ویلنٹائن ڈے پر جاوید چوہدری کا فرضی پیروڈی کالم .ثاقب ملک

ویلنٹائن ڈے سے پہلے آپکو سینٹ ویلنٹائن کو سمجھنا ہو گا .لیکن اس کو فی الحال یہیں چھوڑتے ہیں میں آپکو ایک کہانی سناتا ہوں .ہیر رانجھا کی محبت زبان زد عام ہے.یہ آج سے ٹھیک چار سو بتیس سال،سات مہینے ،چوبیس دن،پندرہ گھنٹے ،پنتالیس منٹ ،چون سیکنڈز ،اٹھائیس مائیکرو سیکنڈز اور سولہ سو ستر نینو سیکنڈ پہلے کی بات ہے ہیر، دریاۓ چناب کے کنارے کھڑی رانجھا سے ملنے کو بیتاب تھی .وہ رانجھا سے مل نہیں سکتی تھی اور پیغام رسانی کا کوئی طریقہ اسکی سمجھ میں نہ آ رہا تھا .اس وقت سینٹ ویلنٹائن اچانک ہیر کے پاس جا پہنچا قہقہہ لگایا اور بولا “مائی ڈیر ہیر تم کب تک آنسو بہاتی رہو گی ؟تم کب تک غم کی سٹرابری آئس کریم کی طرح پگلتی رہوگی ،آخر تم کب تک اپنے بالوں میں تیل کی جگہ صوفی کگنگ آئل لگاتی رہو گی ،آخر تم کب تک رانجھا کے فراق میں ،فریزر سے برف نکال نکال کر کھاتی رہو گی ؟تمہیں اپنی محبت رانجھا تک پہنچانی ہو گی .تم ایسا کرو کہ گلاب کے چند پھول لو ،انہیں گھڑے پر رکھو اور اسے دریا میں بہا دو ،تمہاری محبت کا پیغام رانجھا تک پہنچ جائے گا ” .ہیر نے یہ سنا قہقہہ لگایا اور بولی ہاں تم ٹھیک کہتے ہو .ہیر نے ایسا ہی کیا اور اس دن کے بعد سے محبت اور سرخ پھول لازم و ملزوم ہو گئے .میں حکومت سے درخواست کروں گا کہ وہ پاکستان کی ہر نوجوان لڑکی کے سامنے گھڑا رکھے اور گھڑے میں گلاب کے پھول رکھنے کا بندوبست کرے .اس سے خاص کر نوجوانوں میں محبت کا فروغ ہو گا اور وہ ٹینشن سے پاک ہو جائیں گے . لوگوں میں بھی محبت پیدا ہو گی اور رواداری اور برداشت بھی بڑے گی .
اب ہم دوبارہ سینٹ ویلنٹائن کی جانب چلتے ہیں .ویلنٹائن پورے چاند کی رات کو بارہ بجنے سے ڈھائی گھنٹے پہلے پیدا ہوا اس نے پیدا ہوتے ہی قہقہہ لگایا اور باپ سے بولا “فادر میں شادی کرنا چاہتا ہوں ” ویلنٹائن کے ماں باپ حیران رہ گئے اور ساتھ ہی پریشان بھی کہ روم کے بادشاہ کلیڈؤس نے شادیوں پر پابندی لگا دی تھی .بادشاہ کے خیال میں بغیر شادی شدہ فوجی زیادہ اچھے اور بہادر ہوتے ہیں .باپ نے ویلنٹائن کو سمجھایا اور اسکے منہ میں چوسنی ڈال کر اسے خاموش کرا دیا .مگر ویلنٹائن اپنی دھن کا پکا تھا .وہ بچپن میں یہی ضد کرتا رہا کہ میں نے شادی کرنی ہے اور اسکے ماں باپ ،رشتہ دار اسکی معصوم خواہش پر ہنستے رهتے .ویلنٹائن پادری بنا اور اس نے شادی بھی کر لی .بادشاہ کو خبر ہوئی اس نے ویلنٹائن کو قید کروا دیا .ویلنٹائن قید سے فرار ہوا اور اس نے لاتعداد جوڑوں کی شادیاں کرائیں ،یہ پھر پکڑا گیا اور بادشاہ نے اسکو پھانسی پر چڑھا دیا .مگر وہ اسکی شادیوں سے محبت کو پھانسی پر نہ چڑھا سکا .آپ غور کریں کہ ویلنٹائن ایک ویژنری شخص تھا .اسے شادی کی اہمیت کا اندازہ تھا .میں حکومت سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ وہ بھی شادی کی اہمیت کا اعتراف کرے اور پاکستان میں ہر والدین کے جوڑے کو بچہ پیدا ہونے سے قبل ،سینٹ ویلنٹائن کورس کروایے اور ہر نو مولود بچے کا استقبال ،ہپی ویلنٹائن چائلڈ کہہ کر کرنے کا قانون بنا دے اس سے ہر بچے میں شادی کرنے کی انمول خواہش پیدا ہو گی اور پاکستان کا دنیا میں سافٹ امیج بھی بنے گا اور ملک میں رواداری اور برداشت کو بھی فروغ حاصل ہو گا .

لیکن ہمیں اسکی کیا ضرورت ہے ؟اس سوال سے پہلے آپکو آج کی دنیا کو سمجھنا ہو گا .جنگ عظیم دوم میں امریکا نے نو اگست انیس سو پنتالیس کو ناگا ساکی پر دوسرا ایٹم بم گرایا ،اس بم کے گرنے کے ٹھیک سولہ گھنٹے بعد اس دنیا کو کمرشل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا . ہر چیز ،ہر تہوار کو کمرشل کیا گیا .انسان پہلے گھر بیٹھ کر کھاتا تھا ،میک ڈونالڈ ،کے ایف سی نے لوگوں کو باہر کھانے پر آمادہ کیا ،انسان اس سے پہلے شیمپو نہیں لگاتے تھے مگر اس کے بعد ہر کسی نے شیمپو کا استمعال شروع کر دیا ،غرض ہر چیز کمرشل ہو گئی .اسی طرح تہوار بھی کمرشل ہوئے ،مدرز،فادرز،ڈے وغیرہ نے اہمیت اختیار کی .آپ ویلنٹائن ڈے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ یہ کرسمس کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا تہوار ہے .صرف ایک دن پوری دن میں بیالیس بلین ڈالر کے پھول اور چاکلیٹ فروخت ہو جاتے ہیں .پاکستان میں ایک دن میں لاکھوں ٹن پھول بک جاتے ہیں .چاکلیٹ منوں کے حساب سے بکتی ہے .آپ کے ہزاروں لوگوں کا روزگار ویلنٹائن ڈے سے وابستہ ہے .آپ اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتے .آپ یہ بھی مائیں کہ نوجوان نسل اس تہوار کو پسند کرتی ہے .آپ یہ بھی تسلیم کریں کہ ہم ان مغربی تہواروں کو نہیں روک سکتے .تو کیا آپ اسی طرح اپنی ا خلاقیات کا جنازہ نکلتے دیکھتے رہیں گے ؟نہیں آپ اس تہوار کو سرکاری سرپرستی میں لے لیں .آپ اس دن چھٹی قرار دے دیں .اس دن لوگوں کی شادیاں کروائیں .میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ اس دن ،محبت کرنے والے کپلز کو سٹامپ پیپر پر لکھوا کر پابند کرے کہ وہ ویلنٹائن ڈے پر سب کے سامنے ایک دوسرے کے منہ پر تھوک پھینک کر اپنی محبت کا اعتراف کریں .اس طرح کوئی بھی اس تہوار کا نا جائز فائدہ نہیں اٹھا سکے گا .اس سے محبت کرنے والوں میں محبت بھی بڑھے گی اور لوگوں میں برداشت بھی پیدا ہو گی .
میں یہی سوال لے کر خواجہ صاحب کے پاس گیا .خواجہ صاحب اس وقت کیوبا کا سگار ،مارون گولڈ کے سگریٹ میں مکس کر کے پی رہے تھے .انہوں نے میری بات سنی ،،میرے چہرے پر دھویں کے مرغولے پھینکے ،قہقہہ لگایا اور بولے “جاوید تم لوگ ٹھنڈی ٹوٹی کھول کر گرم پانی کی توقع کر رہے ہو ،تم لوگ کوڑے کے ڈھیر پر لاڈو اگر بتیاں جلا رہے ،تم اپنے منہ پر تھپڑ مار مار کر بجلی پیدا کرنا چاہ رہے ہو ، تم کان میں انگلی ڈال کر قے کرنا چاھتے ہو . میں نے سوال داغا تو پھر ہم کیا کریں ؟خواجہ صاحب بولے ” آپ اس تہوار میں دیسی پن لائیں . آپ زیادہ شادیاں کرنے والے مشہور لوگوں کو اعزازی ویلنٹائن بنا دیں .آپ عمران خان کو پختونوں کا ویلنٹائن ڈکلئیر کر دیں .آپ شہباز شریف کو پنجابیوں کا ویلنٹائن کا بنا دیں .آپ اسلم ریسانی کو بلوچوں کا ویلنٹائن سمجھ لیں ،آپ غلام مصطفیٰ کھر کو سرائیکی بیلٹ کا ویلنٹائن ثانی قرار دے دیں .آپ اسی طرح باقی قومیتوں کے ویلنٹائن بھی بنا دیں “. میں نے خواجہ صاحب کی بات پر غور کیا اور مان گیا کہ یہی اس مسلے کا حل ہے .اس سے ہمارے لوگوں میں تعصب میں کمی آئے گی ،چھوٹے صوبوں کی محرومی میں کمی آئے گی اور پاک چائنا کاریڈور پر جاری تلخی بھی ختم ہو جائے گی .اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو تاریخ ہمیں کسی اندھے کنویں میں پھینک دے گی.

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s