خورشید ندیم صاحب عمران دشمنی میں کھل کر تو سامنے آئیں .عماد بزدار کا کالم

مستنصر حسین تارڑ نے اپنی ایک تحریر میں اپنے ایک کلاس فیلو کا ذکر کیا کہ ٹیچر اسے جس ٹاپک پہ بھی مضمون لکھنے کو کہتا وہ اس مضمون میں ” میرا بہترین دوست” کے کچھ فقرے ضرور گھسیڑ دیتے تھے۔ ایک دن استاد نے اسے ” ہوائی سفر” پر مضمون لکھنے کو کہا اور اچھی طرح سمجھا دیا کہ تم اس ہوائی سفر میں اکیلے ہو اس میں تمھارے بہترین دوست کا نہ کوئی عمل دخل ہے اور نہ اس مضمون تمھارے بہترین دوست سے متعلق کوئی فقرہ شامل ہونا چاہیئے۔
اس دفعہ ان الفاظ میں مضمون لکھا ” میں صبح سویرے ایرپورٹ پہنچا، کافی مسافر تھے۔ٹائم پہ جہاز پر سوار ہوئے جہاز نے رن وے پر بھاگنا شروع کیا پھر اچانک ہی اُڑنا شروع کر دیاآہستہ آہستہ اوپر اٹھتے اٹھتے جہاز کافی بلندی پر پہنچا میں نے نیچے کی طرف دیکھا تو نیچے چھوٹے چھوٹے مکانات نظر آئے انہی مکانوں میں میرے بہترین دوست ارشد کا گھر بھی تھا ۔ ارشد میرا بہترین دوست ہے ارشد کے والد سکول ٹیچر ہیں ارشد ہر سال کلاس میں اول آتے ہیں۔ اور پھر چل سو چل۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے ممدوح کالم نگار بھی عمران خان کی محبت میں اسی طرح گرفتار ہیں۔ مسئلہ زیرِ بحث عالمی دہشت گردی ہو یا گریویٹیشنل ویو کی دریافت کا ہمارے محترم کالم نگار اپنے کالم میں گھوم پھر کر اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ” اس سے میرے اُس دیرینہ موقف کی تایئد ہوتی ہے کہ عمران خان اصلا ایک احتجاج پسند ہیں سیاستدان نہیں۔
ذاتی طور پر محترم کالم نگار کے طرزِ تحریر کے ہم بھی مداح ہیں لیکن عجب طرفہ تماشا ہے ان جیسے اہلِ علم اپنے حتمی تجزیئے میں میاں صاحب ہی کو فائدہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ان کی تجزیئے کی اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے لیکن یہ سب کچھ وہ جان کے نہیں کر رہے تو اُن کو میں پنڈ کا ایک لطیفہ نما واقعہ سنایا کرتا ہوں جس سے ان کے کانسیپٹ کافی حد تک کلئیر ہو جاتے ہیں یہاں بھی بیان کر دیتا ہوں۔ ہوتا یہ ہے کہ ایک نامراد عاشق رات کو کندھ ٹپتے ہی “دشمن” کے نرغے میں آ جاتا ہے۔ حسبِ توقع اس کی خاطر تواضع جب شروع کی گئی تو قران قسموں کی کمبینیشن میں یہ عذر پیش کیا کہ میں خواب میں ڈر گیا میرا دماغ خراب ہوا میں نے گھر سے دوڑ لگائی مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کیسے میں نے آپ کی دیوار پھلانگی اور آپ کے گھر داخل ہوا۔ گھر والے نے ڈوز کی مقدار میں اضافہ کرتے ہوئے ( نا قابلِ اشاعت کو چھوڑ کر) یہ کہا کہ میرے اور آپ کے گھر کے بیچ ایک پہاڑی بھی آتا ہے تمہارا دماغ بڑا کلکولیٹڈ خراب ہوا جو تم پہاڑٰی پر سے گرنے کے بجائے سیدھا دیوار پھلانگ کر میرے گھر میں داخل ہوئے۔
ہمارے محترم کالمنگار بھی اسی طرح کے کلولیٹڈ اجتہادی غلطی کا عمران کے بارے شکار رہتے ہیں۔ میں آُپ کے سامنے اور مثال رکھتا ہوں۔ این اے 246 کے ضمنی الیکش کو ذرا یاد کریں اور ایمانداری سے بتایئں کہ وہاں الیکشن کا ماحول پی ٹی آءی نے بنایا یا صالحین کی تنِ مردہ نے۔ آپ اچھی طرح واقف ہیں اب ذرا ایلکشن سے پہلے محترم کے کالم کے الفاظ پڑھ لیں۔
“اس وجہ سے اس حلقے میں اگر ایم کیو ایم کا کوئی حقیقی حریف ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے۔ تحریکِ انصاف کراچی کی سیاست میں نو وارد ہے۔میڈیا کی حمایت اور گلیمر نے کراچی میں اُسے حقیقی سائز سے بڑا کر کے دکھایا ہے۔ اس حلقے میں تحریکِ انصاف کی جیت کا امکان زیادہ نہیں۔اگر وہ اپنا امیدوار جماعت اسلامی کے حق میں بٹھا دے توجہاں اس کا بھرم قائم رہے گا وہاں جماعت اسلامی کے ساتھ اس کے اتحاد کو بھی تقویت ملے گی۔ ”
آگے چلیں میں آُپ کے سامنے محترم کالم نگار کے کچھ کالم اور حقائق سامنے رکھتا ہوں کہ کیسے میاں صاحب کو اپنے تجزیئے میں فائدہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
“میرے نزدیک تواس باب میں ایک فرد کی گواہی معتبر ہے اوروہ ہیں ڈاکٹر ثمر مبارک مند۔ان کا کہنا ہے ”چین کی شراکت سے تھر کے بلاک نمبر 2میں کوئلے کی کان کنی کا جو منصوبہ وزیراعظم نواز شریف اور چینی وزیر اعظم کے مابین طے پا یا ہے،اس منصوبے سے آئندہ دو سال میں تھر سے پہلی بارکوئلے کی سپلائی شروع ہو جا ئے گی۔جس سے تھر میں بجلی کی پیداوار کا آ غاز ہو جا ئے گا اور اس کے علاوہ یہ کوئلہ، پاکستان میںکوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے دوسرے منصوبوں سے زیادہ سستی بجلی پیدا کر نے کا سبب بنے گا۔تھر کول سے بجلی پیدا کر نے کی لاگت دس سے بارہ روپے فی یونٹ ہو گی۔دیگر ذرائع سے ہم جو بجلی حاصل کرتے ہیں، اس کی لاگت 22 سے24 روپے فی یونٹ ہے۔‘‘ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے اور بھی بہت کچھ کہا جس میں امید ہے اور روشنی بھی۔
Khurshid Nadeem
بجلی کے منصوبوں کی تعمیر کا تجربہ رکھنے والے ڈاکٹر ثمر مبارک مند کہتے ہیں کہ ان منصوبوں میں سب سے اہم نکتہ ان بجلی گھروں کو ایندھن کی فراہمی ہے:
’چین زیادہ سے زیادہ بجلی گھر بنانے کے لیے مالی یا تکنیکی مدد فراہم کر دے گا لیکن بجلی گھروں سے پیداوار حاصل کرنے کے لیے ضروری ایندھن کہاں سے آئے گا، پاکستان میں پہلے ہی گیس اور تیل کی کمی ہے، کوئلہ آئندہ آٹھ دس سال تک دستیاب ہو گا۔‘
ثمر مبارک مند کے مطابق اپنے لیے ضرورت کی بجلی پیدا کرنے کے لیے بجلی گھر تو پاکستان میں پہلے بھی موجود ہیں، اصل مسئلہ ایندھن کا ہے جو نہ پہلے سے نصب شدہ بجلی گھروں کے لیے دستیاب ہے اور نہ نئے بجلی گھروں کے لیے دستیاب ہو گا۔
BBC URDU
اب یہ بھی پڑھ لیں
“پھرانہوں نے انتخابات میں ہونے والی بد انتظامی کا ذمہ دار جس طرح الیکشن کمیشن کو ٹھہرایا ہے، وہ اسی انداز سیاست کی دلیل ہے۔ پہلے خود مطالبہ کیا کہ انتخابات ایک ہی دن ہوں۔ اب کہتے ہیں کہ ایک دن کیوںکرائے؟ یہ وہی روایتی سیاست ہے، جس سے بیزار لوگوں نے تحریکِ انصاف کا رخ کیا تھا۔ -”
Khurshid Nadeem
The application said the provincial government had requested the ECP to hold the local councils’ election in three phases.
It recalled that the local government elections in 2001 and 2005 were also held in phases in the province.
Thus if the elections were held in phases, not only would less number of polling staff be required but also a lesser number of biometric machines, it said, adding that it would also be in the interest of the public to hold the elections in three phases in the geographical zones of north (Malakand and Hazara), centre (Peshawar and Mardan) and south (Kohat, Bannu and Dera Ismail Khan).
Dawn News Paper
یہ سب کچھ دیکھ کے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ محترم کو خان صاحب سے کتنی “محبت” ہے۔ محترم آُپ کھل کے کے ” اظہارِ محبت” فرماتے رہیں ہم جگر آزماتے رہیں گے لیکن آُپ بھلے آدمی ہیں کم از کم تسلیم کر لیں میاں صاحب آپ کو پسند ہیں گزارش ہے تو ہماری بس اتنی کہ ” صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں والا معاملہ چھوڑ دیں کہ ” تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s