پی ایس ایل فائنل : کون میدان مارے گا ؟ اسلام آباد یونائیٹڈ یا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ؟ :ثاقب ملک

مائیک ٹائسن خونخوار نظروں سے اپنے حریف کی جانب دیکھ رہا تھا .کامیابی کا گھمنڈ اسکی حرکات و سکنات سے عیاں تھا .ٹائسن نے اپنے کیریئر میں اب تک سینتیس میچز کھیلے تھے اور تمام کے تمام میچز میں فاتح رہا تھا .مزید یہ کہ ان میں سے تینتیس میچز میں اس نے حریفوں کو ناک آوٹ کیا تھا .یہ نا معلوم باکسر جیمز بسٹر بھلا اسکو کیا چینلج کر سکتا تھا .مگر دسویں راونڈ میں سپورٹس شائقین نے اپنی زبانیں دانتوں تلے دبا لیں جب اسی نا معلوم جیمز بسٹر نے ناک آوٹ چیمپئن ٹائسن کو ناک اوٹ کر دیا .باکسنگ اور سپورٹس کی تاریخ میں یہ عظیم الشان “اپ سیٹس” میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے .مگر یہ اپ سیٹ ہے کیا ؟ “مین و وار” وہ گھوڑا ہے جس کو ریسنگ گھوڑوں میں دنیا کے چند کامیاب ترین گھوڑوں میں سے ایک مانا جاتا ہے .اس گھوڑے نے اپنی زندگی میں اکیس میں سے بیس مقابلے جیتے .جس ایک مقابلے میں وہ آخری “سیڈ ” کے گھوڑے سے ہارا اور وہ ریس ،گھوڑوں کی ریسنگ میں آج بھی حیران کن سمجھی جاتی ہے ،اس جیتنے والے گھوڑے کا نام “اپ سیٹ” تھا .اسکے بعد سے کسی کمزور حریف کا کسی مضبوط حریف کو ہرا دینا اپ سیٹ کہلایا جاتا ہے .یہ واقعہ 1919کا ہے .گو کہ اس سے قبل بھی اپ سیٹ کی ٹرم کا استمعال تو ہوتا تھا مگر اسکے بعد سے تو گویا یہ سپورٹس کا لازمی حصہ بن گئی .کرکٹ میں بھی بےتحاشا اپ سیٹس ہوئے .تفصیل میں جائے بغیر ،اپ سیٹ کنگ جس ٹیم کو قرار دیا جا سکتا ہے وہ آئر لینڈ ہے .آئر لینڈ نے ویسٹ انڈیز کو اس کے عروج میں ستر کے عشرے میں ایک نمائشی میچ میں ہرا کر اپنے مستقبل کے عزائم کا اظہار کر دیا تھا .جب انٹرنشنل سٹیٹس ملا تو آتے ساتھ پاکستان کو ناکوں چنے چبوا کر شکست دی اور ورلڈ کپ سے باہر کیا .پھر اگلے ورلڈ کپ میں اپنے سابق حکمران ملک انگلینڈ کو شکست فاش گی .پاکستان سپر لیگ میں تاریخ کچھ اور طرح سے بدل چکی ہے .یہاں پر اسلام آباد اور کوئٹہ دو ٹیمیں اپ سیٹ پر اپ سیٹ کرتی فائنل میں جا پہنچی ہیں .یہ شاید عجیب اتفاق ہے کہ دونوں ٹیموں کو لوگ کم ریٹ کر رہے تھے اور دونوں ہی فائنل میں پہنچ کر سب کو حیران کر چکی ہیں .پہلے کوئٹہ پر بات کرتے ہیں .


کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کوئٹہ کی ٹیم کے ساتھ پاکستانی شائقین کی اکثریت کی ہمدردیاں ہیں .چاہئے انکا تعلق کوئٹہ سے ہو یا نہ ہو .اسکی دو تین وجوہات ہیں .پہلی تویہ کہ بلوچیستان پاکستان کا ایک کم ترقی یافتہ اور محروم صوبہ ہے .اسی لئے لوگ ایک طرح کی ہمدردی کوئٹہ سے رکھتنے ہیں جو کوئٹہ کی ٹیم کو بھی مل رہی ہے.دوسرا خاص کر پاکستانی عوام کا ایک گلٹ بھی ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے ،اسکی “سمبالک” تلافی شاید کوئٹہ کی حمایت کر کے کی جا رہی ہے .تیسرا کوئٹہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کی کمزور ترین ٹیموں میں شامل ہے .اس لئے پی ایس ایل میں بھی اسکا شمار کمزور ٹیموں میں کیا گیا اور پاکستان شائقین خصوصا کمزور ٹیموں کی حمایت پر کمر بستہ رهتے ہیں .چوتھا فیکٹر سرفراز احمد ہیں .پچھلے سال کے ورلڈ کپ کے بعد سے سرفراز ،کی فین فالونگ بہت بڑھ چکی ہے .اسکی وجہ یہی تھی کہ سرفراز کوو ورلڈ کپ میں موقع نہیں دیا جا رہا تھا اور لوگ اور ماہرین اسکو کھلانے کے حق میں تھے مگر ٹیم منیجمنٹ نے اسکے بر خلاف فیصلہ کئے رکھا مگر جب سرفراز کھیلا تو اس نے اپنی شاندار پرفارمنس سے اپنے حمایتوں کا سر فخر سے بلند کر دیا .اس کے بعد سرفراز کو پاکستانی شائقین “اون ” کرنے لگے ہیں .پانچویں وجہ سر ویو رچرڈز ہیں کنگ اور ماسٹر بیسٹمین کو پی ایس ایل میں لانا ،گلیڈی ایٹرز کے مالکان کا ایسا فیصلہ ہے جو پی ایس ایل کا کامیاب ترین فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے .رچرڈز نے اپنی دیانت ،جوش و جذبے ولولے اور وفاداری کے شاندار اظہار سے پاکستانی شائقین کے دل جیت لئے ہیں اور بہت سے شائقین صرف اسی وجہ سے گلیڈی ایٹرز کو سپورٹ کر رہے ہیں .سب سے اہم فیکٹر کے کوئٹہ نے اس ٹورنامنٹ کی سب سے دلچسپ کرکٹ کھیلی ہے .اپنی پرفارمنس سے کوئٹہ نے اپنے فینز مزید بڑھا لئے ہیں .جس طرح سے کوئٹہ کی ٹیم متحد ہو کر اور شاندار ماحول میں کھیلی ہے اسکا کریڈٹ ،معین خان ،اعظم خان ،ندیم عمر اور خاص کر ویو رچرڈز کو جاتا ہے . ٹیم ہیڈ کوچ معین خان نے بہت سمجھ داری سے ٹیم بنائی جس میں انہیں اعظم خان اور ٹیم مالک ندیم عمر کا ساتھ بھی رہا ان سب کا کراچی سے تعلق ہے . کراچی کے کھلاڑیوں کو ڈالنا اور سپین جال بنا کر ٹیموں کو پھانسنا یہ سب کراچی کی کرکٹ کی نمایاں چیزیں ہیں جو کوئٹہ کی ٹیم میں نظر آ رہی ہیں .گلیڈی ایٹرز نے بہترین غیر ملکی کھلاڑیوں کو اپنی ٹیم میں ڈالا . پیٹرسن اور سنگا کارا کو لانا ،اور گرانٹ ایلیٹ اور لوک رائٹ کی سلیکشن ایک شنادار ڈرافٹنگ تھی .انکی ٹیم کی حکمت عملی ،کا سارا دارومدار سپنرز پر رہا .انہوں نے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے ،نواز ،اور بابر کی شکل میں لیفٹ ارم سپنرز بھی رکھے ،نبی کی شکل میں ایک عمدہ آف سپنر اور اکبر الرحمان کی صورت میں ایک لیگ سپنر آل راونڈر بھی موجود تھا .پھر گرانٹ ایلیٹ اور انور علی اپنی سلو اور وکٹ ٹو وکٹ بولنگ کی وجہ سے بھی مشکل بولرز ثابت ہو رہے ہیں .در اصل معین خان وغیرہ نے یہ جانچ لیا تھا کہ دبئی اور شارجہ میں انکا واسطہ سلو پچز سے پڑنا ہے اس لئے انہوں نے بولنگ میں کسی بڑے نام کو نہیں لیا بلکہ رنز روکنے والے بولرز کو ترجیح دی .بیٹنگ میں گلیڈی ایٹرز نے سٹار کھلاڑی چنے اور یہ بات ملحوظ خاطر رکھی کہ وہ سپنرز کو اچھے کھیلنے کی خاص اہلیت رکھتے ہوں .پیٹرسن ،سنگا کارا اور ایلیٹ کی سلیکشن اس کا ثبوت ہے .تینوں سپنرز کو مہارت سے کھیلتے ہیں . اس پلاننگ کے ساتھ کوئٹہ کا ہدف کا تعاقب کرنا ہی بہترین فتح کا راستہ تھا اور ایسا ہی ہوا .انہوں نے اپنے اکثر میچز چیز کر کے جیتے .فائنل میں بھی انکا یہی طریقہ کار ہو گا .لیکن کوئٹہ کو ٹورنامنٹ کے آغاز میں سلو پچز کا بہت فائدہ ہوا .انکا بولنگ اٹیک اس قسم کی پچز کے لئے موزوں تھا جس کا سارا فائدہ کوئٹہ نے پہلے تین میچز جیت کر اٹھایا .فائنل میں بیٹنگ پچ ہو گی جہاں پر کوئٹہ کے بولرز کو مشکلات کا سامنا ہو گا .اس لئے کوئٹہ اگر ہدف کا تعاقب کرتا ہے تو بھاری ذمہ داری انکی بیٹنگ پر آ جائے گی جو کہ پہلے بھی دو سو پلس ٹارگٹ کا کامیابی سے تعاقب کر چکی ہے .پہلے بیٹنگ کرنے کی صورت میں کوئٹہ کو 160-170 رنز لازمی کرنا ہوں گے ورنہ انکا جیتنا مشکل ہو جائے گا .کوئٹہ کو نواز،سرفراز،پیٹرسن ،سنگا کارا ،ایلیٹ اور احمد شہزاد سے زیادہ امیدیں وابستہ ہوں گئیں .پیٹرسن اور سنگا کارا بڑے میچز کے کھلاڑی ہیں اس لئے یہ تن تنہا ہی اپنی ٹیم کو چیمپئن بنوا سکتے ہیں .


اسلام آباد یونائیٹڈ وفاق کی نمائندہ ٹیم ٹورنامنٹ کے آغاز سے ایک نسبتا کم مقبول ٹیم رہی .صرف لوکل سپویرٹز ہی اپنی ٹیم کو سپورٹ کرتے رہے .مگر ٹورنامنٹ کے اختتام تک اسلام آباد کی ٹیم اچھے خاصے ماہرین اور شائقین کو حیران کر کے پہلے سے کہیں بہتر سپورٹ حاسل کر رہی ہے .اسکی بھی دو تین وجوہات ہیں .ایک اہم فیکٹر تو مصباح الحق کا کپتان ہونا ہے .درست یا غلط پاکستان کے کرکٹ شائقین کی اکثریت پرو مصباح ،اینٹی مصباح ،اور پرو آفریدی ،اینٹی آفریدی گروپ میں بٹے ہوئے ہیں .پرو مصباح گروپ کا ایک بہت بڑا حصہ اسلام آباد کو اسی وجہ سے سپورٹ کر رہا ہے کہ مصباح کپتان ہے .دوسری وجہ کہ اسلام آباد پورے پاکستان میں ایک خوب صورت شہر کی حیثت سے جانا جاتا ہے اس وجہ سے بھی پاکستانی اس شہر کی ٹیم سے ہمدردی رکھتے ہیں .ایک اور وجہ وسیم اکرم کا ٹیم کے کوچنگ سٹاف میں ہونا ہے .وسیم اکرم بلا شک و شبہ اب بھی پاکستان کرکٹ کے سپر سٹار ہیں .انکے فینز بھی وسیم کی وجہ سے یونائیٹڈ کے ساتھ ہیں .ایک معمولی سا فیکٹر جو بچوں میں دیکھا دیا ہے کہ یونائیٹڈ کی ٹیم کی کٹ بہت خوب صورت ہے جس کی وجہ سے بھی اس ٹیم کی حمایت بڑھی ہے .کچھ فٹ بال شائقین اسکے نام یونائیٹڈ کی وجہ سے شاید اسے کرکٹ کا مانچسٹر یونائیٹڈ بنانے کے چکر میں اسکی حمایت کر رہے ہیں .اور اسلام آباد کی عمدہ پرفارمنس بھی اب ٹیم کی پسندیدگی میں اضافہ کر رہی ہے . مصباح ،وسیم اور جونز نے مل کر ٹیم بنائی ہے .یونائیٹڈ وہ واحد ٹیم تھی جس کے ہیڈ کوچ ڈرافٹنگ کے وقت براہ راست موجود تھی اور پلان اکر کے آئے ہوئے تھے .گو کہ پشاور کے محمد اکرم بھی موجود تھے مگر یہاں غیر ملکی کوچز کی بات کی جائے تو باقی ٹیموں کے غیر ملکی کوچز نے بعد میں ٹیم کو جائن کیا .مصباح نے ڈومیسٹک پلئیرز کو لانے کی ذمہ داری اٹھائی اور اپنے ڈیپارٹمنٹ کے عمران خالد،اپنی ڈومیسٹک ٹی ٹوینٹی ٹیم کے آصف علی اسکے علاوہ شرجیل خان،خالد لطیف ،وغیرہ کو ٹیم میں ڈلوایا .وسیم نے فاسٹ بولرز ،کولکتہ کے پلئیرز جن کے وہ بولنگ کوچ ہیں ،اور پاکستان کے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کی ذمہ داری لی اور بابر اعظم،عرفان سمیع،رومان رئیس ،آندرے رسل ،بیلنگز کو ٹیم میں ڈالوایا .جونز نے آسٹریلیا کے کھلاڑیوں اور غیر ملکی کھلاڑیوں پر فوکس رکھا .انہوں نے واٹسن،ہیڈن ،سمتھ ،بدری وغیرہ کو لایا .یوں اس اسلام آباد کی بہترین ٹیم منیجمنٹ نے شاندار انداز میں ٹیم سلیکٹ کی جس کا انہیں پورے ٹورنامنٹ فائدہ رہا .کیونکہ واٹسن ،انجرڈ ہو کر جا چکے ہیں بیلنگز بھی نہیں ہیں .رومان رئیس بھی انجرڈ ہیں ،بیچ میں سمیع بھی انجرڈ رہے اور رسل بھی کچھ میچز نہ کھیل سکے ہیڈن تاخیر سے آئے .لیکن اسکے باوجود اسلام آباد کی ٹیم فائنل تک جا پہنچی ہے .اسلام آباد نے ٹیم بلینس پر فوکس رکھا ہے اس لئے انکی بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں توازن ہے .بولنگ میں انکے پاس سٹرائیک بولرز ہیں .عرفان سمیع اور رسل اسکی مثال ہیں .اگر کنڈیشنز مناسب ہوں تو بدری ،اجمل اور عمران خالد بھی سٹرائیک بولر کا روپ دھار سکتے ہیں .بیٹنگ میں اسلام آباد کے پاس شرجیل جیسا طوفانی اوپنر ہے جو کسی بھی بولنگ اٹیک کے پرخچے اڑا سکتا ہے .مصباح اور خالد لطیف سپنرز کو اچھا کھیلتے ہیں اس لئے مڈل آرڈر بھی مضبوط ہے. اسلام آباد ہدف کے تعاقب اور پہلے بیٹنگ کر کے بھی میچ جیتتی رہی ہے اس لئے ٹاس سے اسلام آباد کو کچھ زیادہ فرق نہیں پڑے گا .میرا انداز ہے کہ کوئٹہ کی ٹیم ہدف کا تعاقب کرنا چاہئے گی اور اسلام آباد کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرنا چاہئے گی .مگر فائنل میں اصل مقابلہ اور اصل جنگ اعصاب کی ہوتی ہے .کوئٹہ کے پاس پیٹرسن اور سنگاکارا دو ایسے پلئیرز ہیں جو اپنی اپنی قومی ٹیموں کو ورلڈ کپ جتوا چکے ہیں .ایلیٹ بھی اپنی ٹیم کو سیمی فائنل میں یادگار فتح دلوا چکے ہیں .اسی طرح یونائیٹڈ کے پاس سمتھ ہیں جو چنائے کی جانب سے آئی پی ایل جیتنے والی ٹیم کا حصہ رہے ہیں .کریبین پریمیئر لیگ میں بارباڈوس کی فاتح ٹیم میں بھی انکا ہاتھ رہا ہے .اسی طرح رسل ویسٹ انڈیز ،جمیکا اور کولکتہ کی جانب سے چیمپئن بن چکے ہیں .بریڈ ہیڈن ،آسٹریلیا ،سڈنی سکسرز کی جانب سے ورلڈ کپ اور بگ بیش جیت چکے ہیں .مصباح ڈومیسٹک میں قائد اعظم ٹرافی سمیت اکثر ٹورنامنٹ جیت چکے ہیں . انکے کوچ ڈین جونز ورلڈ کپ وننگ ٹیم کا حصہ رہے ہیں .وسیم اکرم بھی چیمپین ٹیم کے ہیرو رہے ہیں .معین خان بھی ورلڈ کپ وننگ ٹیم میں شامل رہے ہیں .یعنی کہ دونوں ٹیموں کی فتوحات کا اہم اور بنیادی فیکٹر ان دونوں ٹیموں میں میچ ونرز اور چیمپئن کھلاڑوں اور کوچز کی شمولیت ہے .ہارنے والی ٹیموں لاہور ،کراچی اور پشاور کے پاس ایسے کھلاڑی یا کوچز یا تو تھے ہی نہیں یا بہت ہی کم تھے . جیتے کوئی بھی لیکن پاکستان کرکٹ اور پاکستان کو مجموعی طور پر پی ایس ایل کا بہت فائدہ ہوا ہے .یہ نکتہ ایک بار پھر ثابت ہو چکا ہے کہ کرکٹ ہی پاکستان کا سب سے اہم اور بڑا متحد کر دینے والا فیکٹر ہے .بلکہ واحد یونفاینگ فیکٹر ہے .لوگ خوش ہیں اور الله انکی خوشی کو قائم رکھے .میرا خیال ہے کہ مصباح الیون کے جیتنے کے زیادہ چانسس ہیں .لیکن کوئٹہ کی فتح ایک شاندار کہانی ہو گی.

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s