افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ “سیٹھانی کا کتا” تحریرشین زاد

چبا لیں کیوں نہ خو د ا پنا ہی ڈھانچا
تُمھیں راتب مہیا کیوں کریں ہم
وہ بھی اپنا ڈھا نچہ چبا نا چا ہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
انسان کبھی نہیں بھونکتے لیکن وہ سلاخوں کے پیچھے مسلسل بھونک رہا تھا۔ تھوک کف کی صورت اُس کی با نچھوں سے بہہ رہا تھا،پیروں میں زنجیرپڑی تھی اور وہ کُتے کی طرح زمین پر بیٹھا سامنے رکھی پلیٹ میں موجود اُبلے چاولوں پر منہ مار رہاتھا۔ مُجھے اُس کی اس حالت میں یہاں موجودگی پر حیرت کے ساتھ ساتھ افسوس بھی ہو رہا تھا۔ میں اُسے پہچان کر بھی نھیں پہچانناچاہتا تھالیکن پاگل خانے کا انچارج ڈاکٹر سنگھ مسلسل بولے جا رہا تھا۔
اس کا نام میروُ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے جیل سے پاگل خانے بھیجا گیا ہے جہاں یہ سزا کاٹ رہا تھا۔ پاگل پن کا دورہ اسے وہیں پڑا تھا۔اس نے ایک ساتھی قیدی کو کاٹنے کی کوشش کی تھی ۔ آج سے چھ ماہ پہلے جب یہ یہاں آیا تو سخت زخمی تھا ۔ شا ئید جیل والوں نے اپنے طور اس کا علاج کرنے کی کوشش کی تھی لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کیا اس کا علاج ممکن ہے‘‘میں نے ڈاکٹر سنگھ سے پوچھا۔
’’جی نہیں‘‘ڈاکٹر سنگھ نے جواب دیا۔آخری سٹیج کے پاگلوں کی کھوپڑی میں مغز نہیں پانی ہوتا ہے پانی۔
’’ہاں ایسا ہی ہوگا کہ غریب خواہشوں اور ناکامیوں پر اپنے آنسوسدا اندرہی اندر منتقل کرتے ہیں، میرو کی کھوپڑی میں بھی وہی آنسو ہوں گے‘‘۔
’’کیا آپ اسے جانتے ہیں؟‘‘ڈاکٹر سنگھ کی آواز میں حیرت اور اشتیاق کا ملاجلا تاثرتھا۔
’’نہیں‘‘۔ میں اسے نہیں جانتا ڈاکٹر‘‘میں نے صاف جھوٹ بولا۔
میرو سے میری پہلی ملاقات اُس تاریک رات میں ہوئی تھی جب موسلادھار بارش جاری تھی۔اور لکشمی بلڈنگ بجلی کے محکمے کی مستعدی کی تصویر بنی اندھیرے میں بھوت بنگلے کی مانند نظر آرہی تھی۔جب میرے قدم سیڑھی میں گھٹنے پیٹ سے لگائے بیٹھے میرو سے ٹکرائے تو زہن میں آنے والا پہلا خیال کُتے کا ہی تھا۔ میں سمجھا تھا کہ شائید میرا پیر بارش سے پناہ لینے والے کُتے سے ٹکرا گیا ھے مگر جب ماچس کی تیلی کی لرزتی روشنی میں دیکھا تو وہ انسان ثابت ہوا۔اس کے باوجود میرے ذہن مین ایک کُتے ہی کا خیال آیا۔اپنے مالک اور چیف ایڈیٹر موہن لال کی بیوی کے چہیتے کُتے کا جس کے  لئے مجھے ملازم تلاش کرنا تھا۔
نہ جانے موہن لال اوراس کی بیوی کو کُتوں سے اتنی دلچسپی کیوں تھی؟
دیس دیس کے کُتے پال رکھے تھے ۔ ہر کُتے کے لئے ایک ملازم اور ایک کمرہ مخصو ص تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ موہن لال اور اُس کی بیوی کتُوں کی پرورش میں بے اولاد ہونے کا غم چھپاتے ہیں لیکن مُجھے اس بات سے انکار تھا۔ موہن لال جیسے سیٹھوں کی اولاد دو تین سے زیادہ نہیں ہوتیں۔ یہ تو ہم جیسے غریبوں کاہی کا م ہے کہ غلے کی طرح زیادہ سے زیادہ اولاد پیدا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔اب بھلا دو تین بچوں کے نہ ہونے کا غم چھپانے کے لئے پندرہ بیس کُتوں کی پرورش بھی کوئی تُک ہے۔
کون ہے بے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
میری آواز کسی کُتے کو ماری جانے والی لات سے کم نہ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔ میروُ ہوں بابوجی۔۔۔۔۔۔۔ باہر بڑی سخت بارش ہو رہی ہے۔ وہ گھگھیائی ہوئی آواز میں بولا۔ اس کی گھگھیائی ہوُئی آوازسے نہ جانے مُجھے کیوں طمانیت کا احساس ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسا احساس میرے مالک کو بھی ہوتا ہوگا جو پچھلے دس برس سے مجھے نوکری سے نکال دینے کی دھمکیاں دے رہا ہے اور میں اُس کے سامنے گھگھیا رہا تھا یہی سوچتے ہوئے میں نے تالا کھولا اور انسانوں کے کابُک میں داخل ہو گیا جسے عُرف عام میں فلیٹ کہتے ہیں۔۔۔
موم بتی کی ٹمٹماتی روشنی میں چارپائی پر لیٹا تو تنہائی کے احسا س کے ساتھ ہی خیال آیا کہ کیوں نا اس ٹھنڈ میں سیڑھی پر سوئے میرو کو اندر بلا لوں لیکن کچھ عرصے پہلے کی اخبار کی وہ خبر یاد آئی کے جس میں ایک مہمان اپنے میزبان کو قتل کر کے گھر کا صفایا کر گیا تھا دل میں خوف کے اندھیرے کو جب ضمیر نے اپنی آنکھ سے روشن کیا تو تنہائی کو غنیمت جانا۔۔
سویرے حمام جاتے ہوئے میں نے میرو کو غور سے دیکھا ،بڑھے ہوئے بالوں کے ساتھ بے ترتیب داڑھی،پھٹی بُشرٹ، جو کمزور جسم سے جھانکتی پسلیوں کی پردہ پوشی سے قاصر تھی۔انتہائی میلی گھسی پتلون جس کا اصل رنگ نہ جانے کون سا تھا۔ میرے جگانے پر وہ ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا،میں نے اُسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا تو وہ خاموشی کے ساتھ میرے پیچھے ہو لیا۔ نظام دین حجام میرو کو انسان بناتے ہوئے آنکھوں ہی آنکھوں میں مجھ سے میرو کے متعلق مختلف سوالات پوچھتا رہ ایہ وہ سوالات تھے جن کے جواب میرو نے ملباری کے ہوٹل میں ناشتہ کرتے ہوئے اپنی کہانی کی صورت میں دئے تھے۔۔
بابو جی میرا باپ بڑا نامی گرامی آدمی تھا۔ اُس کی ایک آواز پر بازار کی ساری کھڑکیاں اور دروازے بند ہو جاتے تھے۔ بازار کی ہر عورت اُس کے نام سے کانپتی تھی۔ میری ماں بھی وہیں ہوتی تھی۔ بڑے بڑے سیٹھوں کی پیشانی اُس کی چوکھٹ پر جھُکتی تھی۔ پتا نہیں میرے باپ میں اُس نے کیا دیکھا تھا کہ اُس سے شادی رچا لی ۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو احساس ہوا کہ میری ماں مجھے ہمیشہ اپنے آپ سے دور رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ میرا باپ روز شام کو اُسے بنا سنوار کر لے جاتا اور میں اُس کا انتظار کرتا رہتا ۔ ایک بار میں نے اُن کے ساتھ جانے کی ضد کی تو اُنہوں نے مجھے بہت مارا اور’’کُتے‘‘ کی زنجیر کے ساتھ باندھ کر کر چلے گئے پھر میں نے کبھی ضد نہ کی۔ بس انتظار کرتا رہتا۔ صبح اآنکھ کھلتی تو ماں پلنگ پر سو رہی ہوتی۔پلنگ اونچا ہونے کی وجہ سے میں اُس تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اس لیے چاروں طرف چکر لگاتارہتا۔ جب کبھی اُس کی آنکھ کھلتی پہلے تو وہ مجھے گھورتی پھر کہتی ۔۔’’کیا کُتے کی طرح گھوم رہا ہے‘‘
جب بڑا ہوا تو پتا چلا کہ میرا باپ کندن بد معاش نہیں بلکہ ایک بہت بڑا سیٹھ ہے۔ یہ سب باتیں میری ماں نے نشے میں چیخ چیخ کر میرے باپ کو بتائی تھیں۔اُس نے میری ماں کو قتل کر دیا اور خود نہ جانے کہاں بھاگ گیا۔۔۔۔۔
’’پھر بابو جی میں نے بڑے دھکے کھائے‘‘اُس نے آہ بھرتے ہوئے کہا، فاقے کئے ، بھیک مانگی ، لیکن ہر جگہ ’’کُتے ‘‘کی طر ح دھتکارا گیا پھر یہ لفظ میری چڑ بن گیا۔ کبھی کسی نے مزدوری دیتے ہوئے کُتا کہا تو کسی نے بھیک دیتے ہوئے۔ یہاں تک کہ فاقے میں بھوک کی شدت سے اگر سڑک کے کنارے پڑا ہوتا تھا تو بھی یہی سنائی دیتا تھا۔ کیسا کُتے کی طرح پڑا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی کبھی تو بابو جی یوں لگتا ہے کہ میں بھونکنے لگوں گا۔‘‘
دفتر جاتے ہوئے میں نے اسے شام کو ہوٹل میں ملنے کے ساتھ ساتھ کہیں نوکری دلانے کا بھی وعدہ کر لیا۔
موہن لال نے جب دفتر میں اپنے نئے کُتے کے بارے میں پوچھا تو میرے ذہن میں میرو کا خیال آگیا ۔شام کو میں نے میرو کوبتایا کہ اُس کی نوکری کا انتظام ہو گیا ہے تو وہ بہت خوش ہوا۔ لیکن جب اُسے پتا چلا کہ وہ کتے کی دیکھ بھال کے لیے نوکر رکھا گیا ہے تووہ کافی دیر کچھ سوچتا رہا۔۔۔۔۔ مگر پھر اُس نے سر ہلا کر ہامی بھر لی۔اُسی شام میں نے میرو کہ موہن لال کی کوٹھی پر پہنچا دیا۔
دو چار روز بعد میرو مجھے ملا تو وہ بہت خوش تھا ۔وہ جتنی دیر میرے ساتھ رہا سیٹھانی کے کتے کی یوں تعریف کرتا رہا جیسے اُسے کتے پر رشک آرہاہو ۔ ا س نے بتایا کہ کتے کو دن میں دو تین بار دودھ اور بہترین گوشت کھلایا جاتا ہے اعلیٰ شیمپو سے نہلایا جاتا ہے اُس کے لیے کتوں کی خاص خوراک آتی ہے جو بہت منہگی ہے۔ اور اُس نے بتایا۔ ’’ سیٹھانی اکثرکتے سے باتیں کرتی ہے اور کہتی ہے تو موہن لال کی طرح نامرد تو نہیں ہے نہ توُ تو مرد ہے۔توُ میرا موہن لال ہے‘‘۔
وہ کتے کو اپنے ساتھ سُلاتی ہے۔ پھر اچانک وہ خاموش ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اچانک جانے کے لیی کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتے کے بعد موہن لال نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا اور مجھے میرو جیسا آدمی ملازم رکھوانے پر لعنت ملامت کرتے ہوئے بتایا کے اُس نے میرو کو جیل بھجوادیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکے میرو نے نہ صرف سیٹھانی کے چہیتے کتے کو جان سے مار دیا تھا، ساتھ ہی دست درازی بھی کی تھی۔
میں گھگھیا کر موہن لال سے معذرت ہی کرتا رہا ۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ سیٹھ کی اوپر والوں سے کتنی سلام دُعا ہے۔اگر وہ میرو کو کتا مارنے کے جرم میں جیل بھجوا سکتا ہے تو پھر اس جرم میں مدد گار کی حیثیت سے مجھے جیل بھجوانا اُس کے لئے نا ممکن نہیں۔
کچھ عرصے کے بعد میرے ذہن کی سلیٹ سے میرو کا نام صاف ہو گیا۔
آج جب میں اخبار کے لئے ایک آرٹیکل کے سلسلے میں اس پاگل خانے میں آیا ھوں تو میرو میرے سامنے موجود ہے۔
’’چلیے صاحب! اندر چلیں‘‘ڈاکٹر سنگھ نے میرے کندھے پر ہا تھ رکھا تو میں چونک اُٹھا ۔ اس سے پہلے کے میں قدم آگے بڑھا تا میرو نے مجھے پُکارا۔
’’بابو جی۔ بابو جی۔‘‘
میرے گلے میں جیسے کسی نے زنجیر ڈال دی۔ میں پلٹ کر میرو کے کمرے کی طرف جانے لگا تو ڈاکٹر سنگھ نے مجھے روکتے ہوئے کہا۔’’قریب مت جائیں وہ بے حد خطر ناک پاگل ہے‘‘۔
’’ان سلاخوں کے پیچھے موجود پاگلوں سے زیادہ خطرناک پا گل باہر گھوم رہے ہیں ڈاکٹر سنگھ‘‘۔
میں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تو ڈاکٹر سنگھ اس طرح گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا جیسے میں سلاخوں سے باہر رہ جانے والا کوئی پاگل ہوں۔
میں میرو کے قریب پہنچا تو وہ سلاخوں سے سر باہر نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔
’’بابو جی مجھے سیٹھانی کا کُتا بنا دیں نا‘‘

’’بابو جی مجھے سیٹھانی کا کُتا بنا دیں نا‘‘

Advertisements

4 thoughts on “افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ “سیٹھانی کا کتا” تحریرشین زاد

  1. ایک ایسے شخص کی نفسیات کا تجزیہ کرتا عمدہ افسانہ ۔۔۔۔۔۔۔ جو انسان ہو کے ‘ کُتا ‘ بننے کی شدید خواہش میں مبتلا ہے۔ بہت خوب طنز معاشرے کی طبقاتی تقسیم اور کہیں ختم ہوتی انسانیت پہ ۔
    اسلوب بھی عمدہ۔

    Liked by 1 person

  2. انسانی نفسیات کی گرہیں کھولتا یہ افسانہ اس اعتبار سے لائق تحسین ہے کہ اس میں طبقاتی نظام کو بہت خوبی سے طنز کی چھری تلے رکھا گیا ہے
    ایک بات
    آخری سٹیج کے پاگلوں کے سر میں دماغ نہیں پانی ہوتا ہے
    ایک ڈاکٹر کے کردار سے یہ جملہ کسی صورت لگا نہیں کھاتا
    تحقیق کے بعد لکھا جاتا تو زیادہ خوبصورت ہو سکتا تھا

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s