افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ ، “للو ” تحریر عماد بزدار

چاچا ہیوتان کو آج گھر پنچنے میں ذرا تاخیر ہو گئی۔ بھیڑ بکریاں باڑے میں پہنچا کر گھر کے اندر آیا۔بیوی بیٹھی روٹی پکا رہی تھی۔ وہیں زمین پر بیٹا ریحان اور بیٹی شانتل بیٹھے نمک مرچ لگا کر روٹی کھا رہے تھے چاچا بھی شامل ہو گیا۔ بیوی نے ریحان کی شکایت کی کہ کل کی بارش سے قریبی تالاب بھر گیا لیکن ریحان پانی بھر کر نہیں لاتا۔ چاچا ہیوتان نے بیٹے کو ڈانٹ دپٹ کی اور جلدی جلدی کھانا کھا کے بیٹھک پنچا ۔ بیٹھک میں حسبِ معمول محفل گرم تھا۔ زیرِ بحث معاملہ اللہ بخش (للّو) تھا۔
رحیم خان بتا رہے تھے آج پھر پولیس نے اُسے جوتے چوری کرتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ یہ تو علاقے کے نام پر دھبہ بنتا جا رہا ہے نہ اسے خدا رسول کا خوف ہے نہ پولیس تشدد کا۔
الٰٰہی بخش ایسے موقعے پر کیسے چپ رہ سکتا تھا ” اور ہمارے لڑکوں کو بھی خراب کر رہا ہے سنا ہے والی بال گیم میں جُوا بھی کھیلتا ہے۔مجھے تو اس کی حرکتیں دیکھ کر لگتا ہے قیامت قریب ہے ساتھ ساتھ بد زبان اور ڈھیٹھ بھی ہے ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے میری اس سے منہ ماری ہو گئی تھی۔
اچھا ؟؟ کس بات پر چاچا ہیوتان نے پوچھا؟؟
اب ایسے بندے کا مسجد میں کیا کام؟ الٰہی بخش نے بات بڑھاتے ہوئے کہا. پچھلے دنوں ہمارے ساتھ نماز پڑھ کر نکلا میں نے گالی نکالتے ہوئے اسے کہا للو تیری ماں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیرا مسجد میں کیا کام؟؟ بجائے غصہ کرنے اور بد مزہ ہونے کے ہمیشہ کی طرح ڈھیٹ بن کر قہقہہ لگا کر ہنسے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ یہاں کون حلال کھاتا ہے؟؟ یہ سامنے سکول کی بلڈنگ ہے پیچھے ہسپتال کی عمارت ہے ایمانداری سے بتایئں کوئی استاد پڑھانے آتا ہے ؟ کبھی ہسپتال میں کوئی ڈاکٹڑ دیکھا ہے کسی مریض کا علاج کرتے ہوئے؟ ابھی پچھلے ہی دنوں تو ماسی حیاتاں کی بیٹی کو زچگی کے لیئے باقی مریضوں کی طرح شہر لے جایا جا رہا تھا کہ وہ فوت ہو گئی۔ ساتھ ساتھ کہتا ہے میری چرائی ہوئی چپلیں اور گرم چادریں کوئی اور نہیں آُپ معزز لوگ ہی آدھی قیمت پر خرید کر استعمال کرتے ہو۔ میں تو مارنے کے لیئے آگے بڑھا تھا کہ لوگ بیچ میں آ گئے کہ کمی کمینوں سے نہیں الجھتے۔ یہ حرامی شرمندہ ہونے یا غصہ کرنے کے بجائے ہنستے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔
کافی دیر سے چپ محمود نے موضوع تبدیل کرتے ہوئے سرگوشی کے سے انداز میں کہا : سنا ہے ہاشم خآن (سردار کا بیٹآ) کل دن کو قادرو شوانکھ (قادرو چرواہا) کے گھر گھس گیا۔ قادرو کے بیٹے نے جب منع کیا تو اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے مارا اور پھر تھانے لے آئے۔ مار کھا کر وہ بے ہوش ہو گیا۔ سردار ابھی اسے جیل بھیجنا چاہ رہے تھے کہ قادرو سردار کے پاس معافی مانگنے آئے اپنی پگڑی سردار کے پاؤں پہ رکھ کر معافی مانگی تب سردار نے جانے دیا۔
ہمارے سردار تو شریف آدمی ہیں اگر کوئی اور سردار ہوتا تو قادرو کے گھر کی ساری عورتوں کو بھی اُٹھا کر لا سکتا تھا تب قادرو نے کیا کرنا تھا؟؟
بے شک بے شک۔ الٰہی بخش نے لقمہ دیا۔ اور اسی لیئے اللہ نے ہمارے سردار کو عزت بھی بہت دی۔ اب آپ دیکھیں جانو لوہار سردار کے خلاف لوگوں کو گمراہ کرنے کی کتنی کوشش کرتا ہے کہ سردار کروڑوں کے فنڈ کھا رہا ہے۔اگر سردار سرکار سے لیکر کچھ کھاتا بھی ہے تو اس میں کیا برائی ہے؟ کونسا ہم سے چھین کے کھا رہا ہے؟؟ پچھلے جمعے مولوی صاحب تقریر کر رہے تھے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا۔سردار کو جو عزت ملی وہ اللہ کی طرف سے ہےہم ان کے خلاف کچھ کہہ کر گناہگار نہ ہوں تو اچھا ہے مولوی صاحب بتا رہے تھے کہ اللہ کا کتنا بڑا کرم ہے سردار پر کہ یہ مسجد سردار کے خرچے سے آباد ہے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی بتا رہے تھے کہ ہر رمضان کو شہر سے جو مٹھائی آتی ہے گاؤں میں باٹنے کے لیئے وہ بھی سردار اپنی جیب سے خرچہ کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر کیا نیکی ہو سکتی ہے۔ الٰہی بخش کی اس تجزیئے کے مکمل ہونے تک رات کافی گزر چکی تھی۔ محفل برخواست ہو گیا۔
اگلے دن صبح صبح یہ خبر سن کر گاؤں والوں نے سکھ کا سانس لیا کہ” گزشتہ رات جوتا چوری کے الزام میں گرفتار اللہ بخش للّو پولیس تشدد میں ہلاک ہو گیا۔

 

Advertisements

2 thoughts on “افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ ، “للو ” تحریر عماد بزدار

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s