انھیں قبول کرے .نہ پیغمبر کے لیول پر پہنچا دے نہ شیطان تصور کرے .
خان صاحب کی شخصیت کی کئی پرتیں ہیں ..عمران کے اندر ایک معصوم ،شرمیلا ، نرم ،شرارتی سا رخ بھی ہے .عمران کا یہ رخ اسکی بڑھتی عمر کے ساتھ اور سیاست کی تلخیوں کے سبب رخصت ہوتا جا رہا ہے .شاید اپنے بچوں کے ساتھ ہی عمران کا یہ رخ اب نظر آتا ہو گا .
عمران کے اندر ایک جاہل،ضدی ،انا پرست،لوگوں کے جذبات سے بے پرواہ ،مغرور شخص بھی موجود ہے .یہ’ اندرونی’ عمران پچھلے کچھ عرصے سے زیادہ نمایاں ہو رہا ہے .جوں جوں عمران اپنی توقعات کے مطابق نتائج نہیں پا رہا توں توں اسکی ضد ،اسکا اکھڑ پن،انا پرستی اور اپنے قریبی ہمدرد لوگوں کے جذبات کی پرواہ نہ کرنی کی روش ترقی پذیر ہے.بقول انضمام الحق” یہ جونسا جو ہے ناں یہ آلہ عمران بھائی جو ہے اب جونسا اسکو نہ اب کنٹرول کرنا ہو گا ”
ایک سادہ سا ،پکا سا ،مہذب الله پر قوی ایمان والا انسان بھی عمران میں موجود ہے .یہ انسان عمران کے اندر اسکی والدہ کی وفات کے بعد جاگا تھا .ایک عرصہ عمران کی زندگی میں اس پہلو کا رخ روشن رہا .اپنے مرشد میاں بشیر سے لے کر لیٹیسٹ تعلق کار پروفیسر احمد رفیق اختر تک عمران نے ،الله کی جستجو جاری رکھی . گو کہ یہ رخ اب بھی بظاھر مضبوط ہی ہے مگر لگتا کچھ یوں ہے کہ اب یہ والا پہلوحقیقت میں کچھ روبہ زوال ہے .اب عمران کا تکمیل دین شاید ہو چکا ہے .شاید اسے کچھ مزید نہیں سیکھنا ؟یا وہ سیکھنا ہی نہیں چاہتا ؟یا اسکی طلب کے لائق کوئی استاد اسے مل نہیں پا رہا ؟جو بھی سبب ہو عمران کا یہ روشن ترین پہلو اب تاریکی میں ہے .

جنگجو،محنتی،مستقل مزاج،طاقتور، صحت مند،ڈسپلنڈ عمران خان جوانی سے لے کر اب تک عمران کی شخصیت کا یہ رخ اسکے ساتھ ساتھ ہے . یہی رخ تھا جس نے کرکٹر بنوایا تھا ،عمران نے اپنے اس پہلو کو اپنی پوری زندگی ہمیشہ مضبوط رکھا ہے .کھیل سے لے کر طویل کنوارے پن اور پھر شادی اور پھر سیاست ان تمام اتار چڑھاؤ والے مرحلوں میں عمران کا یہ رخ غالب رہا .دوسروں کی تنقید سہنے والا ،انکی پرواہ نہ کرنے والا ،تنقید کی مثبت باتوں کو ماننے والا عمران جو سیاست میں آمد کے وقت عمران کی شخصیت کا مضبوط حصہ تھا اب بیس سال کے بعد بوسیدگی کا شکار لگتا ہے .بے جا تنقید اور “پیڈ تنقید” بلکہ افواہ پر مبنی تنقید نے کچھ عمران کو متاثر کیا تو کچھ اپنے فیصلوں پر اصرار کو عمران اپنی لیڈرشپ اور شخصیت کا بہت بڑا پلس پوائنٹ سمجھتا ہے .یہ بات ٹھیک ہے کہ اس پہلو نے عمران کو ورلڈ کپ کی فتح اور شوکت خانم کی تعمیر میں مدد دی مگر یہ پہلو ،غلطی اور حماقت پر اصرار میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے .
عمران جو بچپن سے ایک خواب سوچ کر اسکی تکمیل میں جت جاتا تھا جیسے پہلے کرکٹ پھر شوکت خانم ،پھر تحریک انصاف ،یہ فائٹر پہلو عمران کی زندگی کی وضاحت کرنے والا حصہ ہے .اب عمران عمر کے اس حصے میں ہے جہاں شاید لگتا ہے کہ مزید کسی خواب کا ویژن اسکے پاس نہیں ہے اب صرف پرانے خوابوں کی بہتری کی جانب ہی کوشش ہو سکتی ہے .ایک اور بہت چونکا دینے والا پہلو جو عمران خان کی پوری زندگی پر حاوی ہے کہ جو بھی عظیم کامیابیاں عمران کو ملی ،چاہئے وہ کرکٹ میں بہترین آل راونڈر بننے کی جستجو ہو ،اچھے سے اچھا کپتان بننے کی کاوش ہو ،شوکت خانم ہاسپٹل کی تعمیر ہو یا تحریک انصاف کا قیام لانا اور پھر اسکا عروج ہو ،یہ تمام کامیابیاں عمران کو تنہا ملیں .اس سے یہ مراد نہیں کہ عمران نے اکیلے ہی سب کچھ کیا ،اس سے مراد ہے کہ عمران کی زندگی کا سب سے بڑا ساتھ اور سہارا انکی والدہ تھیں ،وہ وفات پا گئیں تو عمران کی کرکٹ شدید انجری سے متاثر ہو چکی تھی مگر عمران واپس آئے اور اگلے چھ سات سال تک کامیابی سے کھیلے .انکی کپتانی کی زیادہ اہم فتوحات ،انکی والدہ کی وفات کے بعد ملیں .جس میں ورلڈ کپ ،انگلینڈ اور بھارت کو انکے ہوم گرونڈز پر شکست دینا ،ویسٹ انڈیز سے انکے ملک میں سریز برابر کرنا ،نہرو کپ جیتنا ،اور ورلڈ کپ جیتنا شامل ہیں .اسی طرح انکا دوسرا اور زندگی کا پہلا لائف پارٹنر جمائما خان تھیں .مگر جب تک جمائما عمران خان کی بیوی رہیں عمران کی سیاست مکمل ناکام رہی .جونہی طلاق ہوئی ،اسکے دو تین سال کے اندر پارٹی کھڑی ہو گئی اور ملک کی طاقتور پارٹیز میں شمار ہونے لگی .یہی کچھ عمران کا ریہام خان سے شادی کے بعد ہوا ،کہ عمران نے اس دوران پے در پرے حماقت آمیز فیصلے کیے اور اس ایک سال میں عمران کا گراف کافی نیچے گرا .اس سے لگتا ایسے ہے کہ عمران سنگل مائنڈڈ شخص تو ہے ہی وہ اکیلا ہی بہترین کام کر سکتا ہے .جو لوگ عمران کے مشیروں اور مشوروں کی اہمیت پر زور دیتے ہیں میرا خیال ہے انکا اندازہ غلط ہے .مشورے عمران کو کنفیوز کرتے ہیں .عمران اکیلا ہی کامیاب ہے .
سچا،کھرا ،اصول پسند،دیانت دار ، وفا دار اور بے لچک ،خصوصیات والا عمران گو کہ اب اپنی ان خصوصیات سے کم کم کام لیتا ہے مگر یہ خصوصیات موجود ضرور ہیں ..سچائی مصلحت کی چادر اوڑھ کر سرہانے پڑی رہتی ہے .کبھی کبھی یہ چادر عمران پہن لیتا ہے .کبھی اتار دیتا ہے .مگر اسکا سایہ عمران کے چہرے پر اپنا اثر ہر وقت قائم رکھتا ہے .عمران کو یہ چادر اب پھاڑ دینی چاہئے .دیانت داری ہے ،لیکن وہ بھی ماڈرن لڑکیوں کے لباس کی طرح تنگ ہوتے ہوتے صرف مالی دیانت داری تک آ گئی ہے .اب دیکھیں اس مالی دیانت داری کا گریبان کب وسیع ہوتا ہے ؟غرض یہ کہ یہ سب خصوصیات موجود تو ہیں لیکن ان سے کام نہیں لیا جا رہا یا انکے کام میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں خان صاحب ان سپیڈ بریکرز کو بڑھنے دے رہے ہیں .اس روڈ کو کلئیر کرواؤ عمران .
ایک پڑھا لکھا،علم کی جستجو والا ، ہر لمحہ اپنی بہتری کا متمنی ،سوچنے والا ،غور و فکر کا شیدائی یہ عمران کہیں سویا پڑا ہے ،کوئی جگاؤ یار اسکو جا کر ..اسی پہلو نے عمران سے کتابیں لکھوائیں،’خواتین ‘ کو مسلمان کروایا اور علمی لوگوں سے متعارف بھی کروایا .
لیڈر،رہنما،دوسروں کے لئے مثال ،ہائر مورال گراؤنڈ پر قائم قیادت کا علمبردار عمران کا یہ اب حصہ اتار چڑھاؤ کا شکار ہے . کبھی لگتا ہے کہ عمر کے آخری حصے میں بھی عمران کا یہ رخ جوان ہے .کبھی یہ رخ با لکل مردہ لگتا ہے .یہ پہلو بہت تضادات اور مکس فیلنگز کا شکار ہے .عمران خان اسکو ٹھیک کرو ورنہ،وزارت عظمی تو دور کی بات ،بنی بنائی ،عزت بھی جائے گی .

ایثارکیش ،ہمدرد ،دکھ درد کو صبر سے جھیلنے والا ، لوگوں کے لئے فکر مند اور حد درجہ کنجوس بھی ، کپتان کا ، یہ رخ اب بھی قائم و دائم ہے اور الله بس تھوڑی سی کنجوسی کم کرے باقی قائم ہی رکھے ..اسی عمران نے شوکت خانم بنائی ،اسی نے نمل کی بنیاد ڈالی .یہی عمران ہے جس پر کسی کا کوئی اختلاف نہیں .
ایک جانور ،ہر وقت غیر مطمئن اور ہلنے جلنے پر مجبور ،ایک بھوکا درندہ ،یہ اور چند دیگر نفسانی پہلو عمران نے اچھے طریقے سے کنٹرول کر رکھے ہیں .بھوک پر قابو تو ہے پر کھانے کے وقت عمران اپنےاندر موجود بھوکے درندے کی لگامیں کھلی چھوڑ دیتا ہے تو وہ درندہ کھانے پر پل پڑتا ہے .باقی پہلو بھی پچھلے بیس ،پچیس سالوں میں کسی نہ کسی طرح عمران نے حدود میں رکھے ہیں .ہاں فجٹی ” عمران روز بروز مزید ‘فجٹی’ ہوتا جا رہا ہے .خاص کر انٹرویو کے وقت عمران کو کرسی پر چین سے بیٹھنا شاید قبر کا عذاب لگتا ہے.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s