پاکستانی دیسی ماؤں کی خصوصیات :ثاقب ملک

پاکستانی مائیں بچوں کے ناک صاف کرنے میں ید طولی رکھتی ہیں .جس متشدد انداز میں بچے کا ناک صاف کیا جاتا ہے وہ دیکھنے لائق ہوتا ہے .پہلے بچے کو ٹھوڑی سے پکڑ کر اسکا منہ تھوڑا اوپر کیا جاتا ہے پھر دھمکی آمیز لہجے میں کہا جاتا ہے “مجھے ناک صاف کرنے دو اپنا ” اور اسکے بعد ہٹلر انہ وحشت سے ناک کو مروڑ کر صاف کیا جاتا ہے .اس دوران بچے کی گردن اپنی ازلی لچک کے سارے پینترے بدل بدل کر تھک چکی ہوتی ہے .ہماری دیسی امی کا اگلا ٹارگٹ بال ہوتے ہیں .جانے کیوں ہماری امیاں ،تیل چپڑنے کو بہت پسند کرتی ہیں .نہانے کے بعد ،پوری ہتھیلی تیل سے بھر کر بالوں پر ایسے لگاتی ہیں جیسے قبر پر مٹی پھینکی جا رہی ہو .پھر اسکے بھی ایک انتہائی سلم سے کنگھی سے بالوں کی مانگ اگر دائیں طرف سے ہو تو بائیں طرف کر دی جاتی ہے اور اگر بائیں ہو تو دائیں کر دی جاتی ہے .اس قبل مسیح کے ہیر سٹائل پر پھر امی جان کا ستائشی جملہ مزید نمک مرچ چھڑکتا ہے جب وہ اپنے لاڈلے کی بلائیں لیتی ہیں ،ہائے کتنا پیارا لگ رہا ہے .

ہماری ماؤں کو رنج و غم کو ایگزیجیریٹ کرنے میں بھی کمال ملکہ حاصل ہے .مثلا کسی پڑوسن سے اپنے گھریلو حالات ایسے بیان کر رہی ہوتی ہیں جیسے یہ گھر نہیں پاکستان کی معیشیت ہے جس کی ہر چیز ہی بیمار ہے اور آخری سانس لے رہی ہے .”ہاں بہن یہ چھوٹا تو اتنا بیمار ہے کہ کیا بتاؤں ،اتنا بخار تھا کہ پوری رات جاگتا رہا ،پورا کمرہ اسکے بخار سے تپ گیا تھا .بہن انکے ابو کی طبیعت بھی بہت خراب ہے کھانس کھانس کر باؤلے ہوئے جا رہے ہیں .کیا بتاؤں انکے دادا تو بیڈ سے اٹھ ہی نہیں سکتے .ایک مصیبت ختم ہوتی ہے تو دوسری آ جاتی ہے ایک لمحہ چین کا نہیں ہے .” جیسے ہی پڑوسن رخصت ہوئی ،امی جان دبے دبے جوش سے حکم صادر کریں گے کہ بیٹا ذرا ہم ٹی وی تو لگانا ،ڈرامہ لگا ہوا ہے “.اسی طرح زبیدہ آپا کے ٹوٹکے کسی وظیفے کی طرح لکھوائے جا رہے ہوتے ہیں ہاں ہاں یہ بھی لکھ لو اور یاد رکھنا .لیکن جب کوئی ایسا موقع جب ان ٹوٹکوں کی ضرورت پڑے تو کچھ بھی ذہن میں نہیں رہتا .
صرف اپنا ہی نہیں ہماری ماؤں کو دوسروں کا غم بھی بہت ستاتا ہے .میں بچپن میں اپنی دوست اور اسکی امی کے ساتھ اپنے مشترکہ دوست کی چچی فوت ہونے پر انکے گھر گیا .جیسے ہی میرے دوست کی امی نے انکے گھر میں قدم رکھا ،شدت غم نے اچانک ان پر ایسا حملہ کیا کہ انہوں نے وہیں سے بین کرنا شروع کر دیا اور دھاڑیں مار مار رونے لگیں .انکی دیکھا دیکھی دیگر عورتیں جو ماتم پر موجود تھیں انہوں نے جب یہ دیکھا کہ میرے دوست کی امی سےماتم کے اس اولمپکس میں شکست کھا رہی ہیں تو انہوں نے بھی زیادہ زور و شور سے رونا شروع کر دیا .ساتھ ہی ساتھ انواع و اقسام کے ڈائلاگ اور مرحومہ کی پوشیدہ خوبیوں اور نیکیوں کا تذکرہ بھی جاری تھا .میں حیران تھا کہ مرحومہ ابھی تک مردہ کیوں ہیں انکی روح کو حضرت عزرائیل سے ہاتھ چھڑا کر دوبارہ دنیا کا رخ کر لینا چاہئے تھا اور اپنی نیکیوں کی یہ لائیو براڈکاسٹ ریکارڈ کر کے منکیر نکیر کو بطور ثبوت پیش کرنی چاہئے .لیکن میری حیرت اس لئے بھی زیادہ تھی کہ آنٹی راستے میں میرے دوست پر ناراض تھیں کہ اسکے دوست کی چچی اس وقت اچانک کیوں وفات پا گئی ہیں ؟آنٹی کا کہنا تھا کہ ابھی گھر میں برتن اور کپڑے دھونے ہیں ،تمہارا باپ منہ سجا کر دفتر سے آئے گا اسکو کھانا دینا اور اب یہ تمھارے دوست کی چچی فوت ہو گئی ہیں .جیسے کہ میرے دوست کی چچی کو فوت ہونے سے قبل آنٹی سے اپائنٹمنٹ لینی چاہئے تھی جس میں وہ بتاتی کہ” بہن ،میرا مرنے کا موڈ ہو رہا ہے آپ بتائیں کہ کس تاریخ کو اور کس وقت مرا جائے ؟” اس پر آنٹی کوئی مناسب سی تاریخ رکھ کر کہتیں کہ یہ تاریخ حضرت عزرائیل کو بتا دو وہ آئیں اور تمہاری روح لیں جائیں اور ہاں وقت دن کا ہو رات نہ ہو تاکہ ڈرامے ڈسٹرب نہ ہوں اور منگل یا جمعه کا دن نہ ہو کہ منگل اور جمعه بازار جانا ہوتا ہے .
پاکستانی مائیں اپنی اولاد سے بےپناہ محبت رکھتی ہیں اور اسے پوری عمر بچہ ہی سمجھتی ہیں . اسی لئے،.اکثر شاپنگ کے وقت اپنے لڑکے کوکسی انتہائی شوخ کلر کی شرٹ پسند کروا کر دیں گیں جو شاید ایک دو سال کے بچے پر ہی اچھی لگی یا کسی زنانہ فیشن ڈیزاینر پر لیکن وہ پاکستانی امی کی نظر میں بہت کمال کا کلر ہوتا ہے .اسی طرح اپنی بیٹی کو اپنی عمر کے حساب سے کپڑے پسند کر کے دیں گئیں جو فقط دادیاں ہی پہنتی ہوں گئیں .ہماری ماؤں کا ہر دلیل اور ہر بحث پر ایک آزمودہ اور کارآمد ڈائلاگ ہوتا ہے چاہئے جو مرضی دلیل دے دو وہ کہیں گئیں ” بیٹا مجھے پتہ ہے ماں ہوں تمہاری ” بس اب آپ کے دلائل کی کوئی وقعت نہیں .آپ جائیں اور کمرے کے کونے میں لٹک جائیں کیونکہ آپ ماں نہیں ہیں .اگر آپ کچھ مزید کہیں گے تو پھر ایسے ایسے جملے سنننے کو ملیں گے “ہاں میں نے اس دن کیلئے راتوں کو جاگ جاگ کر تمہیں پالا ہے ” تمھارے پوتڑے دھوئے ہیں ” تم اس وقت بیمار تھے تو پوری پوری رات جاگی تھی ” تمھارے لئے یہ کیا تھا اس دن ” میں حیران ہوں کہ عموما کمزور یادداشت کی حامل ہماری امیوں کو یہ تمام تفصیلات مکمل جزئیات کے ساتھ کیسے یاد ہوتی ہیں ؟
ہماری ماؤں کو سبزیوں سے بہت لگاؤ ہوتا ہے .خاص کر کریلے ،توریاں ،بینگن ،اور کالی دال اور کڑوا ساگ بنا بنا کر اپنے بچے کو کھلانا چاہتی ہیں .اور اکثر باوجود مزاحمت کے اپنی اس مذموم کوشش میں کامیاب بھی رہتی ہیں .انکا ایک اور دیرینہ اور پسندیدہ شوق چاند سی دلہن لانا ہوتا ہے .ہماری امیوں کا چاند اکثر لوڈ شیڈنگ کا شکار رہتا ہے اس لئے یہ اس چاند کی امی کی باتوں سے متاثر ہو کر اس بلیک اور اینڈ بلیک چاند کو حسینہ بنا کر اپنے بیٹے کے سامنے پیش کرتی ہیں .بیٹا تو کسی بالی وڈ کی ہیروئن سے تقابل کر کے اس چاند سی دلہن کو ریجیکٹ کر دیتا ہے .ہماری امی پھر کسی اور چاند کی تلاش میں نکل کھڑی ہوتی ہیں .لیکن جب یہ چاند گھر میں اتر آتا ہے تو ہماری مائیں چن چن کر اس میں گرہن تلاش کرتی رہتی ہیں.

 

Advertisements

2 thoughts on “پاکستانی دیسی ماؤں کی خصوصیات :ثاقب ملک

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s