فروری کے پہلے دو ہفتوں یکم سے 14فروری کی دس بہترین اردو پوسٹس کی آرچر آئی رینکنگ جاری .

پچھلے تین ہفتوں کی طرح اس بار بھی ہم ہفتے کی دس بہترین اردو پوسٹس کے ساتھ حاضر ہیں .فرق یہ ہے کہ اس بار ہم دو ہفتوں یکم فروری سے لے کر چودہ فروری تک کی ٹاپ ٹین اردو پوسٹس لا رہے ہیں .پچھلے ہفتے مصروفیت کی وجہ سے رینکنگ نہ لائی جا سکی .اس بار بھی بلا مبالغہ ہزاروں اردو پوسٹس کو پڑھا گیا ہے .یہ بات یاد رکھی جائے کہ عین ممکن ہے کہ ان دس پوسٹس سے بھی اچھی پوسٹس موجود ہوںمگر ہماری نظروں سے اوجھل ہوں.اس لئے یہ بات اہم ہے کہ نئے نئے اور اچھے لکھاریوں تک اس رینکنگ کا پہنچانا بہت اہمیت کاحامل ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پوسٹس کو دیکھا اور پڑھا جا سکے .حسب دستور ان پوسٹس کو پانچ بنیادی فیکٹرز ،انداز تحریر،موضوع ،استدلال،پیکج،اور معنویت پر پرکھا گیا ہے .ہر فیکٹر کے بیس پوائنٹس ہیں .غلطی کا امکان بہر حال موجود ہے اس لئے آپکی تجاویز جو اس رینکنگ کی جانچی میں بہتری لا سکیں انکو خوش آمدید کہا جائے گا .ہفتے بھر کی اچھی تحریروں کا ایک جگہ اکٹھا ہو جانا ایک سہولت ہے جس سے فیس بک پر متحرک پڑھنے والوں کو ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے .اس بار بھی کی رینکنگ لسٹ میں سات نئے لکھاری اور انکی پوسٹس شامل ہو رہی ہیں .جن موضوعات کی پوسٹس چنی گئی ہیں وہ یہ ہیں ،لبرلز کا مولوی مسلہ ،ہمارا معیار تعریف و توصیف ، شاعری اور ورلڈ ویو ،سوچ اور قرآن ،دولت اور جھوٹ کا کاروبار ،ویلنٹائن اور قربانی ،غامدی اور نیوٹن ،عورت اور مسجد ،میڈیا اور ہمارا لاشعور ،پردہ اور ہماری عقل ،اور گریوٹیشنیل ویو شامل ہیں .نتائج کچھ یوں ہیں .
10.رعایت الله فاروقیriatullah farooqi
پوسٹ “وہ چیلنج اب لبرلز کو بھی درپیش ہے جو مولویوں کو کئی سالوں سے تھا۔ سکہ بند قسم کے لبرل دانشور اب لوگوں کو یہ بتانے پر مجبور نظر آرہے ہیں کہ “اصل لبرل ازم” ہماری تحریروں میں دیکھئے۔ ان کی تعارفی تحریروں والا لبرل ازم معصومیت و ہمدردی کا ایسا پیکر نظر آتا ہے جس کی صورت دیکھ کر لگتا ہے سارے جہاں کا درد اسی کے پچھواڑے میں ہے لیکن یہ کمبخت 14 فروری پتہ نہیں کہاں سے آکر خود ان کے قلم سے ان کا اصل کرب سامنے لے آتا ہے۔ آپ کو تہذیب مشرق سے چڑ ہے تو اس کا برملا اظہار کیجئے۔ آپ لبرل ازم کے نام پر مغربی اقدار مسلط کرنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کو صاف صاف کہنا ہوگا۔ ایک لبرل ازم وہ ہے جو آپ کی تعارفی تحریروں میں نظر آتا ہے اور ایک وہ ہے جو آپ کے کردار میں نظر آتا ہے اور ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ہم آپ کی تحریر نہیں آپ کا کردار دیکھیں گے۔ اصل لبرل ازم اپنی تحریروں میں نہیں کردار میں دکھایئے۔ فی الحال تو آپ کا کردار یہ بتا رہا ہے کہ آپ کی ساری جد و جہد بے لگام ہلے گلے کی آزادی کے لئے ہے۔ اور یہ والی دلی فی الحال بہت دور ہے۔ اسے قریب لانے کے لئے آپ کو ایک عدد مزید پرویز مشرف اور اس کے ڈوگی درکار ہیں اور وہ بھی چھیتی چھیتی کیونکہ پیپلز پارٹی نے تو پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو کبھی محترمہ بینظیر بھٹو شھید کے دور میں بھی نہیں چھیڑا جبکہ میاں صاحب کے لبرل پاکستان میں تو 14 فروری ممنوع نکلا .”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/Riayat.Farooqui/posts/1110595648964429
تبصرہ : فاروقی صاحب نے ویلنٹائن ڈے کے تناظر میں سوشل میڈیا پر جاری لبرلز اور روایتی طبقے ،سیکولرازم اور اسلامی ریاست کی بحث کو پیش نظر رکھ کر لبرلز پر پھبتی کسی ہے اور ساتھ ہی انہیںاپنے تضادات کا احساس بھی دلایا جن کا سامنا عموما مذہبی طبقے کو رہتا ہے .حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کا انتہا پسند طبقہ مذہبی اور لبرلز دونوں میں پایا جاتا ہے .
پوائنٹس بریک ڈاؤن : فاروقی صاحب کے مجموعی طور پر 82ہیں .انکے استدلال اور انداز تحریر میں سترہ ،موضوع ،معنویت اور پیکج میں میں سولہ سولہ پوائنٹس ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس :100/82


9.نظام الدین خان اور اویس قرنی
نظام الدین کی پوسٹ :”_ نرالی قوم__ نرالے معیار__ نرالے انداز__nizam uddin khan
___ ہم پاکستانی من حیث القوم ایک نرالی قوم ہے اور ہماری تنقید وتعریف اور چیزوں کو پرکھنے کا انداز بھی نرالا ہے…..مثال کے طور پر کسے سیاستدان کو معمولی وسادھا لباس زیب تن کئے ہوئے دیکھتے ہیں تو اس کی سادگی کے قصیدے پڑھنا شروع کردیتے ہیں لیکن یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وہ عوام کے صحیح معنوں میں نمائیندگی کا حق ادا کرنے میں کس حد تک کامیاب ہے؟؟؟
فوج کے کسے سپاہی کو سڑک کے کنارے کسی بڑ ھیا کو پانی پلاتے ہوتے دیکھتے ہیں تو اس کی تعریف میں زمین واسمان کے قلابے ملاتے ہیں لیکن اس بات پر کبھی غور نہیں کرتے کہ وہ عوام کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں کس حد تک اپنے فرایض ایمانداری سے ادا کر رہا ہے؟؟؟
سکول کے کسے استاد کو کھیتوں میں خود کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان کی راہوں میں انکھیں بچھادیتے ہیں لیکن بھول جاتے ہیں کہ وہ اپنے پیشے کا حق کس حد تک نبھارہے ہیں؟؟؟
الغرض ہم پاکستانیوں نے زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعریف وتنقید کے لئے عجیب وغریب معیار مقرر کئے ہوئے ہیں جبکہ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کے پیشہ ورانہ کارکردگی کی بنیاد پر پرکھا جائے..”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/nizamuddin.khan.9/posts/750920281707157
تبصرہ : نظام الدین صاحب نے کمال سادگی سے پاکستانی معاشرے کی ذہنی کجی کی نشاندہی کر دی ہے .بنیادی نکتہ بار بار ذہن میں بٹھائے جانے کے لائق ہے کہ ہم لوگوں کو ان پر لادی گئی امانتوں کے حوالے سے نہیں جانچتے بلکہ اپنی ذہنی میلان پر اور غیر متعلقہ چیزوں پر ان لوگوں کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں اور انھیں ہیرو بنا کر بیٹھے ہوتے ہیں .
پوائنٹس بریک ڈاؤن :نظام صاحب نے ٹوٹل پوائنٹس 83لئے ہیں .انکے انداز تحریر میں سولہ ،موضوع اور استدلال میں سترہ ،پیکج میں پندرہ ،اور معنویت میں اٹھارہ پوائنٹس ہیں،.
ٹوٹل پوائنٹس :100/83


اویس قرنی کی پوسٹ :“رویائے زیستawais qarni
رویائے زیست یا Worldview بہت پرانی اصطلاح نہیں. گذشتہ صدی میں جرمن زبان میں Weltanschung کی اصطلاح رائج ہوئی جس کے دائرہ فکر میں فلسفہ کائنات, تصور کائنات ,فلسفہ حیات سبھی کچھ آ جاتا ہے. بیسویں صدی میں یہ اصطلاح فلسفہ اور عمرانیات میں بھی رائج ہوگئی اور اب اس کا شمار ادب اور فلسفہ کی مستند اصطلاحوں میں کیا جاتا ہے.
لیکن Worldview کی اصطلاح وضع ہونے سے پہلے بھی یہ عمل جاری تھا. یعنی اکثر بڑے شعرائے کرام کا ایک رویائے زیست تھا. ہر شاعر رویائے زیست کا متحمل نہیں ہوسکتا , لیکن اس کے بغیر بڑی شاعری معرضِ وجود میں نہیں آتی. یورپ میں دانتے اور شیکسپئر , مشرق میں رومی اور حافظ , اور برصغیر ہندوپاک میں امیر خسرو , بھگت کبیر , غالب اور اقبال کے نام اس کی مثال میں پیش کیے جا سکتے ہیں.
مذکورہ بالا تمام شعرائے کرام میں جو چیزیں مشترک ہیں. وہ کچھ سوالات پر مبنی ہیں.
1:- کائنات کی تخلیق اور اس کے مضمرات اور اس میں انسان کا مقام
2:- تصورِ الٰہ
3:- تصورِ عشق
اس دائرے میں ایک چوتھی جہت بھی شامل ہو سکتی ہے. Nature and power of state
لیکن شیکسپئر کے ہاں تصورِ الٰہ کے وہ تصورات موجود نہیں ہیں جو مشرقی شاعری کی خصوصیت ہے.
ان تمام ہستیوں میں ایک قدرِ مشترک یہ بھی ہے کہ یہ سب کے سب شعرا تاریخ کے تہذیبی اور تمدنی سفر کے اہم موڑ پر نظر آتے ہیں. Dante صلیبی جنگوں کے شرمناک انجام کے بعد اپنی طربیہ خداوندی کے وسیلے سے عیسائی دنیا کو روحانیت اور ایک بہتر تمدن کی طرف متوجہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے.
شیکسپئر کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے طویل خون خرابے اور انگلستان کی طویل ترین خانہ جنگی کے بعد نسبتاً پر امن دور میں پیدا ہوا. اس نے عہد وسطی کی غارت گری کے خاتمے پر اپنے ڈراموں کے وسیلے سے زندگی کو تمام نیرنگیوں اور المناکیوں اور What man has done to man کے موضوع کو خلاقانہ گہرائیوں سے دیکھا.
رومی اور حافظ کئی اعتبار سے مشرقی شعری روایت میں Sign post کی اہمیت رکھتے ہیں. رومی کا کارنامہ بھی “عشق” کے نغمہ جاوداں سے پہچانا جاتا ہے. انہوں نے حضرت محی الدین ابن عربی سے پہلے وحدۃ الوجود کے فلسفے کو شعری قالب میں ڈھالا.
حافظ بھی اپنے رویائے زیست میں کائنات , انسان اور عشق کے آپسی رشتوں کو ازسرنو دیکھتے ہیں.
حضرت امیر خسرو بھی ہندوستان کی تاریخ میں ایسے اہم موڑ پر نظر آتے ہیں جہاں ان کی شخصیت اور شاعری انجذاب اور اتصال کا غیر معمولی تجربہ فراہم کرتی ہے. ایک مخصوص رویائے زیست کے بغیر ایسی شاعری وجود میں نہیں آتی.
ہند کی دوسری ہستی کبیر ہیں. ان کے یہاں بھی کائنات اور تصورِ الٰہ کو ازسرِ نو دیکھنے کی قوی کوشش ہے. کبیر کے یہاں عشق بھگتی میں تبدیل ہو جاتا ہے. انہوں نے جس قوت سے ریاکاری (Hypocricy) اور مذہبی رسوم کی پابندی پر اصرار کو اپنی شاعری میں ہدف بنایا ہے, وہ حافظ کی یاد دلاتا ہے. کبیر بھی ہندوستانی تاریخ کے ایسے تہذیبی موڑ پر نظر آتے ہیں جہاں انسان اپنی شناخت کیلئے ازسرنو بھٹکتا ہوا دکھائی دیتا ہے. کبیر نے بھگتی اور عشق کے حوالے سے اپنے مخاطب ہندو اور مسلمان , دونوں کو , دوبارہ خود کو اوپر اٹھانے پر اکسایا.
کبیر کے بعد ہندوستان میں یہ کارنامہ غالب نے سرانجام دیا. غالب کا ایک Worldview تھا.اور وہ رومی و حافظ و کبیر کی طرح انسانی تہذیب کے سفر میں ایسے دوراہے پر نظر آتے ہیں جہاں کلاسیکی روایت سے جدید ذہن کا سابقہ پڑتا ہے. جیسا کہ غالبیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ غالب ہند ایرانی کلاسیکی شعری روایت کے آخری بڑے اور جدید دور کے پہلے اہم شاعر ہیں. ان کے ہاں بھی تخلیقِ کائنات اور اس کے مضمرات کو ازسرِ نو دیکھنے اور جانچنے کی کوشش ہے. اور انسان کے مرتبے اور وقار کو دوبارہ سمجھنے کا شعری اظہار ہے. خدا کے تصور اور مذہب کے مروجہ رویوں کو جانچنے اور پرکھنے کی جو جہات غالب کے ہاں ملتی ہیں, وہ آج بھی ذہنوں کو چونکاتی ہیں. رومی سے غالب تک بشمول کبیر , تقریباً سبھی کے یہاں راسخ العقیدگی , عدم تقلید اور آزاد خیالی کی راہ سے گزرتی ہوئی مذہب کی تفہیم ملتی ہے. یہ حیرت انگیز اتفاق ہے.
(نوٹ:- مجھ پر ایک پرانا الزام “شخصیت پرست” کا ہے. اس پوسٹ میں تمام شعرا کرام کیلئے “ہستیوں” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے. اس پہ انگلیاں اٹھنے سے پہلے ہی بتا دوں کہ خاکسار شخصیت اور اس کی ذات کی نہیں اس کے علم و فضل کی بنا پر اس کی تکریم کرتا ہے. دانتے , گوئٹے , شیکسپئر , کبیر اور غالب کے ناموں کے ساتھ حضرت نہیں لگتا. لیکن اپنے God Gifted علم و فضل کی بنا پر میرے لیے وہ حضرت ہی ہیں. اور اللہ جسے چاہے عزت و عظمت دے , وہ مالک ہے.)”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/jo.gi.9674/posts/455130511344818
تبصرہ :اویس قرنی نے تحقیقی پوسٹ کا حق ادا کر دیا .عموما یہ دیکھا جاتا ہے کہ فیس بک پر رد عمل ٹائپ تحریریں زیادہ اور ایسی علمی تحقیی پوسٹس بہت کم ہوتی ہیں .اس طرز کی پوسٹس تسلی سے پڑھنے کے لائق ہیں .مشرقی اور مغربی شاعری کا ورلڈ ویو کے تناظر میں عمدگی سے موازنہ کیا گیا ہے .
پوائنٹس بریک ڈاؤن : اویس قرنی کے ٹوٹل 83 پوائنٹس ہیں .انکے انداز تحریر اور موضوع میں سترہ سترہ ،استدلال اور معنویت سولہ ،جبکہ پیکج میں سترہ پوائنٹس ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس :100/83


8.ریاض علی خٹکriaz khatak
پوسٹ :“جیسے ٹریفک کا بے ہنگم سا ہجوم منزل سے دور الجھائے رکھنے کا کوئی بہانہ سا ہو ….
ایسے ہی ذہن میں بےکار سی لایعنی سوچیں جو سوچ کی پاکیزگی کو نگلتے ہوئے اپنے سچ اور سکون کی منزل سے دور کر دیتی ہے.. ایسے میں صرف قرآن کی بات سے سوچ کی اصل اور کھوٹ پرکھی جا سکتی ہے. اپنی سوچ کو قرآن سے پرکھو!”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/riaz.alikhattak/posts/1109702115715952
تبصرہ : خٹک صاحب نے کمال ذہانت اور خوبی سے ذہنی اور لا شعوری پیچیدگی پر ایک مختصر سی تحریر لکھی ہے کہ بار بار پڑھنے اور بار بار سمجھنے کی جانب دل مائل ہوتا ہے .
پوائنٹس بریک ڈاؤن : ریاض خٹک صاحب کے ٹوٹل84 پوائنٹس ہیں .انکے موضوع اور معنویت میں اٹھارہ اٹھارہ پوائنٹس ،پیکج پندرہ ،استدلال سترہ ،جبکہ انداز تحریر میں سولہ پوائنٹس ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس :100/84


7.محمد اعجاز میاںijaz mian
پوسٹ :“1990میں پنجاب یونیورسٹی کے کاغان نوران ٹور کے دوران ہمارے ساتھ ایک لڑکا انجینرنگ یونیورسٹی لاہور کاآوٹ سائیڈر تھا جس کا باپ ایکسائز انسپکٹر تھا اس نے اپنے برانڈڈ کپڑے،بوٹ،پرس بیگ وغیرہ دکھاکر بتایا کہ یہ سب میرے باپ کی حرام کی کمائی کا ہے مجھے اس بات سے بہت دھچکا لگا کیونکہ رشوت اور حرام کی کمائی کے متعلق میری معلومات صرف کتابی اور سنی سنائی باتوں کی حد تک محدود تھیں جو کچھ اس طرح تھیں کہ حرام کھانے والوں کے منہ پر لعنت پڑ جاتی ہے ان کی دنیا وآ خرت خراب ہوتی ہے اور انہیں طرح طرح کی بیماریاں لگی ہوتی ہیں لیکن میرے سامنے سرخ و سفید بارونق چہرے والا سول انجینئرنگ کا ذہین سٹوڈنٹ کھڑا تھا جس نے پہلی بار میرے اندراخلاقیات مذہب ،نظریات اور عملی زندگی میں شدید تضاد کی جنگ چھیڑ دی جو آج 26 سال بعد بھی جاری ہے
پھر میں نےان 26 برسوں میں بہت کچھ دیکھا_میں نے ان لوگوں کو بھی بیشمار اذیت ناک بیماریوں میں مبتلا دیکھا جن کے پاس کھانے کے کیلئے روٹی نہیں اور ان لوگوں کو بھی انتہائی شاندار اور پر آسایش زندگی گزارتے دیکھا جن کا ٹوٹل زریعہ معاش حرام کی کمائی یا ناجائز ہے بڑے بڑے سیاسی،مذہبی لیڈر اور کاروباری شخصیات کا خمیر منافقت ،فریب اور دھوکا بازی سےگوندھا ہے یہاں تک کے جن شاعروں یا ادیبوں نے مقبول ادب لکھا اور قوم کو گمراہ کیا انہوں نے دولت اور شہرت پائی اور جنہوں نے سچ بات کی انہوں بے بھوک غربت اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں یورپ آئے تو دیکھا صبح 6بجے شدید سردی میں کام پر جانے والے کبھی پاکستانی کمیونٹی میں بیٹھتے آٹھتے ہیں تو وہاں آن کی عزت دو ٹکے کی نہیں ،پاکستانی کمیونٹی کے کرتا درتا بڑے بڑے حرام خور، ٹیکس چوراوربنک فراڈکرنے والے ہیں پاکستان کے پوش علاقوں میں جتنے یورپ اور امریکہ ریٹرن لوگوں نے بڑے بڑے بنگلے بنائےہیں 80فیصد سے زیادہ ٹیکس اور بنک فراڈ کا پیسہ ہے اور غریب لوگ وہاں کیڑے مکوڑوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں یعنی آج تک اگر ہمیشہ نہیں تو زیادہ ترجھوٹ،منافقت اور دھوکا باز کا ہی بول بالا دیکھا ہے.”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/ejazmuhammad87/posts/892787537487309
تبصرہ : محمداعجاز میاں صاحب نے حرام مال پر عیاشی کرنے والوں اور انکی دنیا میں عزت اور آسائش کو بہت شاندار اور حقیقی نقشہ کھینچا ہے جو ہمارے مروجہ فلمی سوچ کو ہتھوڑے مار مار جگا دیتا ہے .
پوائنٹس بریک ڈاؤن :انداز تحریر اور معنویت میں سترہ پوائنٹس ،موضوع اور پیکج سولہ پوائنٹس ،جبکہ استدلال میں انیس پوائنٹس ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس :100/85


6.قاری حنیف ڈارQari Hanif dar
پوسٹ :“• نیوٹن اور غامدی ،،
سر اسحاق نیوٹن جو 25 دسمبر 1625ء کو پیدا ھوا اور 1727 میں فوت ھوا، ایک باغ میں لیٹا ھوا تھا کہ اچانک ایک سیب درخت سے گرا اور اس کے سر کو لگ کر لڑھکتا ھوا دور جا گرا ، سر اسحاق نیوٹن جو 7 ماہ کے بعد ھی ایمرجینسی میں دنیا میں تشریف لایا تھا،اور رحم مادر نے بھی دو ماہ پہلے اسے باھر پھینک مارا تھا، وزن صرف اتنا تھا کہ بقول اس کی ماں کے ایک لیٹر کے مگ میں اس کو ڈال کر رکھ دیتی تھی اور گھر کا کام کر کے مگ سے نکال لیتی تھی،، خیر کھاتے پیتے گھرانے کا آدمی تھا،،میری اتنی واقفیت نہیں ھے اس فیملی سے مگر کھاتے پیتے کا ثبوت کچھ یوں ملتا ھے کہ اگر بھوکا ھوتا تو شکر کر کے سیب اٹھاتا اور کھا لیتا،، سامنے رکھ کر سوچتا نہ،،، اس لئے کہ بھوکا سوچتا بھی پیٹ سے ھے اور بقول جبران خلیل درس بھی پیٹ سے سنتا ھے،،کیونکہ جب پیٹ کھلا ھو تو ھر چیز بند ھوتی ھے،،
تو جناب اس نے سیب سامنے رکھا اور سوچا کہ یہ نیچے میرے اوپر کیوں گرا ھے؟ اوپر کیوں نہیں گیا؟ میرے ساتھ اس کی کوئی دشمنی تو نہیں، پھر اسے نیچے کون لایا ھے؟؟ بس جناب سوچ کی چکی چل پڑی اور کششِ ثقل دریافت ھو گئی،،اس دریافت نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا، اور پھر اس کشش کی قوت کو ماپا گیا،، اس کی گرفت سے نکلنے کے لئے جہاز اور انجن اور شٹل اور میزائل اور پتہ نہیں کیا کچھ بننا شروع ھوا،،
نیوٹن پادری بننے سے بار بار انکار کر چکا تھا،،بلکہ ایک دفعہ جب وہ اپنے ایک اعزاز اور عہدے کے لئے مجبور ھو گیا کہ پادری بنے کیونکہ اس معزز اور مذھبی پوسٹ کے لئے پہلے پادری کے مرحلے سے گزرنا پڑتا تھا،، مگر نیوٹن نے برطانیہ کے بادشاہ کا خصوصی اجازت نامہ حاصل کر کے جان چھڑا لی،،
،، خیر ایک طرف دنیا اس پر اعزازات اور انعامات کی بارش کر رھی تھی – اعزازی شہریت پیش کر رھی تھی ، اس کے ایک ایک لیکچر کی بھیک مانگی جا رھی تھی،،
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، اور ،،،،،،،،،،،،،،،،،
دوسری جانب یہودی علماء کا ایک بورڈ بیٹھا اس کی تقدیر کا فیصلہ کر رھا تھا،،
ایک پادری نے اس کی اس دریافت بارے رپورٹ پیش کی اور علماء کمیشن سے ان کی رائے طلب کی !
سب سے پہلے ایک چمگادڑ نما پادری اٹھا اور اس نے اعتراض کیا کہ یہ سیب صدیوں سے لگتے چلے آ رھے ھیں ،،کوئی نئی دریافت نہیں ھے، آسمانی صحیفوں میں سیبوں کا ذکر ھے،، سیب ھمیشہ سے نیچے ھی گرتے آئے ھیں،پہلی دفعہ سیب نیچے نہیں گرا تھا،، ھمارے اسلاف نے تو اس قسم کا کوئی نظریہ پیش نہیں کیا! اب اس لونڈے کے کہنے پر ھم اپنے اسلاف کی عقلوں کا ماتم کرنے سے تو رھے،،خود اس سے سوال کیا جائے کہ اسے 50 سال ھوگئے سیب کھاتے اور سیبوں کو گرتے دیکھتے، پھر یہ خیال اسے پہلے کیوں نہیں آیا اور اب کیوں آیا ھے ؟؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ سیب سر پر لگنے کی وجہ سے اس کا کوئی پیچ ڈھیلا ھو گیا ھو،، لہذا اس کا مکمل میڈیکل چیک اپ کروا کر کوئی فیصلہ کیا جائے !
اگلے پادری نے نکتہ اٹھایا کہ ،،جناب یہ ھمیشہ سے دین بیزار شخص رھا ھے اور پادری بننے سے بھی نفرت کرتا ھے، جب اللہ کہتا ھے کہ پتہ میں گراتا ھو اور میرے حکم سے گرتا ھے تو پھر اس شخص کا یہ کہنا کہ کشش ثقل چیزوں کو زمین پر گراتی ھے، اللہ کے قول کی تکذیب ھے،، اور سامنے سامنے دین کا انکار ھے۔۔
اس شخص نے اسلاف کی عقول پر بھپتی کسی ھے !
اس نے اللہ کے مقابلے میں ایک نئی قوت لا کھڑی کی ھے جو زمین میں جاری و ساری ھے !
جو نکتہ اسے پچھلے 40 سالوں میں نہ سوجھا اب کیونکر سوجھا؟
تمام پادریوں نے نہایت جوشیلی تقریروں کے بعد کہ جس میں ایک کی رائے بھی نیوٹن کے حق میں نہیں تھی،، فیصلہ دیا کہ !
نیـــــوٹن !
،
،
،
،
،
، — غـــــــــامدی ھــــو گیا ھے !
لہذا ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ملت سے خارج قرار دیا جاتا ھے!”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/QariHanif/posts/10153973656291155
تبصرہ : قاری صاحب نے حیران کن پر مزاح اور طنزیہ انداز میں علمی نکات اٹھائے ہیں جن پر ہمیں تو غور کرنا ہی چاہئے ارباب و اقتدا کو بھی اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرنی ہو گی .بہت پر لطف اور عمدہ پوسٹ ہے .
پوائنٹس بریک ڈاؤن : قاری صاحب کے انداز تحریر اور پیکج میں اٹھارہ اٹھارہ پوائنٹس ہیں .معنویت اور موضوع میں سترہ ،جبکہ استدلال میں سولہ پوائنٹس ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس :100/86


5.ملک جہانگیر اقبالMalik jahangir iqbal
پوسٹ :”عيد الاضحى پر قربانی کرنا سرا سر فضول خرچی ہے بھلے گوشت کا بڑا حصہ غرباء میں تقسیم کردیا جاتا ہو، پر اس قربانی سے بہتر ہے بندہ کسی غریب کی بیٹی کا جہیز لے دے ..
پر ہاں ویلنٹائن ڈے پر دس روپے والی گلاب کی ڈنڈی تین سو روپے میں خریدنا اور پچاس والا بھالو ایک ہزار میں لینا سراسر انسانیت سے محبت کا درس ہے.”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/tangled.prince001/posts/504794453026482
تبصرہ : ملک جہانگیر اقبال نے طنزیہ انداز میں لبرل طبقے کے تضاد کو انتہائی مہارت سے عیاں کیا ہے .بات سو فیصد سچ ہے .
پوائنٹس بریک ڈاؤن :انکے انداز تحریر ،موضوع اور پیکج میں سترہ ،جبکہ معنویت اور استدلال میں اٹھارہ اٹھارہ پوائنٹس ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس :100/87


4.انعام راناinam rana
پوسٹ : “مسجد میں عورت؛ تین منظر
پہلا منظر:
میں اور زوجہ ماجدہ ہنگری Budapest میں انکی ایک غیر مسلم دوست کے گھر ٹھرے تھے کہ مجھے جمعہ پڑھنے کا شوق چڑھا۔ اس بیچاری نے دھونڈ دھانڈ کر ایک مسجد کا نمبر نکالا اور رستہ سمجھنے کو فون کیا۔ یکدم اس کا رنگ بدل گیا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ مسجد والے ساب نے کہا تم نہی آ سکتی، عورتیں منع ہیں۔ خیر وہ مجھے مسجد لے گئی مگر سارا دن کہتی رہی he was very rude.
دوسرا منظر:
مراکش کی ایک ویران سی مسجد میں داخل ہوے تو کسی نے آوٹ آوٹ کہ کر میری نومسلم بیگم کو نکلنے کو کہا۔ انھوں نے کہا میں مسلمان ہوں، اس نے کہا پھر بھی آوٹ۔ زوجہ ماجدہ نے اگلے کئی گھنٹے رو رو کر کہا
“تم لوگ کبھی بھی مجھے مسلمان نہی مانو گے”
تیسرا منظر:
استنبول نیلی مسجد میں عورتیں بھری پڑی تھیں۔ ایک چبوترے پہ صرف عورتیں نماز پڑھتی تھیں اور کئی غیر مسلم مرد و عورت ایک مخصوص حصہ کے علاوہ ساری مسجد پھرتے تھے۔ ایک کھڑکی پہ لکھا تھا، “اسلام کے متعلق معلومات حاصل کریں”۔ کھڑکی پر پانچ چھ عورتیں معلوماتی کتابچے مانگ رہی تھیں۔
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/RAJPUT9/posts/10153941205161667
تبصرہ : اس حقیقی تصویر کشی پر ماتم ہو سکتا ہے جو کہ صدیوں سے ہو رہا ہے تبصرہ نہیں .
پوائنٹس بریک ڈاؤن :انعام رانا کے معنویت اور موضوع میں اٹھارہ پوائنٹس ہیں ،انداز تحریر اور پیکج میں سترہ جبکہ استدلال میں انیس پوائنٹس ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس :100/88


3.اکرام اعظمikram.
پوسٹ :”ہمارے لا شعور میں کئی طرح کے توانا جذبات, احساسات اور رجحانات رہائش پذیر ہیں جو ہمارے اعتقادات کی حفاظت پر مامور ہیں. ان میں موجود توانائی ہمارے اعتقادات کی حفاظت کےلیے دفاعی ہتھیاروں کا محفوظ ذخیرہ ہے.
مشاہدہ علم کا پیشرو ہوتا ہے. مشاہدہ اگر ہمارے اعتقاد کے موافق ہو تو وہ ہمارے لا شعور کے دفاعی ذخیرے میں مزید توانائی داخل کرتا ہے لیکن اگر مشاہدہ ہمارے عقیدے کے مخالف ہو تو وہ لا شعور کےدفاعی عناصر کی توانائیاں زائل کرتا ہے کیونکہ مشاہدے کی عدم موافقت سے تصادم ہمارے لاشعوری جذبات کا فرض ہے. غیر موافق مشاہدے کا تعدد توانائی کے زیاں کا راست متناسب ہوتا ہے. جس سے ایک وقت بعد لا شعور نہ صرف پسپا ہو چکا ہوتا ہے بلکہ گاہے تو اعتقاد کو مشاہدے کا مرید بھی کر چکا ہوتا ہے.
معاشرے میں موجود طاغوتی طاقتیں ہمارے لا شعور کی اعتقاد کا دفاع کرنے والی توانائی کو اسی طرح شکار کرتی ہیں.
بے ہودگی کے مشاہدات کا تسلسل کے ساتھ پیش کیا جانا طاغوت کی کامیاب چال ہے. اعتقاداتِ خیر کا دفاع کرنے والی لاشعوری توانائیاں ماند پڑتے پڑتے قریب المرگ ہو جاتی ہیں.
ہمارا میڈیا ہمارے ساتھ کم و بیش یہی کچھ کر رہا ہے. بے ہودگی کا مشاہدہ. بار بار اور مسلسل.
اور ہم اپنے لا شعور کی توانائی کو مسلسل زائل ہوتا محسوس کر رہے ہیں.
بازاری عورتوں کو علمائے کرام کے مقابل بٹھا کر ان کی لگام کھول دینا اسی زنجیر کا ایک حلقہ ہے.
اشتہارات, شوز اور ڈراموں میں پیش کیا جانے والا فحش کلچر اب اپنی مخالفت لگ بھگ ختم کر چکا ہے.
ہمارے کچھ مخلص عالم احباب بھی نا دانستہ اسی طاغوتی مشاہدے کے پیشکار بننے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں.
چند دن پہلے کسی دوست نے ایک اور عالم کی نشر کی ہوئی ایک انتہائی بے ہودہ تصویر مذمتی بیان کے ساتھ نشر کی. جس میں (نعوذ باللہ من ذلک ) اللہ تعالیٰ اور حضرت آدم علیہ السلام کے جاتے بنانے کی جرات کی گئی تھی.
پھر کسی دوست نے کسی ملحد کا گستاخانہ بیان اپنی تحریر کے ساتھ شائع کیا جس میں پھر ذات باری تعالیٰ کی قدرتِ تخلیق کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا. اب یہ تصاویر اور بیانات یقیناً ہمارے لاشعور کی توانائی کے زیاں کا سبب بنے ہیں. اس کی دلیل یہ ہے کہ ایسے مشاہدات کی تلخی دوسری یا تیسری بار کے بعد معدوم ہوتی جاتی ہے. یہی فطرت ہے لہذا احباب بے ہودگی کی تشہیر کرکے اس کارِ شر کا حصہ بنیں.
آخر پہ عرض ہے کہ لا شعور کی اعتقادات ِ خیر کا دفاع کرنے والی توانائی حیا کہلاتی ہے اور پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق حیا ایمان کا حصہ ہے.
اگر حیا نہ رہے تو چاہے یہودی بن جاؤ یا نصرانی. پھر ویلنٹائن مناؤ یا ہولی. راکھی باندھو یا منگل سو تر. اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے کچھ غرض نہیں.”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/azam.hfd/posts/1159436827452705
تبصرہ : لاشعور ،اعتقاد مشادے اور میڈیا کے سرکس پر ایک علمی اور پر مغز تحریر ہے ٹھہر کر رک کر آہستہ آہستہ پڑھیں.
پوائنٹس بریک ڈاؤن :اکرام صاحب کے موضوع ،معنویت ،اور پیکج میں اٹھارہ اٹھارہ پوائنٹس ہیں .انداز تحریر میں سولہ اور استدلال میں انیس پوائنٹس ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس :100/89


2.طفیل ہاشمیTufail hashmi
پوسٹ :”پردہ مقاصد شریعت میں سے نہیں بلکہ تحفظ نسب اور تحفظ عصمت کا ذریعہ ھے ۔ذرائع اور مقاصد کی اہمیت اور درجہ وجوب میں فرق ہوتا ھے ۔جتنا مقصد کی Violation کا امکان پڑھتا جائے گا پردے کے حکم میں شدت آئے گی جتنا امکان کم ہوگا تخفیف ہوتی جائے گی ۔اس کے لئے قطعی باونڈری لائن کھینچ دینا مقاصد شریعت کو نظر انداز کر کے حرفی تطبیق کو ترجیح دینے کے مترادف ھے ۔
اس لئے محرم سے پردہ نہیں ۔جان بچانے کے لئے یا ازالہ مرض کے لئے طبیب سے پردے میں تخفیف ھے ۔جہاں مرد اور عورت اس عمر میں ہیں کہ عملا کسی کار کردگی جوگے نہیں رھے وہاں پردہ کا وہ حکم نہیں جہاں کوئ ایسی صورت حال ھے کہ لوگ نفسا نفسی میں ہیں مثلا حالت جنگ زلزلے آتش زدگی وہاں پردے کا وہ حکم نہیں جہاں باہمی رشتوں یا سماجی مرتبے میں اتنا تفاوت ھے کہ مرد اور عورت کوئ نا شائستگی نہیں سوچ سکتے وہاں پردے کا وہ حکم نہیں ۔جہاں سر رہگزر یا مارکیٹس میں اچانک نظر پڑجانے کے حالات ہوتے ہیں اور کوئ کسی سے واقفیت یاتعارف و تلاش کے درپے نہیں ہوتا وہاں بھی تخفیف ھے ۔
البتہ جہاں سماجی طور پر بڑا تفاوت نہ ہو یا ایسے حالات ہوں کہ واقفیت پہچان اور تعارف دیرپا ہو سکتا ہو اور اس سے مقاصد شریعت پر آنچ آنے کا امکان ہو وہاں پردے کے حکم میں سد ذرائع کی اساس پر درجاتی تفاوت رکھنا شریعت کا تقاضا ھے
شریعت نے مختلف حالات میں پردہ اور بے پردگی کے بارے میں بتا کر آپکو ایک اصول دیا ھے کہ اس کے مطابق سماجی روایات پروان چڑھائیں ۔
میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ چچی ممانی اور اکثر حالات میں بڑے بھائ کی بیوی غیر محرم ہونے باوجود اس سماجی درجے میں ہوتی ہیں کہ وہ ماں کی طرح ہوتی ہیں ۔
کاش کبھی ہم اس پر بھی غور کریں کہ اللہ نے ہمیں نصوص کے ساتھ عقل سے بھی نوازا ھے ۔اور وہ بے مصرف نہیں ہو گی ۔”
پوسٹ لنک :https://www.facebook.com/permalink.php?story_fbid=1114359508608065&id=100001020803306
تبصرہ : جس جامعیت کے ساتھ ہاشمی صاحب طویل موضوعات کو نپٹاتے ہیں وہ قابل تحسین ہے .یہاں پر پردے پر ایک قابل غور تحریر موجود ہے جو کہ سمجھنی چاہئے .
پوائنٹس بریک ڈاؤن :طفیل ہاشمی صاحب کے استدلال اور معنویت میں انیس انیس پوائنٹس ہیں .انداز تحریر اور پیکج میں سترہ ،جبکہ موضوع کے اٹھارہ پوائنٹس ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس :100/90


1.ادریس آزادIdrees Azad
پوسٹ :“گریوٹیشنل ویو کیا ہے؟ (اجمالی جائزہ)
گریوی ٹیشنل ویو کی دریافت، تاریخ ِ علوم ِ انسانی کا سب سے بڑا واقعہ
آج کا دن علوم انسانی کی تاریخ میں سب سے اہم ہے۔ آج لائیگو نے گریویٹیشنل ویو دریافت کرنے کا اعلان کردیا۔ گریوی ٹیشنل ویو کی دریافت گویا اپنی نوعیت میں ایسی دریافت ہے جیسے کائنات کا راز کھول دیا گیاہو۔ ایک سائنسدان نے آج اپنے بیان میں کہا،
’’دِس اِز فرسٹ ٹائم ایور دیٹ دہ یونیورس ہیز سپوکن ٹُو اَس‘‘
انسان نے ہوش سنبھالتے ہی سب سے پہلے آسمان کی طرف دیکھا۔ ہوموسیپیئنز یعنی موجودہ انسان سے پہلی انسان نما نسلوں کے افراد بھی اِس حد تک تو آسمان سے واقف تھے کہ جب وہ اپنی غذا تلاش کرنے اور پیٹ بھرنے کے عمل سے فارغ ہوجاتے تو پھر کسی پتھرسے سرٹکا کر آسمان کی طرف دیکھا کرتے اور اپنی سطح کی حدتک سوچاکرتے۔ رات ہوتی تو ستاروں کو سمجھنے کی کوشش کرتے۔ آسمان شروع دن سے ہی انسان کے لیے سب سے بڑی مِسٹری رہا ہے۔ پھر ماڈرن مَین (جدید انسان) جو آج سے لگ بھگ پچیس ہزار سال پہلے نمودار ہوا، نے تو باقاعدہ آسمان پر اتنا غور کیا کہ علوم کے دفترکے دفتر کھول ڈالے۔ ابتدائی کانسی کے دور کے انسانوں کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ آسمان کو ایک بڑا سا اُلٹا پیالہ یا کڑاہی تصور کرتے تھے جو زمین پر اس طرح رکھاہے کہ اُس نے زمین کو ڈھانپ دیا ہے۔ اس میں بہت سے سوراخ ہیں۔ ان سوراخوں سےرات کو روشنی اندر آتی ہےاور کبھی کبھار ان سوراخوں سے پانی اندر آتاہے جو کہ بارش ہے۔
تاریخ میں مصریوں کے علاوہ بابل وہ شہر ہے جہاں فلکیات پر بے پناہ غوروفکر ہوا۔ بابل میں ہرزیگورات کا مندر چارسوفٹ بلند تھا جہاں سے زہرہ جمال رقاصہ بیدخت نے شاہ یوسیفر کی قباپہن اور ہارُوت مارُوت سے سیکھاہوا اسم ِ اعظم پڑھ کر پرواز کی اور دُور آسمانوں پر جاکر زہرہ ستارہ بن گئی۔ آج جو زہرہ ستارہ نظر آتاہے یہ وہی رقاصہ ہے۔
آسمان کا جادُو ہرانسان کو اُس کے بچپن سے ہی اپنی گرفت میں لے لیتاہے۔ تب اُسے بچپن سے ہی طرح طرح کی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں جن کے مطابق چاند میں بیٹھی چرخہ کاتتی بڑھیا سے لے کر دُور ثریا سے آنے والی اُڑن طشتریوں تک کے قصے شامل ہیں۔ انسان کی یہ خواہش کہ وہ کائنات کو جانے، شاید آسمانوں کو جاننے میں چھُپی ہے۔ وہ ہمیشہ سے آسمانوں کی طرف جانا چاہتاہے اوراپنے بارے میں نہ جانے کیوں یہی سمجھتاہے کہ وہ آسمانوں سے ہی آیا ہوا ہے۔
فزکس نے یہ ذمہ داری قبول کی اورہمارے طبیعات دانوں نے صرف دو صدیوں کے اندر اندر یہ ثابت کردیا کہ انسان نہ صرف کائنات کی حقیقت جاننے کا اہل ہے بلکہ کائنات کے کلیجے میں ہاتھ ڈال کر اس میں تبدیلیاں کرسکنے کا بھی اہل ہے۔
گزشتہ صدی میں آئن سٹائن کا وجود کسی معجزے کی طرح نمودار ہوا اور اس کے بے پناہ دماغ نے بارہا انسانوں کو اِس شک میں مبتلا کردیا کہ آیا وہ خود انسان ہی تھا یا کسی اور دنیا سے آیا ہوا کوئی ایسا عالی دماغ دیوتا جو اہل ِ زمین کو کائنات کے راز بتانے آیا اور پھر واپس چلا گیا۔ آئن سٹائن نے 1905 میں سپیشل تھیوری آف ریلٹوٹی پیش کی اور 1915 میں جنرل تھیوری آف ریلٹوٹی پیش کی۔ یہ دونوں نظریہ ہائے اضافیت نہ صرف عجیب و غریب اور محیرالعقول ہیں بلکہ ان کے جاننے اور ان سے پیدا ہونے والے نتائج پر قابو پانے کی صورت میں انسان اپنی موجودہ انسانی سطح سے یکلخت بلند ہوکر کسی اور نوع میں بدل جانے کی صلاحیت کا اہل بھی ہوسکتاہے۔
آج جن گریویٹیشنل ویوز یعنی کشش ثقل کی امواج کی دریافت کا اعلان ہوا ہے یہ آئن سٹائن کی جنرل تھیوری آف ریلٹوٹی میں بتائی گئی موجیں ہیں۔
حقیقی واقعہ یوں ہے کہ آئن سٹائن جو محض ایک پیٹنٹ کلرک تھا، ایک دن اپنی کھڑکی کھولے سامنے والی بلند عمارت کو حسبِ معمول یہ سوچتے ہوئے دیکھ رہا تھا کہ اگر کوئی شخص اس عمارت سے نیچے گرے تو وہ کیسا محسوس کریگا؟ بس اتنا سادہ سا سوال اس کے ذہن میں تھا۔
معاً اسے خیال آیا کہ وہ شخص اپنے آپ کو گرتاہوا محسوس نہیں کرےگا۔
آئن سٹائن کے ایسا سوچنے کی وجہ یہ تھی کہ اس نے اچانک اس گرتے ہوئے شخص کے گرد ایک بڑا سا کمرہ یا لفٹ نما باکس تصور کیا اور سوچا کہ اگر اس شخص کے پیر لفٹ کے فرش پر ہوں تو وہ کیونکر خود کو گرتاہوا محسوس کریگا؟ بس اتنی سوچ آنے کی دیر تھی کہ آئن سٹائن پر کائنات کی فیبرک کا راز کھل گیا۔ آئن سٹائن نے اعلان کیا کہ زمین چیزوں کو اپنی طرف نہیں کھینچتی۔ بلکہ ایک لحاظ سے چیزیں اپنی جگہ ہی رہتی ہیں اور زمین اوپر کو اُٹھ کر ان کی طرف لپکتی ہے یا یوں کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ آسمان چیزوں کو زمین کی طرف نیچے کو دھکیلتاہے۔ اس کے بعد آئن سٹائن نے جنرل تھیوری جو بنیادی طور پر کشش ثقل یعنی گریوٹی کی ہی تھیوری ہے، پر کام شروع کردیا اور بالآخر دنیا کو ایک نہایت حیران کن نظریہ کا تحفہ دے کر انسانی علم کی عظمت کو امر کردیا۔
آئن سٹائن کی جنرل تھیوری آف ریلٹوٹی سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ زمین چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اسی طرح سورج زمین اور دیگر سیاروں کو اپنی طرف کھینچتاہے۔ اسی طرح ہر بڑا آبجیکٹ چھوٹے آبجیکٹس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اوراس کھینچا تانی میں سیارے ستاروں کے گرد گھومنے لگ جاتے ہیں۔ آئن سٹائن کی جنرل تھیوری آف ریلیٹوٹی نے اس خیال کو بالکل بدل دیا۔ آئن سٹائن نے بتایا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔ بھاری اجسام، ہلکے اجسام کو اپنی طرف نہیں کھینچ رہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری کائنات ایک خاص قسم کے ریشوں سے بُن کر بنائی گئی ہے۔ یہ خاص قسم کے ریشے ربربینڈ کی طرح لچکدار ہیں۔ انہیں کھینچا جائے تو لمبے ہوجاتے ہیں اور انہیں اندر کی طرف دھکیلا جائے تو سکڑ کر چھوٹے ہوجاتے ہیں۔ ربڑ کے ان دھاگوں سے کائنات کی فیبرک (کپڑا) بُنا گیا ہے۔ اِس فیبرک کی بُنائی میں وہ دھاگے جو اُفقی ہیں ، وہ سپیس(مکان) کے دھاگے ہیں اور وہ دھاگے جو عمودی ہیں وہ ٹائم(وقت) کے دھاگے ہیں۔ اسی وجہ سے اس فیبرک کا نام سپیس ٹائم فیبرک ہے۔ آپ اگر گوگل میں سپیس ٹائم فیبرک کے الفاظ ڈالیں تو آپ اِس فیبرک کی بے شمار تصویریں دیکھ سکتے ہیں۔ آئن سٹائن نے کہا کہ جب کوئی بھاری بھرکم جسم اس فیبرک میں سے گزرتاہے تو وہ جہاں جہاں سے گزرتاہے اُس جگہ کی فیبرک جو کہ اپنی ماہیت میں ربڑ کی طرح سے لچکدار ہے اور جس کے ریشے ربر بیںڈ کی طرح سے لچکدار ہیں اس بھاری آبجیکٹ کے آس پاس سے سُکڑ جاتی ہے اور اُس آبجیکٹ کے سانچے جیسی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ مثال کے طور پر جب آپ گندھے ہوئے آٹے میں ایک گیند دبا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس آٹے میں گیند کے لیے سانچہ نما جگہ بن جاتی ہے۔ سپس ٹائم فیبرک میں بھی ایسی ہی سانچہ نما شکلیں بنتی ہیں، جب کوئی جسم اس میں سے گزرتاہے یا موجود ہوتاہے تو۔
قارئین کو یاد ہوگا ہم بچپن میں کانچ کی گولی (بنٹے) کو کسی بڑے سے پیالے میں ڈال کر پیالے کو اس طرح گول گول حرکت دیا کرتے تھے کہ کانچ کی گولی پیالے کی دیواروں پر چڑھ کر گول گول دائرے میں گھومنے لگتی تھی۔ یا دوسری مثال موت کے کنویں میں چلنے والے موٹرسائیکل کی ہے جو تیزرفتار کی وجہ سےگویا دیواروں کے ساتھ چپک جاتاہے اور اس لیے نیچے نہیں گرتا۔ آئن سٹائن نے بتایا کہ کائنات کی اس فیبرک میں جہاں جہاں بھی ستارے، سیارے یا سیارچے ہیں وہاں وہاں اس فیبرک میں ایک گڑھا سا پڑا ہوا ہے۔ جتنا بھاری کوئی آبجیکٹ ہوتا ہے اتنا ہی بڑا گڑھا اس فیبرک میں پڑجاتاہے۔ یعنی ہمارا سورج جو ایک بہت بڑا اور بھاری آبجیکٹ ہے اس کے اردگرد کی سپیس ٹائم فیبرک نے بھی ویسی شکل اختیار کررکھی ہے جیسے آٹے میں دبائی ہوئی گیند کے اطراف میں آٹے کی شکل ہوجاتی ہے۔ سورج کی وجہ سے سپیس ٹائم فیبرک میں ایک بہت بڑا گڑھا پیدا ہوگیا ہے۔ اسے گریوٹی ویل )Gravity Well( یعنی کشش ثقل کا کنواں کہتے ہیں۔ ہماری زمین اور دیگر سیارے اُن کانچ کی گولیوں کی طرح ہیں جو پیالے کی دیواروں پر چڑھ کر گردش کرنے لگتی ہیں۔ یا موت کے کنویں کے ان موٹرسائیکلوں کی طرح ہیں جو موت کے کنویں کی دیواروں پر دوڑتے ہیں۔ سورج کے گریوٹی ویل یعنی کشش ثقل کے کنویں میں زمین ایسی ہی ہے۔ لیکن زمین کے اپنے اطراف میں بھی تو اِس فیبرک کے اندر ایسا ہی ایک گڑھا پیدا ہورہاہے۔ ہمارا چاند اُس گڑھے میں پھنسا ہوا ہے۔ اور بالکل ویسی ہی حرکت کررہا ہے جیسی کانچ کی گولی پیالے کی دیواروں پر گردش کے وقت کرتی ہے۔ چاند کے لیے ہماری زمین کا گریوٹی ویل ہی گردش کا باعث ہے۔
آئن سٹائن نے سپیس ٹائم فیبرک کی جو تصویر فزکس کو دکھائی وہ بڑی عجیب و غریب تھی۔ کیونکہ ربربینڈ جیسی لچک ہونے اور پھر فیبرک میں افقی و عمودی ہر دو طرح کے ریشے ہونے کیوجہ سے پوری کی پوری کائنات کے زمان ومکاں کی ساخت ربڑ کی طرح لچکدار ہوجاتی ہے۔ صرف ربڑ کی طرح نہیں بلکہ کسی سیّال مادے کی طرح یا سمندر کی طرح۔ اس فیبرک میں اشیأ کے گرنے سے موجیں پیدا ہوتی ہیں۔ جس طرح سمندر میں بھنور پیدا ہوتے ہیں ، اسی طرح اِس فیبرک میں بھی بھنور پیدا ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ فیبرک سمندر سے بھی کہیں زیادہ لچکدار ہے کیونکہ اگر ہم چاہیں تو کسی طرح سپیس ٹائم فیبرک کے دو دُور دراز کے کناروں کو کھینچ کر ایک دوسرے کے نزدیک لائیں اور وہ لاکھوں نوری سال کےفاصلوں کو یکلخت پاٹ کر ایک دوسرے کے اس طرح قریب آجائینگے کہ گویا ایک سے چھلانگ لگا کر دوسرے کنارے پر سوار ہوا جاسکے گا۔ عام طور پر اس بات کو ایک مثال سے سمجھایا جاتاہے۔
آپ ایک بڑا سا کاغذ یا چارٹ ایک میز پر بچھائیں اور اس پر کافی فاصلوں پر دو دائرے لگائیں۔ فرض کریں آپ نے دو فٹ کے فاصلے پر یہ دائرے لگائے۔ تب آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک دائرے سے دوسرے دائرے کا فاصلہ دو فٹ ہے۔ لیکن اگر آپ وہی چارٹ اُٹھا لیں اور اسے فولڈ کرلیں یعنی تہہ کرلیں اور اس طرح تہہ کریں کہ اُس پر لگائے گئے دائروں کے نشان ایک دوسرے کے بالکل پاس آجائیں۔ تب آپ ان میں سوراخ کردیں تو آپ ایک دائرے سے نکل کر دوسرے دائرے میں فوراً داخل ہوسکتے ہیں۔ آپ نے کاغذ کو تہہ کردیا۔ اس لیے ان دو دائروں کافاصلہ اب ایک فٹ تو کیا ایک انچ بھی نہیں رہ گیا۔ اسی طرح سپیس ٹائم فیبرک بھی فولڈ ہوجاتی ہے۔ یا ایک مثال یہ بھی دی جاسکتی ہے کہ آپ سمندر میں ایک بڑی موج پر سکیٹنگ کررہے ہیں۔ یہ موج اُوپر کو اُٹھتی ہے اور بہت بلند ہوجاتی ہے تو آپ بھی اس کے ساتھ اتنے ہی اوپر کو اُٹھتے اور بلند ہوجاتے ہیں۔فرض کریں کہ ایک اور بڑی موج دوسری طرف سے آئی ہے اور وہ بھی اتنی ہی بلند ہے اور آپ چھلانگ لگا کر دوسری موج پر سوار ہوجاتے ہیں۔ تو آپ بہت کم وقت میں سمندر کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں جمپ کرگئے ہیں۔
سپس ٹائم فیبرک میں موجیں پیدا ہوتی ہیں۔ سپیس ٹائم فیبرک میں بھنور بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اس فیبرک میں پیدا ہونے والے بھنور کو ماہرین ِ فزکس وارم ہول WORM HOLE یعنی کینچوے یا کیڑے کا سوراخ کہتے ہیں۔ موجیں یا بھنور چونکہ سپیس اور ٹائم کی فیبرک میں پیدا ہورہے ہیں اس لیے عجیب و غریب چیزیں رونما ہوتی ہیں۔ یعنی اگر آپ ایک وارم ہول میں ایک طرف سے آج داخل ہوئے ہیں تو امکان ہے کہ آپ دوسری طرف سےنکلیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دور ہو۔ یا پھر اتنا بعید مستقبل ہو کہ آج سے پانچ ہزار سال بعد وغیرہ وغیرہ۔
آج دریافت ہونے والی موجوں کو اگرچہ گریوٹی کی موجیں کہا جاتاہے لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو گریوٹی نامی کسی شئے کا وجود نہیں ہے بلکہ یہ سپیس اور ٹائم کی فیبرک ہے جس کا وجود ہے اور جو مادے کے قریب اس کی شکل کا سانچہ سا بنا لیتی ہیں اور وہی سانچہ کبھی کبھی گریوٹی ویل یعنی کشش ثقل کا کنواں کہلاتاہے جہاں دیواروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے آبجیکٹس گردش کرتے رہتے ہیں، جسے ہم گریوٹی سجھتے ہیں۔ یہ موجیں چونکہ پوری کائنات میں ہیں اور ہروقت ، ہرطرح کی پیدا ہورہی ہیں اس لیے یہ جس بھی مادی آبجیکٹ کے پاس سے گزرتی ہیں وہ آبجیکٹ بھی کسی لچکدار ربڑ کی گیند کی طرح ان موجوں کے اثر میں تھوڑا سا سُکڑتا یا پھیلتا رہتاہے۔ سائنسدانوں نے آئن سٹائن کی بات مانتے ہوئے فرض کیا کہ ز میں بھی ان موجوں کے اثر میں کبھی سُکڑ یا پھیل جاتی ہوگی۔ اسی طرح زمین پر موجود تمام اشیأ بشمول انسان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان موجوں کے اثر میں ضرور تھوڑے سے سُکڑ یا پھیل جاتے ہونگے۔ یہ بڑی مزیدار سچوئشن ہے۔ یعنی فرض کریں کسی دور دراز کے بلیک ہول سے ایک گریوٹی ویو آئی اور زمین سے ٹکرائی تو زمین کسی لچکدار گیند کی طرح تھوڑی سی سکڑ گئی اور اس پر موجود چیزیں بھی۔ فرض کریں آپ اس وقت تھوڑے سےلمبے اور پتلے ہوگئے۔لیکن آپ کو پتہ نہ چلا کیونکہ یہ تبدیلی بہت باریک ہوتی ہے۔
گویوٹی ویوز کو دریافت کیسے کیا گیا؟ یہ سوال دلچسپ ہے ۔ وہ سائنسی ادارہ جس نے اعلان کیا کہ گریوٹی ویوز کو دریافت کرلیا گیا ہے اس کانام لائیگو Ligo ہے۔ لائیگو کا طریقہ کار نہایت سادہ ہے جو کسی بھی انسان کو آسانی سے سمجھ آسکتاہے۔ لائگو لیبارٹری دراصل دو بڑے بلکہ لمبے پائپس Pipes پر مشتمل ہے۔ ان پائپس کو انگریزی کے حرف L کی شکل میں جوڑ دیا گیا ہے۔ گویا دونوں پائپوں کا ایک ایک سرا آپس میں جڑا ہے جبکہ دوسرا سرا کھلا ہے اور ایل کی شکل بنا رہاہے۔ یہ دونوں پائپس لمبائی میں بالکل برابر ہیں۔ دنیا میں لائیگو جیسے برابر پائپ کے دو ٹکڑوں کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ لائگو کے پائپس کی لمبائی کو ایک ایٹم کے چھوٹے ذرے پروٹان سے بھی کہیں زیادہ باریک سطح پر ایک دوسرے سے لمبا یا چھوٹا نہیں رہنے دیاگیا۔ دونوں پائپس آخری حد تک ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ دونوں پائپس جہاں سے آپس میں جڑے ہوئے ہیں وہاں سے روشنی کی ایک شعار فائر کی جاتی ہے۔ جو ایک ہی وقت میں بھاگتی ہوئی پائپ کے دوسرے سروں سے ٹکراتی اور پھر وہاں لگے اعلٰی درجے کے آئنوں سے منعکس ہوکر واپس آتی ہے اور پھر اُسی مقام جہاں سے چھوڑی گئی تھی پر ایک دوسرے کو کراس کرتی ہے۔ سائنس دانوں نے سوچا کہ اگر دونوں پائپس کو اس طرح برابر رکھا جائے کہ وہ شعاع جب واپس آئے تو دونوں طرف کی شعاعیں آپس میں انٹرفئرنس پیٹرن بنانے کی بجائے ایک دوسرے کو کینسل کردیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور کامیابی سے جائزہ لیا جاتا رہا کہ وہ آپس میں انٹرفئرنس پیٹرن بنانے کی بجائے ایک دوسرے کو کیسنل کررہی ہیں۔ لیکن کبھی کبھار ایسا ہوتا کہ وہ شعاعیں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انٹرفئرنس پیٹرن بنالیتیں اور ایک دوسرے کو کینسل نہیں کرتیں بلکہ ایک نئی موج کی صورت باہر نصب ایک الگ آئنے پر اپنی موجودگی کا اظہا کرتیں۔ یہی بات اہم تھی۔ یہ سوال کہ جب دونوں پائپوں کی لمبائی کی پیمائش اتنی باریک حد تک ایک دوسرے کے برابر ہے تو پھر ایسا کیوں ہوجاتاہے کہ وہاں شعاعیں ایک دوسرے سےٹکرا کر ایک دوسرے کو کینسل کرنے کی بجائے مزید شعاعیں بنادیتی ہیں تو اندازہ لگایا گیا کہ ضرورکسی وجہ سے یہ دونوں پائپس یا تو اچانک لمبے ہوجاتے ہیں یا چھوٹے۔ سائنسدان جب کسی شئے کی پیمائش کرتے ہیں تو آخری حدتک احتیاط کرتے ہیں۔ اور کوشش کی جاتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسائل ریاضی سے حل کیے جائیں۔ چنانچہ پیمائشیں انتہائی احتیاط سے کرنے کے باوجود بھی جب ایسا ہوتا رہا کہ دونوں پائپوں کی شعاعیں کبھی کبھار انٹرفئرنس پیٹرن بناتیں تو فیصلہ کیا گیا یہ پائپ کسی وقت چھوٹے ہوجاتے ہیں یا لمبے اور ایسا اس لیے ہوتاہے کہ ان پر سے گریوٹی کی ویو گزر جاتی ہے۔
لائگو کا رزلٹ حتمی طور پر گریوٹیشنل ویو ہی ہے، اس بات کا ثبوت کیسے حاصل کیا جائے؟ اس سوال کا جواب پانے کے لیے لائیگو کی ایک جڑواں لیبارٹری لگ بھگ نوے کلومیٹر کے فاصلے پر الگ بنائی گئی۔ اور طے پایا کہ اگر ایک ہی وقت میں ایک ہی طرز کی تبدیلی دونوں لیبارٹریوں نے نوٹ کی تو اس کا ایک ہی مطلب ہوگا کہ یہ کوئی بڑی گریویشنل ویو ہی تھی جس کی وجہ سے ایک ہی وقت میں نوے کلومیٹر کے فاصلے پر دو ایک جیسے پائپ مختصر وقت کے لیے ایک ساتھ چھوٹے یا لمبے ہوئے۔ گیارہ فروری 2016 وہ عظیم دن ہے جب واقعی ایسا ہوگیا۔ جب واقعی دونوں لیبارٹریز نے ہی ایک وقت میں ان پائپوں کی پیمائش میں ایک جیسی تبدیلی نوٹ کی۔ فوری طور پر خبر آئی،
On 11 February 2016, the LIGO collaboration announced the detection of gravitational waves, from a signal detected at 09.51 UTC on 14 September 2015of two ~30 solar mass black holes merging together about 1.3 billion light-years from Earth
یہ گویوٹیشنل ویو دو بڑے بلیک ہول کے آپس میں ایک دوسرے کے اندر مدغم ہونے سے پیدا ہورہی ہے اور یہ موج کائنات کے فیبرک میں سفر کرتی ہوئی کسی پانی کی موج کی طرح زمین پر آرہی ہے۔ جسے ہم نے لائیگو میں ڈیٹیکٹ کرلیاہے۔
گریوٹیشنل ویو کی دریافت انسانی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ کیونکہ تصور کریں جب ہم نے روشنی کی شعاع دریافت کی تو آج تک اس سے کیا کچھ کرلیا؟ ہم جانتےہیں کہ برقی مقناطیسی لہروں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کنورٹ کیا جاسکتاہے اور ان کےذریعے پیغام رسانی کی جاسکتی ہے۔ اگر کل کو گریوٹیشنل ویو کو بھی برقی مقناطیسی لہروں کے ساتھ کنورٹ کیا جانے لگا یا گریوٹیشنل ویوز کے ذریعے معلومات کی ترسیل یا دیگر ایجادات کا سلسلہ شروع ہوگیا تو کیا کیا امکانات ہیں؟
جونہی ان ویو کی دریافت کا اعلان ہوا مجھے جو پہلا خیال آیا وہ یہ تھا کہ اب اگر ٹائم ٹریول ممکن نہیں بھی ہوسکتا تب بھی ماضی اور مستقبل میں دیکھنا ضرور ممکن ہوجائیگا۔ تصور کریں کہ آپ ٹرائے کی جنگ اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں تو برقی مقناطیسی لہروں کو گریوٹیشنل ویو کے ساتھ کنورٹ کرکے آپ اپنے ٹی وی کی سکرین پر براہِ راست اس جنگ کے اصلی مناظر دیکھ سکنے کے اہل ہونگے۔
ایک سوال کہ آئن سٹائن کو کسی بلند عمارت سے گرتے ہوئے شخص کا سوچ کر یہ خیال ہی کیوں آیا کہ کائنات ایک فیبرک ہےیعنی کسی کپڑے کی طرح سے بُنی ہوئی ہے اور اس کے ریشوں کا نام ہے سپیس اینڈ ٹائم؟
یہ سوال دلچسپ ہے اور جی چاہتا ہے کہ اس پر لگ مضمون لکھنے کے دن بھی یہی ہیں۔”
پوسٹ لنک : https://www.facebook.com/idreesazaad/posts/10205922995940911
تبصرہ : ادریس آزاد صاحب کی اس تحریر کی تعریف کے لئے الفاظ نہیں ہیں .گریوی ٹیشنل ویو کی دریافت پر لکھی یہ پوسٹ اردو زبان میں علم کا ایک ذخیرہ ہے .
پوائنٹس بریک ڈاؤن : ادریس آزاد صاحب کے انداز تحریر اور استدلال میں انیس انیس ،پیکج ،معنویت ،اور موضوع میں اٹھارہ اتھرا پوائنٹس ہیں .
ٹوٹل پوائنٹس :100/92

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s