افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ ” سوالات” تحریر محمت طاہر مجتبیٰ

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کلاس میں پورے سال میں اس نے بمشکل ہی کوئی لفظ بولا ہو گا، لیکن پھر بھی اسکے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں ہو رہا تھا۔ وائیوا دینے کے بعد ہاسٹل جانے کی بجائے سیدھی قریب واقع پارک میں ہی چلی آئی تھی۔ یہ ایک ویران لیکن انتہائی محفوظ سا پارک تھا۔ اسلئے گھنٹوں کھوئے رہنے کے بعد بھی کسی کی نظروں میں نہیں آئی تھی۔ اکا دکا جوڑے اور کھیلتے ہوئے بچے ضرور ادھر آئے لیکن اسکی طرف کسی نے خاص توجہ اور دھیان نہ دیا۔ پارک کی اسی خصوصیت کیوجہ سے اس نے وہاں آنے کا انتخاب کیا تھا۔
”ابو طالب کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟“
وائیوا کیلئے میڈم ربیعہ کے روم میں داخل ہوتے ہی ابھی وہ سنبھلنے نہ پائی تھی کہ میم نے سوال داغ دیا۔
”حضرت ابو طالبؑ؟“
اس نے قدرے وضاحت چاہی۔
”یو مے لیو ناؤ“
بغیر کسی تاسف کے میم نے اسے باہر کی راہ دکھائی۔ نتیجہ واضح ہو چکا تھا۔
وہ ماضی کے دھندلکوں میں کھونے لگی۔ گزرے ہوئے بیشمار مناظر کچھ واضح اور کچھ دھندلائے ہوئے اسکی آنکھوں کے سامنے سے گزرتے گئے۔ اسے یاد آیا جب وہ، مریم اور ماہی رات کی خاموشی اور تاریکی میں اکٹھی اداس بیٹھی تھیں۔ روم میں گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ زندگی انہیں بے معنی سی لگنے لگی۔ ذلت اور کمزوری کا انہیں بری طرح احساس کھائے جا رہا تھا اور وہ ماہی اور مریم کا میڈیکل کالج میں آخری دن تھا۔
ایم بی بی ایس کے پہلے سال ہی اخلاقیات کیلئے ایک کورس متعارف کروایا گیا لیکن اپنے متشدد جہادی نظرئیے کی ترویج کیلئے میم ربیعہ اسے خوب استعمال کرنا جانتی تھیں۔ پہلے لیکچر میں ہی انہوں نے عقلی و منطقی تقاضوں سے اخلاقیات پر آزادانہ بحث کو واضح کرنے کی بجائے مکمل مذہبی رنگ دے دیا گیا۔ اگلا مرحلہ کورس کانٹینٹس کے مطابق لیکچرز کیساتھ ساتھ معاشرتی برائیوں کے بیانات کا سلسلہ تھا۔ اس میں پوری کی پوری مقامی ثقافت اور روایات کو ایک ایک کر کے گمراہ بتانا شروع کر دیا۔ ثقافت پر اِنسا، ایک کیلاش لڑکی، کا مطالعہ کافی تھا، ایک لیکچر کے دوران اس نے اپنی آرگومنٹ سوالیہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔
مشرقی اساتذہ کیطرح میم ربیعہ کو بھی سوال سننے کی عادت نہ تھی اور اپنے مذہبی و مسلکی خیالات کو تو وہ کسی قسم کے شک و شبے سے دیکھے جانے پر ہی آگ بگولہ ہو جایا کرتی تھیں، اسلئے اِنسا کو سخت جھاڑ پلا دی۔ میم سمجھتی تھیں کہ وہ چونکہ اصلاح کے فریضے پر مامور ہیں، لہٰذا سوال کرنے والا یا اختلاف کرنے والا شریر اور گمراہ ہی ہو سکتا ہے۔ جب میم کو اسکے کیلاش ہونے کا پتہ چلا تو اگلے کئی لیکچر صرف اسکی کمیونٹی اور روایات کیخلاف طعن و تشنیع کے تیروں پر مبنی دئیے گئے اور ہر طریقے سے اسے ذہنی طور پر ٹارچر کرنے کی کوشش کی۔ جب وہ سوال کرنے کی کوشش کرتی تو بری طرح پوری کلاس کے سامنے جھڑک دیا جاتا۔ اسکی کمیونٹی پہلے ہی شدت پسندوں کی جانب سے ظلم کا شکار تھی، اسلئے اِنسا کی انتہائی حساس طبیعت یہ سب برداشت نہ کر سکی اور دو مہینے بعد ہی اس نے میڈیکل کالج کو خیرباد کہہ دیا۔
پھر عبادات پر چند لیکچر ہوئے اور اسی قسم کے ایک لیکچر کے دوران باتوں باتوں میں میم نے ایک جہادی راہنما کی تعریف شروع کر دی۔ اسے اِنسا سے ہمدردی تو ضرور تھی اور اس نے اسکا حوصلہ بڑھانے کی پوری کوشش کی تھی تاکہ اِنسا کو یونیورسٹی نہ چھوڑنی پڑے، لیکن کلاس میں وہ زیادہ تر لاتعلق ہی بیٹھی رہتی اور اپنے رجسٹر پر آرٹ اور تصویریں بناتی رہتی یا کہانیاں لکھتی رہتی، ظاہر یہ ضرور کرتی کہ لیکچر توجہ سے نوٹ کر رہی ہے لیکن جب جہادی راہنما کی تعریف و توصیف شروع ہوئی تو وہ چونک سی گئی۔
اسے خوب یاد تھا کہ اس کے مہربان اور شفیق نانا جی، جنہیں وہ بہت چاہتی تھی، نے ہمیشہ وسعت نظری کا درس دیا تھا اور اسکے معصومانہ سوالات پر بتایا تھا کہ برصغیر کے عوام کے مذہب میں کافی وسعت ہے۔ ہر دور میں حالات کے تقاضوں کے مطابق نئی چیزوں کو اپناتے ہیں اور اسطرح کلچر ترقی کرتا جاتا ہے لیکن میڈیکل یونیورسٹی میں اسکا پالا ایک اور قسم کے مذہب سے ہی پڑا تھا جس میں نفرت انگیزی، شدت پسندی اور فرقہ پروری کے اثرات نمایاں تھے۔
اگلے ہی دن لیکچر میں خودکش حملوں اور دہشتگردی کو جسٹیفائی کیا گیا۔ اب میم نے یہ بتایا کہ یہ ڈرون حملوں کا ردعمل ہے اور جہادی سبھی وہ ہیں جنکے رشتہ دار، عزیز و اقارب، دوست وغیرہ آپریشنوں یا ڈرون حملوں میں مارے گئے۔ اس نے آہستہ سے سوال کیا کہ باقی ہزاروں مرنے والے، شیعہ، احمدی، مسیحی، بریلوی، دیگر اقلیتیں اور ستر ہزار پاکستانی کیوں اس طرح ری ایکٹ نہیں کرتے۔ جیری کو بھی ایک قدرے لمبی چوڑی ڈانٹ ڈپٹ سننا پڑی۔
اسکے ذہن میں گھر کے قریب ہونے والے خودکش حملے کی یادیں محفوظ تھیں اور اس میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جسکا ڈرون حملوں یا فوجی آپریشنوں میں کوئی کردار ہو۔ اسکے محلے کے ”شہرِ خموشاں“ میں دفن ہونے والوں میں سے اکثر کی قبروں پر تاریخ پیدائش اسی نوے کی دہائی کی درج تھی اور زیادہ تر کی موت طبعی نہ تھی۔ اسکے کئی ڈاکٹر، انجینئیر، آئی ٹی ایکسپرٹ اور دیگر اعلیٰ تعلیم یافتہ رشتہ دار اور جاننے والے جنکے ناموں میں علوی، جعفری، حسین، علی وغیرہ آتا تھا، دہشتگردی کی لہر میں مارے جا چکے تھے۔ اپنے بیشتر رشتہ داروں کی آخری رسومات میں اس نے شرکت کی ہوئی تھی اور اس وقت سب کی تصویریں اور شکلیں اسکے سامنے گھوم گئی تھیں جس پر اس نے جرأت سے کام لیتے ہوئے نرمی سے میم سے پوچھ لیا۔
اب میم باقاعدگی سے جہادی نظریات کا اپنے لیکچرز میں پرچار کرنے لگی تھیں۔ اس کے ساتھ مریم روبن اور ماہی بھی کبھی کبھار میم سے سوال کرتیں اور اپنی آرگومنٹس پیش کرنے کی کوشش کرتیں۔ مریم روبن ایک مسیحی لڑکی تھی جبکہ ماہی تھر کی ایک ہندو فیملی سے تعلق رکھتی تھی۔ تینوں چھوئی موئی سی لڑکیاں تھیں اور انتہائی آہستگی اور نرمی سے وہ بات کرتی تھیں، جو بمشکل ہی میم تک پہنچ پاتی، لیکن انکا بولنا ہی میم کو آگ بگولہ کر دیتا تھا۔ میم ان سے باقاعدہ انتقام پر اتر آئیں۔
کلاس میں اٹینڈنس کیلئے کچھ زیادہ وقت کی پابندی نہ تھی اور دو گھنٹے کے لیکچر میں آدھا پونا گھنٹہ لیٹ ہونے والوں کی اٹینڈنس مارک کر ہی دی جاتی تھی، لیکن ان تینوں کے ایک منٹ لیٹ ہونے پر بھی غیر حاضری (Absent) لگا دی جاتی۔ تینوں محنتی تھیں، اپنی اسائنمنٹ ہمیشہ خود بناتیں لیکن انہیں بمشکل ہی تین یا چار نمبر ملتے جبکہ انہی کی اسائنمنٹ کاپی کرنے والی فرینڈز دس میں سے آٹھ یا نو نمبر حاصل کر لیتیں۔ اسکے ساتھ ساتھ میم نے انہیں دیگر میل اور فی میل لیکچررز کے درمیان بدتمیز مشہور کرنا شروع کر دیا اور وہ بھی اپنی کلاسز میں ان سے سختی سے پیش آنے لگے۔
میڈیکل یونیورسٹی میں انکے فیلوز تقریبا سبھی متمول فیملیز سے تھے، کیونکہ وہی بھاری فیسیں افورڈ کر سکتے تھے۔ زیادہ تر کا بیک گراؤنڈ ایسا تھا کہ مذہب، سیاست یا مسلک وغیرہ کے موضوعات سے کوسوں دور اور کوئی دلچسپی نہ تھی، لیکن میم ربیعہ کے لیکچرز کا کچھ کچھ اثر ہو رہا تھا۔ جہاں انکی کچھ دوستوں کو ان سے ہمدردی پیدا ہو گئی اور وہ میم کے لیکچر کے پوائنٹس کے بارے میں ان سے پوچھا کرتیں، وہیں ریڈیکلائزیشن بھی بڑھ رہی تھی اور انکی کچھ فرینڈز نے انہیں اگنور کرنا اور نفرت کرنا شروع کر دی اور ان سے دور رہتیں۔ وہ، ماہی اور مریم بھی کچھ زیادہ مذہبی نہیں تھی لیکن کمیونٹی بیک گراؤنڈ نے انہیں میم کے لیکچرز میں سوالات پر مجبور کیا تھا۔
وہ اب اس صورتحال سے کافی دلبرداشتہ تھی۔ پہلے اِنسا کے یونیورسٹی چھوڑنے نے بھی اسکے دل پر گہرا اثر چھوڑا تھا۔ ایسے میں اسکے دو سینئیرز نومی اور ماہ نور نے اسکا حوصلہ بڑھایا۔ نومی نے اسے مشورہ دیا کہ وہ بالکل خاموش ہو جائے، کلاس میں بس سنے اور جھٹک ڈالے اور اور ایک لفظ بھی نہ بولے لیکن وہ کچھ عرصہ تک اسکے مشورہ پر عمل نہ کر سکی اور اس دوران annual exams قریب آ گئے۔
دو subjects میں ان تینوں کی اٹینڈنس شارٹ کر دی گئی تھی اور پچیس سے تیس فیصد کے درمیان ظاہر کی گئی جبکہ باقی مضامین میں پچانوے فیصد سے بھی اوپر تھی۔ Internal vivas کی جب باری آئی تو دیگر مضامین میں ۸۰ اور ۹۰ پلس جبکہ انہی دو میں اڑا دیا گیا۔ دوسرا مضمون ان سر کا تھا جو اس وقت تک کلاس میں داخل نہ ہوتے جب تک انہیں تمام لڑکیوں کے دوپٹے سے ”ننگے سر“ ڈھانپے جانے کی اطلاع نہ دی جاتی۔ پڑھاتے تو اناٹومی تھے لیکن میڈیکل کم ”طب اسلامی“ زیادہ لگتی۔ اسکے علاوہ میم ربیعہ کا واحد مضمون تھا جس میں انہیں ای گریڈ ملا جو کہ تینوں میں سے اپنے پورے ایجوکیشن کیرئیر میں حاصل نہیں کیا تھا۔ یہ انکے لئے شدید دھچکہ تھا۔
انہوں نے پرنسپل کو اس سلوک کیخلاف درخواست جمع کروا دی۔ میڈیکل یونیورسٹی میں کوئی مضبوط سٹوڈنٹ باڈی نہ تھی اور نہ ہی سٹوڈنٹس کی کوئی پاور تھی۔ ان نظریات کو ٹاپ مینیجمنٹ کی آشیرباد بھی حاصل تھی، اسلئے انکی Application پر کچھ عمل نہ ہوا۔ نومی، ماہ نور اور انکی ہمدرد دوستوں نے بھی بہت کوششیں کیں لیکن بے سود رہیں۔ ماہ نور کی ایک جاننے والی ٹیچر نے انہیں بتایا کہ مینیجمنٹ ہمیشہ سٹاف کا ساتھ دے گی، چاہے وہ جو مرضی اور جیسی مرضی کوششیں کر لیں۔
ماہی اور مریم نے مایوس ہو کر مائیگریشن کروا لی، لیکن وہ وہیں رہی۔ دوسرے سال اسلامیات کا مضمون تھا اور وہ بھی میم ربیعہ کو ہی مل گیا۔ انہیں پرنسپل سے شکایت کا احوال پتہ چل چکا تھا، جس سے جیری سے میم کی نفرت اور انتقام کی آگ میں مزید اضافہ ہو چکا تھا۔ پہلے لیکچر میں ہی جیری کو نام لیکر کہا کہ وہ اب کلاس میں کچھ نہیں بولے گی۔ اگر کچھ پوچھنا ہو تو وہ کلاس کے بعد ہی پوچھے۔ وہ پورا سال پھر کلاس میں بالکل سن سی ہو گئی۔ کلاس میں جو کچھ ہوتا، وہ اس سے لاتعلق تو رہنے کی کوشش کرتی۔ بس ماہ نور کے پوچھنے پر کبھی کبھار کلاس کے حالات کے بارے میں بتا دیا کرتی۔
اسی دوران ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ عاشورہ کے دنوں میں اسکے محلے کی امام بارگاہ پر حملہ ہوا اور کئی لوگ جان سے چلے گئے۔ دسمبر کی چھٹیاں تھیں۔ لواحقین نے احتجاج کیا تو وہ بھی اس میں شامل ہوئی اور اس نے شمعیں روشن کیں۔ میڈیا نے بھی احتجاج کی کوریج دی جس میں اسکی تصویریں شامل تھیں۔ میم ربیعہ نے بھی وہ کہیں سے دیکھ لیں اور غصے سے لال ہو گئیں۔ اسکے بعد انہوں نے چھٹیاں ختم ہونے کے بعد لیکچر میں اسکی کمیونٹی کو کافر کہا اور کئی بڑے بڑے لیکچر اس پر دیے، خوب مذاق اڑانے کی کوشش کرتیں اور اسلامیات میں گزشتہ سال کی بہ نسبت زیادہ بری طرح فیل بھی کر دیا، لیکن اس سال اسلامیات کے علاوہ کسی اور مضمون کے رزلٹ پر فرق نہ پڑا۔
سمر سمسٹر میں لاکھوں روپیہ اضافی خرچ کر کے جیری کو یہ مضامین کلئیر کرنا پڑے۔ اسکے بعد تین سال آرام سے گزرے، نہ تو کوئی مذہبی مضمون آیا اور نہ ہی ہیومینیٹیز کا کوئی ایسا کورس جسے جہادی رخ پر موڑا جا سکے اور نہ ہی فرقہ پرور ذہنیت کے کسی پروفیسر سے پالا پڑا لیکن کچھ عرصہ صرف لیکچرز میں سوالات اٹھانے کی جرأت کی پاداش میں اِنسا نے میڈیکل کو چھوڑا، ماہی اور مریم نے مائیگریشن اور جیری نے لاکھوں روپے اور سپلیوں کیوجہ سے ڈگری پر سرخ ستارے کے ذریعے قیمت ضرور چکائی تھی۔

Advertisements

One thought on “افسانہ نگاری کا مقابلہ :افسانہ ” سوالات” تحریر محمت طاہر مجتبیٰ

  1. اففففففففففف ۔۔ اس قدر انگریزی کی بھرمار ۔۔۔۔۔۔ جن کے آسانی سے اردو میں مترادف الفاظ مل سکتے ہیں مثلا! آرگومنٹس، جسٹیفائی، کلاس اٹینڈ کرنا، فرینڈز۔۔۔۔۔۔۔۔ اینوئل ایگزیمز ، سبجیکٹس ۔۔۔۔۔۔ اففففففف کمال ہی ہوگیا۔
    روزمرہ کی زبان اور ادبی زبان میں فرق ہوتا ہے بھئی۔
    موضوع عمدہ اور نیا تھا مگر ۔۔۔۔۔۔ کہانی بن گیا ۔۔۔۔۔ افسانہ کہاں گیا ۔۔۔۔۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s