افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ “دل کے رشتے ” تحریر کوثر بیگ

قاسم صاحب کو ریٹائر ہوئے تین سال بیت گئے تھے ۔ آج وہ ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں کبھی ہوش تو کبھی بے ہوشی کی حالت میں موت سے لڑ رہےتھے۔ قریب ہی میں گھبرائی ہوئی پریشان سی بیٹھی انہیں تکے جا رہی تھیں۔ امریکہ میں مقیم عنبرین بیٹی کو فون کرنے ہی والی تھیں کہ میرا بیٹا عاصم ایک ہاتھ میں گھر کا ٹفن پکڑے اندر داخل ہوا جسے دیکھ کر میں حیران ہوگئیں۔ “یہ ٹفن کس نے تیار کر کے بھیجا ہے؟” اس سے آتے ہی جھٹ سےسوال کیا۔ ’’وہ امی‘‘ اس سے آگےعاصم کچھ نہ کہہ سکا اور چپ ہوگیا۔ “وہ امی کیا؟” عاصم نے دروزے کی طرف اشارہ کردیا۔ زرینہ کے چہرہ پر آج بھی پہلی ملاقات جیسی بے یقینی، ڈر اور امید کے ملے جلے عکس صاف نظر آرہے تھے ۔ اور بالکل اسی طرح آنکھیں نیچے جھکائے ہوئی، ہاتھ جوڑے کھڑی تھی۔ وہ ملاقات مجھے آج بھی کل کی بات کی طرح یادآ گئی ۔
ڈور بیل کی آوازپر میں نے کپڑے ایک طرف رکھ کر درواز کھولا تو کریمن بوا سامنے کھڑی تھی میں انہیں اندر آنے کہہ کر خود صوفہ پر آبیٹھی وہ نیچے بیٹھنے لگی تو میں نے انہیں یاد دلایا کہ میرے پاس بلا تفریق انسان کی قدر وعزت ہوتی ہے۔ کریمن بوا خوشآمدی انداز میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے لگی۔ آپ کے در پر میں خود کئی مصیبت کے ماروں کو لاکر ضرورتوں کا ازالہ کرواچکی ہوں ۔آپ جیسی نیک بی بی نے کبھی مجھے مایوس نہیں بھیجا کبھی مجھے جھوٹا نہیں کیا ہر بار بھرم بنائے رکھا۔ مجھ سے رہا نہ گیا کچھ تیز آواز سے میں نے بوا ، بوا کہکرپکارا وہ چپ ہوئی توپھر دھیمے سے کہا، آپ بھی تو محلہ بھر کا خیال رکھتی ہیں سب کے دکھ درد میں ساتھ دیتی ہیں ۔۔ اچھا بتاو کیا بات ہے؟ اگر میں کچھ مدد کرسکوں تو ضرور کرونگی ۔ میں بات مطلب پر لے آئی۔ ابھی میری بات ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ وہ بول پڑی کہ “اب مدد تو آپ ہی کرسکتی ہیں ۔ بات دراصل یہ ہے بی بی اپنے محلہ سے متصل کچھ غربا کے مکانات ہیں جہاں مہینہ بھر پہلے فسادات ہوئے تھے ۔دو سال پہلے آپ کے پاس کام کرنے والی نسیم بی اور اس کا بیٹا بھی وہی رہتا تھا جو اسی فساد میں مرگیا ، اس کا آدمی بھاگ گیا ۔پلنگ کے نیچے چھپنے سے بیٹی بچ گئی ۔بستی کےمختلف لوگوں سے بات کرکے ان کے گھر رکھتی رہی ہوں مگر کہیں بھی ٹک نہ سکی کیونکہ اس کو اس حادثہ کے بعد سے دورے پڑنے لگ گئے ہیں۔ پانچ آٹھ دن مشکل سے نکالتی ہو گی کسی ایک جگہ اورطبعیت بگر جاتی ہے ۔ دورے کے ختم ہوتے ہی دوسرے دن مجھے بلا کر ساتھ کر دیتے ہیں۔ آپ بہت محبت والی ہیں اس بے سہارا لڑکی کو آسرا مل جائے گا یہ سوچ کر آپ کی دہلیز تک آئی ہوں ۔آپ کی بچی کا اتران پہن لے گی جھوٹا کھالے گی ۔آپ کے کام میں مدد بھی دے گی۔” بے تکان بولتی بوا کو روکنے میں نے پوچھا ’’مگروہ ہے کہاں”؟ بوا آواز دینے لگی زرینہ او زرینہ! وہ آہستہ آہستہ چل کر آرہی تھی بوا نے سلام کرنے کہا اور بتایا کہ یہ بہت اچھی بی بی ہیں۔ تم یہاں بہت خوش رہو گی۔۔ وہ سلام کی جگہ ہاتھ جوڑے کھڑی تھی بہت بھولی پیاری سی لڑکی۔ میں نے اس کو پاس بلایا سر پر ہاتھ رکھا تو نس نس میں ایک عجب سا سکون اور طمانیت محسوس ہوئی ۔۔۔۔
قاسم صاحب کو پردیس فون کرکے ایک اور فیملی ممبر کی آمد کی خوش خبری دی تو وہ بہت ناراض ہوئے پھر میں نے ساری باتیں بتا کر آخر انہیں منا ہی لیا ۔بچوں نے پہلے انجان انجان سا برتاو کیا مگرزرینہ کی ملنساری نے بہت جلدسب کو شیر وشکر کر لیا۔ میں نے بھی اس کی دیکھ بھال میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بیٹی کے اسکول میں داخلہ کروانا چاہا مگر نہ ہوسکا تو میں نے اسی کے پرانے اسکول سے پڑھا کر گھر پر ٹیوشن کا انتظام کیا اور پھر میٹرک میں امتیازی کامیابی کے بعد اچھے سے کالج بھی جانے لگی۔ اسے پڑھائی کا بہت شوق تھا وہ پڑھائی کے ساتھ ہی ساتھ لاکھ منع کرنے کے باوجود سب کے کام وقت سے پہلے دوڑ دوڑ کر کرتی۔ میرا بے حد خیال رکھتی ہمارے پاس آنے کے بعد اسے ہسٹیریا کا دورہ ایک بار بھی نہیں پڑا۔ لگتا تھا وہ اپنا ماضی بھول چکی تھی۔۔
زرینہ کے گھر آنے کے بعد قاسم صاحب کی یہ دوسری چھٹی تھی کل وہ واپس جارہے تھے۔ سب ہی اداس ناشتہ کر رہے تھے۔ زرینہ جلدی سے ناشتہ کر کے اوپر میرے کمرے میں جا کر جلدی جلدی ہمیشہ کی طرح کپڑوں کو استری کرنے لگی۔۔۔ ۔اچانک زرینہ کے زور زور سے پکارنے اور رونے کی آواز کو سن کر میں بھاگتے ہوئے زینہ عبور کر کے اوپر پہنچی تو وہاں کے ماحول نے میرے تن بدن میں آگ لگا دی۔۔ “یہ کیا کررہے تھے آپ؟” قاسم صاحب کو زرینہ کے قریب دیکھ کر پوچھا تو وہ کہنے لگے “اسے شاید ہسٹیریا کا دورہ پڑا ہے۔۔” “نہیں یہ غلط بیانی ہے۔” میں غصہ سے بے قابو ہوگئی۔ قاسم صاحب بنا کچھ جواب دئے واش روم میں چلے گئے میں زور زور سے دروازہ پیٹتی اور کہتی رہیں کہ وہ میری بیٹی ہے ۔تم نے ہمت کیسے کی ۔میں تمہیں نہیں چھوڑنے والی۔۔۔میں نے زرینہ کے رونے کی آواز پر پلٹ کر دیکھا اور بے اختیار ہاتھ کھول کر پاس آنے کا اشارہ کیا ۔ سہمی ہوئے زرینہ آ کر مجھ سے لپٹ گئی۔ اس کے لپٹتے ہی میرے امڈتے ہوئے ممتا کا چشمہ یک لخت سوکھ گیا۔ نہ جانے مجھ میں سے اچانک کیسے نفرت کا دریا ابلنے لگا۔ زرینہ کو پرے ہٹا کر سیڑیوں سے تیزی سے نیچے اترنے لگی ۔
پھر مجھے یاد نہیں کب قاسم صاحب واپس گئے ۔ بچے کتنا پریشان ہوئے۔ میں کتنی دیر تک سب کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی تنہا اپنے خیالوں میں گم رہی۔ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں سے دور چلے جانے کا سوچتی تو کبھی دل کہتا قاسم صاحب جیسے بے وفا کی اب مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ مگر جب عنبرین اورعاصم کا خیال آتا تو خود کو مجبور پاتی۔ پھر سوچنے لگی زرینہ کو کریمن بوا کے حوالہ کر دوں۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ آخرمیں بھی تو بنیادی طور پر انسان ہی ہوں، میں ایسا کیوں نہیں کرسکتی ۔ نہیں میں اتنی کم ظرف نہیں ہوسکتی۔ اف یہ ضمیر کے کچوکے بھی کتنے تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ بے ضمیر لوگ خود کے لئے جیتے ہیں، جو جی میں آئے کر گزرتے ہیں۔ ہر پل نیکی بدی کا حساب کرتے نہیں رہتے دوسروں کے دکھ درد سے انہیں مطلب نہیں ہوتا۔جب ضمیر جاگے تو انسان کتنا بدل جاتا ہے خود کوایذا پہنچا کر وہ دوسروں کو خوش دیکھتا ہے مگر اپنی ذات سے کسی کو دکھ نہیں ہونے دیتا۔وہ زمین پر رہ کر بھی آسمان ہو جاتا ہے ۔میرا آسمان کی بلندی سے نیچے اترنا محال ہے ۔۔۔ نہیں میں خود کے اور سب کی نظروں سے گر گئی تو یہ زندگی زندگی نہیں ہوگی ۔۔۔۔مگر میرا دونوں ہی سے دل کا ناطہ ہے دونوں ہی کو میں نے بےانتہا گہرائیوں سے چاہا ہے ۔یہ کیسی آزمائش کی ساعت آن پڑی ہے ۔یہ ایک ساعت مجھے ایک صدی لگ رہی ہے کیا اس کے گزرتے ہی سب کچھ ختم ہوجائے گا اور یہ دل کا رشتہ ٹوٹ جائے گا ۔جس کو ہم نے دامنِ دل میں اتنی عمر چھپایا ہے وہ کھو جائے گا۔ وہ پرائی تھی میں نے کیوں اس سے اتنا من لگا لیا ۔ نہیں میں نے اسے اپنا مانا ہے وہ پرائی نہیں پھر کچھ سوچ کر میں نے زیرلب بڑبڑایا۔ ہاں ہاں وہ پرائی ہے ۔بیٹی پرائی ہی تو ہوتی ہے ۔
میں نے زرینہ کو شادی پر راضی کرلیا بڑی دھوم دھام سے شادی ہوئی ۔ وہ اپنے خود کے گھر رہنے لگی ۔میں اور بچے اس کے ہر دکھ سکھ میں اس کے پاس جاتےاس کے بچے کی پیدائش پر بھی ہسپتال میں ساتھ رہی۔ کبھی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ ہمارے گھر وہ کبھی نہیں آئی اور نہ میں نے اس سے آنے کو کہا ۔ بہت محبت کرنے والا شوہر اور پیارا سا بیٹا سب ہی کچھ تھا اس کے پاس۔ وہ اپنی زندگی میں خوش تھی ۔آج اس نے میری مشکل کی گھڑی میں خود کی انا ، بے عزتی کے احساس کی پروا کئے بنا ہماری مدد کو دوڑے دوڑے آگئی تھی۔ میں نے زرینہ کے ہاتھ کو چوم کر اسے گلے لگا لیا۔۔ قاسم صاحب کے کراہنے کی آواز پر ہم نے ایک ساتھ ان کی طرف دیکھا تو وہ سرتاپا ندامت ہماری جانب دیکھتے ہوئے ہاتھ جوڑے رونے لگے اور پھر انہوں نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں موند لیں۔۔۔

Advertisements

15 thoughts on “افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ “دل کے رشتے ” تحریر کوثر بیگ

  1. سیدھی سادی کہانی مگر افسانوی اسلوب اچھا۔
    غیر ضروری جذباتیت سے اجتناب برتنے نے اسے اچھا بنا دیا۔ پنچ لائن بھی سیدھی ۔۔۔۔۔ ظاہر ہے ہر افسانہ پنچ لائن کی شدت کا متقاضی نہیں ہوتا۔

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s