افسانہ نگاری کے مقابلے کے نتائج کا اعلان

میں فیس بک اردو رائٹرز کی رینکنگ پر کچھ سوالات کے جوابات دے رہا تھا کہ کمنٹس کے تبادلے کے دوران ،پہلے علی سجاد شاہ کی تجویز آئی اور پھرمحمد اشفاق بھائی نے اسکی تائید کی کہ افسانوں کا مقابلہ کرایا جا سکتا ہے .ابتدا میں میرے اس پر کچھ تحفظات تھے کہ میرا خیال تھا کہ مصروفیت کے سبب جو ججز میرے ذہن میں اس مقابلے کی جیوری کیلئے ہیں ،وہ میسر نہیں ہو سکیں گے .لیکن جب فردا فردا ہر متوقع جج سے پوچھا تو ہر ایک نے کمال مہربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آمادگی کا اظہار کیا .دوسری حیرانگی مجھے افسانوں کے معیار اور تعداد پر ہوئی .آخری تاریخ تک مجموعی طور پراگر میں بھول نہیں رہا تو بائیس افسانے پبلش ہو چکے تھے .چار افسانے اسکے بعد آئے جن کے تخلیق کاروں سے مجھے معذرت کرنا پڑی .معیار بھی توقعات سے بڑھ کر اچھا تھا .مجموعی طور پر ایک تنقید اگر میں کر سکوں تو میرے خیال کے مطابق ایک آدھ افسانہ چھوڑ کر ان تمام افسانوں میں ایک تو چونکا دینے والے انجام کی اور دیر پا تاثر کی کچھ کمی ہے .دوسرا کسی حد تک پرانے لیجنڈ افسانہ نگاروں کا اثر نمایاں ہے .
میں تمام ججز بزرگ مصنف احمد اقبال صاحب ،کالم نگار عامر خاکوانی بھائی،لکھاری اکمل شہزاد گھمن بھائی اور مزاح نگار اور اینکر عمار مسعود بھائی کا خاص طور پر مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنی مصروفیت میں سے وقت نکال کر ہر افسانے کو باریک بینی سے پڑھا اور بڑی محنت سے نتائج مرتب کئے .احمد حماد بھائی اپنی مصروفیات میں سے وقت نہ نکال سکے اور نتائج مرتب نہ کر سکے مگر انکا بھی شکریہ کہ انہوں نے جیوری میں شمولیت کی حامی بھری .میں تمام افسانہ نگاروں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس مقابلے میں شرکت کر کے مجھے عزت بخشی .تمام پڑھنے والوں اور شیئر کرنے والوں کا شکریہ بھی واجب ہے .اب آپ ہر جج کے نتائج اور وضاحت پڑھ سکیں گے جس کے بعد آخر میں پہلی تین پوزیشنز کا اعلان کیا جائے گا .
احمد اقبالAhmed Iqbal...
میں نے تمام افسانے پڑھ لئے ہیں . ٢٢ میں سے 3 کوپہلے دوسرے اور تیسرے اانعام کا مستحق قرار دینا میرے لئے بھی آسان نہ تھا،اس کو ہرگز معیارکی تقسیم یا ترتیب نہ سمجھا جاۓ،یہ پسند کے مطابق میری راۓ ھے جو ھرگز سندنہیں ،۔۔ایک وضاحت البتہ ضروریہے .۔ڈایجسٹ کی کہانی اور افسانے کی تکنیک میں فرق ہے اور میں نے فیصلہ افسانہ کے عالمی معیار کو ذہن میں رکھ کے دیا ہے ۔۔ چند سطور میں بتادوں کہ یہ معیار کیا ہے ۔۔علامتی افسانے کو چھوڑ کر اس میں سب سے اہم تاثر کی شدت ہے جو قاری کے ذہن پر افسانہ پڑھنے کے بعد قایؑم ہو ۔ ظاھر ہے اس کے لئے موضوع کا تنوع اور زاویہ نگاہ ااہم ہے ۔آپ نے کیا دیکھا اور کیسے محسوس کیا۔دوسرے نمبر پر کردار نگاری ہے کہ افسانہ نگار انھیں کس طرح حقیقی اور تاثرانگیز بناتا ہے . ۔تیسرے نمبر پر اسلوب یا انداز تحریر ھے جو افسانہ نگار کا قلم ہے ،زیادہ تفصیل یہاں غیر ضروری ھے۔آپ سب کو بشمول قاری افسانہ نگار اور جج مجھ سے اختلاف کا جمہوری حق حاصل ہے .۔میرا فیصلہ یہ ھوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1۔سیٹھانی کا کتا۔۔10/7 تحریر شین زاد ۔۔ بہترین پلاٹ۔۔حقیقی کردار۔ مربوط انداز تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2۔ کولاج ۔۔6/10 ۔۔ تحریر مریم ثمر ۔۔تاثر انگیز خیال۔۔ کردار نگاری ۔۔منفرد اسلوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔3۔۔سوالات۔۔ تحریر محمت طاہر مجتبیٰ 5/10۔۔نیا موضوع۔۔ حقیقی کردار۔ اثر آفریں بیانیہ


اکمل شہزاد گھمنghumann
مقابلہ افسانہ نگاری ،میں شامل افسانے پڑھنے کے بعد اپنے اس خیال سے رجوح کرنا پڑا کہ اچھا افسانہ نہیں لکھا جا رہا .معاملہ الٹ ثابت ہوا کہ اچھے پڑھنے والے قدر دانوں کی کمی ہے .بہر حال مقابلے میں شامل کل بائیس افسانے پڑھے ،جن میں سے اکثر بہت اچھے تھے .نسیم کوثر ،ثروت عین ج ،شین زاد ،فار حہ ارشد ،مریم ثمر ،اکرام اعظم کے افسانے بہت کمال کے تھے اور سارے ہی اول درجے کے تھے .جب کہ صنوبر الطاف کا افسانہ بھی بہت عمدہ تھا ،مگر مسلہ یہ تھا کہ کسی نا کسی کو تو اول، دوم اورسوم قرار دینا تھا .سو یہ نا خوش گوار فریضہ بھی انجام دینا پڑا . اب مقابلے میں شامل افسانوں پر کچھ نقدو نظر ،رعنائی خیال کے افسانے کا مرکزی خیال تخلیقی نہیں تھا تحریر پر مقصدیت حاوی تھی .عماد بزدار کے افسانے للو کی بنت کاری کمزور تھی اور وہ پلاٹ کو بھی سنبھال نہیں پائے .صنوبر الطاف نے ادیبہ کے عنوان سے اپنے افسانے میں مردانہ معاشرے پر گہرا طنز کیا .پلاٹ عمدہ اور تحریر افسانے کی تعریف پر پوری اترتی تھی .فدا کا پچھتاوا کچے پلاٹ پر مبنی کسی ڈائجسٹ کے لیے مناسب تحریر ہو سکتی تھی . عفیفہ ہاشمی کا یلتنی اے کاش ،نیکی اور بدی کا روایتی تصور پیش کیا گیا .بہت مشکل سے روانی ،تجسس سے عاری یہ تحریر پڑھی .سوالات محمت طاہر مجتبیٰ کا افسانہ ہے ،بنیادی طور یہ تحریر ایک تاثر ہے افسانہ نہیں .خیال اچھا تھا لیکن محمت صاحب سے بات بنی نہیں .کوثر بیگ کے دل کے رشتے انسانی جذبوں کے کہانی ہے .پلاٹ کی بنت کاری بھی اچھی تھی .نسیم کوثر کا شکار بہترین اسلوب ،رواں تحریر اور وسیح مشاہدے پر مبنی افسانہ ہے. مردوں کے معاشرےپر طنز اور نفسیاتی الجھنوں کو آشکار کرتی تحریر ہے .ثروت کے نیلے چپل خوبصورت زبان ،وسیح مشاہدے ،انسانی نفسیات کے شاندار تجزیے پر مبنی تحریر ہے .مرکزی خیال یہ ہے کہ کہ خشی اچھے کپڑوں جوتوں اور سٹیٹس سے نہیں ملتی .ابرار قریشی کی شیروانی مڈل کلاس کے رہن سہن اور انداز فکر پر طنز ہے اچھی کاوش ہے مگر بات پوری طر ح بنی نہیں .تصور لیونے کی دوسری تصویر کا موضوع محبت اور غیرت کے کے نام پہ قتل ہے .افسانہ لکھاری کے قابو میں نہیں آ سکا .مزید محنت کی ضرورت ہے .فخر کیفی کا افسانہ ایسا بھی ہوتا ہے کسی ڈائجسٹ کے لیے اچھی کہانی ہو سکتی ہے .پلاٹ مضبوط نہیں .سیٹھانی کا کتا شین زاد کا انسانی نفسیات کی تہہ در تہہ کیفیات کا بیان اور معاشرتی رویوں کے جبر پر گہرا طنز ہے کہ جہاں عورت اور مرد روایتی سماجی جبر کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوتے ہیں .مریم ثمر کا کولاج خوبصورت علامتی افسانہ ہے جو سیاسی ،سماجی ،اور فرقہ وارانہ خلفشار کے ساتھ ساتھ مذہبی گمراہی اور عدم رواداری کا احاطہ کرتے ہوے فرد کے جنسی اور نفسیاتی مسا یل کی تصویر کشی بھی کر رہا ہے .نورین تبسم کے آخری سانسیں نیکی بدی کے روایتی تصور کی عکاس ہیں .تحریر پر مقصدیت حاوی ہے .حویلی مہر داد کی ملکہ فارحہ ارشد کا زور دار افسانہ ہے جس میں انھوں نے جاگیردار معاشرے کے مکروہ چہرے سے پردہ اٹھایا ہے روایتی موضوع پر خوب صورت زبان و بیان کی حامل تحریر لیکن یوں لگتا ہے جیسے اختتام جلدی میں کر دیا گیا ہو .یکے از برشات ،سہیل اکبر کروتانا کی خوبصورت تحریر ہے جس کو انشا یہ تو قرار دیا جا سکتا ہے مگر افسانہ نہیں .محمد فرحان کی تحریر کو آرام سےکسی ڈائجسٹ کے لیے لکھی تحریر قرار دیا جا سکتا ہے .انھیں ابھی محنت کی ضرورت ہے .بھائی ملک جہانگیر کا تین عورتیں تین کہانیاں ٹائپ افسانہ ہے .شیراز چوہان سوز کے افسانے کا یہی معاملہ ہے .کولہو کا بیل اکرام اعظم کا خوبصورت افسانہ ہے جس میں بیرون ملک مزدوروں کے حالات کار کا نوحہ ہے کہ وہ لوگ کس طر ح پردیس کا دکھ اور تکلیفیں جھیلتے ہیں اور پسماندگان کیسے اللے تللے اڑاتے ہیں .قبول ہے فرحانہ صادق کا جبری شادیوں پر بھرپور طنز ہے مگر کرافٹ بہت عمدہ نہیں .مزید محنت کی ضرورت ہے . ہر ایک افسانے کے جائزے کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ محض قبح و محا سن کو اجاگر کرنا ہے .سچی بات تو یہ ہے کہ ہر تخلیق خون جگر سے نمو پاتی ہے . بہر حال یہاں کوئی ہارا نہیں سب جیتے ہیں .محض رسم دنیا کے لیے پہلے نمبر پر شین زاد کا سیٹھانی کا کتا ٹھہرا ہے ،دوسرے نمبر پر ثروت عین ج کے نیلے چپل آئے ہیں جب کہ تیسرا درجہ مشترکہ طور پر حاصل کیا ہے فار حہ ارشد ،کے افسانے” حویلی مہرداد کی ملکہ” اور نسیم کوثر کے” شکار “نے . سب کو اچھا لکھنے والوں کو مبارک باد
عامر خاکوانیAamir khakawani
میرے حساب سے پہلا انعام شین زاد کے ” سیٹھانی کے کتے “کو جاتا ہے۔ کیونکہ کہانی کا پلاٹ، کردار نگاری ، زبان سبہی اچھی ہے۔ دوسرے نمبر پر میرے خیال میں ابرار قریشی کا افسانہ ” شیروانی” نسیم کوثر کا افسانہ” شکار” ثروت ع ج کا “نیلے چپل” اور فارحہ ارشد کا افسانہ “مہر داد کی ملکہ”مشترکہ طور پر آتا ہے .تیسرا نمبر میں نے عفیفہ شمسی کے “یلتنی اے کاش “کو دیا ہے ۔ نسیم کوثر کے پاس بلا کی کاٹ ہے، بڑی عمدگی سے انہوں نے ایک خاص تصور کو آگے بڑھایا اور پھر ایک ڈرامائی انجام بھی کیا، ان کا افسانہ یوں لگتا ہے جیسے نظروں کے سامنے دیکھا جا رہا ہو، خاص کر انجام تو ایک طرح سے ویژول ہی ہے۔ فارحہ ارشد نے بھی کمال لکھا ہے، بڑے افسانہ نگاروں کی جھلک ہے ان میں ، کہانی اگرچہ کچھ زیادہ بولڈ ہوگئی اور کہیں کہیں پر غیر حقیقی بھی لگی، مگر واجدہ تبسم کے افسانوں کی جھلک تھی اس میں ، زبان اور تیور میں بلونت سنگھ بھی دکھائی دئیے۔ مطلب یہ نہیں کہ کاپی تھا، اشارہ اس طرف ہے کہ ان کی تحریر میں پختگی موجود ہے۔ ابرار قریشی صاحب کا شیروانی افسانہ سادگی کا مرقع ہے، مگر اس میں لوئر مڈل کلاس کی سچائی اور حقیقت نگاری جھلک رہی ہے، غلام عباس کے افسانوں کا کچھ رنگ آیا ہے ان میں۔ ایک اور افسانہ جو رات ہی دیکھا ، نیلے چپل۔ اس کی مصنفہ ثروت ع ج ہیں۔ یہ بھی کمال کا افسانہ ہے، سادہ سی کہانی ،مگر اسے کمال خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا، منظر کشی کمال کی ہے،کردار گویا زندہ ہوگئے ہیں، کسی زمانے میں ایلن گرین کے افسانے پڑھے تھے، وہی یاد آئے۔ بہت خوب لکھا انہوں نے بھی ،میرے خیال سے یہ بھی اے پلس کیٹیگری میں آتا ہے، ۔ ویسے تو دیانت داری کی بات ہے کہ نسیم کوثر اور فارحہ ارشد کے افسانے اس قابل ہیں کہ شائع ہوسکیں، مگر ہماری مجبوری ہے کہ مین سٹریم اخبار ہے تو انہیں شائع کرنا مشکل ہوجائے گا، ادبی جرائد میں البتہ یہ باآسانی شائع ہوجائیں گے۔ سیٹھانی کا کتا ہم انشااللہ دنیا میگزین میں شائع کر دیں گے، شیروانی اور نیلا چپل بھی شائع ہوسکتا ہے۔ ایک اور افسانہ قابل ذکر ہے، یہ عفیفہ شمسی کا یلیتنی ہے۔ ادبی معیار سے بھی مناسب ہے، مگر اس کا مرکزی خیال بڑا شاندار اور زندگی بدل دینے والا ہے، علامت کو مذہبی رنگوں میں کم ہی برتا جاتا ہے۔ مجھے یہ پسند آیا ہے اور اسے بھی قابل اشاعت والی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ باری باری یہ تین چار افسانے شائع ہوسکتے ہیں، انشااللہ ہوجائیں گے۔ فرحان صاحب کا افسانہ” آرام سے” بھی برا نہیں، اس میں ویلنٹائن کے ماحول کو استعمال کیا گیا ہے، اس میں اگرچہ اختتام زیادہ لطیف اور شائستہ ادبی تخلیقی انداز سے کرنا چاہیے تھا، ایسی صورت میں یہ قابل اشاعت ہوسکتا تھا۔ باقی افسانے جو میں نے پڑھے ان میں” ادیبہ” مجھے بی پلس لگا، “دل کے رشتے “بی کلاس، “دوسری تصویر” بھی بی ، “ایسا بھی ہوتا ہے” بی پلس ، “کولاج “بی کلاس کہ اس طرح کی علامتیں مجھے تو متاثر نہیں کر پاتیں، “برشیات” تیسرے درجے کی چیز ہے، وہ افسانہ ہے نہیں تو اسے بھیجا کیوں گیا تھا، یہ سمجھ نہیں آیا۔ اسی طرح “آخری سانسیں بھی” بی کلاس افسانہ ہے، اس کی مصنفہ اچھا لکھتی ہیں، بڑے شائستہ، مقصدی لہجے میں ان کے کمنٹس میں دیکھتا رہا ہوں، افسانے میں مگر کاٹ زیادہ ہونی چاہیے اور الفاظ سے زیادہ کہانی پر فوکس رہنا چاہیے، تھرلنگ پلاٹ، باریک بین جذئیات، کردار نگاری اور پھر ہلا دینے والا انجام۔ افسانے کو انشائیے سے بہت مختلف اور بہت زیادہ پر اثر ہونا چاہیے۔
عمار مسعودAmmar masood
اول “۔قبول ہے” ۔ فرحانہ صادق
دوم۔” پچھلے دروازے سے۔” ۔ شیراز چوہان
سوم ۔
“دوسری تصویر” تحریر تصور لیونے
“مکافات عمل “۔ جس کی مصنفہ رعنائی خیال ہیں ۔گو کہ اچھا افسانہ ہے۔ کہانی میں سسپنس اور ڈرامہ بھی ہے مگر ۔زبان اس سے بہتر ہو سکتی تھی اس لئے رہ گئیں .
“للو ۔” عماد بزدار کی ۔کہانی اچھا افسانہ بنتے بنتے رہ گئی۔ ڈرامہ پیدا نہیں ہو سکا.
“قبول ہے “۔ فراحانہ صادق کا بہت ہی اچھا افسانہ ہے۔ زبان بیان لاجواب ہے ۔ ڈرامہ پوری شدت سے موجود ہے ۔ صبا کا کردار بہت کمال کا ہے۔اسی لئے اسکو نمبر ون پر رکھا گیا ہے .
“کولہو کا بیل ” اکرام اعظم۔ نے لکھا .تھوڑا طویل ہے۔ موضوع بھی نیا نہیں ہے۔زبان میں بھی کوئی کمال نہیں.اوسط درجے کا ہے .
“پچھلے دروازے سے” ۔ شیراز چوہان ۔ اچھا افسانہ ہے۔ اختصارکو اپنا یا گیا ہے۔ آخری لائن میں دم ہے.
“بھائی” ۔ ملک جہانگیر۔کا ہے . طویل افسانہ ہے ۔ اوسط درجے کا ہی قرار دیا جا سکتا ہے . ۔ ڈائجسٹ سے بہت متاثر ہے،
“سیٹھانی کا کتا ” شین زاد کا تحریر کردہ ہے . کچھ بات جمی نہیںنہایت اچھا آغاز تھا مگر انجام میں ڈرامہ نہیں ہے۔
“آرام سے” ۔تحریر محمد فرحان۔ اچھا افسانہ ہے۔ مختصر مگر ڈرامہ مکمل ہے۔
“یکے از بُرشیاتِ سہیل ” تحریر سہیل اکبر کروتانہ۔ یہ افسانہ نہیں ہے مضمون ہے۔ زبان اچھی ہے ۔ مزاح میں ایک آنچ کی کسر ہے.
“حویلی مہر داد کی ملکہ ” تحریر فارحہ ارشداچھا افسانہ ہے۔ انجام اس سے بہتر ہو سکتا تھا۔ زبان اچھی ہے.
آخری سانسیں” تحریر نورین تبسم۔ گو کہ اچھا افسانہ ہے لیکن کہانی کم ہے۔ انجام بھی بے تاثر ہے . ڈرامہ بھی نہیں ہے.
کولاج” تحریر مریم ثمر۔ علامت کا بہت زیادہ استعمال ہے۔ زبان سہل نہیں ہے ۔ مجھے تو کسی تحریر کا ترجمہ لگتا ہے.
“ایسا بھی ہوتا ہے ” تحریر فخرالدین کیفی۔ انجام بہت عامیانہ ہے۔ کہانی میں کئی بے وجہ موڑ ہیں۔ سسپنس جو آغاز میں ہےوہ انجام نہیں پا سکا.
“دوسری تصویر” تحریر تصور لیونے یہ مختصر مگر مکمل اور بہترین افسانہ ہے .
شیروانی” تحریر ابرار قریشی۔ بہت اچھا افسانہ ہے۔ سادہ مگر پر اثرہے .
۔“نیلے چپل” تحریر ثروت ع ج بہت اچھا افسانہ ہے۔ جزئیات پر بہت محنت نظر آتی ہے۔ انجام خوبصورت ہے.
“شکار” ۔ نسیم کوثر۔ بہت اچھا افسانہ ہے۔ آغاز سے انجام تک۔ حْیقت نگاری عروج پر ہے.
“دل کے رشتے “۔ تحریر کوثر بیگ۔ اچھا افسانہ ہوتے ہوتے رہ گیا ہے۔
“ادیبہ “تحریر ۔ صنوبر الطاف۔ بات نہیں بنی گو کہ طرز تحریر اچھا ہے.
“سوالات “لکھا ۔ مہمت طاہر مجتبی۔ یہ افسانہ نہیں ہے رپورٹ ہے.
“پلتینی اے کاش”۔ عفیفہ شمسی۔ اچھا افسانہ ہے۔ طرز تحریر کمال کا ہے مگر کہانی نہیں ہے۔ علامت کا استعمال بہت زیادہ ہے.
“پچھتاوا۔”تحریر فدا۔ بس ٹھیک ہے۔ اس واقعے پر اس سے بہتر لکھا گیا ہے.
نتائج
3.تیسری پوزیشن :فار حہ ارشد،افسانہ “حویلی مہر داد کی ملکہ “اور نسیم کوثر افسانہ “شکار “
کسی جج نے انکو نمبر ایک پر نہیں رکھا .
ایک جج عامر خاکوانی نے انہیں نمبر دو پر رکھا .
ایک جج اکمل گھمن نے انہیں نمبر تین پر رکھا .
دو ججز احمد اقبال اور عمار مسعود نے انہیں کسی نمبر پر نہیں رکھا .
2.دوسری پوزیشن :ثروت ع ج افسانہ” نیلے چپل”
کسی جج نے انہیں نمبر ایک پر نہیں رکھا .
دو ججز عامر خاکوانی اور اکمل گھمن نے انہیں نمبر دو پر رکھا .
دو ججز احمد اقبال اور عمار مسعود نے انہیں کسی نمبر پر نہیں رکھا .
1.پہلی پوزیشن :شین زاد افسانہ “سیٹھانی کا کتا “
تین ججز احمد اقبال ،عامر خاکوانی اور اکمل گھمن نے انہیں نمبر ایک پر رکھا .
ایک جج عمار مسعود نے انہیں کوئی نمبر نہیں دیا .
باقی پوزیشنز لینے والے افسانہ نگار ،مجموعی طور پر ٹاپ تھری میں نہ آ سکے.

Advertisements

2 thoughts on “افسانہ نگاری کے مقابلے کے نتائج کا اعلان

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s