ڈاکٹر طاہر القادری کی شخصیت ،کردار و افکار کا تجزیہ :ثاقب ملک

میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان دنیا کی تاریخ کے تین عظیم ترین اداکاروں کا مسکن ہے اور ماضی میں بھی رہا ہے .پہلے نمبر پر شہنشائے “ڈرامیات ” جناب مد ظلہ حضرت الطاف حسین ،لندنوی ہیں .دوسرا نمبر میں پیدائشی ڈاکٹر ،پیدائشی ایکٹر ،کنگ آف “مکاریات ” عامر لیاقت کو دوں گا .سخت ترین مقابلے کے بعد میں نے تیسرا نمبر اپنے سر پر سبز ٹوپی سجا کر ماہر “ٹسویات “اور “رویات “الیاس قادری کو دیا ہے .
ان تینوں شخصیات کے فن پر بعد میں بات ہو گی .پہلے ماہر انقلابات و معجزات ڈاکٹر طاہر القادری سے نپٹ لیا جائے .قادری صاحب کی سیاست پر فی الحال میں تفصیل سے بات نہیں کروں گا .مگر اتنا کافی ہے کہ علاوہ عمران خان کے حالانکہ اسکی چند نمایاں خوبیوں سمیت ، وہ بھی میرے معیار قیادت پر پورا نہیں اترتا ، زرداری ،الطاف،نواز شریف ،فضل الرحمان جیسے پٹے ہوے چوروں اور جماعت اسلامی جیسے نا اہل صالحین پر میں طاہر القادری جیسے دروغ گو کو ترجیح دوں گا .اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ طاہر القادری ،میں منیجمنٹ کی شاندار صلاحیت موجود ہے . انکے پاس پاکستان کی بہتری کا شاندار پلان اور ویژن موجود ہے .وہ کام کرنا بھی جانتے ہیں اور کام کروانا بھی ،محنتی ہیں اور محنت پر لوگوں کو متحرک بھی کر سکتے ہیں .اسکا ثبوت دھرنے میں انکے پیروکاروں کا شاندار ڈسپلن تھا .آپ پیسے سے ڈسپلن نہیں خرید سکتے .لوگوں کی طاہر القادری کی اچھی بات کا بھی اعتراف کرنا چاہئے .اس حوالے سے طاہر القادری دوسرے مولوی حضرات سے یکسر مختلف ہیں .
طاہر القادری بقول حسن نثار ایک بہت بڑے “ایگوایسٹ ” ہیں .کوئی شک ہی نہیں .آپ کی زندگی کا مقصد اپنے آپ کو عظیم ترین ثابت کرنا ہے .اس کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استمعال کرنے کے علاوہ نبی کریم صلعم کے جھوٹے خواب بھی استمعال کرناانکو جائز لگتا ہے .جس تواتر سے نبی کریم صلی الله علیہ الہ وسلم قادری صاحب کے خوابوں میں آئے پھر جس طرح کے مطالبات قادری صاحب حضور پاک سے کرواتے رہے اور جو بیانات جاری کرواتے رہے وہ کم کم سے بھی توہین رسالت کے زمرے میں آنا چاہئے .طاہر القادری اپنے آپ کو کسی طور پر امام خمینی سے کمتر نہیں سمجھتے .بلکہ اگر احتجاج کا ڈر خوف نہ ہو تو آپ اپنے آپ کو امام مہدی بھی ڈیکلئیر کر دیں .کبھی کبھی تو انہیں دیکھ کر ایک عظیم جادوگر کا تصور ذہن میں آتا ہے ،ایک با کمال ٹیلی پیتھی کے ماہر کا جو اپنے سامنے بیٹھے لوگوں کو ہپنا ٹائز کر کے اپنے پیچھے چلانے پر مجبور کر دیتا ہے .اسلام کی اتنی باتیں اور اتنے حوالے دینے کے باوجود انکے ارد گرد اور انکے متوقع جانشین انکی اپنی اولاد ہی نظر آتی ہے .انکے عام ” نان قادری” شاگردان اتنے قابل نہیں کہ وہ قادری صاحب کی علمیت کا بوجھ سہار سکیں .

اس میں کوئی شک نہیں پڑھے لکھے ہیں .علمی ہیں .مطالعہ بھی مناسب ہے .فصاحت و بلاغت بھی ہے .اپنی بات بیان کرنا بھی آتا ہے . خیر جو لوگ طاہر القادری کو اچھا مقرر سمجھتے ہیں انکی ذہنی ساخت پر شبہ ہونے لگتا ہے کہ جتنی لمبی تمہید قادری صاحب باندھتے ہیں اس دوران انسان کا خود کشی کو دل چاہتا ہے . باتوں میں حد سے زیادہ جھوٹ کی سرحدوں میں گھستا ہوا مبالغہ پایا جاتا ہے .شخصیت میں کشش موجود ہے .لیکن زرق برق لباس اور چادریں دیکھ کر ان میں اور کسی جامعہ مسجد کے مولوی میں فرق نہیں لگتا .پھر جس طرح دھڑا دھڑ وہ ٹشو کا استمعال کرتے ہیں اس سے عجیب سا تاثر پیدا ہوتا ہے .لگتا ہے ہم سب غلیظ انسان ہیں اور خاص کر قادری صاحب کے ارد گرد غلاظت ہی غلاظت ہے .کہا یہ جاتا ہے کہ اپنی بیماری کی وجہ سے یہ احتیاط کرتے ہیں .ممکن ہے ایسا ہی ہو .جو لوگ انکی بے تحاشا کتابیں لکھنے کو انکی قابلیت جانتے اور سمجھتے ہیں انکے لئے عرض ہے کہ اگر تعداد ہی معیار ہو تو مغرب میں فحش ناول لکھنے والے سب سے زیادہ لکھتے ہیں ،ہمارے ہاں ڈائجسٹ ،رسالوں میں لکھنے والے دنیا بھر سے زیادہ لکھتے ہیں تو کیا انکو علم فاضل مان لیا جائے ؟ اصل بات تو یہ ہے کہ اتنی کتابیں لکھ کر قادری صاحب نے کون سا تیر مار لیا؟ کون سی انکی کتاب زبان زد عام ہے ؟ کون سی کتاب نے علمی زلزلہ برپا کیا؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو یہ سب بونگے دلائل اور در فتنیاں ہیں .
اپنے آپ کو ہر مذہب میں رہنما بنانے کے لئے ڈاکٹر صاحب نے دنیا بھر کے مذاہب کے درمیان اشتراک ڈھونڈنے کی بھی بڑی کوشش کی ہے .دین پر انکی فکر اوسط ہی کہی جا سکتی ہے.پیغمبر خدا کو جس لیول پر آپ لے کر جانا چاھتے ہیں وہ توہین آمیز ہے .خدا خالق ہے اسےاپنا نبی بھی بہت محبوب ہے .مگر اس رشتے کو خالق اور مخلوق سے بڑھا کر کسی اور نہ قابل بیان سطح پر لے جانا ،مجھے قبول نہیں .میں یہاں اپنی کوئی بد گمانی نہیں لکھنا چاہتا .یہ دنیا کے محبوب اور محبوبہ کا رشتہ نہیں ہے جس طرح قادری صاحب اسکو ہیر رانجھا کی داستان کی طرح بیان کرتے ہیں .صرف دہشت گردوں پر قادری صاحب نے اچھا کام کیا کہ کھل کر انکی مخالفت کی مگر جب آپ کینڈا سکون سے بیٹھے ہوں تو ایسی مذمت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں لگتا .قادری صاحب در اصل بر صغیر کے لوگوں کی شخصیت پرستی اور نبی کریم صلی الله علیہ والہ وسلم سے عقیدت کو ایکسپلائٹ کرتے ہیں .انہوں نے خدا کو دانستہ پس پشت چھوڑ کر حضور پاک کی ذات پر فوکس کر کے اپنی دکان داری بڑھائی ہے .
دین کی کوئی خاص ڈیپ انڈر سٹینڈنگ نہیں ہے..روایتی مولوی کی جتنی بھی ترقی یافتہ قسم ہو سکتی ہےقادری صاحب اس کی عملی تعبیر ہیں . .لیکن ماشاللہ خود انکی سوچ مولویانہ نہیں ہے . اچھی بات یہ ہے کہ فرقہ بازی سے اجتناب ہی برتتے ہیں .لوگ انکو سکالر کہتے ہیں تو لکھنا پڑا ورنہ خالص سکالرز کی لسٹ میں آتے نہیں ہیں .ہاں راویتی ملا نہیں ہیں بلکہ بہت ماڈرن اور روشن خیال آدمی ہیں .لیکن انکی شخصیت کے تضادات اتنے نمایاں اور اتنے بڑے ہیں کہ انکو نہ مذہبی رہنما یا علما یعنی خالص علما کی کیٹگری میں ڈالا جا سکتا ہے اور نہ ہی انکی سیاست پر یقین کیا جا سکتا ہے .ایک انتہائی با صلاحیت آدمی اپنی انا کے ہاتھوں تسخیر ہو گیا.

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s