تجزیہ ثاقب ملک : عطا  الحق قاسمی  کے کالم کا پوسٹ مارٹم

تجزیہ ثاقب ملک : عطا الحق قاسمی کے کالم کا پوسٹ مارٹم

پس منظر
یہ کالم صحافیوں اور وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے درمیان ملاقات کی روداد ہے .
خلاصہ
عطا الحق قاسمی لکھتے ہیں کہ یہ ملاقات بہت خوشگوار اور مختلف تھی کیونکہ صاحب اقتدار اور صحافیوں اور اینکر پرسنز کے درمیان ملاقات ایسے خوشگوار اور پر سکون ماحول میں کم ہی ہوتی ہے .شہباز شریف ریلیکس تھے .انہوں نے زیادہ وقت صحافیوں کی باتوں کو سنتے گزارا .محرم الحرام کے سلسلے میں کالم نگار اپنے دکھ کر اظہار کرتے ہیں کہ ہمارے اپنے مذہبی گروہ ایسے مواقع پر امن کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں .اس موقع پر شہباز شریف نے میڈیا کو اسکی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلایا اور انکی احساس ذمہ داری کی تعریف بھی کی .
کالم نگار لکھتے ہیں کہ وزیر اعلی نے وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کی ترقی پر بھی روشنی ڈالی .شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ ،معاشی ترقی ،دہشت گردی میں کمی اور لوڈ شیڈنگ میں کمی آئی ہے .پاک چائنا راہداری کی وجہ سے بھی پاکستان کی ترقی میں تیزی سے بہتری آئے گی .کالم نگار نے آگے چل کر وزیر اعلی کی اس بات کو بھی تحریر کیا کہ وہ فوج اور عدلیہ دونوں کی کارکردگی سے بھی بہت خوش ہیں .دونوں پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں .مزید لکھتے ہیں کہ وزیر اعلی نے قائد اعظم سولر پارک کی ریکارڈ مدت میں تکمیل کے ذکر کے ساتھ ساہیوال میں توانائی کے منصوبے کے آغاز کا بھی تذکرہ کیا .
مصنف رقم طراز ہیں کہ یہ گفتگو بہت رواداری اور تحمل کے ماحول میں ہوئی .وہ لکھتے ہیں کہ کچھ دوستوں نے کچھ اعتراضات بھی کئیے مگر کچھ اعترافات بھی کئے گئے .کچھ صحافی دوستوں کا کہنا تھا کہ حکومتی مشینری صورت حال کی وضاحت کے لئے اس طرح سے بر وقت سرگرم نہیں ہوتی .کچھ دوستوں نے لوڈ شیڈنگ میں کمی کا اعتراف بھی کیا .کچھ دوستوں نے کارکنوں کو اہمیت نہ ملنے کا بھی ذکر کیا .کالم نگار لکھتے ہیں کہ میٹنگ ایمن وزیر قانون ثناء الله اور آئی جی مشتاق سکھیرا بھی موجود تھے .اس موقع پر میڈیا اور پولیس نے حوالے سے اپنے تحفظات اور خیالات کا اظہار کیا .http://jang.com.pk/jang/oct2015-daily/23-10-2015/col7.htm
تجزیہ
یہ کالم کم اور شہباز شریف اور پاکستان مسلم لیگ نون کی تعریفی میڈیا کمپین پر مشتمل تفصیلی خبر زیادہ لگ رہی ہے .یہ خبر تفصیل کے ساتھ اخبارات میں موجود ہے پھر اس قسم کے کالم لکھنے کی کیا تک ہے ؟یہ سرا سر عطا الحق قاسمی صاحب کی اپنے پسندیدہ لیڈرز کو خوش رکھنے کی ایک کوشش لگتی ہے .یہ عادت موصوف کی صرف اپنے پسندیدہ سیاست دانوں تک ہی محدود نہیں ہے ،قاسمی صاحب جس ملک بھی مشاعرے پر جاتے ہیں وہاں کے تمام میزبانوں کی شہد میں گھلی اتنی تعریفیں کرتے ہیں اور ایسے ایسے محاسن گنواتے ہیں کہ وہ لوگ خود اپنے ان پہلوؤں کی دریافت پر حیران و پریشان رہ جاتے ہیں .
کالم نگار لکھتے ہیں کہ اس محفل میں شہباز شریف صاحب خاموش رہے اور زیادہ تر صحافی بولتے رہا مگر انکے کالم کا ستر فیصد حصہ شہباز شریف کی باتوں پر مشتمل ہے .کالم نگار اس بات پر بھی حیران ہیں کہ ایسے خوشگوار محفل بہت ہی کم ہوتی ہیں .اگر اس محفل میں حکومت مخالف صحافی ہوتے تو کالم نگار کو یہ بات خوب سمجھ آ جاتی کہ یہ محفل کیوں خوشگوار رہی ہے .ہمارے ہاں خوب کہاں چھٹک کر اپنے حمایتی،پٹھو اور نرم بیان صحافیوں کو ایسی محفلوں میں بلایا جاتا ہے تاکہ عالی حضرت حکمرانوں کے ماتھوں پر شکنیں نہ ابھر سکیں .شہباز شریف کی زبانی انکی حکومت کے کارناموں کو ہو بہو اس کالم میں بیان کر دینا کالم نگار کی جانب سے حکومت کی تائید ہی لگتی ہے .
حیران کن طور پر کالم نگار فرما رہے ہیں کہ پاکستان میں لوڈ شیڈنگ میں کمی آئی ہے .حالانکہ کم سے کم اسلام آباد ،راولپنڈی اور گرد و نواح کی حد تک میں گواہی دے سکتا ہوں کہ لوڈ شیڈنگ میں قطعا کوئی کمی نہیں آئی .جب اسلام آباد کی یہ حالت ہے تو باقی ملک کی حالت کا تصور کیا جا سکتا ہے .اس طرح کی غلط بیانوں کو اپنے حمایتی سیاست دانوں کے لئے اگنور کرنا کسی بھی کالم نگار کے لئے احسن اقدام نہیں ہو سکتا .قاسمی صاحب اپنی پسند کو سنبھال کر رکھیں مگر حقائق کو مسخ نہ کریں اور نہ ہی حکومت کے قصیدہ خوان بن کر رہ جائیں .ملک میں بے روز گاری ہے اس پر شہباز شریف سے ملاقات میں کوئی صحافی بشمول قاسمی صاحب نہیں بولا ؟لوگ گدھوں کتوں کا گوشت کھاتے رہے اس پر کوئی صحافی نہیں بولا ؟ اس طرح کے لاتعداد مسائل ہیں جن پر قاسمی صاحب کا حکمرانوں کے منہ پر کہنا انکے فرائض کا حصہ ہے . مگر وہ اپنی پسند نا پسند کے تعصب میں حق گوئی سے محروم ہو رہے ہیں .
کوٹ ایبل
“یہ ہم لوگوں کی کیسی بد قسمتی ہے کہ کسی بھی مذہبی تہوار کے موقع پر کسی ” مذہبی گروہ” ہی کی طرف سے خون خرابے کا اندیشہ ہوتا ہے .
” اس محفل کا ایک مثبت پہلو یہ بھی تھا کہ لنچ کی “قیمت” وصول کرنے کے لئے وزیر اعلی نے کوئی لمبی چوڑی تقریر بھی نہیں کی ”
” پہلے ” سپیکرز ” اور لاؤڈ سپیکرز نے لوگوں کی زندگی اجیرن کی ہوئی تھی اب “سپیکرز ” اور” لاؤڈ سپیکرز ” دونوں اعتدال پسند ہیں”
سوال
کیا حکومت کو دہشت گردی میں کمی کا کریڈٹ ملنا چاہئے یا یہ صرف فوج کا ہی کارنامہ ہے ؟* کیا واقعی ہی لوڈ شیڈنگ میں کمی آئی ہے ؟ * کیا ایسے کالم ،صحافت کو بد نام کر دیتے ہیں ؟* کیا کالم نگار اپنی پسند نا پسند ہوتے ہوے بھی غیر جانبدار تجزیہ کر سکتا ہے ؟
ریٹنگ
یہ میری نظر میں ایک کمتر ریٹنگ والا کالم ہے .اسکو تین نمبر ہی دے سکوں گا

.

Advertisements