افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ “آرام سے ” تحریر محمد فرحان

سردیوں کا زور کچھ کچھ ٹوٹنے لگا تھا ، اس کے باوجود مونا نے موزوں کے ساتھ ساتھ مفلر اور ایک ہائی نیک پہنا ہوا تھا ، کبھی وہ کمبل میں گھس کر اپنے آپ کو گرم رکھتی تو کبھی کچن میں جا کر چولھے کی آگ سے حرارت حاصل کرتی لیکن پھر بھی کسی طور اسے سکون نہیں مل رہا تھا ، وہ کافی دیر سے کسی کے انتظار میں تھی مگر وقت جیسے تھم گیا تھا ، ایک ایک لمحہ سردیوں کی راتوں جتنا تھا .
بیڈ کے دائیں جانب پڑے ٹیبل پر کمپیوٹر کی اسکرین سے کمرے میں کچھ کچھ روشنی تھی جو بہت بھلی معلوم ہورہی تھی اور وہ مسلسل کمپیوٹر کو دیکھ رہی تھی ، دل میں طرح طرح کے خیالات موسموں کی طرح آتے جاتے رہے ، اسے بہت غصہ آرہا تھا اور سوچ رکھا تھا جیسے ہی رامش آئے گا وہ ایک ایک لمحے کا حساب کتاب پورا کرے گی ، اب کی بار اس سے رہا نہیں گیا وہ بیڈ سے اٹھ کر ٹیبل کے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گئی ، دوستوں کی تصاویر پر نظر پڑتی اور آگے بڑھتی جاتی حالانکہ اس سے پہلے کمپیوٹر پر اس کا مشغلہ صرف دوستوں کی تصاویر پر کمنٹ پاس کرنا تھا مگر رامش کے آنے کے بعد سب کچھ آہستہ آہستہ ختم ہوگیا ، اسے جو سکون رامش سے بات کر کے ملتا تھا وہ کسی چیز میں نہیں تھا ، کچھ ہی دیر میں کمپیوٹر اسکرین پر رامش کا میسیج نمودار ہوا جسے دیکھ کر مونا کی جان میں جان آئی مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنی خوشی کا اظہار کرتی مونا نے سوچا کچھ دیر رامش کو بھی پریشان کیا جائے کہ میں کب سے اس کے انتظار میں تھی اور اسے میری فکر نہیں ، اور کچھ نہیں تو کچھ دیر کیلئے ناراضی کی ایکٹنگ ہی ہوجائے ویسے بھی جب رامش مناتا ہے تو زندگی میں بہار آجاتی ہے ،
تمہیں پتہ ہے میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی ، ذرا سی بھی اگر تمہارے دل میں میری اہمیت ہوتی تو آجاتے ،
جان من اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا ، بڑی مشکلوں سے اپنی جان تک پہنچا ہوں ، کسی کام کے سلسلہ میں ہوٹل گیا تھا اسی جگہ سے آرہا ہوں اب اپنی جان کی جان لو گی کیا ؟
افففف اللہ نہ کرے مونا نے خوش ھوتے ہوئے کہا ، ویسے آپ ہوٹل کس کام کے سلسلے میں گئے تھے ؟
اور کس لئے جاتا ؟ پہلے سے بکنگ کرنی ہوتی ہے ورنہ ویلنٹائن کے دن ہوٹل میں کمرے کا حصول بہت مشکل ہوجاتا ہے ،
مگر آپ نے تو کہا تھا ہم کسی پارک میں کچھ وقت کیلئے ملاقات کرینگے ، آپ نے مجھے ہوٹل کا تو نہیں کہا تھا مونا کا حلق خشک ہونے لگا تھا اس لئے جلدی میں جگ اٹھایا مگر اس کے ہاتھوں پر لرزہ طاری تھا بڑی مشکل سے آدھا گلاس بھرا اور غٹاغٹ حلق کے نیچے اتار دیا ،
ہاں میری جان میں نے پارک کا کہا تھا مگر مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوتا کہ تمہیں کوئی نظر بھر کے دیکھے ،
لیکن رامش میں ہوٹل میں کیسے آسکتی ہوں ؟ مجھ سے نہیں ہوگا یہ سب ،
میری جان میں تمہیں صرف دوسروں کی نظروں سے دور رکھنا چاہتا ہوں ، ہم کچھ دیر کیلئے ایک دوسرے کا دیدار کر لیں گے اور ہمیں کیا چاہئیے ؟
مگر ! اس سے پہلے کہ مونا کچھ کہتی رامش کہنے لگا ،
ہمارا رشتہ ہی اعتبار کا ہے ایک دوسرے پر اعتماد کا ہے اگر یہ سب اب تک قائم نہیں ہوا تو ہم نے محبت کب کی ؟
مونا کا دل بہت تیزی سے دھڑکنے لگا طرح طرح کے خیالات ذہن میں آتے اور لمحوں میں گزر جاتے گھبراہٹ کی وجہ سے مونا کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے جس کی وجہ سے مونا نے کہا میں دو منٹ میں آئی ، امی بلا رہی ہے ،
مونا واش روم سے فارغ ہوئی تو ایک بار پھر سے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ گئی اور واش روم میں بیٹھے بیٹھے اس نے ملاقات کا تمام نقشہ ذہن میں کھینچ لیا تھا ، اگر حد سے بڑھا تو واپس آجاؤنگی اور کوشش کرونگی کہ ملاقات بہت مختصر ھو ،
مونا کی مخروطی انگلیاں کی بورڈ پر چلنے لگی اور ٹائپ کیا ، ٹھیک ہے میں آجاؤنگی مگر یہ قدم صرف تمہارے لئے ہے میں تم پر خود سے زیادہ اعتبار کرتی ہوں ، اس کے بعد رات دیر تک یہ چٹ چیٹ جاری رہی اور دونوں نے ایک دوسرے سے زندگی بھر ساتھ نبھانے کی قسمیں کھائی ، عہد و پیمان ہوئے ، جنم جنم کی باتیں ہوئی ،
یہ ایک پانچ ستارہ ہوٹل تھا جس کے کمرے کسی محل سے کم نہیں تھے ، دونوں ایک ساتھ کمرہ نمبر 11 میں داخل ہوئے ہاتھ میں ہاتھ ڈالا گیا ، جذبات عروج پر تھے ، رامش نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مونا کو سینے سے لگایا اور بیڈ پر دراز کر دیا ، بوس و کنار کا دور چل رہا تھا ، تاش کا کھیل جاری تھا ، رامش ایک کے بعد ایک پتہ پھینکتا گیا اور مونا ہر چال کے ساتھ ڈھیر ہوتی رہی ، مونا کی گرفت آہستہ آہستہ کمزور ھوتے ھوتے بالکل ڈھیلی پڑ گئی اور رامش نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکم کا اکا پھینکا ، سرگوشیوں کے ساتھ سسکیوں کا ماحول تھا ، ایسے میں مونا کے منہ سے صرف اتنا ہی نکلا رامش “آرام سے”

 

Advertisements

One thought on “افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ “آرام سے ” تحریر محمد فرحان

  1. چلیے جی اعتبار تو قائم ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ افففف
    اچھا ہے موجودہ دور کے نیٹ کے ‘ مسائل ۔۔۔۔ ‘ یہ خیال ایک اچھی ٹریٹمنٹ کے ساتھ امجد علی شاہ کے افسانے ‘ حصارِ شب ‘ میں پڑھ چکی ہوں ۔۔۔ جو دو ماہ پہلے ایک فورم عالمی افسانہ فورم پہ پبلشڈ ہو چکا ہے ۔۔۔ خیر خیال مل بھی سکتا ہے مگر اس قدر ۔؟۔۔۔۔۔۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s