افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ” بھائی” تحریر ملک جہانگیر اقبال

ارشاد صاحب اعلیٰ عھدے پر فائز ایک سرکاری افسر ہیں جب کہ ان کی زوجہ ثمینہ بیگم ایک گھریلو خاتون ہیں اسکے علاوہ ان کی کل متاع حیات ان کی تین بیٹیاں ہیں جن میں ثمرہ جو سب سے بڑی ہے اسکی عمر بیس سال ہے اور گھر میں اسکی شادی کی تیاریاں چل رہی ہیں ، زویا پندرہ سال کی ہے اور اسکول کی طلبہ ہے جبکہ سب سے  چھوٹی بیٹی علیزہ ہے جس کی عمر دس سال ہے . ارشاد صاحب کا یہ چھوٹا سا گھرانہ اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے سرمائے کے ساتھ بہت ہی خوش خرم زندگی گذار رہا ہے . کچھ دن بعد ثمرا کی شادی ہوگئی جس کے بعد گھر خالی خالی رہنے لگا ، پر بیٹی اگر ایک بھی ہو تو گھر میں رونق لگی رہتی ہے یہاں تو پھر ابھی دو بیٹیاں موجود تھیں لہٰذا جلد ہی زندگی دوبارہ سے معمول پر آگئی ، ثمرہ کا شوہر نوید بھی ایک آئیڈیل شوہر اور داماد ثابت ہوا اور جلد ہی ارشاد صاحب کے گھر کا ایک اہم فرد بن گیا .
گھر کے فیصلوں سے لے کر رشتےداریاں نبھانے تک نوید ارشاد صاحب کے شانہ بشانہ رہتا ، جب کہ ثمرہ کی دونوں چھوٹی بہنیں زویا اور علیزہ کو بھی نوید کی شکل میں ایک بڑا بھائی مل گیا خصوصاً علیزہ جو سب سے چھوٹی تھی وہ نوید کی بھی لاڈلی بن گئی . زندگی اپنی دھیمی رفتار سے آگے بڑھنے لگی وقت منٹوں گھنٹوں دنوں اور ہفتوں کی منزلیں پھلانگتا ہوا آگے بڑھنے لگا اور اپنے ساتھ ساتھ نوید کی ارشاد صاحب کے گھر میں اہمیت بھی بڑھاتا چلا گیا . سات سال گذرنے کے بعد اب نوید خود ایک بیٹے کا باپ بن چکا تھا ….
ارے تمھیں گدگدی ہوتی ہے یا نہیں ؟؟ نوید نے کچن میں علیزہ کو چائے بناتے دیکھا تو اسکی کمر میں اپنے ہاتھ رکھ کر اسے گد گدانے لگا
” ہاہاہاہا نہیں کریں نا نوید بھائی چائے گر جاۓ گی . علیزہ نے بمشکل اپنے ہاتھ میں پکڑا چائے کا مگ سنبھالا اور باھر کی جانب لگی ،
ارے ایسے کیسے نا تنگ کروں اپنی گڑیا کو ؟ ہم تو آج بہت گدگدی کریں گے آپ کو .. یہ کہ کر نوید پھر سے علیزہ کے جسم پر اپنی انگلیاں سختی کے ساتھ پھیر کر گدگدی کرنے لگا ، علیزہ اب ایک نوجوان لڑکی بن چکی تھی اسے نوید کا اس طرح سے خود سے مذاق کرنا  با لکل پسند نہ تھا لہٰذا اس نے سختی سے نوید کو جھڑک دیا . آج بہت وقت بعد علیزہ کے ضبط نے جواب دیا تھا ، بچپن میں گود میں اٹھا کر چلنے سے لے کر اب نوید کے اس طرح کی حرکات سے علیزہ کو بہت زیادہ الجھن ہونے لگی تھی ، شروع میں تو علیزہ اسے نوید بھائی کا اپنی چھوٹی بہن سے پیار سمجھتی تھی پر وقت نے جیسے جیسے اسکے شعور کو مضبوط کیا تو وہ نوید کے اسے چھونے سے لے کر اسکی نظروں کی کاٹ تک اپنی جسم کے آر پار جاتی محسوس کرنے لگی تھی . ویسے بھی الله پاک نے عورت ذات کے اندر حفاظتی الارم بہت سی اشکال میں مخفی کر رکھے ہیں . جو مرد کی آواز سے لے کر اسکے انداز تک کے پیچھے چھپی نیت سے عورت کو آگاہ کر دیتے ہیں . وہ الگ بات کہ پھر وہ عورت جب محبت کی پٹی چڑھ جانے بعد اندھی ہوتی ہے تو چیخ چیخ کر اسے خطرے سے آگاہ کرنے والے اپنے قدرتی الارم کو نظر انداز کرتی چلی جاتی ہے ، سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی اندھے کنویں میں گرتی چلی جاتی ہے ..
علیزہ نے آج تہیہ کرلیا تھا کہ وہ اپنی امی کو نوید کی بڑھتی ہوئی غیر مناسب حرکات کے بارے میں شکایت لگائے گی . لہٰذا جب اپنی والدہ ثمینہ بیگم کو قرآن پاک پڑھتے ہوئے دیکھا تو جا کر ان کی چارپائی پر بیٹھ گئی ، ثمینہ بیگم نے چشموں کے عقب سے علیزہ کی طرف دیکھ کر سر ہلایا گویا کہ رہی ہوں کہ صبر کرو میں ذرا آیت مکمل کرلوں ، اور پھر قرآن پاک کو چوم کر لحاف میں لپیٹا اور علیزہ کی جانب متوجہ ہو کر بیٹھ گئیں . کیا ہوا بیٹا چہرا کیوں لال بھبھوکا بنایا ہوا آپ نے ؟ ثمینہ بیگم نے استفسار کیا
مما آپ نوید بھائی کو سمجھائیں مجھے اس طرح نا تنگ کیا کریں مجھے نہیں پسند اس کا مذاق .. علیزہ نے روہانسی سی صورت بنا کر کہا ..
اس کا مذاق ؟ یہ اس کا کیا ہوتا ہے ؟ یہ تمیز سکھائی ہے ہم نے تمھیں ؟ بڑا بھائی ہے وہ تمہارا اگر بہن سمجھ کر تھوڑی ہنسی مذاق کر لیتا ہے تو تم بدتمیزی کرنے لگی اس سے ؟ ثمرہ نے مجھے تھوڑی دیر پہلے ہی بتایا ہے کہ نوید کہ رہا تھا اس نے علیزہ کو  مذاقاً تنگ کیا تو اس نے آگے سے بدتمیزی کی ، یہ جو تم ڈرامے فلمیں دیکھتی ہو نا سارا گند انہی چیزوں نے تمہارے دماغ میں بھر دیا ہے ، اگر تمہارے ابو کو پتہ چلے نا تو خیر نہیں تمہاری … یہ کہ کر ثمینہ بیگم چارپائی سے اٹھ گئیں اور لان کی جانب جانے لگیں جب کہ علیزہ حیران و پریشان کرسی پر ڈھے سی گئی . وہ ان سب کو کیسے سمجھاتی کہ وہ بھائی ہی سمجھتی ہے پر اب نوید اسے بھائیوں جیسا تحفظ دینے والا محسوس نہیں ہوتا . بچپن میں نوید کا اسے گود میں اٹھانا اور اب اسکا اسکے گالوں کو چھونا ایک جیسا نہیں تھا ، بچپن میں نوید کا اسے آئس کریم کھلانے لے جانا اور اب اسکا اسے کمر میں چٹکی کاٹنا ایک کیسے ہوسکتا ہے بھلا ؟
ماں کی جانب سے اس طرح کے جواب کی توقع با لکل نا تھی لہٰذا علیزہ نے پھر اس بارے میں ماں سے کوئی بات نہ کی . اس نے یہ مان لیاکہ شاید وہ ہی غلط سوچ رہی ہے بھلا نوید بھائی کیوں اسے لے کر کوئی غلط خیال دل میں رکھیں گے ، پر اسکی یہ سوچ زیادہ عرصۂمضبوط   نہ رہ سکی ، نوید جب بھی آتا اسے بہانے سے چھونے کی کوشش کرتا اور زو معنی جملے تو وہ گھر والوں کے سامنے بھی بولتا رہتا جسے گھر والے ” بھائی” کا مذاق سمجھ کر ہنستے اور علیزہ سر سے پر تک ایک عجیب شکست خوردہ احساس کے شکنجے میں جکڑی جاتی . پر اب علیزہ نے تہیہ کرلیا تھا کہ وہ نوید کا سامنا کرنے سے ہر ممکن حد تک اجتناب کرے گی ، وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکی بہن کا گھر خراب ہو یا پھر زیادہ شکایت کرنے کی وجہ سے اسکی اپنی حیثیت گھر میں مشکوک ہوجاۓ .
کچھ ہی دنوں بعد ثمرہ سے چھوٹی اور علیزہ سے بڑی بہن زویا کی شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں اس موقع پر جہاں لڑکیوں کے چہرے پر خوشی کے رنگ بکھرے ہوتے ہیں اور بہنیں شاپنگ کے لئے باھر جانے کی خوشی میں پھولے نہیں سما رہی ہوتی ہیں وہیں علیزہ کا چہرا زرد پڑا ہوا تھا . اور اسکی پریشانی بلاوجہ نہیں تھی . ثمرہ بمع اپنے شوہر یہیں رہنے آرہی تھی . شادی کے فنکشن دس دن تک چلنے تھے لہٰذا نوید کے مشورے بعد ثمرہ نے اپنے میکے میں ہی رہنے کا پروگرام بنا لیا دوسری جانب ارشاد صاحب کی بھی ضد تھی کہ “بیٹا” ساتھ ہوگا تو کام میں آسانی ہوجاۓ گی اور باہر کے تمام معاملات نوید ہی دیکھ لیا کرے گا . پر اس سب کا ایک ہی مطلب تھا کہ اب علیزہ ہر وقت جاگتے سوتے نوید کی نظروں کی سخت چیر دینے والی تاب برداشت کرے گی جو اسے اپنے جسم کے پار جاتی محسوس ہوتی تھی .
مما میں نے کچھ چیزیں لینی ہیں بابا کو بولیں مجھے مارکیٹ تک لے جائیں .. علیزہ نے ثمینہ بیگم سے کہا ..
کیا لینا ہے تمھیں ؟ دیکھو زیادہ فضول خرچی نہیں کرنا ،، ثمینہ بیگم نے مسکرا کر علیزہ سے کہا
“اوہو مما سب کچھ تو ہے میرے پاس بس کچھ پرسنل سامان لینا تھا” . علیزہ تھوڑا جھجکی ،
ثمینہ بیگم بیٹی کی ضرورت سمجھ چکی تھیں لہٰذا کچھ پیسے بھی علیزہ کے ہاتھ میں رکھ دیے اور پھر نوید کو آواز دے کر بلا لیا ، بیٹا تم علیزہ کو ذرا مارکیٹ تک لے جاؤ اس کے ابو تھکے ہوئے ہیں ابھی سوئے ہیں ، جی امی جان میں لے چلتا ہوں ، چلو علیزہ تیار ہو کر باہر آجاؤ میں جب تک گاڑی نکال لوں .. یہ کہ کر نوید گھر کے مرکزی دروازے سے باہر کی جانب چل دیا جب کہ علیزہ ہونکوں کی طرح منہ کھولے بیٹھی رہی .. مما میں نے آپ سے کہا تھا مجھے کچھ پرسنل سامان لینا ہے اور آپ … آپ لوگ اتنے عجیب کیوں ہوتے جارہے ہو کچھ سمجھ نہیں لگتی کیا ؟ علیزہ اونچی آواز میں بات کرنے لگی ،
“خبردار جو تم نے اپنی آواز بلند کی تو ” ارشاد صاحب کمرے سے باھر نکل آئے تھے اور علیزہ کو قہر آلود نظروں سے گھور رہے تھے ، پتہ نہیں تم کس پر چلی گئی ہو میں نے تو اپنی بیٹیوں کی بہت اچھی تربیت کی تھی . مجھے پتہ چلا ہے تم پہلے بھی نوید سے بدتمیزی کر چکی ہو ، جس شخص نے سگے بھائیوں جیسے تمھیں سمجھ کر بچپن سے بھائیوں کی ہر کمی پوری کی آج تک اسکے خلاف ہی بدزبانی کرتی ہو ؟ ارشاد صاحب اور بھی جانے کیا کیا کہ رہے تھے پر علیزہ کا دماغ سن ہوچکا تھا وہ اپنے گرد و پیش سے بے خبر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی . آنسوؤں کی ایک قطار اسکی معصوم کاجل لگی آنکھوں سے ہوتی ہوئی اسکے گالوں پر سیاہ لکیر بنائے جارہی تھی ٹھیک ویسی ہیں سیاہ لکیر شاید اسکے گھر والوں کے دماغ پر بھی پھری ہوئی تھی جو وہ اپنی نوجوان بیٹی کا دکھ یا خوف نہیں سمجھ پا رہے تھے ..
واش روم میں داخل ہوکر علیزہ دھاڑیں مار مار کر روتی رہی اور اپنے دل کا بوجھ آنسوؤں کی صورت میں گرتی رہی پھر اس نے ہمت مجتمع کی اور ہاتھ منہ دھو کر  باہر کھڑی گاڑی میں بیٹھ گئی جہاں نوید اس کا پہلے سے انتظار کر رہا تھا ،
آگئی ہماری گڑیا ! گلابی سے چہرے کو اتنا پھلایا ہوا ہے تھوڑا مسکرا دو ورنہ مجھ سے اتنا معصوم چہرہ وہ بھی غصے کی حالت میں دیکھنا برداشت نہیں ہو پائے گا تھوڑ سا ا رحم کرو ہم پر .. نوید اسی طرح کی جملے بازیاں کرتا رہتا تھا لہٰذا علیزہ نے کوئی توجہ نہیں دی اور اپنی نظریں سامنے گاڑی کے ونڈ سکرین سے باہر کے نظارے پر ہی مرکوز رکھیں ، بادل نخواستہ نوید نے گاڑی سٹارٹ کی اور کچھ ہی دیر میں وہ شاپنگ مال کے مرکزی دروازے کے باہر پہنچ گئے ، علیزہ نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور بنا کچھ کہے شاپنگ مال میں داخل ہوگئی ، کچھ زیادہ تو لینا نہیں تھا لہٰذا خواتین کے لئے مخصوص ایک دکان میں داخل ہونے کے بعد اپنی مطلوبہ اشیائے ضرورت خریدیں اور واپس باہر کی جانب آنے لگی ، گاڑی پر سوار ہو کر جب اپنے کندھے پر پرس کا بوجھ محسوس نا ہوا تو اسکا ماتھا ٹھنکا کہ وہ تو پرس دکان میں ہی بھول آئی ہے .. بھائی میں اپنا پرس بھول آئی ہوں ، میں لے کر آتی ہوں .. یہ کہ کر علیزہ پھر سے شاپنگ مال کی جانب بڑھ گئی ..
کچھ ہی دیر بعد وہ پرس لےکر واپس آگئی اور وہ دونوں گھر کی جانب واپس جانے لگے ..
کچھ دیر تو سفر خاموشی سے ہی کٹتا رہا پھر اچانک نوید نے علیزہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا “تمہاری آپی کو یہ برانڈ نہیں پسند ، تم بھی کچھ اور ٹرائی کرو ” اور پھر مختلف کمپنیوں کے نام لینے لگا .
علیزہ آنکھیں پھاڑے نوید کو دیکھنے لگی ، بھائی کس بارے میں بات کر رہے ہیں آپ ؟ علیزہ نے استفسار کیا
” ارے اسی سامان کے بارے میں بات کر رہا ہوں جو تم نے لیا ہے ابھی .. نوید نے قدرے بے فکری سے جواب دیا
وہاٹ دا ہیل … کیا آپ نے میرے سامان والے شوپر کو کھولا ؟ آپکو شرم نہیں آتی ؟
شرم کیسی ؟ کیا مجھے ان سب کے بارے میں نہیں پتا ؟ آخر ایک بیوی کا شوہر ہوں .. نوید نے آنکھ کا ایک گوشہ دباتے ہوئے اسی بے فکری سے جواب دیا..
اور یہ تم اتنا کیا چھپتی رہتی ہو مجھ سے ؟ میرے سامنے بڑی ہوئی ہو تمہاری کیا شے مجھ سے پوشیدہ ہے ؟ میں نے تمھیں وہاں سے بھی دیکھا ہوا جہان شاید تم خود کو بھی نا دیکھ پاتی ہو .. نوید بولتے چلے جا رہا تھا جب کہ علیزہ کی آنکھوں میں غصہ سے سرخی اتر آئی تھی اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس کا دماغ پھٹ جائے گا آج ..
“انتہائی کوئی ذلیل انسان ہو تم ” علیزہ اب غصے سے پھنکارنے لگی تھی اور اس کا چہرہ لال بھبوکا ہوئے جارہا تھا ، اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ نوید کو آگ لگا دے ، اسے اپنی ذات انتہائی غیر محفوظ محسوس ہورہی تھیں جیسے بیچ چوک میں کسی نے اسکا دوپٹہ اتار کر کھڑا کردیا ہو . اور ہر گذررنے والا اس کے جسم کے خدو خال کا بغور جائزہ لے رہا ہو …. خدا خدا کرتے گھر آیا اور علیزہ اپنا سامان اٹھائے تیز تیز سانسوں کے ساتھ سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی . اس کے ہاتھ مارے غصے کے کانپ رہے تھے . ذلت اور پستی کا احساس اسے سر سے لیکر پاؤں تک بہت شدت سے محسوس ہورہا تھا ، اور پھر اسی حالت میں وہ کب سو گئی اسے احساس ہی نہ ہوا . جب آنکھ کھلی تو گھر والوں کو اپنے ارد گرد کھڑے پایا جب کہ اسکے ساتھ ہی موجود کرسی پر ڈاکٹر موجود تھا . علیزہ کو شدید تیز بخار ہورہا تھا . زویا جب اسکے کمرے میں آئی تھی تو اس نے علیزہ کے ماتھے کو پسینہ سے شرابور دیکھ کر ہاتھ لگایا اور پھر ارشاد صاحب کو آگاہ کیا تو وہ ڈاکٹر لے آئے ،
بس بخار ہے شاید تھکن وغیرہ کی وجہ سے ہوگیا ہوگا ، گولیاں دے دیجئے گا اور جو دوائی اسٹور سے منگوابنی ہے وہ بھی منگوا لیں ان شاء الله بلکل ٹھیک ہوجائیں گی علیزہ صاحبہ ، ڈاکٹر نے مسکرا کر علیزہ کی جانب دیکھا اور پھر ارشاد صاحب ڈاکٹر کو چھوڑنے  باہر کی جانب چل دیے ..
کیا ہوگیا میری گڑیا کو .. ثمینہ بیگم نے پریشانی بھری نگاہوں سے سے علیزہ کی جانب دیکھا تو علیزہ ان کے گلے لگ کر بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگی . بس میرا شیر بچہ بہت جلدی ٹھیک ہوجاۓ گا ، ثمینہ بیگم اسکی کمر پر ہاتھ مسل کر تسلیاں دینے لگیں پر وہ کیا سمجھاتی کے یہ تھکن اسکے جسم کی نہیں اسکے اعصاب کی ہے جس پر ایک بھیڑیے کی ہوس سے بھری نگاہیں اپنا بوجھ دن بہ دن بڑھاتی چلی جارہی ہیں اور وہ بھیڑیا گھر والوں کے لئے ایسی مقدس گائے ہے کہ جس کے بارے میں گھر والوں کو آگاہ کرنا اپنا ہی کردار مشکوک کروانے کے مترادف ہے …
بہت سوچ و بچار کرنے کے بعد علیزہ نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اپنی بڑی بہن کو اس سب کے بارے میں آگاہ کرے گی اب اور زیاد وہ اس اذیت کو نہیں برداشت کرے گی . لہٰذا جب سب کمرے سے چلے گئے تو اس نے ثمرہ کو روک لیا ..
آپی مجھے آپ سے بات کرنی ہے .. علیزہ نے ثمرہ کو روک کر کہا
ہاں علیزہ مجھے پتہ ہے تم نے کیا بات کرنی ہے . دیکھو میں تمہاری بڑی ہوں میں بہت پہلے ہی سب جان گئی تھی پر تمھیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں بچپنے میں بندے سے غلطیاں ہوجاتی ہیں بس آئندہ ایسا کچھ نہ کرنا ..
کیا مطلب آپی ؟ علیزہ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے . مطلب اگر آپی کو سب پتہ تھا تو انھوں نے اپنے شوہر کو روکا کیوں نہیں ؟
مجھے نوید نے بتایا ہے کہ تم اپنا پرسنل سامان لینے گئی تھیں تو نوید سے پوچھ رہی تھیں کہ آپی کون سا استعمال کرتی ہیں جس پر انھوں نے تمھیں ڈانٹ دیا اسلئے تمھیں خوف سے بخار ہوگیا کہ کہیں وہ تمہاری شکایات نہ کردیں . دیکھو وہ تمہارے بھائی جیسے ہیں ، چاہتے تو کتنا ذلیل کروا سکتے تھے تمھیں پر انھوں نے ہماری عزت کی فکر کرتے ہوئے صرف مجھے رازداں بنایا .. تم میری چھوٹی بہن ہو میں ہاتھ جوڑتی ہوں تمہارے آگے تم اپنے ذہن میں بھرا نوید کے لئے گند باہر نکال دو میرا شوہر ہے وہ . تمھیں ایسی کیا آگ لگ گئی ہے ؟ میں ابو سے بات کرتی ہوں کہ اب اگر تمہارا کوئی رشتہ آئے تو وہ فورا تمہاری کہیں شادی کروا دیں ..
ثمرہ اور بھی کیا کچھ بولتی رہی پر علیزہ کو اب اپنی آنکھوں سامنے فقط اندھیرا نظر آرہا تھا وہ اتنی بری طرح سے ٹوٹ چکی تھی کہ شاید اب اگر سمٹی بھی تو وہ علیزہ نہیں رہتی ..
خیر دن گزرتے گئے اور زویا کی شادی ہوگئی نوید اور ثمرہ بھی اپنے گھر واپس چلے گئے ..
پر اب علیزہ بہت بدل چکی تھی ، گھر والوں سے بول چال با لکل ہی بند کردی اگر بہت بار آوازیں دینے پر وہ آواز سن بھی لیتی تو سامنے والا کیا کہ رہا ہے یہ اسکے دماغ میں   نا بیٹھتا .. ماں باپ بہنیں یہ رشتے برے لگنے لگے تھے . اور جب کوئی معصوم اپنی معصومیت کھوتا ہے تو شیطان بھی اس سے خوف کھانے لگتا ہے ، علیزہ بھی اب اپنی معصومیت کھو چکی تھی اور اپنے گھر والوں کو اپنا دشمن مان بیٹھی تھی ..
مما علیزہ اپنے کمرے میں نہیں ہے .. شادی کے کچھ ماہ بعد اپنے سسرال سے آئی زویا نے پریشانی سے ثمینہ بیگم کو کہا تو وہ بھاگتی ہوئی علیزہ کے کمرے میں آئیں . اپنے ابو کو بلاؤ جلدی ثمینہ بیگم سر پر ہاتھ رکھے وہیں زمین پر ڈھے سی گئیں ابھی زویا ارشاد صاحب سے فون پر بات کر کے انہیں آگاہ کر ہی رہی تھی کہ ثمرہ اپنے بچے کو گود میں اٹھائے روتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی اور زمین پر بیٹھی اپنی ماں کے گلے لگ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی …،
مما مجھے نوید نے طلاق دے دی .. ثمرہ نے روتے ہوئے کہا .. یہ دوسری بجلی تھی جو اس چھوٹے سے گھرانے پر گری تھی ، یہ سن کر زویا کے ہاتھ سے موبائل گر پڑا …
تین مہینے ہوگئے اس بات کو علیزہ کا کچھ پتہ نہیں چلا پھر ایک دن فون کی گھنٹی بجی …
ہیلو آپی !
فون ثمرہ نے اٹھایا تھا اور دوسری جانب علیزہ کی آواز سن کر وہ ہکا بکا رہ گئی ..
کہاں ہو تم علیزہ.. ہم مر گئے تمھیں تلاش کر کر کے ..
ثمرہ کو اس طرح روتے ہوئے فون پر بات کرتا دیکھ کر باقی گھر والے بھی پاس آگئے ..
آپی میں نے نوید سے شادی کرلی ہے اور ہم بہت خوش ہیں .. علیزہ کی یہ بات بجلی بن کر ثمرہ پر گری ..
کیا ؟؟ ذلیل لڑکی تم نے میرا گھر اجاڑ دیا .. اس خبیث شیطان کو شرم نہ آئی ..ثمرہ دھاڑنے لگی
کیوں آپی حیرانی کیوں ہورہی ہے آپکو ؟ آپ میں ایسا کیا ہے جو مجھ میں نہیں ؟ آپ سے زیادہ جوان ہوں نوید کو آپ سے زیادہ خوش رکھ سکتی ہوں اور ویسے بھی میں تو ” لاڈلی ” ہوں نا نوید کی …
خبیث ہے وہ استعمال کر رہا ہے تمھیں .. اپنی بہن کا گھر اجاڑ دیا تمھیں شرم نہیں آئی .. ثمرہ پر کرب کا پہاڑ ٹوٹ رہا تھا ..
کاش آپ لوگ میری تکلیف بھی سمجھتے .. مجھے نوید کی رکھیل نہیں بننا تھا آپی .. بیوی بن کر میرا ضمیر پھر مطمئن ہے .. اور ہاں آپی پلیز مجھے جو کہنا ہے کہیں پر نوید کو کچھ نہ کہیں .. ” بھائی” ہے وہ آپ کا … جس کاٹ دار انداز میں علیزہ نے یہ لفظ ” بھائی ” کہا تھا اسکی شدت اور درد نے ثمرہ کی ٹانگوں سے جان نکال دی اور وہ دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی سب پوچھتے رہے کیا بات ہوئی کیا بات ہوئی پر ثمرہ فقط ایک ہی لفظ منہ سے نکال پائی ..

“وہ بھائی نہیں بھیڑیا تھا جو ہماری بہن اور ہماری خوشیاں کھا گیا ..”

Advertisements

4 thoughts on “افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ” بھائی” تحریر ملک جہانگیر اقبال

  1. اختتام سے شدید اختلاف ہے۔۔
    مجھے یہ بتائیں کیا یہ سچی کہانی ہے۔۔ اختتام کے حوالے سے ؟
    کہانی اور پلاٹ تو ہمارے اس معاشرے کی عام کہانی کہے جا سکتے ہیں۔ایسی کہانی جو ہمیشہ ان کہی ان سنی رہ جاتی ہے۔ آپ نے تو پھر بھی اس شخص کی بات کی جس سے خون کا رشتہ نہیں تھا فقط کاغذ کے ٹکڑے کا رشتہ تھا جسے اس نے چند لفظ کہہ کر حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا۔اور اسی لیےاس کہانی کا انجام بھی ہو گیا۔
    کیا کبھی کوئی ایسی کہانی لکھی جا سکتی ہے جس میں خون کے رشتے انوالو ہوں؟ شاید کبھی نہیں کہ اس کہانی کا کوئی انجام ممکن ہی نہیں۔۔۔ سوائے وقت کے اور یا پھر مکافاتِ عمل کے انتظار کے ۔

    Liked by 1 person

      • محترمہ شاید آپ بھول رہی ہیں کہ یہ سچی کہانیوں کا نہیں بلکہ ” افسانہ نگاری” کا مقابلہ ہے . باقی جب ماموں کے ساتھ بھانجی بھاگ سکتی ہے تو کوئی لڑکی اپنے بہنوئی سے شادی کیسے نہیں کر سکتی ؟ زیادہ دور نہیں اکراچی کے علاقہ بلدیہ ٹاؤن میں اس طرح حقیقی تصویر بھی آپکو مل جاۓ گی 🙂 اب میں حقیقی کرداروں کے نام تو لکھنے سے رہا

        Liked by 1 person

  2. بے جا طوالت نے دلچسپی کا عنصر کم کردیا ۔ کرداروں کی بھرمار جس سے وحدت تاثر متاثر ہوتا نظر آیا ۔ البتہ نورین تبسم صاحبہ کی اس بات سے اختلاف کہ ” کیا ایسی کہانی لکھی جا سکتی ہے؟” ۔۔۔۔۔ کہانی تو ہر طرح کی لکھی جا سکتی ہے ۔ رائٹر پابند کب سے ہو گیا؟۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب اسی معاشرے میں ہو رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ جہاں باپ بیٹی کے تعلق کی آئے روز خبریں اخباروں کی زینت بنیں تو کیا رائٹر ‘ سو کالڈ ‘ اخلاق کے نام پہ ایسا ‘ گند ‘ دروازوں کے پیچھے کردے؟۔۔۔۔۔۔۔۔ ان دیکھا کردے؟۔۔۔۔۔
    اسلوب بہتر کیا جا سکتا ہے ۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s