ہارون الرشید کا ثاقب ملک کوپیروڈی کالم لکھنے پر جواب :تحریر عماد بزدار

کوئی جائے اور جا کے اس ثاقب ملک کو بتائے کہ زندگی دوسروں کے عیوب پر نہیں اپنے محاسن پر بسر کی جاتی ہے۔ یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جسے اپنی تحریروں میں وہ ہمیشہ فراموش کر دیتے ہیں۔
یا للعجب! 18 کروڑ والی آبادی کی مملکتِ فیس بک کو کل کا چھوکرا اپنی ذاتی چراگاہ سمجھتے ہوئے سفید ریش اہلِ علم کا ٹھٹھہ اڑاتا ہے اور بھاڑے کے ٹٹو پڑھ کے حظ اٹھاتے ہیں۔
رات کے پچھلے پہر بے کلی بڑھی،سوچا درویش کے در پر حاضری دوں کہ جس کے دروازے ہر کس و نا کس کے لیئے ہمہ وقت کھلے رہتے ہیں۔ درویش کو اپنے نیم تاریک کمرے میں پہلی دفعہ حالتِ اضطراب میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ کپتان جو کبھی میچ فکس نہیں کرتا تھا اب میچ فکسنگ میں ملوث ہے۔ یہ سب معلوم ہونے کے باوجود عارفِ عصر کے چہرے پر غصہ تو درکنار تلخی کا شایئبہ تک نہیں تھا کہا تو اس نے اتنا کہ
یہی اندازِ تجارت ہے تو کل کا تاجر
برف کے باٹ لیئے دھوپ میں بیٹھا ہو گا۔
لبید، عرب نابغے کی 15 سو سال پہلے کی شاعری کا ایک مصرعہ بے طرح یاد آنے لگا
کہ ہم تو مجبورِ وفا ہیں مگر اے میرے کپتاں
اپنے عشاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے۔
درویش کو مضطرب چھوڑ کر عجلت میں خان کے گھر کی راہ لی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی صداقت عباسی اور شاہ محمود ، جو کہ اڑھائی کلو والے دیسی مرغی اُٹھائے نظر آئے، طبیعت مکدر ہو گئی۔ بارہا گزارش کی تھی کہ دیسی مرغی کا وزن سوا کلو سے بڑھنا نہیں چاہیئے، سادہ اطوارخان جو کہ صداقت عباسیوں اور شاہ محمودوں کے نرغے میں ہے، نے سمجھ کر نہ دیا۔
کہاں ہم لوگ جو گلبدین حکمتیار، امجد ثاقب اور شعیب سڈل جیسے لوگوں کو خان کے ہمرکاب دیکھنا چاہتے تھے کہاں یہ معاشرے کا کچرہ؟ .
بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی
بیچ ہی دیویں جو یوسف سا برادر ہووے
گلبدین کو قائل کرنے تو یہ نا چیز خود چل کر تورا بورا تک ہو آیا، شعیب سڈل تک آمادہ بہ سفر تھے لیکن کپتان اس بڑھیا کی مانند ہیں جس نے اپنا سوت خوب مضبوط کاتنے کے بعد تار تار ادھیڑ کے رکھ دیا۔
وہاں سے نکل کر جی ایچ کیو کو عازمِ سفر ہوا کہ یہی وہ آخری جائے پناہ ہے جہاں ہم جیسوں کو اطمینانِ قلب نصیب ہوتا ہے۔ اُجلی وردی میں ملبوس ریٹائرڈ سپہ سالار کوئی یونانی دیوتا لگ رہے تھے۔ پریشانی کے عالم میں ترلے کرتے ہوئے گولڈ لیف کی پانچ ڈبیاں پچھلے ایک گھنٹے میں پی چکے مگر اکھڑ مزاج راحیل نے سن کر نہ دیا۔ حالت یہ ہو گئی کہ وہ چھچھورا اخبار نویس جو اپنے مالکان کے مفادات کے لیئے بروئے کار آتا ہے، کہتا ہے سپہ سالار کے بھایئوں نے کرپشن کی جنہیں اُس صابر بندے نے باپ بن کر پالا تھا۔ سینہ پریشانی سے شق ہونے لگا کہ جی ایچ کا یہ حال ہو گیا جہاں اپنے 2 مختلف سپہ سالاروں کے لیئے موجودہ چیف نے مختل ترازو رکھ چھوڑے ہیں۔
کوئی جائے اور جا کے اس ثاقب ملک کو بتائے کہ زندگی دوسروں کے عیوب پر نہیں اپنے محاسن پر بسر کی جاتی ہے۔ یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جسے اپنی تحریروں میں وہ ہمیشہ فراموش کر دیتے ہیں۔
یا للعجب! 18 کروڑ والی آبادی کی مملکتِ فیس بک کو کل کا چھوکرا اپنی ذاتی چراگاہ سمجھتے ہوئے سفید ریش اہلِ علم کا ٹھٹھہ اڑاتا ہے اور بھاڑے کے ٹٹو پڑھ کے حظ اٹھاتے ہیں۔

Advertisements

One thought on “ہارون الرشید کا ثاقب ملک کوپیروڈی کالم لکھنے پر جواب :تحریر عماد بزدار

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s