تجزیہ ثاقب ملک :”سیکولرازم کا اصل چہرہ یہی ہے ” اوریا مقبول جان کے کالم پر تبصرہ

تجزیہ ثاقب ملک :”سیکولرازم کا اصل چہرہ یہی ہے ” اوریا مقبول جان کے کالم پر تبصرہ

پس منظر
یہ کالم سیکولر ازم کے نام پر قتل و غارت اور نا انصافی اور بالخصوص بھارت میں مودی سرکارکی انتہا پسند پالیسیوں کے تناظر میں لکھا گیا ہے .
خلاصہ
کالم نگار اوریا مقبول جان کہتے ہیں کہ جب بھی بھارت میں اقلیتوں پر ظلم ہوتا ہے اکثر ہمارے دانشور یہ فقرہ بولتے ہیں کہ دیکھو بھارت کا سیکولر چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے .اس سے ایسے تاثر دیا جاتا ہے کہ جیسے سیکولر ازم کوئی بہت ارفع اور برتر نظریہ ہے جس کو برباد کیا گیا ہے .کالم نگار لکھتے ہیں کہ ٹرم “سیکولر ازم” سب سے پہلے 1876 میں برطانوی دانشور جارج ہولی اوک نے استمعال کی .اگر اس کو کھینچ کر انقلاب فرانس تک بھی لے جایا جائے تب بھی سیکولر ازم کی تاریخ دو سو سال سے پرانی نہیں ہے .آگے لکھتے ہیں کہ سیکولر ازم میں مذہب کا حکومتی معاملات سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا ہے .
مصنف اب سیکولر حکمرانوں کی بربریت اور ظلم پر مبنی تاریخ بتاتے ہیں .انکا کہنا ہے کہ مصر کے جمال ناصر نے دو لاکھ سے زیادہ لوگ مروا دیئے .عراق کے صدام حسین نے لاکھوں لوگ قتل کر دیئے اور اپنے ہی لوگوں پر کیمیائی ہتھیاروں کا استمعال بھی کیا . مصر کے حسنی مبارک نے بھی سینکڑوں لوگوں کو مروایا .انڈونیشیا کے سہارتو نے بھی مظالم کی حدود کراس کیں اور اپنے لوگوں کا قتل عام کیا .جرمنی کے ہٹلر نے تو جنگ عظیم کا آغاز کرا کر کروڑوں لوگ مروا دیئے .لاطینی امریکا میں چلی کے پنوشے نے اپنے لوگوں کو لوٹا اور بیدردی سے انہیں قتل کیا .
اوریا لکھتے ہیں کہ انڈیا میں جمہوریت اور سیکولر ازم ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر پچھلے سڑسٹھ سال سے چل رہے ہیں .انڈیا کے تمام حکمران جمہوری طور پر منتخب ہوے تھے .لیکن اسی سیکولر بھارت میں مذہب کی بنیاد پر اقلیتوں پر ظلم روا رکھا گیا ہے .آج سے اکتیس سال قبل جب سکھوں نے اندرا گاندھی کو قتل کیا تو اسکے جواب میں بے گناہ سکھوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ دییے گئے .
کالم نگار کا استدلال ہے کہ ہمیشہ سے سیکولر ازم اور جہمھوریت کو ایسا خوبصورت نظام بنا کر پیش کیا جاتا ہے جیسے انسان کی نجات صرف اسی میں ہے .قرآن اور حدیث کے بہترین اور آفاقی اصولوں کا ذکر نہیں کیا جاتا بلکہ یہی جملہ بولا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے کتنے لوگ مروا دے خون بہایا .سیکولر ازم نے در اصل جنگ عظیم اول اور دوم میں کروڑوں لوگ مروا دیئے .اتنے تو کل ملا کر پوری انسانی تاریخ میں کبھی نہیں مارے ہوں گے .اصل میں سیکولر ازم کا یہی بھیانک چہرہ ہے .http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1103158800&Issue=NP_LHE&Date=20151106
تجزیہ
اوریا مقبول جان کا پبلک تاثر ایماندار اور شریف کالم نگار کا ہے .مگر فکری طور پر انکے دلائل انسان کو دیواروں پر سر پٹخنے پر مائل کر دیتے ہیں .یہاں انہوں نے سیکولر ازم پر تابڑ توڑ حملے کئے ہیں .انکا یہ کہنا کہ 1876 میں جارج ہولی اوک نے سیکولر ازم کی ٹرم متعارف کروائی غلط ہے .سیکولر ازم کو سب سے پہلے 1851میں ہولی اوک نے استمعال کیا .تاریخ لکھنے میں کالم نگار غلطی کر گئے ہیں لیکن تاریخ بیان کرنے میں غلطی نہیں کرنی چاہئے .کیونکہ “فری تھاٹ ” کا تصور تو یونانی فلسفہ کے استادوں سے چلا آ رہا ہے .ایریکولس وغیرہ نے فری سپیچ اور مذہب کے بغیر حکومت پر بات کی .اوریا صاحب کا یہ کہنا کہ یہ سیکولر ازم زیادہ سے زیادہ دو سو سال پرانا ہے یہ بھی غلط لگتا ہے .کیونکہ مغرب کی “ان لائٹمنٹ ” کے ادوار میں سپنزا ،نے جو اس دور کے بنیاد رکھنے والوں میں شمار ہوتے ہیں مذہب اور ریاست کی جدائی کی بات کی .یہ آج سے چار سو سال پرانی بات ہے .پھر یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اگر کوئی نظریہ دو سو سال پرانا ہے تو کیا صرف اس بات پر اسکو غلط یا کمتر کیوں سمجھا جائے ؟ اسلام کے ظہور کے وقت یہودی اور مسیحی یہی کہتے تھے کہ ہمارا دین پرانا ہے اور زیادہ قابل احترام اور اسکی باتیں سچی ہیں .آج بھی یہودیوں کا تو یہی استدلال ہے تو پھر اوریا مقبول جان صاحب کی دلیل کی بنیاد پر مسلمان کیا جواز پیش کریں ؟یہ ایک انتہائی بودی دلیل ہے .
یہ بات بھی کسی کی کھوپڑی میں آنا مشکل ہے کہ اگر کالم نگار سیکولر ازم کو برا نظام سمجھتے ہیں تو اس نظام کی فکر پر تنقید کریں بجائے کہ اسکے پیروکاروں پر تنقید کے آرے چلا دیں ؟انہوں نے زیادہ تر مسلمان ممالک کے نام نہاد سیکولر حکمرہوں کے مظالم کی مثالیں دیں ہیں .اب یہ تو ان ظالم حکمرانوں کا ذاتی فعل ہے اس پر سیکولر ازم کو کیسے الزام دے جا سکتا ہے ؟میرے خیال سیکولر ازم کے حمایتی ان دلائل کے بودے پن پر بغلیں بجا رہے ہوں گے .یہ تو سیدھا سادہ انکے ہاتھوں میں کھیلنے والی بات ہے .آج کے دور میں جب بھی اسلام کو متشدد یا انتہا پسندی پر مبنی مذہب قرار دیا جاتا ہے تو مسلمان یہی دلیل دیتے ہیں کہ آپ اسلام پڑھیں ،قرآن پڑھیں .مسلمانوں اور بہت ہی کمتر اقلیت پر مشتمل چند شدت پسندوں کی وجہ سے اسلام کو برا بھلا نہ کہیں .اب یہ دلیل اوریا مقبول جان سیکولر ازم کے خلاف استمعال کر رہے ہیں کہ سیکولر ازم کی فکر پر تنقید کرنے کےبجائے سیکولر حکمرہوں کے مظالم کا ذمہ دار سیکولر ازم کو اور جمہوریت کو قرار دے رہے ہیں .خیر یہ بات مزے کی ہے کہ اسلام کے نام پر ہے سیکولر ازم کے نام پر دونوں پر ماشا الله مسلمانوں نے خوب قتل کیے ہیں .ہٹلر کو سیکولر حکمران کہنا بھی درست نہیں ہے .سیکولر تو کسی بھی مذہب کی سپورٹ نہیں کرتا اور نہ کسی کی مخالفت کرتا ہے لیکن ہٹلر یہودیوں کا خاص طور پر مخالف تھا لیکن اسکی اپنی وجوہات ہیں سارا الزام ہٹلر پر تھوپ دینا وہ بھی یہودی پراپگنڈے کے اثر میں یہ ایک غلط اور یورپ کے “اپلوجیٹک ” دانشوروں والا طرز عمل ہے جو اوریا مقبول جان کو زیب نہیں دیتا .
بہتر ہے کہ نظریاتی جنگ کو نظریہ تک محدود رکھا جائے .سیکولر ازم کی بنیاد جن اخلاقی اصولوں پر قائم ہے ایک تو وہ سب مذاہب کے آفاقی اصولوں سے پھوٹے ہیں .سیکولر ازم نے اسے انسان کے تجربے سے پیدا ہونے والے مشترک ورثہ جان کر اسے اپنایا ہوا ہے جو کہ غلط ہے کیوں کہ سب اچھائی برائی کا منبع الہامی تبلیغ ہے .دوسرا سب سے اہم خلا سیکولر ازم میں حدودو کا تعیین نہ ہونا ہے .آزادی رائے ،انسانی آزادی ،معاشرتی آزادی ،اور دیگر آزادیاں حد سے بڑھ رہیں جن کے منفی نتائج کا کچھ کچھ احساس سیکولر طبقے کو اب ہو رہا ہے اور کچھ کو تھوڑے عرصے بعد ہو گا .کیونکہ انسان بغیر حدودو کے کبھی بھی زیادہ عرصہ امن و سکون سے گزارا نہیں چلا سکتا .
کوٹ ایبل
“اسرائیل سے جنگ شروع ہوئی تو اپنے خطب میں کہنے لگا ” اے فرعون کے بیٹو تمہارا مقابلہ موسیٰ کی نسل سے ہے ”
“سیکولر ازم کے نفاد کے پر زور حامی یہ حکمران ہر اس آواز کو خاموش کرا دیتے ہیں جس کے منہ سے یہ لفظ بھی نکلتا ہو کہ مذہب میں انسانی زندگی میں ایک نافظ العمل چیز ہے
“اس سیکولر صفت جمہوری طور پر منتخب شخص نے نسلی تعصب کی ایسی بنیاد ڈالی کہ کروڑوں لوگ لقمہ اجل بن گئے ”
سوال
کیا سیکولر ازم کو برا ثابت کرنے کے لئے سیکولر حکمرانوں کو الزام دینا چاہئے ؟ * کیا سیکولر ازم شیطانی اصولوں پر مبنی نظام ہے ؟ * کیا جو دلائل سیکولر مسلمانوں اور اسلام کے لئے استمعال کرتے ہیں انہی کو ہمیں بھی استمعال کرنا چاہئے ؟* کیا جمہوریت سے بھی بہتر انتقال اقتدار کا کوئی نظام موجود ہے ؟
ریٹنگ
یہ ایک اچھے مقصد کے لئے لکھا گیا ایک برا کالم ہے .اسکو چار نمبر ہی دے سکوں گا

.

کیا اوریا  مقبول جان نے زلزلے کی پیشن گوئی کر دی تھی ؟  انکا کالم پڑھیں

کیا اوریا مقبول جان نے زلزلے کی پیشن گوئی کر دی تھی ؟ انکا کالم پڑھیں

یہ کالم ” الله کے غضب کو دعوت دینے والے”نو اکتوبر کو Continue reading