افسانہ نگاری کا مقابلہ : افسانہ “یلتینی اے کاش ” تحریر عفیفہ شمسی

چندھائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ میں ان دو پٹریوں کے سامنے کھڑی تھی دھند ہی دھند تھی اچک کر آگے ریلوے سے پار منزل کھوجنے کی کوشش کی مگر کشمکش بڑھ گئ.نگاہ کی وسعت کم علمی کی باعث کچھ خاص آگے نہ جاپائ دو منزلیں تھیں اختیار ایک تھا آگاہی نہ تھی کی منزل ہے کیا آگاہی کے لیے جابجا گائیڈ تو مجود تھے مگر ابلیسی فخر و غرور میرے دامن کو تھامے ہوئے تھا خود کی ناقص عقل کا فخر تھا… کہ تہہ میں جانا کہاں کی عقلمندی ھے یہ صاف سامنے موجود راستے ہیں درست راستے کا انتخاب کر کے قدم بڑھا دینے ہیں نظر مجھ کو بھی آتا ہے کہ یہ پٹری خوبصورت ہے کانٹے جھاڑیوں سے پاک یہ راستے ایک عجیب روشنی لیے ہوئے تھا جو دل و دماغ کو مدھوش کر رہی تھی….
آہ یہ کس قدر دلکش راستہ ہے اور یہ دوسرا راستہ یہ کتنا کٹھن لگتا ہےمگر نجانے کیوں پرنور سا لگتا ہے جیسے سکون کی لہر اوپر نیچے دوڑ رہی ہو مگر ظاہر ہے یہ خوبصورت راستہ ہی میرا انتخاب ہونا چاہیے اس میں بھلا کسی راہنما کی کیا ضرورت ہے ..مگر دل نجانے کیوں اس دوسرے راستے کی طرف ہمک رہا ہے کسی ضدی بچے کی مانند مگر نہیں اگر آج درست فیصلہ نہ کیا تو منزل دور رہ جائے گی
ان ہی سوچوں کی یلغار اک غبار کی مانند ذہن پر چھائ جا رہی تھی کہ یکا یک کسی نے مجھے پکارا
یا بنت حوّا یا عفیفہ ,,,یہ پکار تھی گویا اک خوف کی لہر جو پورے بدن میں دوڑ گئی مثل برق… آھستہ سے پلٹی.. ہا یہ شخص… کہیں دیکھا ہے شاید اگر نہیں تو اسکی طرف کھنچ کیوں رہی ھوں سوچ پھر مسلط ھوئے چاہتی تھی کہ مدھر سی آواز کانوں میں رس گھول گئی “یا عزیزی آپکو کوئ مسئلہ درپیش ھے کیا ” ؟ یہ سوال تھا کہ لب خود بخود جدا ہوئے بول پڑی “مجھے منزل چاھیے ” وہ دو ہاتھ آگے بڑھے ایک کتاب مجھے دینی چاھی اے عفیفہ بنت فلاں فلاں یہ لو یہ ہے گائیڈ بک جس سے آپ درست راستہ منتخب کر سکتی ہو میں مسحور سی ہو کر وہ کتاب تھامی آواز پھر آئ اسکو تھام لو اسکو پڑھو اسکو بھی سمجھنے کے لیے یہ کتب مجھ سے لے لو اس پر عمل کر کے چل پڑھو منزل مل جائے گی اس میں لکھا ھے صاف کہ کونسا راستہ درست ہے.. ”
شکریہ کہنے کے لیے لب ہلائے پر وہاں اب وہ آدمی نہ تھا.. ششدر رہ گئ ممکن تھا کہ اسکو پکارتی مگر پھر کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھا… اک سرد لہر روح میں سرایت کر گئ,, یہ رو تین بندے تھے خوبصورت پوشاک زیب تن کیے اس خوبصورت راستے پر کھڑے تھے مگر انکے چہرے باوجود خوبصورتی کہ وحشت کیوں دلا رہے ہیں “اے لڑکی تم مجھے کسی مشکل میں دکھائ دیتی ہو یقیناً راستے کے انتخاب میں دشواری ہے یہاں جو بھی کھڑا ہوتا ہے اسی مشکل میں ہوتا ہے اور یہ جو بندہ تمکو کتابیں دے گیا یہ بہت فنکار ہے اپنی باتوں میں پھنسا کر لوگوں کو غلط منزل پر چلا جاتا ہے اور پھر جشن مناتا ہے اسکے نورانی چہرے اور باتوں پر دھیان نہ دینا ورنہ ماری جاؤ گی ادھر دیکھو ھم اسی بندے سے بچاتے ہیں لوگوں کو …یہ خوبصورت راستہ ہی درست منزل ہے یہاں دیکھو تمھارے لیے نعمتوں کے انبار ہیں کامیابی کی راہیں ہیں … ادھر آ جاؤ,, ایک شخص نے یہ کہتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایا میں سحر زدہ سی ہوگئ نعمتیں ..کامیابی… منزل یہی تو چاہیے مجھے اس نورانی شخص کی باتیں ڈہن سے جھٹک دیں شکر جان بچی لاکھوں پائے,,, پھر سوچ چھانے لگی کہ ان میں سے کوئ بولا اے لڑکی جلدی کرو آ جاؤ کامیابی کی طرف.. میں جلدی سے آگے بڑھی کہ قدم رکھ دوں کہ ایک صدا دل دھلا گئ لا لا بنت حوّا… لاااااااااااااااااااااااا یا عفیفہ نہیں نہیں صدا جیسے اس دوسرے راستے سے بلند ہوئ تھی قدم گویا جم گئے مگر پھر کتابیں سینے سے چمٹائے آگے بڑھ گئ یہ سوچتے ہوئے کہ ان سب کو میرے نام سے کس نے آگاہ کیا ؟؟ قدم اس پٹری پر پڑھا کہ میں ہنسی کے فواروں میں نہا گئ… گھبراہٹ نے یک دم پورے بدن کو اپنے حصار میں لے لیا… ایک ہاتھ نے مجھے دبوچا اور کہا کہ اس رستے پر بہت خوش نصیب لوگ ہی آتے ہیں پھر بےآختیار ہنسی نے مجھے وحشت زدہ کر دیا
یہ سب اتنے خوش کیوں ہیں میرے ادھر آنے سے میں نہیں جانتی انھیں,, مگر,, سوچ برقرار نہ رکھ پائ کہ دلکش خوشبو نے توجہ اپنی جانب کھنچ لی انواع و اقسام کے کھانے سامنے موجود تھے انسانوں کا ازدہام تھا سب مگن تھے مجھے بھوک لگی کھانے کی طرف بڑھی پھر کسی کی سرگوشی نے مجھے جھنجھوڑا لا لا لا… اتنے میں وہی شخص آکر مجھے کہنے لگا کھاؤ کھاؤ جتنا چاھو موج کرو یہ شربت پیو.. ایک جام مجھے دیا گیا میں الجھتی سلجھتی اسے ہونٹوں سے لگا گئ کہ یک دم سائیڈ پر نگاہ پڑی وہی دوسرا راستہ,,, وہ شخص جس نے مجھے کتابیں دی تھیں ہاتھ سے اپنی طرف آنے کا اشارہ کر رہا تھا گبھراہٹ سے جام چھلک گیا .. یہ کیا ہو رہا ھے یہ سب کون ہیں میں کدھر پھنس گئ ؟ مگر جواب نہیں تھا,,!! بے چینی میں شربت کو غیر اضطراری طور پر ہونٹوں سے لگا لیا اور پھر ہر جانب دھند چھا گئ روشنیوں نے مجھے گھیرے میں لے لیا ایک مدہم سی سسکی سنائ دی اسی دوسرے راستے سے,,,اور پھر دم توڑ گئی,, ساتھ ہی میں جیسے مدھوش ہو گئ اب ساری وحشت دور ہو گئ تھی منظر خوبصورت لگنے لگا جیسےکسی دوائ کے پینے سے سر درد کم ہو گیا ہو.. واہ کیا شربت ہے میں بڑبڑائ اور سامنے دیکھا
یہ کیا؟ سامنے رقص کی محفل گویا اگ آی تھی مجھے اچھبنا ھوا یہ کیا ؟ گھبراہٹ کی جگہ تجسس لے چکا تھا آگے ہو کر دیکھنا چاہا تو ایک شخص نے رقص کی محفل سے آواز دی یا بنت آدم آجاؤ آجاؤ.. اس پکار نے مجھے جیسے مسحور کر دیا شربت کا آثر موجود تھا قدم خود خود آگے بڑھے مگر جیسے
اس دوسرے راستے کے قریب ہوئ کسی نے ہاتھ پکڑ کر ادھر گھسیٹ لیا میں یک دم جیسے بھونچال سے سکون میں آگئ تھی مگر بھنا کر ادھر دیکھا کہ کون ھے جو مجھے ادھر کھینچ لایا تو وہی شخص سامنے کھڑا تھا اب کے گھبراہٹ اور غصہ جمع ہو گیا یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ.. جو مرضی کر رہا ہے ہر کوئ سخت لہجے میں کچھ بولنا چاھا مگر اس شخص کی آنکھوں میں ٹھرے آنسوؤں نے مجھے ساکت کردیا
گویا “برف کے آنسو ” کہ انکی ٹھنڈک نے زبان کی نوک پر موجود الفاظ کو جامد کر دیا تھا
ہمت لا کر سوالی ہوئ. آپ کون ہیں ؟؟ خاموشی کچھ طویل ہوئ پھر وہی مدہم لہجہ میں تمھارا خیر خواہ ہوں.. تمھیں کتابیں دیں کہ تم راستے کا علم لو پھر آگے بڑھو مگر تم نے بلا سوچے سمجھے قدم بڑھا دیا اسمع اسمع،،!! تم نے گھاٹے کا سودا کیا منزل کو پہچانو راستے کو جانو.. میں پھر الجھن کا شکار ہو گئ کہ بول پڑی,,, مگر میں آپکے بہکاوے میں نہیں آنے والی اب کہ میں تلخ ہوئ.. فضا ایک دم جیسے افسردہ ہوگئ.. آو میرے ساتھ آگے میں تمھیں دکھلاؤں کہ یہ خیرخواہی کا راستہ ہے وہ آگے چل پڑے اور میں پیچھے.. جام کی لذت پھر یاد آئی تو مڑ کر دیکھا وہاں بھی اشارے….میں جھنجھلا گئ
آگے راستے پر توجہ مرکوز کی.. لوگ آ جار ہے تھے رکتے ایک دوسرے سے باتیں کرتے آگے بڑھتے میری جانب مسکراہٹیں اچھالتے ..کہ ایک شخص نے روک دیا “کیا تم یہ کتاب پڑھ چکی ہو جو اس راستے پر ہو ؟ کیوں اس کتاب میں یہی راستہ درست بتایا گیا ہے کیا ؟ میں جواباً سوالی ہوئ ,, یہ تو تم کو خود دیکھنا تھا پھر جو سمجھ نہ آتا وہ پوچھنا تھا مگر تم نے تو اسے کھولا ہی نہیں ؟؟ میرا دھیاں انکی طرف گیا جو تب سے میں اسی طرح تھامے ہوئ تھی.. اگر تم اسے پڑھو گی تو ہی منزل جانو ورنہ یہ راستہ زبردستی آ جانے والوں کو کچھ نہیں دیتا,,
میرے رماغ میں مختلف گرہیں لگ رہی تھیں بار بار دھیان بھٹک کر رقص کی محفل کو بھی جاتا پھر متوجہ ہوتی حال میں مجھے ضرور اس کتاب کو دیکھ لینا چاہیے یہ سوچتے ہوئے اب میں نے اس کتاب کو کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا جو سب سے پہلے دی گئ تھی … اس شخص کے پاس بہت سے لوگ ایسی ہی کتابیں پکڑے جمع ہو رہے تھے یہاں تک کہ میں پیچھے ہوتی گئ.. کچھ حیرانگی سے میں نے اس منظر کو دیکھا اور کتاب کھولی ہی تھی کہ…!! کہ روشنی کی ایک تیز لہر اس کتاب سے نکل کر سارے رستے کو منور کر گئ ،،قریب تھا کہ میں اسے ٹھیک سے دیکھ پاتی کہ دوسرے راستے سے ایک تیز آواز سنائ دی اور کتاب میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی وہ شخص تیزی سے آگے ہوا اور اسے تھام کر تاسف سے میری جانب دیکھا میں ڈرتے ڈرتے آگے بڑھی اور کتاب لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا
“تمھیں اسکا بہت خیال رکھنا ہوگا ” یہ کہہ کر کتاب مجھے تھما کر وہ مڑ گئے ،،،رکیں !! میں بے اختیار بولی سوالیہ نظریں میری جانب اٹھیں وہ آپ اپنا نام بتا دیجیے ؟ میرا نام ناصح ہے یہ کہہ کر وہ مڑ گئے میں پھر کتاب کی طرف متوجہ ہوئ کہ ایک پکار پھر خلل انداز ہوئ ،، اے لڑکی تم آگے چلی،جاؤ نئے آنے والوں کو جگہ دو،،میں نے مڑ کر دیکھا ایک لڑکی وہی کتاب تھامے آگے بڑھتی جا رہی تھی میں بھاگ کر اسکے پاس چلی گئ سنو ! کیا تم اس کتاب کو پڑھ رہی ہو ؟ میرے سوال پر وہ پرجوش ہو کر بولی ہاں میں اسے پڑھ کر ہی اندر داخل ہوئ مجھے راستے کا اس سے ہی پتا چلا کیا تم نے اس پورا پڑھ لیا میں نےتو شروع کیا ہے ؟؟ میرا دل چاہا کہ اس سے دوسرے راستے کے بارے میں پوچھوں مگر پھر خیال جھٹک دیا نہیں میں نے نہیں پڑھی بس پڑھنا ہی چاہتی ہوں _ اس نے کچھ حیران ہو کر دیکھا پھر بولی ہاں ضرور پڑھو یہ بہت اچھی گائیڈ بک ہے آؤ مل کر پڑھتے ہیں _میں جی،کہنا چاہتی تھی کہ ایک دم وہ انواع و اقسام کا دسترخوان نگاہ کے سامنے آ گیا ہاں مگر مجھے بہت بھوک محسوس ہو رہی ہے کیا ہم یہاں کھانا نہیں کھا سکتے ؟ میں نے بے چارگی سے پوچھا تو ہ بولی بہتر ہے کہ پہلے تم اس کو پڑھ لز تا کہ ہم جان سکیں کہ آگے کس طرف جانا ہے اسکے مشورے پر میں پرجوش ہو کر بولی اررے اس کی ضرورت نہیں یہ ساتھ میں ہی اس پٹری پر بہت زبردست انتظام ہے ہم وہاں چلتے ہیں ؟؟؟ کیا واقعی اس نے دلچسپی سے پوچھا مگر میرے جواب دینے سے پہلے ہی ناصح کہیں سے نمودار ہوئے اور اس لڑکی کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا وہ لڑکی خوش ہو کر ان کی طرف بڑھی اور میرا ہاتھ بھی پکڑ لیا میں بادل ناخواستہ اسکے ساتھ چل پڑھی کتاب ویسے ہی کھلی ہوئ میرے ہاتھ میں تھی وہ لڑکی برابر ناصح سے کچھ پوچھ رہی تھی مگر میں اتنی قریب ہونے کے باوجود اسکی آواز سننے سے قاصر تھی ہم آگے بڑھتے گئے اور پھر ناصح ایک جگہ رک گئے سامنے ایک دسترخوان تھا اس دسترخوان سے بالکل مختلف ،،بے انتہا سادہ وہ لڑکی مجھے کھینچتی آگے لے گئ کہ آؤ کھانا کھا لو مگر ناصح بولے رکو اسے پہلے وہ اصول پڑھا دو جس سے یہ کھانا کھانے کا طریقہ جان لے لڑکی نے جلدی سے کتاب کھولی اور کچھ بتانے لگی مگر بہت بددل ہو چکی تھی
یہ کیا اتنی پابندی ،،یہ کتاب تو میرے لیے مصیبت بن رہی ہے کچھ نہیں کر سکتی اسکے بغیر یہ عجیب راستہ ہے _ یہ سوچ جیسے ہی مجھ پر وادر ہوئ پرسکون ماحول مجھے عذاب لگنے لگا اور منظر پر تاریکی چھا گئ میں نہیں جان پائ کہ پھرکس طرح میرے قدم خودبخود اس راستے کی طرف چل پڑے جہاں لذت تھی اور ادھر بڑھتے ہوئے سارا راستہ تاریک تھا سوائے ایک لفظ کے جو ہر قدم پر مجھے نظر آتا رہا “مہلت”
پھر یکا یک میں روشنوں میں نہا گئ وہی ہل چل وہی خوبصورت راستہ ،،،میرے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ آگئ شکر ہے میں ان فنکاروں سے بچی ضرور یہ لوگ مجھے غلط رستہ دیکھا دیتے
یہ سوچتے ہوئے میں تیزی سے آگے بڑھی اور اس شخص کو پکارا جس نے مجھے انکی فنکاری سے باخبر کیا تھا _ لڑکی تم کیوں اس راستے پر چلی گئ تھی وہاں پابندیاں ہیں زندگی عذاب ادھر کے لوگوں کی آؤ میں تمھیں دکھاتا ہوں یہ کہتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ پکڑا پر ایک دم چھوڑ دیا گویا اسے کرنٹ لگا ہو ،،تم ؟ تم نے اس کتاب کو کھولا ؟ اسے چھوڑ دو چھوڑ دو اسے وہ چلایا تھا میں سخت گھبرا گئ اور کتاب کو چھوڑنے کے بجائے اسے زور سے سینے سے چمٹا لیا
تم اس بند کرو بند کرو اسے وہ رک رک کر بولا تو میں نے جلدی سے کتاب کو بند کر دیا اسکے ساتھ ہی روشنی ختم ہوگئ اور ساتھ والے راستے سے کچھ ایسی آہیں بلند ہوئیں کہ میرا رنگ خوف سے زرد پڑھ گیا
کیا میں کچھ غلط تو نہیں کر رہی منزل کہاں ہے ؟؟
میں گھپ اندھیرے میں کھڑی تھی ،،،
یہ عبارت سر لوح دل
کسی ربط سے نہیں آشنا
کہ جو روشنی تھی کتاب میں
وہی حرف حرف سی ہو گئ
کوئ گردباد اٹھے نہیں
کسی زلزلے کی نمود ہو
یہ جو ہست ہے میرے چار سو
کوئ معجزہ کہ یہ بود ہو
میری آنکھ میں یہ جو رات ہے
میری عمر میں اسے ٹال دے
میں ساکت کھڑی تھی کہ ایک ہاتھ جو یقینا اسی شخص کا تھا اگے بڑھا اور میری کلائ تھام کر مجھے آگے کی طرف کھینچا اور اندھیرا جیسے دم دبا کر بھاگ گیا اب مجھے تھوڑا حوصلہ ہوا اور میں اسکے ساتھ چل پڑی _ ادھر آؤ یہ دیکھو وہ مجھے دوسرے راستے کے قریب لے گیا دیکھو ادھر ،،وہ لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں انکے دین میں اختلاف ہے دیکھو انکے پاس وہ نعمتیں میسر نہیں جو ہمارے پاس ہیں دیکھو انکا راستہ کتنا اجڑا اجڑا سا ہے دیکھو ادھر کتنی پابندیاں ہیں کوئ اس کتاب سے دیکھے بغیر کچھ نہیں کر رہا وہاں کے لوگ مجبورا اس راستے پر ہیں کیا تم سمجھ رہی ہو ؟ میں نے سر ہلانا چاہا مگر نہ ہلا سکی _ ادھر آؤ وہ پھر مجھے آگے لے گئے کیا تم نہیں چاہتی کہ تم خوبصورت پوشاک زیب تن کرو اعلی مشروبات پیو اور انواع و اقسام کے کھانے کھاؤ سنو یہی زندگی ہے منزل اسی سے ملے گی یہ کتاب تم بے شک پکڑے رکھو مگر اسے پڑھنے کی ضرورت نہیں جو پوچھنا ہے مجھ سے پوچھو تمھارا رب بڑا رحیم ہے وہ ایسی پابندیاں نہیں لگاتا جیسے اس راستے کے لوگوں نے لگائ ہیں انہوں نے سبکی زندگی عذاب بنا دی ہے ،،،پھر وہ نجانے کیا بولتا چلا گیا اور میں جیسے مطمئین ہو گئ اب یقین ہو گیا کہ میں صحیح راستے پر ہوں واہ کیا خوب ہے میں پہلے کیوں نہ سمجھ سکی.
سوچوں میں غرق میں آگے بڑھتی چلی گئ طویل مسافت طے کر گئ جام کے جام میں پی گئ رقص سے لطف اندوز ہوتی گئ لوگ مجھے دیکھتے ہی میرے احترام میں کھڑے ہو جاتے میں اس راستے کو سب سے اچھی طرح جان گئ تھی ہاں ! مگر،، اس کتاب کو پکڑے رکھنا نہیں بھولی تھی آہ! میں کتنی خوش نصیب ہوں مجھے کچھ کیے بغیر ہی سب پتا چل گیا ہاں مگر نجانے کیوں مجھے وہ راستہ ابھی بھی اسی طرح وحشت زدہ کر دیتا جس طرح پہلے کر دیا نجانے کیوں ؟ اور اس راستے کے ہر موڑ پر لگی تختی میرے دماغ کو جامد کر دیتی ہے
” ابھی مہلت باقی ہے ”
پھر کبھی میں نے ناصح سے ملنے کی کوشش نہ کی انکی بے انتہا کوشش کے باوجود _ سوچوں کا تسلسل تب ٹوٹا جب مجھے اس شخص نے پکارا
یا عفیفہ ،،!! آج تمکو ایک راستہ دکھاتا ہوں اس میں اتر جاؤ بس پھر تمھارا سفر ختم ،،منزل پا لو گی _میں خوش ہونے کے بجائے بیزاری سے بولی مجھے اب منزل کی خواہش نہیں میں راستے کی مسافر ہی رہنا چاہتی ہوں _میرے ان الفاظ نے گویا اسے خوشی سے پاگل کر دیا _
تم کامیاب ہو گئ تم کامیاب ہو گئ مگر آؤ تم اس رستے پر اتر جاؤ تاکہ صحیح معنی میں زندگی کی لذت جان سکو _میں پر تجسس ہو کر آگے بڑھی ابھی اور بھی ؟ واہ ،،! پھر میں اندھا دھند اس راستے پر کود پڑی جسکی اس نے نشاندہی کی تھی مگر جانے سے پہلے اس کتاب کو رکھ دیا کیونکہ اس نے کہا کہ اب اسکی ضرورت نہیں رہی _ میں جیسے اس راستے پر چلی دوسرے راستے سے سسکیوں کی دلخراش صدائیں ایک دم تو مجھے لرزا گئں مگر پھر ناگواری سے ہاتھ جھٹک کر آگے بڑھ گئ جیسے جیسے میں آگے بڑھتی گئ رونے کی آوازیں بلند ہوتی گئیں میں نظر انداز کر کے بڑھتی گئ ماہ و سال دن میں بدل گئے اور وہ رستہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا میں ایک آسمان کو چھوتے دروازے کے سامنے کھڑی تھی دروازہ اس قدر بلند تھا کہ میں ڈر گئ اور پیچھے بڑھنا چاہا مگر نجانے،میرے قدم پیچھے جانے سے انکاری کیوں ہو گئے حود بخود آگے بڑھتے گئے یہاں تک کہ میں اس دروازے کو پار کر گئ
اوہ میرے خدا ! چیخ جیسے میرے سینے میں ہی گھٹ گئ یہ آگ کا ایک سمندر میرے سامنے ٹھاٹھیں مار رہا تھا میں نے واپس پلٹنا چاہا مگر نجانے کون لوگ آکر مجھے پکڑ کر گھسیٹنے لگے قبل اس سے کہ میں آگ کے بالکل قریب ہوتی ناصح کہیں سے آگئے _ناصح ناصح یہ پتا نہیں کون لوگ مجھے دھکیل رہے ہیں مجھے بچائیے خدارا میں تڑپ کر بولی مگر ناصح ،،،، یا عفیفہ ادھر دیکھو _انکے ہاتھ کے اشارے کی جانب دیکھا تو روح کانپ گئ وہاں گویا پھنکارتے سانپوں سے لکھا تھا “مہلت ختم ” میں کچھ نہ سمجھتے ہوئے انہیں دیکھا _ لڑکی کیا میں نے تجھ سے نہ کہا تھا کہ اس کتاب کو پڑھو ؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ بولے مگر تم نے نہ پڑھا اور اس شخص کے دکھائے رستے پر چل پڑی اسمع ! وہ ابلیس تھا ،،!! میں کسی گہری کھائ میں گر گئ آواز میرے کانوں کے پردے پھاڑنے لگی _ میں تمھیں پوری کوشش کی کہ سمجھا سکوں مگر تم اسکی چالوں میں آچکی تھی تم نے کتاب کو نہ کھولا جو رب العالمین نے تمہاری ھدایت کے لیے نازل کی جس میں واضح تھا کہ صراط مستقیم کونسا ہے اور تم اسے سینے سے چمٹائے جب تک بڑھتی رہی تب تک میں نے بھی امید کا دامن نہیں چھوڑا مگر جب تم نے اسے رکھ دیا تو میں تم سے مایوس ہوگیا وہ دیکھو اس طرف ! میں نے ڈبڈبائ آنکھوں سے اس جانب دیکھا _بے انتہا خوبصورت راستہ ایک اور دروازے سے نکل رہا تھا اور وہ لڑکی جس سے میں ملی تھی ہنستی ہوئ آگے بڑھتی جا رہی تھی _ یہ ہے وہ راستہ جو بظاہر کھٹن نظر آتا ہے مگر اسکا اختتام ایک دلنشیں منزل ہے اور یہ تمہارے راستہ کا انجام ہے افسوس تم اتنا شعور بھی نہ حاصل کر سکی کہ راستے کو خود سے جانا نہیں جاتا اسکی راہنمائ کے لیے میسر گائیڈ سے مدد لینا پڑتی ہے جسے تم لوگ بس بند پکڑ کر چلتے گئے اب بھگتو !
وہ چلے گئے میں نے واپس دروازے کی جانب بھاگنا چاہا مگر وہ زور دار آواز سے بند ہو گیا میں سر پٹخ پٹخ کر چلانے لگی
یلیتنی یلیتنی اے کاش اے کاش یلیتنی کنت ترابا اے کاش میں مٹی ہوتی
آگ گویا پھنکارنے لگی اور میری فلک شگاف چیخیں آسمان سے ٹکرا کر مجھ ہی پر برسنے لگیں
دور کہیں سے آتی ایک بازگشت گویا پتھر کی مانند مجھ پر برس رہی تھی
“والعصر _ اور زمانے کی قسم انسان خسارے میں ہے -”
زندگی تجھے کیا کہوں
میرے ساتھ تو نے کیا کیا
جہاں آس کا کوئ دیا نہیں
مجھے اس نگر میں پہنچا دیا
نہ میں بڑھ سکوں
نہ میں رک سکوں
تجھ کیا کہوں تو نے کیا کیا
مجھے منزلوں کی خبر تو دی
پر رستوں کو الجھا دیا
اے زندگی تجھے کیا پتا
یہاں کسے میں نے گنوا دیا
تجھے کیا کہوں
میرے ساتھ تو نے کیا کیا !
اور آج اس راستے پر ہنسی رقص کر رہی تھی اور میں آہوں میں ڈوب گئ

،،

Advertisements

One thought on “افسانہ نگاری کا مقابلہ : افسانہ “یلتینی اے کاش ” تحریر عفیفہ شمسی

  1. بے جا طوالت میں ایسا پھیلایا کہ سمٹ نہ سکا۔ عربی زبان کا ٹچ دینے کی کیا ضرورت ۔۔۔۔۔۔۔ انگریزی ۔۔ اور اس پہ پوری نظم افسانے میں۔۔۔۔ مجھے اپنے ایک استاد کی بات یاد آگئی کہ ‘ سب کہہ دینا معنی نہیں رکھتا ۔۔۔۔۔۔ معنی رکھتا ہے کہ کیا نہیں کہنا ۔۔۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s