افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ “دوسری تصویر” تحریر تصور لیونے

سردی اپنے پورے جوبن پر تھی. فضا میں چھائی دھند نے اندھیرے میں اور اضافہ کیا ہوا تھا.رات کے اس پہر ماحول پر ایک عجیب اور وحشت ناک سناٹے کا راج تھا. گاؤں کے آوارہ کتے بھی کہیں دبکے ہوئے تھے. کبھی کبھار دور سے بھونکنے کی آدھ اک آواز سنائی دے دیتی مگر کوئی جواب نہ پا کر دوبارہ خاموشی چھا جاتی. اک بوڑھی چمگادڑ جو نہ جانے کیوں بے قرار تھی، شہتوت کے درخت سے قریبی سرو کے جھنڈ اور وہاں سے دوبارہ شہتوت تک مسلسل محو چکر تھی.
ہم دونوں موسم سے بے نیاز دروازے سے ذرا ہٹ کے دیوار کے ساتھ لگ کر کڑے تھے. دو دلوں کے فسانے دھڑکن بن کر اس خاموشی میں سنے اور سناۓ جارہے تھے. نہ کوئی لفظ، نہ کوئی جنبش لب. پھر بھی سب سمجھ آرہا تھا. کچھ ان دیکھے جذبوں کی موجیں تھیں. سرکش، خود سر اور بے قرار.
“جانو!” اس نے میرے کندھے سے سر اٹھایا. اور بانہوں کی گرفت ڈھیلی کردی.
“اس قصے کا انجام کیا ہوگا”
“جو بھی ہوگا بہتر ہی ہوگا.”
“لیکن کیسے”
“پتہ مجھے بھی نہیں. بس خود کو وقت کے رحم وکرم پر چھوڑ دیتے ہیں.”
“لیکن آخر کب تک؟ تم نے ابو سے دوبارہ بات کی؟” اس کی آنکھوں میں امید کے دیے، بے یقینی کے سائے تلے جل بجھ رہے تھے.
“مجھ میں اب اور ہمت نہیں. اس نے اپنی طرف سے سب کچھ کرکے دیکھ لیا. مگر تمھارا بھائ…. جانے کس مٹی کا بنا ہوا ہے. کسی کی ماننے کو تیار نہیں. اب میں کس منہ سے ان سے بات کروں. میں بھی اس کی اور بے عزتی برداشت نہیں کرسکتا.”
“تو پھر”
“تو پھر یہ کہ انتظار ہی کرسکتے ہیں اپنی تقدیر کے جاگنے کا”
اس نے اپنے ڈھیلی بانہوں کی گرفت پھر سے مضبوط کردی اور استفہامیہ انداز میں کہا “ایک دوسرا راستہ بھی ہے”
“کیا”
ایسا کرتے ہیں کہ بھاگ چلتے ہیں، کراچی یا پھر پنڈی. وہاں تو تمھاری جان پہچان بھی کافی ہے اور یار دوست بھی بہت ہیں. کوئی نہ کوئی پناہ دے دیگا….”
اس کی بات مجھ پر بم بن کے لگی. میں اس کی بانہوں کے حصار سے یوں نکلا جیسے چار سو چالیس وولٹ کا کرنٹ لگا ہو. “کیا” میری اواز یک لخت سرگوشی سے تقریبا چیخ میں بدل گئی لیکن پھر حالت کا ادراک کرتے ہوئے تیز سر گوشی میں کہا ” تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے نا. تمھیں پتہ بھی ہے تم کیا کہہ رہی ہو.”
وہ میرے انداز سے تھوڑی سہم سی گئی.”تو تمھارے پاس کوئی اور راستہ ہے؟ ہے تو بتادو”
اس کی بات غلط نہیں تھی. کوئی اور راستہ میرے پاس بھی نہیں تھا لیکن ایسے….
…. کبھی بھی نہیں. مجھے خاموش پاکر اس کا حوصلہ پھر بندھ گیا. ” دیکھو! پچھلے سال جب تمھارے ایک دوست، کیا نام تھا اس کا…، ہاں بخت ذادہ. وہ جو پار کے گاؤں سے لڑکی بھگا کر لے گیا تھا. اس کا آج تک پتہ چل سکا؟ ایسے ہم بھی…..” اس قصدا بات ادھوری چھوڑی.
“ان کی چھوڑو. آج نہیں تو کل، مگر سن لو گی کہ مارے گئے” میں نے اس کے چہرے کو ہاتھوں میں بھر لیا. ” بھگانے کو تو میں تجھے ابھی بھگاکے لے جاؤں….” اس نے میری بات درمیان سے ہی اچک لی.” تم پیسوں کی فکر مت کرو. گھر میں کچھ زیور پڑے ہیں. کچھ عرصے تک وہ کام کرجائیں گے. پھر تمھیں کوئی نہ کوئی کام مل ہی جاۓ گا. تعلیم یافتہ ہو. قابلیت بھی ہے.” وہ ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئی.
“نہیں! پیسوں کی بات نہیں. پر یہ ناممکن ہے ہمارے معاشرے میں. اور انجام کیا ہوگا، موت اور وہ بھی ایسی کہ کندھا دینے والا بھی کوئی نہ ہوگا.”
“مجھے نہیں پتہ. جو ہوگا سو دیکھا جاۓ گا. مجھے تمھارا جواب چاہیے، ہاں یا نہیں”
“دیکھو میں تم سے پیار کرتا ہوں لیکن…..”
اس نے پھر سے میری بات کاٹی” ہاں یا نہیں؟”
“نہیں” میں نے نظریں چرالی.
“ٹھیک ہے. مجھے پتہ تھا کہ تمھارا یہی جواب ہوگا لیکن خیر. جاؤ میری موت کی خبر جلد ہی سن لو گے” وہ روہانسی ہوگئی.
“چپ! یہ کیا پاگلوں جیسی باتیں کررہی ہو.”میں نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھنا چاہا لیکن اس نے مجھے دھکا دیا.
“ہاتھ مت لگانا مجھے”
اس نے پتہ نہیں کہاں سے ایک چھوٹی شیشی نکالی اور پلک جھپکتے ہی اس میں سے زہر کی پانچ چھ گولیاں نکال لیں. اس نے منہ کھول کر کھانی چاہی کہ میں نے ہاتھ مار کر ساری گولیاں گرادی. وہ انھیں پھر سے اٹھانے کیلئے جھکی. میں نے اسے ایک تپھڑ رسید کیا اور اٹھا کے بانہوں میں بھر لیا. وہ میرے سینے سے لگ کے رورہی تھی. اس کی سسکیاں میرے دل کو چیرے جارہی تھی. ایسی بے بسی میں نے زندگی بھر نہیں دیکھی تھی. کیا کروں؟ اس کی بات ماننا بھی مشکل تھی اور نہ ماننا بھی. کہیں وہ دوبارہ….. لیکن بھگانا؟
میرے تصور میں اک تصویر ابھری. دو چارپائیاں، میرا بوڑا والد سرجھکاۓ کھڑا تھا. لوگ…. باتیں…. طعنے…. . پھر ایک دوسری تصویر ابھری. میں ایک قبر کے سامنے سر جھکاۓ کسی مجرم کی طرح کھڑا ہوں. احساس ندامت…. پشیمانی…. لوگ…. باتیں…. شکوک…. قیاس آرائیاں…..
دوسری تصویر بہت بھیانک
تھی. مجھے فیصلہ کرنے میں اسانی ہوئی. میں نے ایک نظر اس پہ ڈالی وہ ابھی تک روہی تھی. پگلی کہیں کی. میں مسکرایا. “چل، آنسو پونچھ لے چلتے ہیں.”.

 

Advertisements

One thought on “افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ “دوسری تصویر” تحریر تصور لیونے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s