آرچر آئی افسانہ نگاری کا مقابلہ :پہلا افسانہ ،”مکافات عمل”:تحریر رعنائی خیال

نہیں نہیں ڈاکٹر صاحب ایسا کیسے ہو سکتا ہے .. ہماری بیٹی نے تو کبھی آسمان تک نہیں دیکھا آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں.
اس کا تو چہرہ کبھی سورج نے بھی نہیں دیکھا. . کجا اتنی بڑی بات .. مسز انوار نے تیز سانسوں اور اونچی آواز میں غصے سے کہا..
ڈاکٹر مومنہ نے گہری سانس لی اور حواس باختہ بیگم انوار اور انکی بیاہی بیٹی نازیہ کو سمجھانے کے لئے موزوں الفاظ جوڑنے لگی
دیکھیں بیگم انوار آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں ایسا ہی ہو گا جیسا آپ کہہ رہی ہیں .. مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی چهوٹی بیٹی پردہ دار ہے اور آفتاب و ماہتاب تک سے پردہ کرتی ہے.
لیکن میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے آپ کو حقیقت سے آگاہی دینی ہے ..
ڈاکٹر مومنہ خود بھی سمجھ رہی تھیں کہ یہ کس قدر ناقابل یقین صورتحال ہے خصوصاً اتنے وضع دار خاندانی لوگوں کے لئے تو کسی کی بھی کوئی ایسی ویسی بات سننا موت ہے چہ جائیکہ بات بهی اپنی ہی پردے کی پابند بیٹی کے لئے ہو ..
ڈاکٹر مومنہ نے الٹرا ساونڈ اور پیشاب کی رپورٹ پریشان حال ماں کے سامنے رکھ دی ..
اب اس مسئلے کی تشخیص میں کوئی کلام نہ تھا
.. 14 سالہ بیٹی ساتھ ہی معائنہ والے کمرے میں بیٹھی انگلیاں مروڑ رہی تھی ..اور بے آواز رو رہی تھی. .. ڈاکٹر نے اندرونی دروازہ کھول کر اندر جھانکا اور پھر والدہ کو اشارہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی سے مل لے ..
ڈاکٹر مومنہ اپنے آفس میں واپس آ ئیں اور کرسی پر ڈهے سی گئیں. . افسوس اور رنج .. پریشان حال والدہ کے لئے ہمدردی اور کیا ہوا ہو گا کی تجسس آمیز الجھن لئے.. وہ اپنی کرسی کی پشت سے سر ٹکائے ہولے ہولے کرسی جهلائے گئیں .. پیروں کی خفیف سی حرکت ان کے اندرونی اضطراب کا پتا دیتی تھی ..
تھوڑی دیر گزری تو اندرونی دروازے پر دستک ہوئی .. ڈاکٹر صاحبہ نے آنکھیں کھو لیں .. جھولتی کرسی کو روکا اور باوقار انداز میں کہا .. یس.. کم ان
بے آواز دروازہ کھلا .. دوسرے کمرے سے ہلکی سی سسکیوں کی آواز آئی اور پھر دروازہ بند ہو گیا .. مریضہ لڑکی کی والدہ اور بہن کمرے میں داخل ہوئیں ..
سر جھکائے شرمسار سی .. سہارا لے کر چلتی ماں .. جو عمر رسیدہ تو نہ تھی لیکن کچھ ہی پل میں بوڑھی دکھنے لگی تھی …
دونوں ماں بیٹی نے اپنے دوپٹے اور بھی سختی سے لپیٹ لئے تھے جیسے نادانستگی میں وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہوں اور دنیا کی نظروں سے اوجھل ہو جانا چاہتی ہوں ..
کچھ بوجھل پل خاموشی کی نظر ہوئے .. ڈاکٹر نے ایسے بہت سے کیس اپنی روز مرہ پریکٹس میں دیکھ رکهے تھے .. پھر بھی کم عمر مریضہ کو دیکھ کر وہ بھی ابتدائی صدمے کا شکار ہوئی تھی . اب وہ صدمہ ہلکا ہو چکا تھا .. ڈاکٹر کے اندر کی حساس عورت پر اس کے پروفیشنل ازم نے غلبہ پا لیا تھا ..
ایک پروفیشنل کا یہ کام نہیں کہ وہ مریضوں کے ساتھ رونے دھونے لگے .. بلکہ اس کا کام ان کو صدمے سے نکلنے میں مدد فراہم کرنا ہوتا ہے ..
آخر کار لڑکی کی والدہ نے حوصلہ کیا اور بھرائی ہوئی لیکن مضبوط آواز میں گویا ہوئی
ڈاکٹر صاحب میرے شوہر اور سسر کا معاشرے میں نہایت اعلی مقام ہے … آپ جانتی ہیں میرے سسر اکرام بیگ صاحب کونسلر رہے ہیں اور میرے شوہر انوار بیگ صاحب اس دفعہ پارٹی ٹکٹ پر الیکشن میں کھڑے ہو رہے ہیں ..ہمارے خاندان کا معاشرے میں ایک مقام ہے ہم سب خصوصاً ہمارے خاندان کے مرد یہ ذلت برداشت نہیں کر پائیں گے . یا تو وہ اپنے ہاتھوں اپنی اس بیٹی کا گلا دبا دیں گے یا خود اپنے آپ کو ختم کر لیں گے …
یہ کہتے کہتے مسز انوار کا سانس پھول گیا .. انہوں نے متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھا .. ڈاکٹر نے ان خاموش نظروں کا مطلب سمجھ لیا .. وہ اٹهیں. روم فریج کا دروازہ کھولا ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس بهرا اور مسز انوار کے سامنے رکھا .. سوالیہ نظروں سے مسز انوار کی بڑی بیٹی نازیہ کی طرف دیکھا .. مبادا اسے بھی پیاس لگی ہو .. لیکن اس نے نفی میں سر ہلا دیا …. مسز انوار نے کانپتے ہاتھوں سے گلاس اٹھایا ,ہاتهوں کی کپکپاہٹ اتنی واضح تهی کہ پانی بلوریں گلاس میں ہلکورے کهاتا نظر اتا تها . لبوں تک کے سفر میں کچه پانی چهلکا اور بیگم انوار کا دامن آنسووں کے ساته ساته پانی سے بهی تر ہو گیا .. بیگم انوار نے اپنے گلے میں اٹکے آنسوؤں کے گولے کو پانی کے دو تین بڑے گھونٹ بهر کر نیچے اتارا اور دوبارہ سے سلسلہء تکلم جوڑا..
میں نے شازیہ سے پوچھا ہے کہ یہ سب کیسے ہوا .. تم تو کبھی گھر سے باہر نہیں نکلی .. سکول تک تو تمہیں میں لے کر آتی اور جاتی ہوں .. پھر یہ سب کب ہوا .. کیسے ہوا ..
بیٹی نے بتایا ہے کہ جب جب آپ بازار جاتی تھیں تو ساتھ والے ماموں زاد بھائی آ جاتے تھے ..
آہ .. مسز انوار کے آنسو بے قابو ہو کر رخساروں پر لڑهکنے لگے .. میرے ماں جائے کے گھر سے میرے گھر میں نقب لگ گئی .. میں اپنی بھابی کو کہہ کر جاتی تھی کہ میری بیٹی اکیلی ہے .. پڑھ رہی ہے .. زرا خیال رکھنا .. اور میری بهابی اپنے بیٹے کو بھیج دیتی تھیں کہ جاو بہن کا خیال رکھنا .. ساتھ ساتھ پل کر بڑے ہوئے ہیں بلکہ بڑے بھی کیا 14 سال کی میری بیٹی اور 16 سال کا بھانجا … ہم تو انہیں بہن بھائی ہی سمجهتے اور مانتے رہے . ..
میرے بهتیجے فہد نے شازیہ کو چهیڑا تو اس نے مزاحمت کی .. اس وقت مزاحمت کرنے پر فہد نے کہا کہ وہ شازیہ سے محبت کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے ….
ڈاکٹر نے فورا اثبات میں سر ہلایا کہ جیسے کسی مسئلے کا بہترین حل سوجھ گیا ہو..اور بولیں . یہی بہتر حل ہے بیگم انوار بچوں کی فوری شادی ہی اس مسئلہ کا بہترین حل ہے .
بیگم انوار نے اپنا سر نفی میں بہت بےقرار ہو کر جهٹکا.. نہیں یہ ممکن نہیں فہد اور شازیہ ابھی بہت کم عمر ہیں اور خاندانی مسائل ایسے ہیں کہ میرے شوہر کبھی بھی ہماری بیٹی کا رشتہ میرے بھائی کو نہیں دیں گے ..
. آخر میں کیسے اپنی اتنی کم عمر بیٹی کی شادی کروا سکتی ہوں .. انوار صاحب کو کیا کہہ کر راضی کروں گی .. سسر کو کیا جواز دوں گی .. معاشرے کی اٹهی انگلیوں کو کیسے روک پاوں گی .. نہیں نہیں بالکل نہیں
سے ہیں کہ میرے شوہر کبھی بھی ہماری بیٹی کا رشتہ میرے بھائی کو نہیں دیں گے ..
بے بس ماں یکدم اٹهی اور ڈاکٹر کے قدموں میں بیٹھ گئی..
ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ .بہترین لباس زیب تن کرنے والی عورت جو اپنے رکھ رکهاو کے لئے مشہور تھی اس وقت ایک بھکارن کا روپ دھار گئی .جو بہ زبان خاموشی اپنی بیٹی کی جان اور خاندان کی عزت کا سوال کر رہی تهی …
ڈاکٹر مومنہ یکدم ایک ماں بن گئیں جو دوسری ماں کے جذبات سے بهی واقف ہوتی ہے اور عورت کے کرب سے بهی..انہوں نے اس لاچار ماں کو کندھوں سے تهام کر سہارا دیا اور صوفے پر بیٹھنے میں مدد دی .. وہ ماں مانگنے والی کے درجے پر جا کھڑی ہوئی تھی اس کا قیمتی لباس چیتھڑوں کی صورت اختیار کر گیا تھا اور نفیس جیولری ..بدنما منکے محسوس ہوتی تهی وہ بے اواز آنسووں کے ساته ایک مسیحا سے اپنی بیٹی کی زندگی اور خاندان کی عزت کا سوال کر رہی تھی . .. پلیز ڈاکٹر صاحبہ آپ بھی تو ایک ماں ہیں . اولاد نافرمان اور گناہگار ہی کیوں نہ ہو , ماں تو اسے بچانے ہی کی کوشش کرتی ہے نا.. میں اپنی اس بچی کو کیسے مر جانے دوں .. اس باعزت خاندان کو تباہی سے بچا لیں خدارا کچھ کریں ..
ڈاکٹرمومنہ جانتی تھیں کہ جلد یا بدیر انہیں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا . ہر دفعہ ایک سی کہانی ہوتی تھی ..
روتی دھوتی پردے ڈالتی ماں اور شکار ہوئی لڑکی ..
ڈاکٹر مومنہ نے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا اور پردہ رکھنے کا فیصلہ کیا .. ضروری ادویات اور ہدایات کے ساتھ انہوں نے بلکتی ماں اور سہمی ہوئی مریضہ کو تسلی و تشفی دے کر رخصت کیا .. ..
مریضہ کو رخصت کر کے ڈاکٹر مومنہ اپنی سیٹ میں بیٹھ گئیں .. باوجود اس کے کہ وہ ایک پروفیشنل تھیں ان کے سینےمیں ایک حساس دل دهڑکتا تها … وہ افسردہ تھیں اور قدرت کے انصاف پر حیران بهی ..
وہ جانتی تھیں کہ یہ سب کچھ محض ایک واقعہ نہ تھا یہ واقعات کا ایک تسلسل تھا.. ان کے ذہن میں گزرے سال کے واقعات کی ریل چلنے لگی
… پچھلے سال اسی لڑکی کے والد نامور وکیل اور سیاستدان انوار بیگ ایک برقعہ پوش خاتون کے ہمراہ ڈاکٹر مومنہ کے پاس آئے تهے .. انوار بیگ صاحب نے اس خاتون کا تعارف اپنی ایک دور پار کی عزیزہ کی حیثیت سے کروایا تھا اور کہا تھا کہ خاتون کے ہزبینڈ باہر ہوتے ہیں اور ان سے ایک سنگین بھول ہو گئی ہے .. اب بہت پریشان ہیں اور شرمندہ بهی .. ڈاکٹر مومنہ نے محترم وکیل صاحب کو آفس میں ہی انتظار میں کرنے کو کہا اور مریضہ کو کمرہ معائنہ میں لے آئیں .. وہاں خاتون زرا سی ہمدردی پا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی.. پھر اس نے بتایا کہ میرے خاوند کو باہر بھجوانے کے تمام اخراجات ان وکیل صاحب نے ادا کئے ہیں .. میرا شوہر اسے ان کی نیکی اور خلوص سمجھتا ہے لیکن یہ سب اس سودے کی وجہ سے ہے جو ان معزز وکیل صاحب نے مجھ سے کیا تھا .میرے سامنے میرے شوہر کا ویزہ تھا اور دوسری جانب بیڈ روم کا وہ دروازہ جس سے گزر کر ہی وہ ویزہ میرے بچوں کے مستقبل میں روشنی لا سکتا تھا . میرے اندر کی ماں نے اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے اپنا آپ قربان کیا اور وکیل صاحب کا تجویز کردہ سودا منظور کر لیا .. اگر اب بهی کسی وقت میں وکیل صاحب کو انکار کرتی ہوں تو وہ مجھے دھمکی دیتے ہیں کہ تمہارا شوہر واپس آ جائے گا ..
ڈاکٹر مومنہ قدرت کے انصاف کو دیکھ رہی تھیں .. ….مکافات عمل … یہی تو ہےباپ کا پرانا قرض آج بیٹی چکا کر گئی تھی.

.

Advertisements

5 thoughts on “آرچر آئی افسانہ نگاری کا مقابلہ :پہلا افسانہ ،”مکافات عمل”:تحریر رعنائی خیال

  1. آخری پیراگراف کو چند لائنوں میں بہترین بُنت سے سمارٹ سی پنچ لائن کے ساتھ استعمال کیا جاتا توایک عمدہ افسانے کے معیار پہ پورا اترتا ۔۔۔۔ جیسا کہ پہلے بھی ایک کمنٹ میں میں نے عرض کیا کہ سب کہہ دینا فنی چستی نہیں بلکہ کیا نہیں کہنا ۔ یہ فنی پختگی ہے جو یہاں بالکل نظر نہیں آرہی۔

    Liked by 1 person

  2. كسی كے گناه كی سزا كسی دوسرے كو كیسے مل سكتی هے یا كسی كو تھوڑی سزا دینے كے لیے دوسرے كو بڑھے كرب سے كیسے گزارا جا سكتا هے.

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s