افسانہ نگاری کا مقابلہ : افسانہ ” ایسا بھی ہوتا ہے ” تحریر فخرالدین کیفی

ایسا بھی ہوتا ہے
جی ہاں۔ایسابھی ہوتا ہے۔۔
آج ہوا یہ کہ کامران ایک اتوار کے ناغے کے بعد پہنچا تو کچھ بدلا بدلا سا لگا۔ہم سب دوستوں کا خیال تھا کہ کچھ عرصے سے اسے کوئی پریشانی لا حق ہے لیکن بتاتا نہیں۔کریدنے کی ہمیں عادت نہیں لیکن پھر بھی ایک آدھ بار استفسار کیا تو ٹال گیا اس لیئے اسے اس کے حال پر چھوڑدیا۔
آج اس میںکچھ خوشگوارتبدیلی نظر آئی۔چہرہ کھلا ہوا، مردنی جو کئی ماہ سے چہرے پرچھائی ہوئی تھی ، غائب تھی۔
ہم چند دوست ہر اتوار کی شام کلب میں ملتے ہیں اور کچھ دیر گپ شپ کر کے ایک دوسرے کا غم(جو ہم میں سے شاید ہی کسی کو ہو)بانٹ لیتے ۔یہ سلسلہ ریٹائرمنٹ سے چل رہاہے لیکن پچھلے چند ماہ سے ایسالگ رہا تھا کہ کامران کو کوئی غم لگ ہی گیا ہے جو وہ ہم لوگوں سے شیئر کرنا نہیں چاہتا۔اس لیئے آج پھر پہلے والے کامران کو دیکھ کر خوشی ہوئی اور سعید نے پوچھ ہی لیا
’’ کیا کوئی لاٹری واٹری نکل آئی ہے‘‘
اپنے ’کامرانی انداز‘ میں بھر پورقہقہہ لگاتے ہوئے بولا’’ ہا ہا۔۔ اس سے زیادہ کی تمہاری سوچ ہوہی نہیں سکتی ‘‘
’’ تو پھر۔۔‘‘ہم نے پوچھا
بولا’’ بتاتا ہوں۔۔ پہلے کچھ چائے شائے ہو جائے۔‘‘ یہ کہہ کر بیرے کو چائے لانے کا کہا اور پھر کہنے لگا’’کھاناکچھ دیربعد۔۔ اور ہاں! آج امریکن سسٹم نہیں بلکہ میری طرف سے۔۔کیسا؟‘‘
راحیل نے کہا ’’ اس کا مطلب ۔۔۔واقعی کوئی خوشخبری ہے؟‘‘
’’ ہاں بھئی ۔کچھ ایسا ہی ہے۔۔سن کر پھڑک اٹھو گے۔۔تم لو گوں نے محسوس کیا ہوگا کہ میں کچھ مہینوں سے پریشان رہا ہوں‘‘
’’بالکل ۔!اور ہم نے پوچھا بھی تھا لیکن تم بتانا نہیں چاہتے تھے ۔‘‘ہم نے گلہ کیا
’’ بس یار! شرمندگی ہوتی تھی۔ورنہ کون سی بات ہے جو تم تینوں کو نہیں معلوم‘‘کامران نے ٹھہرٹھہر کر بڑے نپے تلے انداز میں کہا ’’آج میں تفصیل سے بتائوں گا۔اس سے میری موجودہ خوشی ، پچھلی چھ سات ماہ کی پریشانی کے ساتھ ساتھ تمہیں میرے ماضی کے ایک واقعے کا بھی علم ہو جائے گا جسے میں نے کبھی کسی سے نہیں کہا کیونکہ میری نظر میں اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ کیوں؟ ۔۔۔۔۔۔اس کا اندازہ بھی تمہیں اس کہانی سے ہو جائے گا۔۔‘‘
اس کے بعد وہ ہماری طرف جھکتے ہوئے بولا ’’سعید اور راحیل کی پرواہ نہیں لیکن آپ سے استدعا ہے کہ کوئی تبصرہ کرنے یا مجھ پر ناراض ہونے سے پہلے سارے واقعات کا تفصیلی جائزہ ضرور لے لینا۔‘‘
ہم تینوں دوستوں کا اشتیاق بڑھتا جا رہا تھا۔
اتنے میں بیرا میز پر چائے لگانے لگا اور حسب معمول سعید نے چائے بنانے کی ذمہ داری لے لی۔
بیرے کے جاتے ہی ہم نے کامران کی طرف دیکھاجس کے چہرے سے محسوس ہورہا تھا کہ وہ طے نہیں کر پا رہا کہ آغاز کہاں سے کرے؟۔افسانہ نگار ہونے کے ناتے ہم سمجھ رہے تھے کیونکہ یہ واقعی مشکل کام تھا۔ایک کہانی میں تین ادوار۔۔ایک حال جس میں خوشی کا پہلو نمایاں، دوسرا ماضی قریب! جس میں اس کی پریشانی کے اسباب پنہاں اور تیسرا ماضی بعید کا کوئی واقعہ جس کے سر پیر کا ہم میں سے کسی کو علم نہیں۔۔‘
چائے کا پہلا گھونٹ لیتے ہی ایسا محسوس ہوا کہ آغاز داستاں کے لیئے اسے مناسب سرا مل گیا اور وہ گویا ہوا:
’’ پچھلے چند ماہ سے جو تم مجھے پریشان دیکھ رہے تھے تو اس کی وجہ تھی میری ازداجی زندگی‘‘ یہ کہہ کر وہ رکا اور چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے ہماری طرف دیکھا ۔شاید وہ اپنے انکشاف کا ردعمل دیکھنا چاہتا تھا۔
’’ہم نے نظریں جھکاتے ہوئے دھیرے سے کہا ’’ہمیں کچھ کچھ اندازہ توتھا‘‘
وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے بولا ’’ میںیہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ میری بیگم نے اس بڑھاپے میں ایسا کیوں کیا کہ کچھ مہینوں سے وہ مجھ سے کھنچی کھنچی رہنے لگی۔وقت کے ساتھ میرے نہ چاہنے کے باوجود وہ مجھ سے دور ہوتی چلی گئی جب کہ مجھے اس کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہونے لگی تھی۔میری خواہش تھی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ہم زیادہ سے زیادہ وقت ساتھ گزاریں۔ ناشتہ ساتھ کریں،لنچ اور ڈنر پر ساتھ ہوں، صبح کی سیر پر جائیں،ٹی وی پر لیٹ شوز ساتھ دیکھیں۔
’’یہ سب تو نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس اس نے اپنا کمرہ بھی الگ کر لیا۔ بس شکر یہ ہوا کہ آنے جانے والے رشتہ داروںکے سامنے اس طرح رہتی کہ کسی کو گمان بھی نہیں ہوتا کہ کسی قسم کا تنائو بھی ہم دونوں کے درمیان ہے۔
’’ بچے بالغ اور شادی شدہ ہیں انہیں اندازہ ضرور رہا ہوگا لیکن وہ خاموش ہی رہے۔‘‘
سعید نے کچھ پوچھنے کے لیئے پہلو بدلا ہی تھا کہ ہم نے اس کا پیر دبادیا۔ہم نہیں چاہتے تھے کہ سوال و جواب میں قصہ طول پکڑ جائے اور کوئی کام کی بات رہ جائے۔
کامران نے ہم لوگوں کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر ندامت تھی اور محسوس ہورہا تھا کہ اسے یہ سب کچھ بتاتے ہوئے تکلیف ہو رہی تھی۔ہم سمجھ رہے تھے یہ سب بتانا کہانی کے انجام تک پہنچنے کے لیئے بے حد ضروری ہے ورنہ شاید کامران یہ سب کچھ نہ بتاتا۔
’’ کیفیؔ صاحب۔۔‘‘سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے وہ گویا ہوا ’’قصہ مختصر!۔۔رنجش بہت بلکہ اتنی بڑھی کہ اب ہم ایک دوسرے سے اس وقت مخاطب ہوتے جب کوئی تیسرا بھی موجود ہوتا۔میں نے کئی دفعہ معلوم کرنا چاہا کہ وجہ معلوم ہو تاکہ ازالہ کرسکوں لیکن ایسا لگتا تھا کہ وہ اب مجھ سے کسی قسم کا تعلق رکھنے کو تیار نہیں۔
’’جب معاملات کچھ زیادہ ہی خرابی کی طرف مائل ہونے لگے تو دل میں آیا کہ پھر کیوں نہ قانونی اور شرعی طریقہ اپنایا جائے مگر یہ خیال بھی آیا کہ ’پھر لوگ کیا کہیں گے۔بچے کیا سوچیں گے ‘اور ازلی بزدلی سے کسی فیصلے پر پہنچنے سے خود کو روکتے رہے۔۔ یہ بھی میں ہی سوچتا رہا۔اس نے اس کی بھی پروا نہیں کی۔ اس لیئے میں نے سارا معاملہ اللہ پر چھوڑدیا کہ اب قدرت ہی کوئی راہ نکالے گی لیکن مجھے آج بھی یہ دکھ ہے کہ اس کی وجہ نہیں معلوم ہوپا ئی۔‘‘
یہ کہہ کر کامران کسی سوچ میں پڑگیا تو ہم نے چند لمحے توقف کے بعد اس سے پوچھا’’تو اسکامطلب کہ کوئی امید نہیں رہی‘‘
’’ہاں ۔! لیکن کہتے ہیں ناں کہ اللہ تعالیٰ خود راہ ہموار کرتا ہے کسی بھی کام کی تکمیل سے پہلے۔اس ضمن میں ایک مشہور شعر ہے لیکن اس میں حادثہ کا ذکر ہے اس لیئے کچھ جچتا نہیں۔ اس لیئے ذرا سی ترمیم کے بعد کہہ سکتے ہیں۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
واقعات ایک دم نہیں ہوتے
’’ہوا یہ کہ پچھلے اتوار کو اس نے مجھ سے کہا کہ’ ڈائریکٹر آف ایجوکیشن شائستہ جمال نے اپنے بنگلے پر چند مخصوص ریٹائرڈ پروفیسرز کو مع اپنے شوہروںکے مدعو کیا ہے۔اگر چلنا چاہو تو آٹھ بجے تک پہنچنا ہے‘۔
’’حالانکہ اب ہم کسی تقریب میں بھی اس وقت تک ساتھ نہیں جاتے تھے جب تک بچے ساتھ نہ ہوں ۔اس لیئے یہ سن کرہمیں تعجب تو ہوا لیکن یہ سوچا کہ ’شاید برف پگھل رہی ہے ‘ اس لیئے راضی ہوگیا۔دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ اس بہانے کچھ چینج بھی ہو جائے گا اور بیگم شائستہ کے شوہر ایڈووکیٹ جمال جن سے میری کافی دوستی ہے ملاقات بھی ہو جائے گی ۔
’’ بیگم شائستہ کی تقاریب سادہ اور پروقار ہوتی ہیں اس لیئے مجھے پسند ہیں۔
’’جب ہم وہاں پہنچے توصرف دو میزوں پر کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔جبکہ دیگرچھ میزیں مہمانوں کی منتظر تھیں۔
’’ہم ایک خالی میز کی طرف بڑھے ہی تھے کہ مسز شاہدہ فاروقی نے آواز لگائی
’’ مسز کامران!کہاں جا رہی ہو تمہاری کرسی ہم نے روکی ہوئی ہے ‘‘۔
ہم دونوں ادھر چلے گئے۔میز پر بیوی کی تین کولیگز اور ان کے شوہروں کے علاوہ دو خواتین اور بھی موجود تھی۔ان دوکے علاوہ دیگرسے ہم واقف تھے۔
’’ہم دونوں نے کرسیاں سنبھالتے ہوئے سب سے علیک سلیک کی۔میں نے عادت کے مطابق پہل کرتے ہوئے کہا’’ بھئی! میں آپ سب سے تو واقف ہوں پر ان دونوں سے متعارف نہیں‘‘ یہ کہتے ہوئے میں نے سرسری ان دونوں کی طرف دیکھا تو محسوس ہوا ان میں سے ایک مجھے بغور دیکھ رہی ہے۔آنکھیں ملیں تومجھے بھی کچھ شناسائی کی جھلک نظر آئی۔
’’ مسز فاروقی نے کہا’’ جی ہاں !آپ ان سے واقف نہ ہوںگے۔یہ دونوں بیگم شائستہ کی کزنز ہیں۔یہ شبنم ہیں ان کی ماموں زاد اور یہ خالہ زاد۔۔‘‘
اس سے پہلے کہ نام لیتیں ۔ہمارے منہ سے بے ساختہ نکلا ’’آپ عندلیب تو نہیں؟‘‘
’’یہ سن کردفعتاً اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اوروہ تھوک نگلتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میںبولی’’ کیا۔۔آپ ۔۔کامرا۔۔ لیکن جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی وہ کرسی پر ڈھلک گئی تھی‘‘ ۔
’’کوئی کچھ نہ سمجھ سکا سب گھبرا گئے تھے ۔۔۔۔وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔
’’اک ہلچل سی مچ گئی تھی۔ادھر ہماری حالت بھی غیر ہو رہی تھی اس کی اس حالت کا ذمہ دار خود کو سمجھ رہے تھے۔
’’اسی اثنامیں بیگم شائستہ اور جمیل بھی آگئے ۔عندلیب کے چہرے پر پانی کے چھینٹے دیئے جانے لگے۔بالآخر کچھ دیر میں اسے ہوش آیا تو بولی ’’ مجھے کسی کمرے میں لے چلئے۔میں  کچھ دیر تنہا ئی چاہتی ہوں‘‘۔
’’تمام خواتین اسے سہارا دے کرقریبی کمرے میں لے گئیں جبکہ ہال میں موجود تمام مرد حضرات سوالیہ نشان بنے مجھے ہی دیکھ رہے تھے ۔
’’ میں انہیں کیا بتاتا۔بس خاموش بیٹھا رہا۔‘‘
کامران یہ کہہ کر خاموش ہوا تو راحیل اور سعید بیک وقت بول پڑے’’تو کیا تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے تھے؟‘‘
کامران نے خالی خالی نظروں سے ان دونوں کی طرف دیکھا اور بولا’’اب تم نے پوچھ ہی لیا تو چلو پہلے یہ ہی سن لو‘‘
ہمیں سعید اور راحیل پر غصہ تو بہت آیا کہ خواہ مخواہ سیکونس(Sequence)توڑدیا لیکن خاموش رہے کہ کہیں کہانی میں مزید ٹوئسٹ نہ آجائے۔
کامران کچھ دیر آنکھیں بند کئے بیٹھا رہا۔ شایدگزرے واقعات کی کڑیاں ملا رہا تھا ۔ ہم نے اشارے سے دونوں کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور کامران کے لب کھولنے کے منتظر رہے۔چند لمحوں کے بعد اس نے آنکھیں کھولیں اورہم تینوں کو منتظر پاکرمسکرایااوربولا
’’ یہ تقریباً نصف صدی پرانا قصہ ہے
’’میں گورنمنٹ کالج میں انٹرکا طالب علم تھا۔روزانہ کالج جانے کے لیئے نکلتا تو لڑکیوں کے اسکول کے سامنے سے گزر ہوتا.میں  عادتاً سر جھکا کے چلتا ہوں اس لیئے عموماً ادھر ادھر نہیں دیکھتا تھا،اس زمانےمیں  طبیعت ھی کچھ شرمیلا پن تھا اس لیئے اسکول کے سامنے سے گزرتے ہوئے کچھ زیادہ ہی محتاط رہتا ۔
ایک روز نہ جانے کیا ہوا کہ بلا ارادہ میری نظر اسکول کی طرف اٹھ گئی جہاں دو لڑکیاں کھڑی تھیں۔
’’جونہی میری نظر ان پر پڑی ان میں سے ایک مسکرادی۔
’’میرے ہاتھ پیر پھول گئے اور میں جلدی سے آگے بڑھ گیالیکن ایک بے چینی سی دل میں محسوس ہوئی۔پورا دن اسی سوچ میں گزر گیا کیونکہ میری زندگی میں اس قسم کا کوئی واقعہ پہلی بار ہوا تھا۔
’’میری واپسی بھی عین اسکول کی چھٹی کے وقت ہوتی تھی لیکن آج فرق یہ رہا کہ سر جھکا نہیں رکھا تھا۔
’’اسکول کے گیٹ کے قریب کافی رش تھا لیکن میں نے ان دونوں کو دیکھ ہی لیا۔
’’اس کے چہرے پر وہی شریرسی مسکراہٹ کھیل رہی تھی جس سے صبح بھی پالا پڑچکا تھا۔میں جلدی سے آگے بڑھ گیا اور حسب معمول چند قدموں کے فاصلے پر اپنے کزن خورشید کی کتابوں کی دکان میں چلا گیا۔خورشید کی دکان میں اسٹیشنری یانصاب کی کتابیں نہیں تھیں بلکہ انگریزی لٹریچر کی کتابیں ملتی تھیں اس لیئے اس پر طلبا ء کی آمد ورفت نہ ہونے کے برابر تھی۔
’’میں روزانہ اس سے کچھ دیر گپ شپ کرکے گھر جاتا تھا۔
’’یہیں میری اشفاق صاحب سے بھی ملاقات ہوجاتی تھی ۔وہ یونیورسٹی میں ایم اے کے اسٹوڈنٹ تھے اور پارٹ ٹائم گرلز اسکول میں ایک دو کلاسیں بھی لیتے تھے۔میری ان سے خوب چھنتی تھی کیونکہ دونوں کو انگریزی ادب سے رغبت تھی۔ ابھی ہم دکان میں خورشید اوراشفاق صاحب سے مصافحہ کر رہے تھے کہ دونوں لڑکیاں دکان کے سامنے سے گزریں۔ہم نے رخ بدل لیا اور کتابیں دیکھنے لگے۔
’’اب یہ روزکا معمول ہوگیا تھا۔کالج جاتے ہوئے، واپسی پر اور پھر خورشید کی دکان کے سامنے سے ان دونوں کا چکر۔۔میری کافی احتیاط کے باوجود ایک دن خورشید اور اشفاق صاحب نے پوچھ ہی لیا ’’کامران۔ کیا تمہاری جاننے والی ہیں یہ لڑکیاں؟‘‘
’’ کون سی ؟‘‘میں نے انجان بنتے ہوئے پوچھا
’’یہ دونوں جو ابھی گئی ہیں ‘‘خورشید نے کہا’’ ابھی ایک منٹ بعد پھر لوٹیں گی۔۔میں کئی دنوں سے دیکھ رہا ہوں۔۔‘‘
’’اتنے میں دونوں پھر گزریں۔اس بار میں باہر ہی دیکھ رہا تھا جیسے ہی میری نظریں ملیں ،وہ مسکرادی اور میں نے اپنا رخ بد دیا۔
’’دونوں ہنستی ہوئی چلی گئیں۔میں کچھ گھبرا سا گیا اور فوراً صفائی پیش کی
’’ بھئی !بخدا ! ۔۔۔۔مجھے کچھ پتہ نہیں ‘‘
’’ اشفاق صاحب بولے ’’مجھے معلوم ہے۔ یہ سلسلہ کئی دنوں سے دیکھ رہا ہوں اور واقعی تمہیں پتہ نہیںہوگا۔۔پہلے مجھے بھی پتہ نہیں تھا کہ یہ دکان کی طرف کیوں دیکھتی ہیں لیکن دو تین دن پہلے جب تم نے ان کی طرف دیکھا تھا تو یہ مسکرا دی تھی۔تب مجھے شک ہوا کہ یہ سب تمہارے لیئے تھا۔اور اب تو یہ روز ہی ہو رہا ہے‘‘
’’دوسرے دن اشفاق صاحب نے بتایا کہ’’ یہ دونوں نویں کلاس میں ہیں۔مسکرانے والی عندلیب اور دوسری اس کی کزن شبنم۔!
’’عندلیب ایک بڑے باپ کی اکلوتی ہے۔۔خیال رکھنا کہیں مشکل میں نہ پڑ جانا۔‘‘
’’میں پریشان ہو گیا کیونکہ بے عزتی سے بہت ڈرتا تھا۔اب میں نے اسکول والی فٹ پاتھ کی بجائے سامنے والی فٹ پاتھ سے آنا جانا شروع کر لیالیکن خورشید کی دکان پر جانا نہیں چھوڑا اور وہ دونوں حسب معمول دکان کے سامنے سے ضرور گزرتیں لیکن اب میں ان کی طرف خواہش کے باوجود بھی متوجہ نہیں ہوتاتھا۔
’’خورشید اور اشفاق صاحب بتاتے کہ’ عندلیب کے چہرے پر اب مسکراہٹ نہیں ہوتی اور تمہارے متوجہ ہونے کی منتظر رہتی ہے۔۔‘
’’یہ سلسلہ چلتا رہا۔ پھر گرمیاں آگئیں اور میرے امتحانات کے بعد چھٹیاںشروع ہو گئیں ۔ نتیجہ نکلا ۔۔۔ میری ڈاکٹر بننے کی خواہش دم توڑ گئی ۔
’’میں نے اشفاق صاحب کے مشورے سے ایم اے انگلش میں داخلہ لے لیا۔
’’اس کے بعدمیں نے عندلیب کو کبھی نہیں دیکھا۔
’’ایم اے کرکے فوج جوائن کرلی اور اس کے بعد جانتے ہی ہو کہ اب ریٹائر ہو کر گھر بیٹھا ہوا ہوں۔ ‘‘
اتنا کہہ کر کامران نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں۔۔دو تین منٹ گزر گئے تو ہم نے نہ چاہتے ہوئے بھی ٹوک دیا۔۔
’’ یار کامران ! جلدی سے کہانی پوری کرو بھوک لگ رہی ہے‘‘
سعید بول پڑا’’ہاں یار دو بٹا تین کہانی تو ہو گئی ایک بٹا تین باقی رہ گئی ‘‘
راحیل نے بھی فوراً کہا’’ ہاں بھئی !حال کی خوشی رہ گئی۔تمہاری پریشانی اور پرانی کہانی کا تو پتہ چل گیا لیکن یہ خوشی والی بات رہ گئی۔‘‘
سعید بولا’’ ہاں ہاں! لیکن ایک ا ور وضاحت۔۔ تمہیں ان دونوں کے نام تو اشفاق نے بتادیئے تھے لیکن تمہارا نام انہیں کیسے معلوم ہوا ؟‘‘
’’مجھ پر بھی پچھلے ہی ہفتے یہ انکشاف ہوا ہے جب اس نے میرا ادھورا نام لیا تھا۔بعد میں  شبنم معلوم ہوا کہ کبھی کبھی ہمارا ایک کلاس فیلو جوہمارے ساتھ آتا تھا اس کی بہن ان دونوں کی کلاس فیلو تھی اس سے میرا نام معلوم ہوا تھا۔
’’ خیر! اب کہانی کے اختتام کی طرف آتا ہوں۔
’’عندلیب کی اس طرح اچانک طبیعت بگڑنے سے میری پوزیشن بڑی خراب ہو گئی تھی ۔خواتین تو اندرکمرے میں چلی گئیں مگر مرد حضرات حقیقت جاننے کے لیئے بے چین تھے۔
’’ اس سے پہلے کہ وہ سوال کرتے ،جمال صاحب نے مجھے اشارے سے اپنے قریب بلوایا اور ایک کمرے میں لے گئے جہاں بیگم شائستہ اورشبنم پہلے سے موجود تھیں۔میںبڑی شرمندگی محسوس کر رہاتھاجسے محسوس کرتے ہوئے بیگم شائستہ نے کہا’’آپ پریشان نہ ہو ں۔ ابھی ابھی شبنم نے یہ قصہ سنایاہے ۔آپ کا اس سارے معاملے میں کوئی قصور نہیںلیکن آپ چاہیں تو ہماری مدد کر سکتے ہیںحالانکہ یہ کوئی معمولی بات نہ ہو گی لیکن ہمیں یہ ہی حل نظر آرہا ہے‘‘پھر اپنے شوہر سے تائید چاہتے ہوئے کہا’’۔۔۔ کیوں جمال؟۔‘‘
’’میں ہونقوں کی طرح انہیں دیکھ رہا تھا ۔ایسی کسی سچویشن سے پہلی بار میراپالا پڑاتھا۔
’’جمال ہنستے ہوئے بولے ’’ یار! یہ عندلیب ہماری بڑی پیاری کزن ہے۔۔کاش !اس نے یا اس بیوقوف شبنم نے بہت پہلے ہی بتا دیا ہوتا تویہ سب کچھ نہ ہوتا۔میرے خالو یعنی عندلیب کے ڈیڈی مرتے دم تک عندلیب سے شادی نہ کرنے کی وجہ پوچھتے رہے لیکن اس نے کبھی یہ راز فاش نہیں کیا۔نہ شبنم نے ہی کبھی اس حماقت کا ذکر کیا۔یہ تو ابھی معلوم ہوا کہ وہ کتنی شدت سے تمہاری منتظر رہی ہے جب کہ شاید کبھی تم دونوں میں گفتگو تک نہ ہوئی تھی‘‘
’’میں بت بنا بیٹھا تھا۔سمجھ ہی نہیں آرہی تھے کہ کیا کہوں؟۔کیسے کہوں کہ اس وقت تو نہیں لیکن کافی عرصہ گزرنے کے بعد کبھی کبھی ایک کسک سی محسوس ضرور کرتا رہا ہوں۔اکثر خیال آتا اور خواہش ہوتی کہ ایک بار اس سے ملاقات ہو جائے۔مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ خواہش ایسے پوری ہو گی۔بالکل اچانک ۔!
’’میں سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ جمال صاحب کے الفاظ بم کی طرح مجھ پر گرے۔۔
’’ کامران کیا یہ نہیں ہو سکتاکہ تم عندلیب سے نکاح کرلو۔۔یہ بالکل اکیلی ہے ۔ہم لوگوں کے علاوہ اس کا کوئی نہیں۔۔خالو کا سارا بزنس اور زمینوں کی دیکھ بھال اس کے ذمے ہے۔ ایک بنگلے میں تنہا رہتی ہے دوسرے کا کرایہ آتا ہے۔‘‘
’’یہ سن کر جو میری جو حالت ہوئی وہ میں تم لوگوں سے شیئر نہیں کروںگا لیکن میں سوچنے لگا کیا اللہ کو یہی منظور ہے جو کافی عرصہ پہلے سے میری ازدواجی زندگی میں گڑ بڑ ہونے لگی تھی۔میں نے کچھ کہنے سے پہلے شبنم سے کہا
’’ آپ دو منٹ باہرٹھہریں مجھے جمال صاحب سے کچھ کہنا ہے۔‘‘
’’شبنم کے جانے کے بعد میں نے جمال صاحب کو اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا
’’ گرچہ اب ہم دونوں میں کافی عرصہ سے کوئی تعلق نہیں لیکن ہم میں قانونی یا شرعی علیحدگی نہیں ہوئی اور دنیا کی نظروں میں ہم اب بھی میاں بیوی ہیں۔اس لیئے مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھے دوسری شادی کی اجازت دے دے گی‘‘
’’جمال صاحب نے کہا’’ تم ہاں کرو تو میںخود یہ مسئلہ سلجھا لونگا۔۔
’’اور پھریہی ہوا۔۔ کچھ دیر میں وہ میری بیوی سے’ نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ‘لے آئے۔۔یہ مرحلہ طے کر کے باہر آئے تو اتنی دیر میں سارے مہمان آچکے تھے۔۔بیگم شائستہ اور جمال صاحب سب سے ملنے ملانے میںلگ گئے اور میں بھی اپنی میز پر آگیا ۔
’’کوئی پندرہ منٹ بعد جمال صاحب نے اعلان کیا کہ کھانے سے کچھ دیر پہلے آپ لوگوں کو ایک اہم تقریب میں شرکت کرنا ہو گی۔۔اور کچھ ہی دیر میں انہوں نے ایک قاضی صاحب کا انتظام کیا اور بیگم شائستہ کی یہ تقریب ،تقریب شادی بن گئی۔۔اور آج آپ لوگوں کے لیئے میری طرف سے ولیمے کا یہ ڈنر حاضر ہے۔آپ لوگ بلا تکلف اپنی اپنی پسند کی ڈشوں کا آرڈر کردیں۔

Advertisements

2 thoughts on “افسانہ نگاری کا مقابلہ : افسانہ ” ایسا بھی ہوتا ہے ” تحریر فخرالدین کیفی

  1. عمدہ اندازِ بیاں اور انجام تک دلچسپی برقرار رہی۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے پدرسری کی بُو مسلسل تنگ کرتی رہی ۔۔۔
    اور شعر آپ نے غلط لکھا ۔۔۔ قابل اجمیری صاحب کا شعر ہے اور یوں ہے
    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    Liked by 2 people

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s