افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ” کولاج” تحریر مریم ثمر

”آج خدا کی باری ہے ” یہ کیسی آواز تھی ،کوئی چلا رہا تھا راشد نے چونک کر سامنے والے گھر پر نظر دوڑائی”۔کھڑکی سے جھانکتا” شہر اسے بہت عجیب لگا ۔ ”کتن والی ” آج ” مٹی کی دلہن بنی” نجانے کس ”جرم ” کی سزا پارہی تھی ۔ گھر کیا تھا” جئیرن جو دڑو ”کی طرح یعنی زندوں کا ٹیلہ معلوم ہوتا تھا۔ ” گڑیا ” کا باپ ”قاری قصاب ” کے نام سے مشہور تھا ۔ اس لئے کہ وہ اپنے ہر فیصلے اس طرح کرتا جیسے ”جنت کی چابی ”اسی کے ہاتھ میں ہو اور ”قیمتی تابوت ” بنانے کا ٹھیکہ بھی لے رکھا ہو ۔ گویا جینا اور مرنا اس کی مرضی سے ۔ نجانے اس کو کس بات کا”زعم ”تھا۔بہت سے غریب ”ناکردہ گناہ ” کی سزا پارہے تھے ۔ انھیں” چڑھاوا” کے طور پر بہت کچھ قربان کرنا پڑتا تھا۔۔۔۔۔عام عوام کو ایسے ہی لوگ”ہولی گھوسٹ ”کی طرح چمٹے ہوئےتھے ۔ وہ اس بات کو ماننے کو تیا ر ہی نہیں تھے کہ ” میں جانوں یا خدا جانے”بلکہ خود ہی خدا بن بیٹھے تھے ۔ اسی لئے تو اب ”اگر مگر چونکہ چنانچہ ”سے ہی بہلایا جارہا تھا ۔یہی وہ لوگ تھے جو اس دھرتی پر ”بوجھ” بنتے جارہے تھے ۔
ادھر”تفرقہ”کی وجہ سے پورا شہر” لہورنگ”ہو چکا تھا گویا۔ پورا معاشرہ ہی ”کلیڈیوسکوپ” کی طرح نظرآتا تھا دراصل یہی ”خواب فروش” بھی تھے شائد ہم اپنی ”شناخت ”بھولتے جارہے ہین اک عجیب سی ”کشمکش ” میں مبتلا تھے ۔ ان حالات میں ”آٹھواں رنگ “کیسے چڑھتا۔
راشد ”گمراہ” نہیں ہونا چاہتا تھا ۔ ”جی ایل موومنٹ” بھی ترقی پکڑ رہی تھی اسے خوشبو اور رنگوں سے سجے ”کنول کے پھولوں والے تالاب ”کی تلاش تھی ۔جہاں موتی ،مچھلی اور جل پری ” جیسا خواب ناک نظارہ ہو اور ”منظر نامہ ”ایسا حسین ہو جیسا”بختک کابوس ”یعنی ستاروں سے اگے جو خوبصورت جہاں ہے بالکل ویسا ۔ اسے ” خوابوں کے بند دروازے ” کھلنے کی مبہم سی امید تھی ۔ وہ مشورے کے لئے ” استاد جی دربارسنگھ” کے پاس جانے کا ارادہ بھی رکھتا تھا ۔جنہیں بحری جہاز کے سفر سے نجانے کیوں ڈرسا لگتا تھا ۔اکثر کانوں کو ہاتھ لگا کر کہتے ” سمندر جہاز اور میں ” ناممکن ۔۔۔۔۔
اس نے ”ٹک ٹک ٹک ” کرتی گھڑی کو دیکھا ” وہ بخوبی جانتا تھا کہ شہر میں بھی اب ”آدم خور ”گویا ”نگھ” کی طرح آبسےہیں جنہوں نے ” دھنک کے رنگ ”پھیکے کر دیئےہیں ۔ان میں سے کچھ بظاہر” نمازی ” ہیں مگر شاید یہی ”مہزب درندے بھی بن چکے ہیں ۔نجانے یہ ”گرہیں ” کب کھلیں گی ۔یہ بھی سچ ہے کہ ”خدا کے ہاں”دیر ہے اندھیر نہیں ”جنت دوزخ ”میں جانے کا فیصلہ بھی اسی نے کرنا ہے ۔”بین کرتی آوازیں ”جب اس کے در پرمسلسل ”دستک ” دیں گی تو کئی ”عزت دار ”کاغزی ہے پیرھین” کی طرح عیاں ہوجائیں گے ۔
گڑیا ”ودیعت” کی گئ اس ” قید حیات” سے تنگ آچکی تھی اور منتظر تھی کہ کب ”پردہ اٹھتا ہے ‘اور ”رانی کا راجہ ” ”رہائی”حاصل کرکے اسے ”جگنو محل ”لے جاتا ہے ۔وہ ”پنجرے میں قید نیند” کی طرح ‘تھی ۔ ”اسے ”سرگوشیاں ”سی سنائی دیتیں ۔وہ اکثر گنگناتی ۔”دو نیناں مت کھائیو ” وہ اس ” خوف کے رشتے ” کو بھی ختم کر دینا چاہتی تھی اس نے سوچو کو جھٹکا اور ”دستر خوان ”سجایا ۔اور اپنے بابا کے لئے ”سوجی کے بسکٹ” بھی رکھ دیئے ‘
آج اس کے بابا نے شہر جانا تھا انھیں ”دوسری عورت ”کی تلاش تھی اور ماں اس ”انتظار ” میں تھی کے ”بیٹی ” کو بھی تیار کرکے ساتھ روانہ کردے مگر وہ چیخ اٹھی ۔ ” نہیں ممی نہیں ” میں ساتھ نہیں جارہی وہ ”خود اتلاف” کے عمل سے گزر رہی تھی اور ”سیندھ ”بھی لگانا نہیں چاہتی تھی اسی لئے ۔”میں اور میں ” کی تکرار سے بھی چھنچھلا گئی تھی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ ۔
گڑیا کے بابا سلیم صاحب اکیلے ہی ”پلیٹ فارم ” پر ٹہلتے ٹہلتے بچوں کی ”سسکتی ہوئی قلقاریاں ” سن رہے تھے بنچ پر بئٹھ کر ۔دور ”خلا ” میں تکتے ہوئے سوچ رہےتھے کہ ”ایسا کیوں ہے ”کہ کبھی کبھی ”قطرے میں سمندر”بھی ”لہورنگ گرہن” کی طرح دکھائی دینے لگتا ہے پھر اچانک جو سامنے دیکھا تو ”ٹاہلی والا بابا”سیتا کے بکھرے ہوئے بال”سجائےکسی ”بھکاری ”کو کہہ رہا تھا کہ ”ہاتھ میرے خالی ہیں ۔ ”اب تم ”پیٹ کی آگ ” کیسے بجھاو گے ۔۔اس نے اطمنان سے جواب دیا ”ھل من نصرا” اور ایک نعرہ مستانہ لگاتا ہوا ”کباڑیئے” کے پاس جابیٹھا جہاں ”تولا بابا” بھی پہلے سے ہی موجو د تھا ۔
”قدرت کی اس تقسیم ” پر وہ حیران تھا ۔
پھر ٹھنڈی آہ بھر کر بولا ”اللہ بس اور باقی ہوس”۔
سب ”مایا ” ہے باوجود اس کے ” قرض الفرض ادا تو کرنا ہوگا”
سامنے ہی ” رحمیو کی ریڑھی” تھی جوبہت ”غیرت مند”تھا۔ اس کا بیٹا ”سنگ تراش ”تھا ۔ اس ”جرم ” کی پاداش میں اسے ”پھانسی ”پر لٹکا دیا گیا تھا ۔ اب اس کے گھر کا ”کچا آنگن ” مزید سونا ہوچکا تھا ۔ اور ”زرد پتے ”بکھرے رہتے تھے نہ ”کام والی ” صفائی کرتی اور نہ ہی ”کوڑے والی” آتی عجیب ”گٹر سوسائیٹی بنتی جارہی تھی ۔
راشد گڑیا سے ”ملن” کو بے چین تھا اور اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ ”چھوٹی لڑکی نہیں ہے ۔اس کی ماں ایک ”مشرقی عورت” ہےجب کچھ کیا ہی نہیں تو پھر ”چور کی ماں ” کیوں کہلائے اور یہ کہ”سوتیلی عورت کے آجانے سے ”خوف ”اور بھی بڑھ جائے گا ۔ وہ بہت کوشش کر رہا تھا کہ اپنے اندر کی”کرلاہٹ کو ظاہر نہ ہونے دے ۔ مگر ”یار ڈاڈھی عشق آتش لائی ہے ”گنگناتا ہواایک ”یقین ” کے ساتھ اس کے گھر کی طرف چل پڑا ۔”راستے میں ”گملے کا پودا”اسے نظر نہ آیا جلدی میں وہ ” عینک ” پہننا بھی بھول گیا تھا گرنے سےچوٹ لگی اور دیکھا کہ ” ”خون آلود صفحہ” پاس ہی پڑا ہے اس نے ایک اچٹتی سے نظر اس پر ڈالی ”کاغذ کو اٹھا کر ”کوڑا دان ” میں ڈال دیا اسے محسوس ہوا جیسے ” بند دروازے ” میں سے ”بین کرتی آوازیں” آرہی ہیں جو مسلسل ایک ” پھانس ” کی طرح چبھ کے رہ گئی تھیں
۔وہ جانتا تھا کہ گڑیا ”ان چھوئی” ہے مگر اس وقت وہ” نائیلون میں لپٹی لاش” کی طرح تھی وہ جانتا تھا کہ اس کا باپ اس کے ساتھ ”میزان بہ دست دگراں ” جیسا سلوک کرے گا ۔ یعنی انصاف کرنے کی بجائے ”سوتیلی عورت” کو ” پہلی عورت ” پر ضرور ترجیح دے گا ۔ وہ اس ”مثلث ” میں بری طرح پھنس کے رہ گیا تھا ۔ اور یہ بھی کہ ” مونی کا غصہ” بھی کس شدت کا ہے ۔
سب لڑکیا ں ” ایک سی” ہوتی ہیں۔ پھر بھی اس کے لئے ”چراغ راہگزر”بننا چاہتا تھا ۔
اس نے دروازے پر ”دستک ”دی سامنے سے ایک ”ہیولا”سا آتا دکھائی دیا ۔اچانک ”دیوی ” بنی اس کے سامنے کھڑی تھی ۔قدرت کے اس ”شہکار” اور حسین”مجسمہ” کو دیکھ کر اس لگا جیسے ” آب حیات” مل گیا ہو۔ ”الفاظ”جیسےگم ہوگئے تھے ۔ سوچ رہا تھا کہ کیا ایسی ”اسٹوری ” بنائےجس سے نہ صرف اپنا ” خیرخواہ” سمجھے بلکہ کوئی بہترین ”سلوشن” بھی نکل آئے
راشد اس سے ”کھلواڑ” بھی نہیں کرنا چاہتا تھا یہ بھی جانتا تھا کہ”عزت دار” گھر کی بیٹی ہے ۔ایک وسوسہ یہ بھی تھا کہ نجانے وہ ”اس کی پسند” ہے بھی یا نہیں ۔
اج ”ورکنگ ڈے ” تھا سامنے سے ”خرگوش فروش ” آتا دکھائی دیا ۔ وہ جانتا تھا کہ ”بہت سے ”سلگتے لوگ ” آس پاس ہی موجود ہیں ۔ اس لئےکوئی ”تماشہ ” بھی نہیں چاہتا تھا ۔
دیکھتے ہی اسے کہا ” ہوسکتا ہے”خبرم رسید امشب” یعنی آج رات کوئی خبر ملے خوشیاں ہماری راہ تک رہی ہوں
وہ۔”لا” حاصل خوشی کو حاصل کرنا چاہتا تھا اب اسے یہ سب ”خواب ”لگ رہا تھا اورچاہتا تھا کہ ”کرب کا سفر”اب اختتام پزیر ہو۔
راشد اسے یقین دلانے میں کامیاب ہوگیا تھا تبھی تو چہرے پر اب”سکوت ”سا طاری تھا خوشی خوشی ”شب بخیر ” کہہ کے پلٹا ۔ ” وہ جانتا تھا کہ آج تو ”راستے بھی خاموش ہین ”
ادھر سلیم صاحب جن کا ”اک زہن دھند کی زد میں”تھامزید ”گمراہ ” ہونے سےبچ گئے تھے ۔اور سمجھ گئے تھے کہ ”پہلی بیوی ” ہی ”سیتہ وان” ہے۔ انھیں ”صرف ایک رات کی خاطر” سب کچھ قربان نہیں کرنا چاہیئے ۔
اس سے پہلے کہ ”قضا”انھیں آن دبوچے وہ ”کفارہ ادا کرنا چاہتے تھٓے۔وہ ایسے”حرف گل ” کی تلاش میں تھےکہ اپنی بیوی کا کھویا ہوا اعتماد لوٹا سکیں
اچانک انھیں سامنے سے راشد اپنے گھر کی طرف جاتا دکھائی دیا ۔ان کے چہرے کا رنگ ایک دم بدل گیا غصے سے زمین پر”تھوک ”پھینکا اور بڑبڑایے ۔۔ اب تو اسے ”نکیل ”ڈالنی ہی ہوگی ۔جلد ہی تھانے میں ”رپورٹ”بھی کروادوں گا ۔ اپنے ہونٹوں کو مزید سکوڑ کر نخوت سے بولے ۔” ہجڑہ سالا”

 

Advertisements

7 thoughts on “افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ” کولاج” تحریر مریم ثمر

  1. It may be evaluated as a symbolic writing, but there no one major theme, cohering the whole story.
    Seems like the writer had a big vital idea,but she skipped some treatment steps.
    Nice attempt.

    Like

  2. ثروت ع ج سے متفق۔۔۔۔۔۔
    اور پھر مریم ثمر نے خود بھی وضاحت دے دی کہ یہ بہت سے افسانوں کے نام ہیں۔
    مریم کو میں نے پڑھ رکھا ہے انہوں نے مقابلے کے لیے افسانہ مناسب نہیں منتخب کیا ۔ اس سے اچھے ان کے افسانے موجود تھے ۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s