پنجابیوں کی 12 خصوصیات(خوبیاں اور خامیاں ) :ثاقب ملک

 پہلی بات تو یہ کہ اس پوسٹ کا مقصد کسی نسل ،کسی قوم کی تذلیل یا توہین نہیں ہے .مقصد یہ ہے کہ ایک دوسرے کی اچھائیوں اور برائیوں کو جانا جائے اور ہر کسی کو برداشت کرنا سیکھا جائے .نہ ہر نسل میں فرشتے ہیں اور نہ ہر قوم میں شیطان یا بے وقوف اور نہ کوئی قوم علم کا پلندہ ہے .پاکستان میں مختلف قومیت کا اختلاف ایک رحمت اور عظیم کامیابی کا سبب بھی بھی بن سکتا ہے امریکا کی طرح لیکن ابھی تک صرف زحمت ہی بنا ہوا ہے .سب سے پہلے میں پنجابی ہونے کے ناتے پنجابیوں کے عادت و خصائل پر بات کروں گا .یہ تجزیہ آج کل کے پنجابیوں کی اکثریت کے طور طریقوں کو دیکھ کر لکھا گیا ہے .اسکو زیادہ سیریس نہ لیں ،لائٹ انداز میں لکھا گیا ہے لائٹ ہی لیں کافی عادات و حرکات تمام ہی قوموں میں تھوڑی بہت موجود ہیں بس کچھ میں زیادہ نمایاں ہیں .پنجابیوں کی بارہ خصوصیات یہ ہیں .
1.شکی ہونا: .فضول کا شک ،بلا وجہ شک ،تو گھٹی میں پڑا ہے.اگر پنجابی کے سامنے کوئی کسی دوسرے کی تعریف کر دے تو پنجابی صاحب کے دل میں مروڑ اٹھے گی کہ کوئی چکر ہے ،یا تو تعریف کرنے والے کا کوئی مقصد ہے یا جس کی تعریف ہو رہی ہے وہ بڑا چالاک ہے .اسی وجہ سے پنجابی جلد کسی پر یقین نہیں کرتا کرتا .اگر خدا نہ خواستہ نبی کریم صلعم کے دور میں اسلام عرب کے بجاے بر صغیر میں آیا ہوتا تو اسکو ریجیکٹ کرنے والوں اور اسکے منافقین میں اکثریت پنجابیوں کی ہوتی .
2.خوش مزاجی :پنجابی بور نہیں ہو گا .اصل میں پنجابی زبان ہی بور نہیں ہے .دنیا کی اگر فحش ترین زبان کا کوئی مقابلہ کرایا جائے تو پنجابی زبان سہر فہرست ہی ہو گی اور یہ بات تو کنفرم ہے کہ ہر فحش چیز کبھی بور نہیں کرتی .لیکن کیا خوبی ہے پنجابی زبان کی ایک چھوٹے سے جملے میں ،وہ کچھ بتا دیتی ہے جس کے لئے ایک لمبا مضمون بھی کافی نہ ہو .سعادت حسن منٹو لکھتے ہیں کہ ایک بار ہم دوست پنجابی زبان پر بات کر رہے تھے میں پنجابی زبان کی فصاحت و بلاغت پر اور ایک دوسرا دوست اردو کی حمایت میں بول رہا تھا .میں جب بحث سے اکتا گیا کہ کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا تو میں نے سٹیل کا گلاس اٹھایا اور اسے زمین پر دے مارا اور پھر اپنے دوست سے کہا اس گلاس کو پنجابی میں “چب” پڑ گیا ہے اب اسکو اردو میں ترجمہ کرو .دوست ٹیڑھا سے آگے نہ جا سکا .خیر زبان پر پھر سہی ،اصل بات یہ ہے کہ مذاق،رونق،شغل ،میلہ،نقل پنجابیوں پر ختم ہے .
3.چغل خوری : گو کہ یہ عادت عورتوں کی میراث ہے مگر پنجابی بھی اس میں طاق ہیں .میں نے چغل خوری لکھا ہے ویسے اس کو ہلکی پھلکی غیبت ،لگائی بجھائی میں بھی کنورٹ کیا جا سکتا ہے .یوں ہی کوئی بندا گزر رہا ہو گا اور ہم پپنجابی منہ اٹھا کر اسکو کسی نہ کسی کی شکایت لگا دیں گے .اکثر ہمارے “بابے” اسی کیفیت میں نظر آتے ہیں .نماز پڑھ کر باہر نکلے اور شروع ہو گئے ،سیاست دانوں کی برائی سے ،نوجوانوں کے کرتوتوں تک ،اور آخر میں ذرا سرگوشیوں میں اپنی اپنی “بڈہیوں ” کی چغلی تک .
4.سازشی ہونا : سازشی پن کچھ اس طرح سے کوٹ کوٹ بلکہ پیس پیس کر پنجابوں میں بھرا ہوا ہے کہ کافی لوگ تو اس دنیا میں انسانوں کی آمد بھی الله کی اک سازش سمجھتے ہیں .سازش کرنا اور سازش تلاش کرنا ،اور پھر جب سازش کھل جائے تو اس “کھولنے “والے کی سازش کو بے نقاب کرنا ،پنجابیوں کا مرغوب ترین مشغلہ ہے .جس دن دنیا سے سازش ختم ہو گئی اس دن پنجابی بھی اپنی موت آپ ہی مر جاییں گے .اللہ سازشوں ،سازشیوں کو آباد رکھے .
5.رحم دلی :پنجابی میں رحم دلی ہو گی .سخت بے رحم پنجابی بھی کچھ نہ کچھ رحم دل ہو گا .اکثریت تو بیحد رحم دل ہے .اسی رحم دلی کے چکر میں پنجابی اپنے لٹیرے کو بھی سر بٹھائے رکھتا ہے .لیکن یہ رحم دلی وقتی ہوتی ہے .سمجھیں کچھ شہباز شریف کی رحم دلی سے کچھ تھوڑی بہت ملتی جلتی ہے .اسی رحم دلی کی وجہ سے پنجابیوں کو دنیا بھر کے مسلمانوں کا درد لگا رہتا ہے لیکن اپنے ہمسایے کے درد کا کوئی خیال نہیں رہتا .
6.سیکھنے کی جستجو : پنجابی میں سیکھنے کی بہت جستجو ہوتی ہے .ہر نئی بات کو سیکھنے کی کوشش کرے گا .ہر نئی چیز کو پہلے اپناے گا . اسی وجہ سے تعصب بھی نسبتاً بہت کم ہے لیکن شکی ہونے کی وجہ پنجابی اپنی اس مثبت کوالٹی سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا .سیکھ کر پھر بھی مشکوک رہے گا .کوئی سازش ڈھونڈھے گا .
7.سخاوت :اکثر پنجابی شاہ خرچ بلکہ فضول خرچ ہوتے ہیں .کچھ سخاوت الله کے نام پر کچھ اپنی “میں” اور ناک وڈی کرنے کے لئے .کچھ پیسا ملتا ہی کم ہے تو قابو میں ہی نہیں آتا .اس لئے جب بھی ملتا ہے ندیدے کی طرح اڑاتے ہیں .لیکن ساتھ ہی ساتھ ،اچھے کاموں کیلئے بھی دل کھول کر دیتے ہیں .اچھائی اور برائی میں مساوات تو کوئی پنجابیوں سے سیکھے .
8.نمائش پسند :پھونڈو پن ،نمائش ،شو بازی یہ تو پنجابی کے لئے وے آف لائف ہے .کھیڑ بھی کوئی پینڈو نئی پہنے گا تو پہن کر گلی میں ،بازار میں نکل جائے گا اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ جائے گا .اگر الله نہ کرے کوئی گاڑی ہو تو الله معاف کرے ہر بات میں گاڑی محترمہ کا ذکر شریف ضرور آ جائے گا .کوئی اپنا مر بھی جائے تو پپنجابی اپنے غم کی بھی نمائش کرے گا .
9.احتجاج کرنا :٢ منٹ بھی بس لیٹ ہو جائے پنجابی اپنی سیٹ سے ہی للکارنا شروع ہو جائے گا .بچوں کی طرح اجتجاج کرنا ،فورا بپھر جانا اور پھر جھاگ کی طرح بیٹھ جانا پنجابیوں کی بہت پختہ عادت ہے .بنیادی طور پر رولا ڈالنا ،ہلہ گلہ کرنا ،پنجابیوں کی فطرت ثانیہ ہے .
10.تخلیقی صلاحیت :پنجابی میں تخلیق کی صلاحیت بہت ہے .لیکن اکثر اس تخلیقی صلاحیت کا الٹا اور منفی استمال ہی کیا جاتا ہے .مجال ہے کسی نیک کم میں اپنی تخلیقی سوچ اور صلاحیت کا فائدہ اٹھائیں .کسی بھی چیز کا دو نمبر ورژن بنانا ،اکثر پنجابیوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے .
11.ڈرامے بازی :فنکاری اور ڈرامے بازی کے تو چیمپئن ہیں پنجابی .خاص کر عورتیں اور بزرگ اس فن کے ماہر ہیں .عورتوں کی اداکاری کو دیکھ کر تو بڑے بڑے آسکر ایوارڈ یافتہ فنکار حیران و پریشان رہ جایئں .خاص کر ماتم کرتے وقت ،رنج و الم کی جو کیفیت پرسہ دینے والی اجنبی عورتیں اپنے اوپر طاری کر لیتی ہیں اس پر تو فوت ہو جانے فرد کی روح بھی حیران و پریشان رہ جاتی ہو گی کہ ،ہائے ،مجھ سے ایسی محبت رکھنے والے بھی موجود تھے ،جن سے میں لا علم تھا ؟.
12.شدت پسند:پنجابی بیک وقت ،کھلا ڈلا اور شدت پسند ہو گا .اپنے اظہار میں پنجابی کو شدت مطلوب ہوتی ہے .کوئی چیز بہت اچھی لگے گی تو دنیا کا منفی ترین لفظ چن کر اسکے لئے استمعال کریں گے .جیسے کہ قاتل شے ہے یہ ،کتی چیز ہے یہ .دنیا کے اکثر بہترین بیٹسمین پنجابیوں کی نظر میں قاتل اور کتے ہیں.

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s