بھٹو کون بھٹو ؟عزیر بلوچ .کون عزیر ؟صولت مرزا ،کون صولت مرزا؟:ذیشان اعوان

بھٹو۔۔۔کون بھٹو؟
یہ دنیا زرا نرالی ہے، اس کے دستور، ضابطے اور طریقہ واردات آسان بھی ہے مگر بہت مشکل بھی ہوتا ہے جیسے صولت مرزا جب پہلی دفعہ شلوار میں پستول اڑسے گھر آیا ہوگا تو اس نے اسے گھر میں آکر چھپا دیا حالانکہ یہ وہ بنیاد تھی جہاں سے اس کے تختہ دار کی بناوٹ شروع ہوئی۔ اس لڑکی سے جب ملنے گیا ہوگا جو بعد میں اس کی بیوی بنی تو اس پستول کو اپنے ساتھ نہیں لے گیا ہوگا، اس سے اس نے کئی وعدے کیے ہوں گے، حسین مستقبل کی لہروں میں کھو کر انہوں نے کئی میل طویل سفر کیا ہوگا۔۔یہی صولت جب کسی اچھے جاننے والے یونٹ انچارج سے کسی کی بوری کا ٹاسک لے کر نکلا ہوگا تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ ایک دن یہ شخص اسے پہچنانے سے انکارکردے گا۔۔ جب وہ موٹر سائیکل سوار ہو کر اپنے شکار کی ریکی کرنے جا رہا ہوگا تب اسے کوئی بھائی کی کال بھی آئی ہوگی کہ سنھبال کے جانا مگر جانے والا یہ نہیں جانتا ہوگا کہ ایک دن مشکل میں بھی یہی بھائی سنبھالنے نہیں آنے والا۔ جب اس نے پہلی دفعہ اپنے شکار کو دیکھا ہوگا اس کے ماتھے پر ہلکا ساپسینہ آیا ہوگا، دل کی دھڑکن کی دفتار بھی تیز ہوئی ہوگی اور اس نے بے اختیار نظریں چرا کر ادھر ادھر بھی دیکھا ہوگا۔۔

blog images 2

Zeeshan Awan

تب کہیں دل کے ایک کونے سے آواز آئی ہوگی کہ واپس لوٹ جاو مگر شاہد تب کسی بہتر ادارے میں نوکری کے لالچ نے روکنے میں کچھ کام کیا ہوگا تو کچھ بہادر بننے کی جستجو نے کروا لیا ہوگا۔۔ اس نے پھر اچانک سے حملہ کیا ہوگا کہ اور جس پر حملہ کیا ہوگا اسے تب ہی سمجھ لگے گی جب اس کا کھیل ختم ہوچکا ہوگا کیونکہ سامنے کھڑے ہو کر سینے اور سر میں گولی مارنے والا شخص موت کے فرشتے کو بھی ساتھ لایا تھا۔ یہاں سے اگلی منزل ساحل سمندر ہوگا جو اس نے کئی گھنٹے نے آوزرہ گردی کی ہوگی ، لہریں سمندر میں چل رہی ہون گی مگر اتھل پٹھل اس کے دل ودماغ میں مچی ہوگی۔ تھوڑا سا سکون ملنے پر  آیا ہوگا تو سب سے پہلے یونٹ کے دفتر میں حاضری دی ہوگی جہاں اسے بے چینی سے مگر گرم جوشی سے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ہوگا، ساتھ ہی لڑکے کو گلی میں دیکھنے کا اشارہ ملا ہوگا جہاں سے واپسی کا پیغام پہلے سے ہی اس کے زہن میں نقش ہوگا، چند باتیں ہوئی ہوں گی، اسے تسلی دی گئی ہوگی کہ کچھ نہیں ہوتا، ہم ہیں نا، اسے مارنا بہت ضروری تھا اور ساتھ ہی ہزار روپے کے چند نوٹ پکڑا کر غائب ہو جانے کا حکم دیدیا گیا ہوگا، وہاں سے نکل کر گھر گیا ہوگا مگر اب کہاں راحت ملنی تھی اس لیے اٹھ کر پھر دفتر چل پڑا ہوگا جہاں سے ایک خفیہ مقام پر پہنچا دیا ہوگا۔ پہلی دفعہ ایسا ہوا ہو گا اور جب ہر باروہ کامیاب حملے کرنے لگ گیا ہوگا تو اس کے انعام کی رقم بڑھی ہوگی اورہدایات کے الفاظ کم ہوتے گئے ہوں گے۔ ہر قتل نے اس کے اعتماد میں اضافہ کیا ہوگا جس سے پارٹی میں اس کا پروفائل بھی بڑھا ہوگا اور عزت تو سب ہی کرنے لگے ہوں گے۔۔ اس کہانی کو یہی چھوڑ ہیں اور زرا تازہ منظرنامے میں آتے ہیں۔۔ عزیربلوچ کو رینجرز نے کراچی میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کر لیا۔۔۔ساتھ چند تصویریں بھی نکلیں جن میں ایک کمزور سا، ستے ہوئے چہرہ والا کم گو سے شخص کو رینجرز اہلکار گاڑی میں بٹھانے کی ایٹکنگ کر رہے ہیں جو ظاہر ہے ان کا کام نہیں ہے اس لیے ری ٹیک کی ضرورت تھی خیر چھوڑیں اس بات کو۔۔ عذیر بلوچ اٹھارہ لاکھ آبادی کے لیاری کے علاقے میں خوف کی علامت تھا، اس کے نام سے کروڑوں کا بھتہ ادھر ادھر ہوتا، اس سے اختلاف پر لوگ جانوں سے جاتے،جہاں جاتا نظریں بچھ جاتیں، صوبے کے حکمران اچھے تعلقات بنانے کیلئے کوشاں رہتے اور علاقے کے ایم پی ایز اور ایم این ایز تو ہاتھ باندھ کر سامنے آتے، پولیس والے اجازت مانگ کر حاضری دیتے جبکہ رینجرز کو بھی داخلے کی اجازت نہیں تھی اور وہ داخل نہیں ہوتے تھے۔ آج اس آدمی کی اپنی بیوی ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے لاکحوں لوگوں کے سامنے بار بار روئی جس کی شکل تو بہت دور کی بات نام تک سے کوئی واقف نہ تھا۔ جس کی حفاظت پر مامور بلوچیوں کی کبھی ہمت نہیں ہوئی تھی کہ بھابھی کی طرف ہی دیکھ لیں مگر وہ عورت سب کے سامنے رو پڑی۔۔ اور عذیر بلوچ کی بات کرنے والا کوئی نہیں ہے، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے علاوہ اسے پورے ملک میں کوئی شخص نہیں جانتا، جیسے صولت مرزا کو ایم کیو ایم کے تمام لیڈروں نے پہچاننے سے انکار کردیا تھا حالانکہ ان میں وہ بھی شامل تھے جو دن رات اسے اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ آج عزیر کا سب سے قریبی دوست شرجیل میمن بھی کہتا ہے میں اسے نہیں جانتا، وہ وزیراعلیٰ سندھ جو حلف اٹھا کر سب سے پہلے عزیر کے پاس گیا تھا اب کہتے ہیں میں اسے نہیں جانتا ، خورشید شاہ کہتے سلفی کے شوق مین کوئی تصویر بن گئی ہوگی اور اس کی بیوی کے موبائل میں موجود فریال تاپور نے جن مین اس کے بچوں کو اٹھایا ہوا ہے غلطی سے کہِں سے آگئی ہوں گی۔ اسے کوئی بھی نہیں جانتا کیونکہ اب عزیر ایک سردار نہیں بلکہ ریاستی اداروں کے پاس مجرم شخص ہے، اب یہ ڈرا کر دھمکا کر اور پیار سے کہہ کر ہزاروں ووٹ نہیں دلوا سکتا بلکہ اب اسے خود ضرورت ہے کہ کوئی اس کا تحفظ کرے مگر کوئی نہیں کرےگا جیسے صولت مرزا کا کسی نے نہیں کیا تھا۔ صولت مرزا کی بیوی کے ساتھ لوسٹوری اور جذبات پڑھکر بہت سارے لوگ روئے تھے مجھے یقین ہے عزیر کی بیوی بھی سینکڑوں لوگوں کو رلائے گی مگر یہی دستور یہی ہے کہ ہم آپ کو تب جانتے ہیں جب آپ کام کے ہیں ورنہ آپ کون اور میں کون؟ خورشید شاہ صاحب کو پتہ ہے اس ملک میں جمہوریت کے نام پر سب چھپ جاتا ہے، شور مچانے سے وہ بچ جائیں گے ورنہ کیا موبائل کا ریکارڈ موجود نہیں کہ کون کونسے رہنما رابطے میں تھے۔ کیا لیاری کے ہزاروں گواہ موجود نہیں ہیں؟ کیا میڈیا پر دیئے گئے کئی بیانات گواہ نہیں ہیں مگر ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے جیسے صولت مرزا کی بیوی کی طرف سے رابطوں کے ثبوتوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ پیپلزپارٹی والے جب تک عزیر سے فائدہ اٹھا سکتے تھے جاتے تھے مگر جب انہیں اس کے ساتھ دینے میں نقصان کا سامنے ہوسکتا ہے تو وہ اسے کہاں جانتے ہیں، یہ لوگ تو وہ ہیں ماضی میں آصف زرداری کو پیپلزپارٹی میں کالی بھِڑ قرار دیتے تھے، انہیں تحفظات تھے مگر بی بی کے بعد ان کے تمام تحفظات خود ہی دور ہو گئے کیونکہ ان کے مفاد اس شخص سے وابستہ ہوگئے، ویسے تو ناممکن ہے زرداری صاحب عزیر کی طرح پکڑے جائیں توکل کو یہ پھر انہیں نہیں جانتے ہوں گے۔اگر فائدہ ہے تو مرا ہوا بھٹو بھی بہت کام کی چیز ہے مگر جب فائدہ نہیں ہے توزندہ انسان کی بھی کوئی  نہیں ہے۔۔ صولت مرزا کی پی ایچ ڈی بیوی یا عزیر بلوچ کی پردوں میں رہنے والی ثمینہ عزیر جتنے مرضی آنسو بہائیں، جتنے مرضی ثبوت لے آئیں حتی کہ نااغوزبااللہ اللہ کو بھی لے آئیں تو یہ لوگ نہیں مانیں گے کیونکہ اپنے پاوں پر کوئی بھی کلہاڑی نہیں مارتا۔۔اونچی عمارت کو ہر کوئی سر اٹھا کر دیکھتا ہے مگر گری ہوئی سے عمارت سے لوگ اینٹیں تک اٹھا کر لے جاتے ہی۔ بھلے ھر کوئی صولت ہو یا عزیر۔۔۔ بے شک ان کی بیویوں کے آنسووں ہوں، چیخیں ہوں یا اپیلیں ہوں کچھ بھی کسی کو بھی نہ سنائی دیتا ہے اور نہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ کہانیاں ہر طرف بکھری پڑی ہیں کہیں چھوٹی ہوتی تو کہیں بڑی مگر انجام سب کا ایک سا ہی ہوتا ہے کہ ظالم کا انجام صولت مرزا جیسا ہی ہوتا ہے پھر بھلے سب کرانے والے مزے سے زندگی گزارتے رہیں یا کسی کو سزا سے بچانے کیلئے سب ہی گھروں سے نکل آئیں۔۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s