افسانہ نگاری کا مقابلہ : افسانہ “نیلے چپل” تحریر ثروت ع ج

چهوٹی سبزی منڈی شروع ہونے سے پہلے بائیں ہاتھ ایک گلی مڑتی ہے جس کے درمیان تک پہنچ کر جوتوں کی بہت سی دکانیں ہیں یعنی جو آدهی تهڑے نما ڈسپلے پر مبنی ہیں یعنی دکان کا ایک حصہ جوتوں کے انبار پر مشتمل ہوتا ہے اور آدهی دکان بہت قرینے سے دیوار پہ سجی ہوتی ہے. ان دکانوں پہ کئی گاہک ایسے ہوتے ہیں جن کا بجٹ صرف اس انبار سے جوتا پسند کرنے کی اجازت دیتا ہے. انہی خریداروں میں کئی، ایک ادائے تفاخر سے، جیب میں موجود رقم کے بل بوتے پر اکڑتے، دیوار پہ کیلوں کے سہارے لٹکے جوتوں کی طرف اشارہ کرکے قیمت یا سائز کے متعلق بات کرتے ہیں. ان کی بات سے لگتا کہ وہی عقل کے اجارہ دار ہیں …. کیونکہ وہ نسبتاً بہتر قیمت ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں. دکاندار بهی ان گاہکوں سے، تمیز سے پیش آتے ہیں جو دیوار پہ سجے ہوائی شو کیس سے جوتا خریدنے والے نظر آئیں.
عید تہوار کے موقعوں پر جوتوں کے ان انباروں پہ خواتین یوں چمٹی نظر آتی ہیں جیسے قصائی کی دکان پہ مکهیاں. یہ وہی طبقہ ہے جو سال میں ایک یا دو بار ہی تباہ کن اخراجات کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور بہت سی وجوہات کے ساتھ اس معاشی صدمے کی وجہ، برادری، معاشرے یا محلے میں قائم کی گئی سفید پوشی ہوتی ہے. مزے کی بات یہ کہ ان ڈهیروں میں اتهل پتھل ہوتے جوتوں اور چپلوں پہ تهوڑے بہت غلط سپیلنگ سے مشہورِ زمانہ عالمی جوتوں کی برینڈز کے نام لکهے ہوتے ہیں. اس بازار کے جوتے اپنی بناوٹ، رنگ اور ڈیزائن کی وجہ سے فوراً پہچانے جاسکتے ہیں …… اگر دیکهنے والا ذرا کایاں اور بازار شناس ہو.
اس لمحے ریستوران میں داخل ہونے والی خاتون نے یقیناً ایسے ہی نیلے چپل پہنے ہوئے تهے. لباس اور حلیہ بهی اس کے چپل کا ہم پلہ تها. پهٹی ہوئی ایڑیاں واضح نظر آرہی تهیں. بغل میں اٹهائی گٹهڑی اور تهیلا اس نے فرش پر اپنے قریب ہی رکھ لیا. گٹهڑی کی گرہ سے ایک ڈوئی اور ایک دهاتی مگ، حیران و پریشان سے باہر جهانک رہے تهے. وہ کرسی پر ایسے بیٹهی گویا اکڑوں بیٹهنا چاہتی ہو اور درمیان میں کرسی حائل ہونے کی وجہ سے بیٹھ نہ سکی ہو. کرسی کی اگلی جانب فرش کے بالکل قریب نصب پاؤں ٹیکنے والی لکڑی پہ اس کے پاؤں مسلسل ہل رہے تهے. پهر، چپل میں اگلی طرف گورے موٹے موٹے پاؤں اٹکائے، پنجوں کے بل چپل کو زمین پر ٹکائے، پهٹی ایڑیاں دائیں بائیں جهول رہی تهیں.
برابر والی کرسی کچھ فاصلے پر تهی اور اس کے سامنے ایک سیاہ مردانہ بوٹ زمین پر جما کر رکهے ہوئے تهے جو دهول مٹی کی وجہ سے اب سیاہ نہیں رہے تهے. خاتون کے پاؤں جس رفتار سے متحرک تهے، سیاہ بوٹ اسی قدر مستقل مزاجی سے اپنی جگہ گویا ثابت قدم تهے. سیاہ بوٹوں کے اوپر درمیانے سے کپڑے کے سفید پائنچے دهرے تهے. خاتون کے کپڑوں کا رنگ ایسا تها کہ ایک حرف کے احاطے میں آنا مشکل ہے. دیگر کئی حروف مٹیالا، ہلکا بهورا، گہرا کریم یا پهیکا کاسنی ہوسکتے ہیں. اوپر کی گئی سیاہ چادر پہ ہاتھ کی کڑهائی کے آدهے ادھڑے سرخ سبز پهول دکهائی دیتے تهے. پاؤں کی مستقل حرکت سے شلوار کے پائنچے دائیں بائیں یوں ہل جاتے کہ ٹخنے نظر آنے لگتے. میل چڑهے ٹخنوں کی حالت بهی پهٹی ہوئی ایڑیوں جیسی تهی. حتمی بات تهی کہ اس عورت میں سے ایک عجیب سی بدبو بهی ضرور آرہی ہوگی جسے ہمک یا پهر نمکین خوشبو بهی کہا جاسکتا ہے.
ساتھ والی میز پہ نک سک سے سنوری پیلے سوٹ میں، ایک بیگم نے اس چپل والی عورت کو اوپر سے نیچے تک دیکھا، اس کی گٹهڑی پہ نگاہ ڈالی اور ناک سکوڑ کر اپنی معاشی برتری محسوس کی. پهر بهنوئیں ہلائیں اور آدهے ہونٹوں سے یوں مسرائی گویا اعتماد کی ڈکار آرہی ہو. اپنے چمکدار سنہرے بکل والے سینڈل کی ایڑیاں زمین پر نچا کر شوہر کی طرف دیکها جو فون پر کسی ڈیلر سے گالی آلود زبان میں کاروباری معاملہ نمٹارہا تها. لاکهوں کا سودا تها جو اب ہاتھ سے نکلتا نظر آرہا تها. شوہر صاحب چهوٹی چهوٹی آنکهیں قدرے میچ کر دماغ کے گهوڑے دوڑا رہے تهے کہ اس سودے کو کس طرح بچایا جائے. پهر وہ ایک اور جگہ فون کرنے لگے اور پریشانی میں ایک دم اٹھ کر ہال سے باہر چلے گئے. پیلے سوٹ والی بیگم نے “ہونہہ” کرکے اپنے دوپٹے کی موتیوں والی لیس درست کرکے بازو پہ جمائی اور ہونٹ بهینچ کے، ٹهوڑی کے نیچے ادا سے ایک ہاتھ رکھ کر، میز کو دوسرے ہاتھ کے نیل پالش والے ترشے ہوئے ناخن سے کهرچنے لگی.
چپل والی عورت اور اس کا مرد، دونوں مسلسل باتوں میں مصروف تهے. مرد بات کے دوران کچھ توقف کرتا تو عورت ہاتھ ہلا ہلا کر اس کا جواب دیتی. کچھ دیر سنجیدگی رہی، عورت کی بهنوئیں تن گئیں. وہ غصے سے گهور رہی تهی، اس نےدوٹوک انداز میں ہاتھ میز پہ مارا، کچھ مزید بات، دلائل اور منت کے بعد، وہ کهکهلا پڑے. عورت کے دائیں ہاتھ میں پیتل کی دو ٹیڑھی میڑھی چوڑیاں بد رنگ ہوکر سفید ہورہی تهیں. ایک انگلی میں بڑی سی چهاپ تهی جو میز سے ٹکرا کر آواز پیدا کرتی. جب وہ ہنستی تو اس کا ناک پهیل کر اور گول لگنے لگتا. مرد بهی اس کی ہنسی کا ساتھ دیتا. اس کی چادر کا ایک پلو اب لٹک کر فرش کو چهو رہا تها.
ریستوران کے ہال میں آہنی کرسیوں کے گهسٹنے کا شور گونج رہا تها. بیرے زور زور سے پکارتے ہوئے ایک دوسرے کو گاہکوں کے آرڈر سے مطلع کررہے تهے. لائیو لاسلکی نظام کرسیوں کے ہنگام سے ہم آہنگ تها. دهاتی جگ پانی سے بهر بهر کے میزوں تک پہنچائے جارہے تهے. گدلے شیشے والے گلاس اور ہوٹل کے نام والے ٹهپے لگی پلیٹیں کهڑاک دار آواز کے ساتھ پیش کی جارہی تھیں. کچھ ہی دیر میں بیرے نے چپل والی عورت کی میز پر کهانا چن دیا. دو افراد کی نسبت کهانا وافر تها. یا تو آرڈر دیتے ہوئے انهیں کهانے کی مقدار کا اندازہ نہیں تها ….. یا پهر وہ دونوں ہی خاصے خوش خوراک تهے…..
خاتون کے پاؤں کی حرکت کم ہوتے ہوتے رک گئی. کهانا شروع ہوچکا تها. انھوں نے الگ الگ پلیٹوں کا تکلف نہیں کیا تها. وہ اس بات سے بے خبر تهے کہ پیلے سوٹ والی بیگم ایک پلیٹ میں ہونے والی نوالوں کی آنکھ مچولی بخوبی دیکهتی ہے. ایک ہی پلیٹ سے قدرے بڑھ کر نوالہ اٹهاتے ہوئے انہیں دیکھ لئے جانے کا ہرگز احساس نہیں تها. پیلے سوٹ والی بیگم کبهی لش لش کرتا پرس کهولتی بند کرتی، اپنی سنہری انگوٹھی کو گهماتی اور اپنے فون کی سکرین کو ناخن سے بجاتی رہی. آخرکار اس کی میز پر کهانا پیش کردیا گیا. اس نے کهانا کهایا اور پیسے میز پہ رکھ کر اپنے چمکدار سینڈل سے ٹهک ٹهک کرتی چلی گئی.
چپل والی عورت کے مرد کی مسکراتی ہوئی نگاہیں مسلسل عورت کے چہرے پر تهیں. انتہا درجے کی مغرور بےنیازی سے، خاتون کا منہ اسی رفتار سے چل رہا تها جس رفتار سے کچھ دیر پہلے اس کے پاؤں ہل رہے تهے جن میں سستے بازار کی چپل تهی. پهر وہ کسی بات پہ شرارت سے مسکرائے. مرد نے ایک نوالہ بنایا اور قدرے آگے جهک کر عورت کو کهلادیا. عورت قدرے جهینپی، مسکرائی اور ترنگ میں دوبارہ اپنے پاؤں ہلانے لگی جن میں سستی چپلیں تهیں.

 

Advertisements

2 thoughts on “افسانہ نگاری کا مقابلہ : افسانہ “نیلے چپل” تحریر ثروت ع ج

  1. بدبو یا ہمک یا نمکین خوشبو؟
    بو یا تو بد ہوتی ہے یا َخوش
    باقی افسانہ اچھا ہے
    اتنے بے ہنگام ریسٹورنٹ میں اتنے لاکھوں کے سودے کرنے والے میاں بیوی کیا کر رہے تھے؟

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s