افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ “پچھلے دروازے سے ” تحریر شیراز چوہان سوز

انتساب: لالا صحرائی کے نام —
کیا لکھ دیتا وہ سب جو میرے خیال میں تھا، ایسے میرے خیال میں خیال کی موت واقع ہوجاتی ،، کیا خیال ہے آپ کے خیال میں ؟
سگریٹ کو جھاڑتے ہوئے مخصوص شاعرانہ انداز میں اس نے یہ جملے کہے — سامع ایک متاثرہ خاتون تھیں ، اس ادیب سے متاثر ، متاثرہ خواتین کو شاعر و ادیب ویسے بھی بہت پسند ہوتے ہیں — وہ کہنے لگا کہ مجھے معاشرے کے وہ دکھ لکھنے ہیں جو پہلے کئی بار لکھے جا چکے ہیں مگر جی چاہتا ہے کہ انہی خیالات کو چیخ چیخ کر دہرایا جائے کہ شاید لوگوں میں شعور بیدار ہو کیونکہ سائنس کی رو سے لگاتار اگر ایک شے کا حملہ بار بار ہوتا رہے تو وہ آہستہ آہستہ سرایت کرنے لگتی ہے .
وہ اس سے مزید مرعوب ہونے لگتی ہے مگر پھر اپنے نظریات کو سوچتے ہوئے گویا ہوتی ہے کہ آپ کی بات بجا مگر سدا ناو کاغذ کی چلتی نہیں !! کیا آپ سے پہلے لوگوں نے کم کوشش کی معاشرتی و سماجی مسائل کو رقم کرنے کی پھر آپ کیوں ایسا چاہتے ہیں، ان کے ساتھ جو سلوک برتا گیا کیا آپ اسے بھول گئے کیا ہم لوگ ہمارا معاشرہ فہم و ادراک سے قبل ہی بدگمان نہیں ہوجاتا کیا — ؟ ہمیشہ سے یہی دستور نہیں چلتا رہا کیا — ؟ میں کہتی ہوں آپ آخر میری بات کو سمجھتے کیوں نہیں، اس کے الفاظ کے علاوہ اس کا چہرہ بھی اس کے خیالات کی عکاسی کر رہا تھا —
وہ مبہوت بیٹھا اس کی بات کو سنتا رہا کچھ دیر خاموشی رہی آنکھوں ہی آنکھوں میں دھول اٹھنے سے قبل ہی اس نے کہا کہ تم جانتی ہو میری خاہش ہے میں زندگی میں رنگ بھروں نہ کہ سال بھرتا رہوں ، میں چاہتا ہوں کہ زندگی رنگین ہو ، ہر رنگ سے گلستان کا راستہ نکلے ، مجھ میں سے جو گزرے اسے اس مہک کا احساس ہو ، مہک زمانے کی، مہک گزرے ہوئے کل کی، مہک میرے لفظوں کی، غم کی مہک ، سوز و گداز کی مہک، دلخراش واقعات کی مہک جو مجھے دکھ ہیں زمانے کے ان کی مہک !! میرا قلم مہکتا ہوا قلم ہو، خوں میں ڈوبا ہوا قلم ہو، خوشیاں اگر لکھے تو مصائب و آلام بھی نہ بھولے، میرا قلم آواز ہو معاشرے کے ان ……
مسحور کن آواز میں وہ بولتا جا رہا تھا —
کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی، دستک بڑھنے لگی، آواز تیز سے تیز تر ہوتی گئی، شاید باہر کوئی پریشان کن خبر لایا تھا، پوچھا کون ہے ؟
میں بخشو !! وہ ایک بیرے کی آواز تھی ، ہانپتے ہوئے کہنے لگا صاحب جلدی سے میم صاحب کو لے کر پچھلے دروازے سے نکلیں — پولیس آ گئی ہے.

 

Advertisements

One thought on “افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ “پچھلے دروازے سے ” تحریر شیراز چوہان سوز

  1. ” لکھ دیتا وہ سب جو میرے خیال میں تھا، ایسے میرے خیال میں خیال کی موت واقع ہوجاتی ،، کیا خیال ہے آپ کے خیال میں ؟”
    پہلے ہی جملے میں لفظی تکرار۔۔۔۔۔۔
    البتہ منافقانہ طرزِ عمل پہ اچھا طنز ہے۔ مزید ٹریٹ کیا جا سکتا تھا خاص طور پہ آغاز۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s