نسیم جان شنواری کی تحریر” سو سنہار کی” غیر ریاستی فساد بنام جہاد کیسے ختم ہو گا ؟

تقریباًتمام اقوام کوعروج ملامگراِنکاوطیرہ کمزوروں کودبانااوراُنکےوسائل پراثراندازہوناہے.امریکابھی کچھ مختلف نہیں کررہابلکہ صِرف تاریخ دہرارہاہے.دیگراقوام نےتوجیسےتیسےکرکےاپنےآپ کوامریکاکےنقصان سےبچالیااوراُس سےفائدےبھی سمیٹھےمگرمسلمان ممالک کاطرزِعمل یاتومحکوم کارہایاپھرشدت پسندکا.چونکہ اُمہ میں جمہوریت سےبدہضمی ہوجاتی ہےتواسی لیئےغیرجمہوری حکومتیں ہی راج کرتی آئی ہیں.اس سےنقصان یہ ہواکہ جواظہار ووٹ کےذریعہ سےہوناتھاوہ بڑھاس بندوق کی نلیوں سےنکلنےلگا.مسلم حکمران اپنےعوام کی طرف سےنہیں بلکہ اپنےشاہی خاندانوں کیطرف سےمغرب کیساتھ معاملات طےکرتےرہےمثلاًکس قوم کوکب کیسےاورکتنا،دشمن یادوست رکھناہے.جب عوام ہی اس تمام کھیل سےدورکردیئےگئےتوپھرمذھبی گروپ بننےلگےجواپنےہی حکومتوں کیخلاف ہتھیاراُٹھاچکےتھےجبکہ امریکاکیخلاف بھی براہ راست کاروائیاں کرنےلگے.امریکانےمسلمان ممالک کیساتھ مل کراِنکو مارامگرکچھ مسلمان ممالک اِن تنظیموں کوبرقراررکھنےکےحق میں تھےتاکہ کسی ضروری مشن میں کام آسکیں.ڈبل گیم کھیلنےوالوں میں پاکستان اور سعودی عرب کانام سب سےنمایاں ہے.امریکانےاِنکوکافی سمجھایابھی کہ تنظیمیوں پرسےہاتھ اُٹھالیں مگرپاکستان نےمان کےنہ دیا.کھبی وزیرستان کوکھلم کھلادہشتگردوں کےحوالےکیاجہاں سےدنیابھرکےخلاف کاروائیاں کی گئی توکھبی افغان عوام کےخلاف افغان طالبان کواستعمال کیایہاں تک کہ جھوٹےآپریشن کرکےمشرف کی حکومت نےمال پانی بنایااوراپنےتیئں امریکاکواندھیرےمیں رکھا.دوسرےممالک کوایٹم بیچااورخودکش ٹیکنالوجی سےمغرب کوڈرایا.اُدھرامریکابھی یہ سب دیکھ رہاتھااورخدائی کادعٰوی بھی تواُسی کاکیاہواہےسواب اُس دعوےکی زد میں ہم آنےلگے.
ہماری بنائی تنظیمیں توصِرف کافروں کومارنےکےحق میں تھیں مگراِنہی میں سےامریکانےنئی تنظیمیں کھڑی کرلیں جنکوقدیم خارجی نظریہ تھمادیا.اِن میں اپنےٹرینرزگھسیڑےاورکھیل شروع ہوگیا.اِن تنظیموں کی کاروائیوں سےپاکستان ہل کررہ گیااورمعیشت ومعاشرت سمیت سب کچھ تباہ ہوا.امریکانےہمیں دکھلایاکہ ہماری بیوقوفیوں اوراُنکی چالاکیوں میں کیافرق ہے.پھرامریکاکومشرقِ وسطی جاناپڑگیااورافغانستان کی فرنچائز،بھارت کےحوالےکردی جوتاحال پاکستان کیخلاف زوروشورسےکام کررہاہے.خیرضربِ عضب سےتھوڑاافاقہ ہوا تو مگرخطرات باقی ہیں میرےدوست.
بات ہورہی تھی مشرقِ وسطٰی کی جہاں سعودی عرب وغیرہ عسکری تنظیمیں بناتےرہتے تھے.یہاں پرامریکانےاسرائیل کیساتھ مل کرداعش نامی گروپ کھڑاکرلیاجوباقی ماندہ گروپوں کوکھانےلگی اورمہینوں کےاندراندراکثرعلاقےچھین بیٹھی.دنیابھرسےجہادی اِس گروپ کیطرف بھاگےدوڑے.داعش نےتیل کےکنوئیں ہتھیائے،میڈیاکاجارحانہ استعمال کیا،ہتھیاروں پہ قبضہ کیااورتشددکےنت نئےطریقےمتعارف کرائے.یہ سب وہ اسلام اورجہاد کےنام پرکررہےہیں.یعنی ایک ایساجہادجس میں حماس تک تونشانہ بنےمگراسرائیل کیخلاف چوں تک نہ ہوگی.
مسلمانوں کی بنائی تنظیمیں سنہارکاوارٹھریں مگرامریکا والی تولوہارکاوارمحسوس ہورہی ہیں. توپھروقت آ نہیں گیا؟کہ مسلمان غیرریاستی جہادکی حمایت بندکردیں اوراپنی حکومتوں کےہاتھ مضبوط کریں چاہےوہ کیسےہی کیوں نہ ہوں.درندوں کی حکمرانی سےکرپٹ حکومتیں ہزارہابہترہیں.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s